جامعة الامام محمد طاهر دارالقرآن پنج پیر

جامعہ الامام محمّد طاہر دار القرآن پنج پیر ١٣٥٨ھ (بمطابق ١٩٤٠ء )میں قائم ہوا اور اپنے روز قیام ہی سے اشاعت علوم اسلامیہ و اصلاح مسلمین کی بے مثال خدمات سرانجام دے رہا ہے. یہاں کے فیض یافتہ طلبہ اپنی تمام توانائیاں اشاعت التوحید و السنت، رد شرک و بدعت اور خاتمہ منکرات کے لیے صرف کر رہے ہیں اور بار ہا سرکشی و طغیانی کے طوفاں کا منہ موڑ چوکے ہیں. فالحمد للّه علیٰ ذلک.

برصغیر کے دینی مدراس اپنے نصاب ،طریقہ تدریس اور طرز انتظام میں حکومتی مدراس سے جداگانہ روش رکھتے ہیں - ان کا باقاعدہ تعلیمی سال اوائل ذی قعدہ سے شروع ہوکر رجب پر ختم ہوتا ہے اور بقیہ تین ماہ سالانہ تعطیلات ہوتی ہیں. دارالقرآن پنج پیر کا یہ خاص امتیاز ہے کہ اپنے اول روز قیام ہی سے دیگر مدراس کے برخلاف یہ مدرسہ ان تعطیلات میں خدمت تفسیر قرآنی اور اشاعت فہم قرآنی کے لئے دو دروں کا اہتمام کرتا ہے.

پہلا دورہ تفسیر القرآن عرف میں بڑا دورہ کہلاتا ہے. جو١٠ شعبان سے شروع ہو کر٢٧ رمضان کو اختتام پزیر ہوتا ہے. اس میں علماء و طلبہ کے علاوہ پروفیسر، ڈاکٹر، انجنئیر، غرض زندگی کے ہر شعبہ اور معاشرہ کے ہر طبقہ کے لوگ کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں. اور قرآنی موتیوں سے مالا مال ہوکر واپس جاتے ہیں.

دوسرا دورہ تفسیرالقرآن عرف میں چھوٹا دورہ کہلاتا ہے جو ٣ شوال سے شروع ہوکر٢٠ شوال تک جاری رہتا ہے. ان دروں میں درس قرآن کا روزانہ دورانیہ تقریبا ٦ تا ٩ گھنٹے ہوتا ہے.

تفسیر قرآن میں دارالقرآن کا اپنا ایک خاص اسلوب ہے جو بانی دارالقرآن مولانا محمّد طاہر رحمہ اللہ اور انکے عظیم اساتذہ شیخ التفسیر مولانا حسین علی رحمہ اللہ اور قائد سیاست اسلامیہ مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ کی خصو صیات کا جامع ہے.

دورہ تفسیر کی ابتدا میں چند دن اصول تفسیر قرآن وضاحت سے بیان کیے جاتے ہیں تا کہ شرکاے دورہ کیلے مختلف کتب تفاسیرسے استفادہ کرنا اورصحیح و مقیم اقوال میں پہچان کرنا آسان ہو جائے اور انھیں مفسرین کی اقسام اور انکے طبقات کی معرفت بھی حاصل ہو جائے. اس مقصد کے لیۓ حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ کی تصانیف العرفان فی اصول القرآن اور نیل السا ئرن فی طبقات المفسرین کے سا تہ سا تہ حضرت الا امام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی الفوزفی الکبیر فی اصول التفسیر ، امام زرکشی رحمہ اللہ کی البرہان فی علوم القرآن اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی الا تفتان کو سامنے رکھا جاتا ہے.

اصول تفسیر کی توضیح و تفہیم کے بعد تفسیر قرآن کا مرحلہ آتا ہے. ہر سورہ کے آعازمیں مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کیا جاتا ہے:

١- سورہ کا زمانہ نزول ، اس کا مکی یا مدنی ہونا- اور ترتیب نزول کہ و سوره کس سورہ سے پہلے اور کس سورہ کے بعد نازل ہوئی
٢- دعویٰ سورہ : سورہ کا مرکزی موضوع جس کا اس سورہ میں اثبات کہا جاتا ہے اور اس کی توضیح کے لیے ہی دیگر مضامین بیان ہوتے ہیں- اسے سورہ کا مرکزی مضمون کہتے ہیں اور ہماری اصطلاح میں اسے دعویٰ سورہکہا جاتا ہے
٣- اس سورہ کا گزشتہ سورہ سے رابطھ
٤- دیگر سورتوں کے سامنے اس سورہ کے امتیازی مضامین
٥- سورہ کے مرکزی موضوع کے مطابق مختلف عنوانات اور ٹکڑوں میں اس سورہ کی تقسیم
٦- سورہ کے ہر حصہ کی مکمل تفسیر، جس میں مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کیا جاتا ہے:
تفسیر لغات اور غریب و مشکل کی معرفت
مشکل اعراب کی وضاحت
سورہ کے مختلف جملوں اور آیات کا باہمی ربط
معنی و مفھوم کے لحاظ سے مشکل آیات کی توضیح
مختلف آیات سے اخذ ہونے والے احکام کی وضاحت مواقع اختلاف میں دلائل کی وضاحت کے ساتھ ساتھ راجح پہلو کی ترجیح کا بیان
ملحدین، مشرکین اور مبتدعین کے شبھات اور خود ساختہ دلائل کارد
سورہ کے مختلف حصوں کی ایک دوسرے پر تطبیق
بحمد اللہ تعالیٰ دورہ تفسیر کا یہ سلسلہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے جارہی ہے-اس نے حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ الرحمٰن کے بعد انکے مایہ ناز فرزند اور بہترین جانشین شیخ القرآن مولانا محمّد طیّب طاہری نے جاری رکھا ہوا ہے- بڑے دورہ میں پاکستان بھر سے ہزاروں مردوں کے علاوہ تقریبآ ٦٠٠ سے لیکر ٧٠٠ خواتین بھی شریک ہوتی ہیں جن کے لیے پردھ کا خاص انتظام ہوتا ہے-

علاوہ ازیں تعلیمی سال کا دوران بھی روزانہ صبح اسباق کے آغاز میں اور نماز عصرکے بعد درس قرآن کریم کا ہوتا ہے- اور سال بھر میں مکمل قرآن کریم کی تفسیر بیان کی جاتی ہے- اسطرح سارا سال دارالقرآن قرآنی بہاروں سے مغطرہوتا ہے-

دارالقرآن میں درس نظامی کی تدریس کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ابتدائی درجوں سے لیکر دورہ حدیث تک کا بہترین انتظام ہے-
دورہ حدیث میں تقریبا دو سو (٢٠٠) اور کل درجات میں مجموعی طور پر تقریبا سات سو (٧٠٠) طلبہ درس میں شریک ہوتے ہیں- دورہ حدیث کے علاوہ دیگر درجات میں صرف ، نحو، منطق ، ادب ، عربی ، علم عقائد ، اصول الفقہ ، اصول تفسیر ، اصول حدیث اور حدیث غرض تمام ہی درسی علوم کی تدریس ہوتی ہیں-

حفظ قرآن اور تجوید کے شعبہ میں بچوں اور بچیوں کے لیے الگ الگ بندوبست ہے- جامعہ کی تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہاں سے ماہنامہ " التوحید والسنہ " کے نام سے ایک اردو رسالہ بھی شائغ ہوتا ہے جس نے مختصر سی عرصہ میں ہی ملک کی دینی صحافت کے میدان میں ماشاءاللہ اپنا مقام بنا لیا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ دعوتی وعملی میدان میں عمدہ کارکردگی کا حامل ہے-

بڑے دورہ تفسیر میں پانچ ہزار(٥٠٠٠) سے زائد طلبہ ہوتے ہیں جن میں سے تقریبا دوہزار (٢٠٠٠) طلبہ کے اخراجات جامعہ برداشت کرتا ہے اور چھوٹےدورہ میں تقریبا تین ہزار (٣٠٠٠) طلبہ شریک ہوتے ہیں جن میں سے تقریبا (٨٠٠) طلبہ کے اخراجات جامعہ برداشت کرتا ہے- دوران سال بھی درسنظامی کے مختلف درجات میں شریک طلبہ میں سے خاصے طلبہ کے اخراجات جامعہ کے ذمہ ہوتے ہیں اور کتابیں تو سارے ہی طلبہ جامعہ سے حاصل کرتے ہیں-

ایک طالبعلم کے روزانہ دو وقت کے کھانےکا اوسط خرچ : /٢٠ روپے
ایک طالبعلم کے دو وقت کے کھانےکا ماہانہ اوسط خرچ :/٢٠٠ روپے -
ماہانہ بجلی کا بل : کم ازکم دس ہزار(١٠٠٠٠) روپے -
اس حساب سے سالانہ اخراجات کا اندازہ کچھ یوں کیا جا سکتا ہے-
بڑے دورہ کے دو ہزار (٢٠٠٠) طلبہ کا ڈیڑھ ماہ کا خرچ : اٹھارہ لا کہ (١٨٠٠٠٠٠) روپے-
چھوٹے دورہ کا آٹھ سو (٨٠٠) طلبہ کا پندرہ دن کا خرچ : دو لا کہ چالیس ہزار (٢٤٠٠٠٠) روپے-
سالانہ بجلی کا بل: ایک لا کہ بیس ہزار (١٢٠٠٠٠) روپے-
ملازمین کا سالانہ خرچ بحساب چالیس ہزار (٤٠٠٠٠) روپے فی ماہ چار لا کہ اسی ہزار (٤٨٠٠٠٠) روپے-
میزان : چھبیس لا کہ چالیس ہزار (٢٦٤٠٠٠٠) روپے -

چونکھ جامعہ کی عمارت تمام طلبہ کی رہائش کے لۓ سخت ناکافی ہے- اس لۓ یہ طلبہ جامعہ کے علاوہ گاؤں کی مختلف مساجد، حجروں اور دیگر کمروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں- اور جامعہ کی طرف سے وہیں انھیں اخراجات مہیا کر دیے جاتے ہیں- اور گاؤں کےلوگ بھی فراخدلی سے ان پر خرچ کرتے ہیں-

جامعہ کا اپنا کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہیں ہے- اس لۓ تمام اہل خیر مخلص احباب سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے کہ جامعہ کے ساتھ ان کا یہ تعاون ، جامعہ اور طلبہ کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ فہم قرآنی وعلوم اسلامی کی اشاعت کے عظیم جہاد میں صدقہ جاریہ ہوگا جس کے لۓ الله کریم انشاءاللہ بہترین اجر عطا فرمائیں گے-

منجانب : جامعہ الامام محمّد طاہر رحمہ اللہ
دارالقرآن پنج پیر، صوابی پاکستان .