شمارے

جون 2011

بسم اللّٰہ الرّ حمٰن الرّ حیم

حضر ت شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد طا ہر رحمہ اللہ  نے فرمایا :

(’’اس ملک میں بدعات عام تھیں لیکن کسی کو بدعت کی پہچان نہیں تھی۔ لوگ ڈھول اور ناچ گانے کوبدعت کہتے ہیں۔ یہ گناہ ضرور ہے مگربدعت نہیں ۔ بدعت وہ ہے جسے دین سمجھ کر کیا جائے لیکن حقیقت میں وہ دین نہ ہو ‘‘ )

من انوار القرآن الکریم
ترجمہ :(--------------------------------------------------------------)
(سورۃ البقرہ:۱۵۱) )
ترجمہ: ۔’’سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو ‘‘۔
توضیح:۔’’حضرت ابن عباسؓ اور حضرت سعید بن جبیرؓ فرماتے ہیں :۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو میں تمہاری مغفرت کروں گا۔ حضرت سعید بن جبیرؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ذکر سے مراد اطاعت ہے ، اگر چہ وہ زبان سے ذکرنہ کرے اور جو شخص صرف زبان سے ذکر کرے مگر اطاعت نہ کرتا ہو تو اس کو ذکر کرنے والا نہیں کہیں گے ‘‘۔ (زاد المسیر:۰۶۱)
علامہ قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اس کی اس نعمت کا شکر زبان سے بھی ادا کرے اور دل سے اقرار کرے اور اعضاء سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے ۔(تفسیر قرطبی: ۲۷۱)

من کنوز السنۃ المطھرۃ

(’’وعن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا قالت: کان رسول اللّٰہ ﷺ
یذکر اللّٰہ علیٰ کل احیانہ ‘‘ )۔
(راوہ مسلم)
ترجمہ: ۔’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ہروقت ذکرکیا کرتے تھے ۔‘‘
توضیح:۔’’ یعنی رسول اللہﷺ عام اوقات میں ہمیشہ ذکر الٰہی کرتے تھے ‘‘۔
علماء فرماتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ آپﷺ ہمیشہ ذکرہی میں مشغول رہتے تھے یعنی ہمیشہ
اللہ تعالیٰ کا استحضار رہتا تھا ۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تمام مخلوق سے زیادہ کامل تھے بلکہ آپﷺ کا ہر کلام اللہ تعالیٰ کا ذکر یااس کے متعلق پر مشتمل تھا ۔

شیخ القرآن مولانا طاہر رحمہ اللہ  کا فکروفلسفہ

ادارہ جیسے ہی اسلام کی کرنیں برصغیر پاک وہند پر پڑنے لگیں ، یہاں کی سماجی زندگی کی کایا ہی پلٹ گئی۔ وہ سماج جو صدیوں سے ہندوؤں کی توہمانہ انداز فکر میں جکڑا ہواتھا اب ایک نئی صبح کی نوید سن رہاتھا ۔ اب ایک نئی شمع روشن ہوئی اور ہند کے بت خانوں میں اندھیرا ہونا شروع ہوگیا۔
بحیرہ عرب کی تندو تیز لہروں کو پار کرتے ہوئے جب سندھ میں اسلام داخل ہوا تو ایک طرح سے پورے بر صغیر میں مسلمانوں کی سربلندی کا آغاز ہوگیا۔ مقامی باشندوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو نے کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا ۔ رفتہ رفتہ مسلمان حکمران ریاستی رقبے میں بھی اضافہ کرتے رہے لیکن پھر بھی یہاں واضح اکثریت ہندوؤں کو حاصل تھی ، مسلمان آبادی کی لحاظ سے دوسرے نمبر پرتھے جبکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد بہت کم تھی ۔ ہندوؤں کی مذہبی حلقے یہاں کے تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات سے کافی پریشان تھے۔ انہوں نے عقیدہ توحید کا راستہ روکنے کے لئے کمر کس لی اور احیائے ہندومت کی تحریکوں پرخصوصی توجہ مبذول کردی۔ یہ تحریکیں آج بھی ہندوستان میں کسی نہ کسی شکل میں باقی ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کی تاریخ کے ہر موڑ پر علمائے دین اور صوفیائے کرام نے اپنی تعلیمات کی تبلیغ اور عملی تربیت کے ذریعے عقیدہ توحید کو ہم عصر غیر مسلم مذہبی حلقوں کے برے اثرات سے محفوظ رکھا(۱) حق پرست علمائے دین نے شریعت محمدی ﷺ کو اصل شکل میں قائم رکھنے کے لئے مسلسل جدوجہد کی اور اس کی اصل روح کو نقصان پہنچا نے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہیں بعض مسلمان حکمرانوں کی طرف سے اس نیک مقصد کی خاطر حوصلہ افزا تعاون بھی حاصل رہا ۔ تاہم اکبر جیسے حکمرانوں کا رد عمل اس کے برعکس رہا۔ محافظان عقیدہ توحید کا دائر ہ کار اگرچہ عقیدے کی حفاظت تک محدود تھا لیکن وہ مسلسل ہندوستان کی سیاسی منظر پر نگاہ رکھ کر یہاں کے سماج میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے رجحانات کا مطالعہ کرتے رہے۔ تاہم ان کی کاوشوں کا حاصل یہ تھا کہ مسلم معاشرے کا اندرونی خلفشار اور بیرونی حملوں سے باوقار اندار میں دفاع کیا جائے(۲)۔
انیسویں صدی عیسوی کے دوران جب ہندوستان انگریز کی استبدادی قوت کی غلامی میں کراہ رہا تھا ، اسلام پر مختلف اطراف سے تابڑ توڑ حملے ہو رہے تھے ، اسلام کے بنیادی عقائد کو اندرونی ہر دو محاذوں پر کافی نقصان پہنچایا گیا۔ اندرونی محاذ پر خود غرض اور لالچی ملاؤں ، نام نہاد پیروں اور علمائے سو نے دنیاوی اغراض کی خاطر اسلام کے بنیادی عقائد میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور ان کی ہےئت تبدیل کر نے میں نمایاں طور پر مذموم کردار اد اکیا۔ انہوں نے دنیا کی لالچ میں آکر مرد ان حق کا راستہ بھی روکا۔
بیرونی طور پر انگریز حاکموں نے اسلام کو اپنی حکومت کے لئے مسلسل خطرہ تصور کرتے ہوئے اس کی بنیادوں میں دراڑیں پیدا کرنے کا منظم منصوبہ بنایا۔ انہو ں نے دنیاوی منفعت کالالچ دے کر بے ایمان ملاؤں اور پیروں کو زر خرید غلام بنا کر اپنا آلہ کار بنایا (۳) ان بے ضمیروں نے غلط رسومات ، توہمات ، غیر اسلامی عبادات، خلاف شریعت رسم ورواج اور مختلف قسم کے شرکیات و بدعات کو پروان چڑھایا ۔ رفتہ رفتہ مسلم معاشرے کی حالت ابتر ہوتی گئی۔ لوگوں کو دین کی آڑ میں دین سے برگشتہ کیا گیا لوگ شرکیات اور بدعات کو عبادت سمجھنے لگے (۴) برصغیر کی تاریخ کے اس موڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے الشیخ مولانا محمدطاہر
رحمہ اللہ یوں رقمطراز ہیں:۔
’’ کافر، ظالم و جابر حکام، غلط پیرو رھبان اور علمائے سوء اسی تخریبی عمل کے چیدہ چیدہ عناصر تھے جنہوں نے انسانی معاشرے کے تقدس کو پامال کیا تھا۔ توحید وسنت کی جگہ شرک وبدعت اور رسوم جاہلیت کا راج تھا مگر ناکارہ پیر وراہب اپنی خانقاہوں میں دبے بیٹھے تھے اور حرام کا مال لوٹ رہے تھے‘‘۔
حرام نذرو نیاز، بھینٹ ، چڑھاوے ، منتیں اور شکرانے غریب اور جاہل عوام سے بٹورے جارہے تھے ۔ دین کے نام پر بے دینی کابازار گرم تھا۔ علماء سو ء اور جاہل پیر عوام سے بے نیاز اپنی دھن میں مگن تھے ، حکومت وقت کی حامی بھر کر سکھ وآشتی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ حلوہ مانڈہ کی بھر مارتھی انکو یہ فکر کبھی دامن گیر نہ ہوتی کہ بحیثیت مسلمان عالم کے ان پر کچھ فرائض عائد ہوتے تھے ۔ انسا نی فکرکو سنوارنے اور اسے توحید وسنت پر کاربند کرنے کیلئے ان کے دست وپاشل ہوگئے تھے اور زبانیں بیان حق سے گنگ ہوچکی تھیں ۔
جب فرزندان توحید وسنت حضرت سید احمد شہید ؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور انکے رفقاء کار نے علم جہاد بلند کیا تاکہ اس حسین ماڈل معاشرے کو پھر سے نئے خطوط پراستوار کیا جاسکے جو ہمارے اسلاف ہمارے لئے منتخب کرچلے تھے تو پیران ضلالت وعلماء سوء نے دنیاکی لالچ میں آکر ان مردان حق کا راستہ روکنا شروع کردیا۔ حکام وقت نے تھوڑی سی دنیاوی منفعت کا لالچ دے کر بے ایمان ملاؤں اور پیروں کو زر خرید غلام بنا کر اپنا آلہ کار بنا لیا۔
ان ضمیرفروشوں نے متعدد مقامات پر اجتماعات مقرر کئے اور ا ن حق پرست مجاہدوں پر کفروالحاد وزندقہ کے فتوے لگائے (۵)۔
شیخ القرآن مولانا محمد طاہرؒ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی کاوشوں کے بڑے معترف تھے اور برصغیر پاک وہند میں تحریک احیائے اسلام کے سلسلے میں آپ کی امتیازی شا ن کے قائل تھے ۔ اس ضمن میں شیخ القرآن
رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔
’’برصغیر پاک وہند میں سب سے بڑے مفکر مسلما ن وعالم دین حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے یہ حقیقت سب سے پہلے محسوس کی اورانہوں نے اسلامی فکر وعمل کو عصرجدید سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مسلمانوں کو اسلامی فلسفہ سکھایا‘‘ اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ اگر عصرجدید کے مسلمان اس پر عمل پیرا ہوں تو مغربی افکار ولادینی نظریات سے بچ کر نکل سکیں گے ورنہ سرمایہ دارانہ ، لبرل اور اشترا کی نظام ان کا عرصہ حیات تنگ کر دینگے اور ان کے اسلامی تشخص کو صفحہ ہستی سے مٹاکر دم لیں گے ۔ اسی ولی اللہی مکتب فکر کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کے فرزندان ارجمند وعظیم رفقاء کار نے منظم جدوجہد شروع کی اور حضرت سید احمد شہید ؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہید ؒ نے اس چمن کو اپنے پاک لہو سے سینچا ۔ ۷۵۸۱ ء کی جنگ آزادی میں بھی یہی جذبہ کار فرماتھا جس میں حضرت رشید احمد گنگوہی ؒ نے چھ مہینے قید وبند کی صعوبتیں اور کڑی سزائیں برداشت کیں اور ہزاروں علماء حق شہید کئے گئے (۶)‘‘
تقسیم ہند کے بعدہندوؤں کو اس سرزمین سے جانا پڑا لیکن وہ اپنے رسم ورواج ، روایات اور ہندو کلچر کے اثرات کویہاں چھوڑگئے۔اور ایک طویل عرصے تک مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہم ساتھ رہنے کی وجہ سے ہندوکلچر کے بہت سے پہلو مسلمانوں کی مذہبی ومعاشرتی زندگی کا حصہ بن گئے تھے جوکہ اسلام کے بنیادی عقائد کے لئے مسلسل خطرے کی گھنٹی تھی۔
( مجدد الف ثانی
رحمہ اللہ ، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ، سید احمد شہید رحمہ اللہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ ) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کلمہ حق سرعام بلند کیاتھا ۔ آپ نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اسلام کو شرکیات، بدعات اورتمام غیر اسلامی طوروطریقوں سے پاک کر نے کیلئے ہمت باندھ لی ۔ اور ایک تحریک کا اغاز کیا تاکہ احیائے دین کی جو اہم ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے اس سے بطریق احسن عہدہ برآہو سکیں ۔ آپ کی تحریک کابنیادی مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کی روشنی سے مسلم معاشرے کو منور کیا جائے ۔ قرآن کریم کو آسان مادری زبا ن میں ہر خاص وعام کو پڑھایا اور سکھایا جائے۔ اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیاجائے تاکہ آبادی کا زیادہ سے زیادہ حصہ بلا امتیاز جنس ، رنگ ونسل اور ذات کے قرآن کریم کے مفہوم اور بنیادی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرکے اپنی انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھال سکے ۔ قرآن کریم سے واقفیت حاصل کئے بغیر صحیح عقیدہ اور اصلاح عمل صرف مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ قرآن کریم نور ہدایت ہے جو سماج کی اندھیر نگریوں میں نور خورشید سے کہیں زیادہ روشنی دیتا ہے ۔ اگر قرآن کریم کو صحیح معنوں میں پڑھا اور سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تویہ دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔ اپنی تعلیمات میں آپ نے جس چیز کو محور کے طور پر استعمال کیا اور جس کے بارے میں آپ کی رائے ہے کہ اسلام کے مستقبل کا دارو مدار اس سے وابستہ ہے وہ عقیدہ توحید ہے (۷)۔آپ کے خیال میں انیسویں صدی میں مسلمان زیادہ تر انگریزوں کی وجہ سے زوال پذیر ہوئے جنہوں نے ایشائی اور افریقی مسلمانوں کو ایک طویل عرصے تک اپنی غلامی میں مقید رکھا ۔ اور جیسے ہی انگریز نو آبادیاتی نظام کا زوال شروع ہوا، مسلم معاشرے کے احیاء کے لئے فضا ساز گار ہوئی۔ تاہم یہ ایک مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کیونکہ انگریز آقاؤں کے کارندے اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ آپ رحمہ اللہ نے دیگر طاغوتی قوتوں کے خلاف آواز اٹھا نے کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کی اسلام دشمن مغربی طاقتوں کے خلاف سرعام آواز حق بلند کی ۔کیونکہ آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ یہ انگریز ہی تھے جنہوں نے مسلم معاشرے کو انحطاط کی انتہائی حدتک پہنچایا اور اب مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو ختم کرنے کی ناکا م کوششیں کررہے ہیں ۔اگر چہ انگریز اپنے تمام مقاصد میں کامیابی حاصل نہ کرسکے لیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ہماری مذہبی اور معاشرتی زندگی میں ہمارے ہی لوگو ں کی مدد سے بگاڑ پیدا کرنے میں بڑی حدتک کامیاب رہے اور اپنے پیچھے ایسے کارندے چھوڑ گئے جنہوں نے ملا اور پیر کاروپ دھار کر اس قوم کو صراط مستقیم سے دور رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں(۸)۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے آپ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد کی تصحیح کے ساتھ ساتھ ان میں تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کواز سرنو اجاگر کیا جائے۔
شیخ القرآن مولانا محمدطاہر
رحمہ اللہ پنج پیری کے فلسفے کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں اولاً یہ حقیقت مسلسل ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آپ بنیادی طور پر ایک مصلح تھے ۔ تصحیح عقیدہ اور اصلاح اعمال آپ کی تعلیمات کے بنیادی اجزاتھے۔ اس بناء پر ہم یہ کہنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ آپ عام علماء کی طرح محض دینی مدارس میں پڑھانے سے مطمئن نہ تھے بلکہ قرآن وسنت کی پکار کو قریہ قریہ نگر نگر اور گھر گھر تک پہنچانے کا عزم رکھتے تھے۔ دوسری نمایاں بات یہ ہے کہ آپ کا راسخ عقیدہ تھا کہ جب تک انقلابی اقدامات نہ اٹھا ئے جائیں۔ معاشرے کی اصلاح ناممکن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے شرکیات و بدعات کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کیا اور عقیدے کے مسئلے پر ذرہ بھر نرمی بھی نہیں برتی۔ آپ کا یہ انداز اپنی مرضی اور منشاء پر مبنی نہیں ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تویہ وہی طریقہ ہے جو تمام انبیاء کرام علہیم السلام نے اختیار کیاتھا اورپھر نبی آخر زمان حضرت محمدﷺنے بھی ایساہی کیا تھا ، جب پہلی دفعہ اہل مکہ کو اکٹھا کرکے اسلام کی دعوت دی تو فرمایا ’’ یایھا الناس قولو لا الہ الا اللہ تفلحون‘‘ لاالہ الا اللہ کی دعوت دیکر آپ ﷺ نے اللہ کے سوا تمام معبودوں کو بیک وقت مسترد کیا اور شرک کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑی۔
شیخ القرآن
رحمہ اللہ نے بھی عقیدے کے معاملے میں غیر متزلزل رویہ اپنائے رکھا اورشرکیات وبدعات کا قلع قمع کرنا اپنی زندگی کا نصب العین سمجھا۔ آپ ؒ فرماتے تھے کہ ہمارے معاشرہ کی موجودہ کیفیت کا موازنہ عر ب کے دور جاہلیت سے کیا جاسکتا ہے (۹)۔کیونکہ جس وقت آپﷺ نے عرب کے ریگستانوں میں توحید کا درس دینا شروع کیا تو اہل مغرب کی معاشرتی زندگی انحطاط کا شکارتھی ، لوگ مختلف قسم کی سماجی برائیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے ۔ جوا ، زنا کاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی اور قتل وغارت گری عرب معاشرے کا خاصہ بن چکا تھا۔ لیکن ایک دفعہ جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو یہی لوگوں کی جان ومال کے محافظ بن گئے ۔شراب کے عادی جو ان اللہ اکبر کے نعرو ں سے مست ہونے لگے۔ عصمتوں کو تار تار کرنے والے عصمتوں کے محافظ بن گئے ۔ جوا کھیلنے والے مجاہدین بن گئے اور بات بات پر لڑنے جھگڑنے والے آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ لیکن یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوسکا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے پیارے رسولﷺ کی مکمل پیروی کی او ر اپنے سابقہ اعمال وعقائد کو یکسر مسترد کیا۔ یہی عرب تھے جواسلام کی بدولت پوری دنیا میں سربلند ہوئے اور مشرق ومغرب میں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کوپوری دنیاکے سامنے ایک مثال کی حیثیت سے پیش کیا۔
شیخ القرآن
رحمہ اللہ کا نظریہ ہے کہ عہد حاضر میں جب پوری دنیا کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے ،مسلمانوں کو اپنی تمام تر توجہ قرآن کریم اور سنت محمدی ﷺ کی تعلیمات کی طر ف مبذول کرنا چاہیے(۰۱)۔
اگر مسلمان ہرقسم کی مشکلات پرقابوپانا چاہتے ہیں ، دنیاوی اور آخروی زندگی کو سنوارنا چاہتے ہیں توان کے سامنے فلاح پانے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ مسلمان قرآن وسنت کی تعلیم کی طرف توجہ دیں ، ا ن کو پڑھیں ، سیکھیں اور ان تعلیمات کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی بسر کریں۔ قرآن وسنت کے مطالعے کی بدولت مسلمان اپنے معا شرے سے جہالت کا خاتمہ کریں۔ ان تمام عبادات، عادات ، رواجات او ر طور طریقوں سے بیزاری کا مظاہرہ کریں جو کبھی دین اور کبھی دنیا کے نام پر مسلم معاشرے کی شکل کو بگاڑنے میں مدد گار ثابت ہورہے ہیں۔ اور جن کی وجہ سے مسلمانوں کے ذہنوں پر جمود طاری ہے ۔ مسلمانوں کو عقل وفکر سے کام لیکر یہ سوچنا چاہیے کہ جس انداز سے انہوں نے اپنے عقائد اور اعمال کو بنا لیا ہے ، کیایہ قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات کے مطابق ہے ؟ اگرایسا نہیں ہے تو کیوں نہ اپنے عقائد اور اعمال کو درست کریں ! مگریہ عمل تبھی ممکن ہوگا جب اشاعت قرآن کریم کوفروغ دیاجائے ، ہر خاص وعام کو قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کے لئے تیار کیاجائے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ لوگوں تک قرآنی پیغام پہنچانے کے لئے علماء اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کریں گے تواس کوتاہی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونگے۔
( از شیخ القرآن پنج پیر
رحمہ اللہ ، افکاروآثار:۷۹:۴۰۱)
سابق پادری گلزار اے پادری کا قبول اسلام
پاکستان کے ایک معروف سابق پادری گلزاراے پال انٹرویو
انتخاب:۔ابوعمیر طاہری
اسلام کے اندرآپ کو کو ن سی خوبیاں نظرآئیں کہ آپ نے تمام مذاہب میں سے اس کاانتخاب کیا؟مختصراًیہ کہوں گاکہ عقیدۂ توحیدنے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا۔سورۃ اخلاص توحیدکاجوہرہے اوریہ عقیدۂ تثلیث کی جڑکاٹ کررکھ دیتی ہیں۔دوسری بات مساجدمیں انسانی ا متیازات کی جگہ مساوات کاپایاجاناہے ۔مسجدمیںآقاوغلام کوایک ہی صف میں کھڑاہوناپڑتاہے۔آقاکوالگ جگہ نہیں دی جاسکتی اور اگر غلام پہلی صف میں کھڑاہے تواسے کوئی پچھلی صف میں نہیں دھکیل سکتا۔چرچ میں امتیازات پائے جاتے ہیں۔تیسری بات اسلام کاعقیدۂ نجات ہے کہ آخرت میں جزاوسزاکاانحصارانسانوں کے اعمال پر ہے ۔ اسلام میں عقیدۂ قیامت،عذاب قبراوربرزخ کی زندگی کی تفصیلات نے مجھے بہت متاثرکیا۔
نبی کریمﷺ کوکفارکا۔الامین۔تسلیم کرنابھی اسلام کے سچاہونے کی اہم دلیل ہے۔ بائبل کے بارے میںآپ کی کیارائے ہے؟پہلے بتاچکاہوں کہ اس کے اندربہت زیادہ تضادات پائے جاتے ہیں اوراس کی وجہ اس میں صہیونی علماء کی طرف سے مسلسل تحریف کرناہے۔اسے پڑھتے ہوئے کہیں کہیں الہٰی کلام بکھراہواملتاہے مگرانسانی کلام کواس میں اس طرح شامل کردیاگیاہے کہ عام قاری الہٰی اورانسانی کلام میں امتیازنہیں کرسکتا۔حضرت لوطؑ اوردیگرپیغمبرؑ وں کے واقعات جس اندازسے بیان کیے گئے ہیں۔اس سے ان کی بدترین کردارکشی ہوئی ہے جنوبی ایشیامیں عیسائیت کے پھیلاؤ کی وجہ ؟غربت،تعلیم کی کمی اورمسلم علماء کالوگوں تک مثبت طریقے سے اسلام کی دعوت نہ پہنچانا۔پاکستان میں مشنری سرگرمیاں؟
ْْْْْْپاکستان میں متعددمسیحی تنظیمیں کام کررہی ہیں۔پاکستان بائبل سوسائٹی ہے۔مسیح مذہبی لٹریچرہے، مسیحی اشاعت خانہ ) یعنی آپریشن موومٹ تنظیم بازاروں میں تبلیغ کرتی ہے ۔سکولوں اورہسپتالوں میں بھی تبلیغ کام ہوتاہے۔ بڑی تعدادمیں کارسپانڈنس سکولزہیں آپ کے خیال میں کتنے لوگ عیسائی ہورہے ہیں۔میرے اندازے کے مطابق جن تک مسیحی مبلغین پہنچ جاتے ہیں۔ان میں سے چار پانچ فیصد کووہ شکارکرلیتے ہیں۔وہ لیتے ہیں۔اسلام قبول کرنے کے بعدآپ کوکوئی ایساتجربہ ہواہوجسے آپ بیان کرناچاہیں۔مزنگ اڈامیں ایک مسجدکے پاس سے گزررہا تھاکہ ایک مولوی صاحب اپنی تقریرمیں فرمارہے تھے ’’اگرکوئی وہابی(اہل حدیث)اس مسجد میں داخل ہوجائے تو اس کے جانے کے بعدمسجدکو لازماً دھویاجائے ۔ان کی تقریر کے بعدمیں نے مولانا سے پوچھاکہ ابھی جوآپ نے مسجد کودھونے کافتویٰ دیاہے۔کیاقرآن مجیداور کتب احادیث میں کہیں ایساآیاہے؟ میں نے انہیں بتایاکہ مسجدنبویؐ میں تونجران کے عیسائی اپنے طریقے کے مطابق عبادت کررتے رہے اورنبی کریمؐ نے کبھی مسجد کو نہیں دھلایا،آپ نے کہاں سے معلوم کرلیا کہ کسی وہابی کے مسجدمیںآجانے سے مسجددھونا ضروری ہو جاتاہے۔فرمانے لگے کہ میرے استاذمحترم نے بتایاہے ،میرے پوچھنے پربتایاکہ شاہد رہ کافلاں پیرمیرا استاذہے میں اس پیرکے پاس گیااوران سے بھی یہ سوال پوچھاتو انہونے فرمایاکہ میرے استاذنے بتایا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھاکہ کیاکبھی آپ نے قرآن وحدیث کامطالعہ بھی کیاہے۔کہا،نہیں؛جواستاد نے بتاتے ہیں۔وہ آگے میں بتادیتاہوں،نمازمیں ان کاتلفظ بھی بہت غلط تھا۔میں نے ان سے گزارش کی کہ کسی قاری سے قرآن مجیدپڑھ لیں،اللہ کاشکرہے کہ وہ میری بات مان گئے۔یہ بتاتاچلوں کہ یہ پیر صاحب بنیادی طورپرایک موچی تھے۔پہلے شاہ بنے اورپھربن گئے اوراس کے بعدمسجدبھی سنھبال لی، ایسے ہی کم علم لوگ اسلام کی تعلیمات کاحلیہ بگاڑرہے ہیں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کوقرآن مجید اور سیرت رسول پاکﷺ کے مطالعہ کی توفیق دے۔جاہل پیروں اورمولویوں سے محفوظ رکھے۔( آمین) محترم گلزار احمدصاحب سے انٹرویومکمل ہواتومیں نے ان کی بیٹی سائرہ سے پوچھاکہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیااورنیادین کیسالگا؟توسائرہ جوساتویں جماعت کی طالبہ ہے ،نے بتایاکہ میرااسلام کامطالعہ زیادہ نہیں ہے،میں ابھی قرآن مجید پڑھناسیکھ رہی ہوں،میرے ابوبہت پڑھے لکھے انسان ہیں،ان کی لائبریری میں۰۲ ہزارسے زیادہ کتابیں ہیں۔جب انہوں نے بتایاکہ میں اسلام قبول کراہاہوں تومجھے یقین تھاکہ انہوں نے بالکل صحیح مذہب کاانتخاب کیاہے،اس لیے ہم سب گھروالوں نے ان کے ساتھ اسلام قبول کیا۔خوشی سے قبول کیاہے اورمسلمان ہوکرہم سب خوش ہیں۔ان کی اہلیہ مسرت بہن سے
پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ایک سلجھی ہوئی خاتون ہیں۔بچپن سے ان کی ٹانگ میں نقص ہے۔گلزاراحمدصاحب کے ساتھ شادی سے قبل وہ رومن کیتھولک تھیں۔انہوں نے بتایاکہ میراتصورخدابچپن سے ہی عیسائیوں سے مختلف تھا۔ابھی میں سات سال ہی کی تھی کہ نہ جانے میری زبان سے کیابات نکلی کہ NUNS نے سن کرکہاکہ یہ بچی ایک دن ضرورمسلمان ہوجائے گی ۔
میرے رشتے داروں کابھی یہی خیال تھاجبکہ میراایساکوئی ارادہ نہ تھا میرے شوہرکادل جب اسلام کی طرف مائل ہواتووہ میرے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے لگے اورطویل تبادلۂ خیال کے بعد ایک دن اس نتیجے پرپہنچ گئے کہ اسلام ہی سچادین ہے اورجب یہی سچادین ہے توپھرہم کیوں نہ اسے قبول کریں۔کہیںآپ کے شوہرنے آپ پرکوئی سختی تونہیں کی یاچھوڑدینے کی کوئی دھمکی دی ہو؟‘‘میراسوال سن کرانہوں نے کہا ؛میرے شوہرایک پڑھے لکھے سلجھے ہوئے انسان ہیں،وہ دھمکی سے نہیں دلائل سے قائل کرنے کی حامی ہیں۔آپ کے ولدین اوربہن بھائیوں کاآپ کے ساتھ اب کیسارویہ ہے۔
انہوں نے بتایا؛سب قطع تعلق کرچکے ہیں۔ ٹانگ میں نقص کے باعث میرے والدصاحب مجھ سے بہت پیارکرتے ہیں،وہ اب بھی مجھ سے ملتے ہیں،باقی سب نے ملناچھوڑدیاہے’’اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کوکوئی پچھتاواتونہیں ہوا؟‘‘ہرگزنہیں،ہم ذہنی طورپران پر یشانی کیلئے تیارتھے جن کاآج ہمیں سامنا ہے ۔ صرف اپنے بچے کی پریشانی ہے کہ وہ نئی صورت حال سے بڑاڈسٹرب ہے۔’’چندسال بعدآپ نے بچوں کے رشتے کرنے ہیں،اس بارے میں کوئی پریشانی؟میرے سوال پرمسکراتے ہوئے انہوں نے کہا؛ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اوربھروساہے جس نے ہمیں صراط مستقیم پرآنے کی ہمت اورتوفیق دی ہے ،وہی ہمارے بچوں کے لیے رشتوں کاانتظام بھی کرے گا۔پریشان تو وہ جواللہ تعالیٰ کوقادرمطلق نہ سمجھے‘‘۔
مسرت بہن کے اعتماد کودیکھ کربہت خوشی ہوئی اورسچی بات یہ ہے کہ ان کے سامنے اپناایمان بہت کمزورنظرآیا۔ہم پیدائشی مسلمان اسلام کی قدرکیاجانیں،ہمیں قادر مطلق کی قدرتوں طاقتوں اور عظمتوں کابھی پتانہیں۔جسمانی طورپر یہ کمزور خاتون ایمان کی ایک مضبوط چٹان بن چکی ہے۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس نو مسلم آمین؟۔۔۔۔۔۔
آپ ڈیٹ ؛گلزارصاحب کے والدین فوت ہوچکے ہیں۔ان کی بچی سائرہ اب (۰۱۰۲ء) بی ایس سی کی طالبہ ہے اوربچہ نہم کلاس میں پڑھ رہاہے ۔خود وہ ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازمت کررہے اورباقی وقت انہوں نے تبلیغ اسلام کے لیے وقف کیا ہواہے۔
[بشکریہ : ماہنا ضیائے آفاق

شرک کی قسمیں
(قسط نہم) مولاناحکیم عبدالخالق
اصطلاحی مفہوم:۔
عبادت کا اصطلاحی مفہوم علامہ ابن قیم رحم اللہ  نے اپنی کتاب مدارج السالکین میں خوب بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں:۔
(العبادۃ عبارۃ عن الاعتقاد والشعور با ن للمعبود سلطۃ غیبےۃ۔ (ای فی العلم والتصرف) فوق الاسباب یقدربھا عن النفع والضرر فکل دعاءٍ ونداءٍ وثناءٍ تعظیم ینشاء من ھٰذا الاعتقاد فی عبادۃ)
’’ عبادت اس اعتقاد اور شعور کانا م ہے جس سے معبود کے لئے فوق الاسباب علم اور تصرف میں غیبی طاقت مانی جائے جس سے کہ وہ نفع اور ضرر پر قدرت رکھتا ہو۔ پس ہردعاء ، ہر ندا ء ، ہر ثناء اور ہر تعظیم جوان اعتقادات سے پیدا ہو عبادت کہلائے گی‘‘
یعنی جب معبود کے لئے اپنے دل و دماغ میں یہ دوعقیدے رکھ کر کوئی تعظیم بجالائے گا وہ اس کی عبادت بن جائے گی۔
(۱) وہ غائبانہ یعنی ما فوق الاسباب طور پر میرے تمام حالات سے باخبر ہے۔
(۲) وہ مافوق الاسباب طور پر مجھے نفع و نقصان پہنچانے اور میری مشکلات کوحل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
پہلے عقیدے کو علماء عالم الغیب ہونے سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسرے عقیدے کو مختار کل اور متصرف فی الامور ہو نے سے تعبیر کرتے ہیں۔
اب خلاصہ یہ نکلا کہ کسی بھی ہستی کو عالم الغیب اور مختار کل سمجھ کر حاجات میں پکارنا، اس کیلئے قیام ، رکوع اور سجدہ وغیرہ کرنا اس کے نام پر قربانی دینا ، نذر ونیاز دینا، یا اسی عقیدے کے تحت اور کوئی تعظیمی عمل بجالانا اس کی عبادت کہلائے گا۔ بیٹھے ، طواف بیت اللہ کرے، سعی صفاومروہ کرے ، تقبیل حجر اسود کرے، منیٰ وعرفا ت کوجائے تو یہ سب افعال خدا تعالیٰ کی عبادت بن جائیں گے ۔

اگر معاذاللہ یہ اعتقاد کسی پیر، فقیر اور پیغمبر علیہ السلام کے متعلق رکھ کر اس کو پکارے ، اسکے سامنے دو زانو بیٹھے ، اسکے سامنے قیام کرے ، اسکے سامنے جھکے ، یااسکی قبر کی طرف اسی اعتقاد کے تحت جائے۔ قبرکوبوسہ دے ، اسکے نام پر خیرات کرے تویہ سب افعال اس ہستی کی عبادت بن جائیں گے اور عبادت ماسوائے اللہ تعالیٰ کے روانہیں ہے ۔
کلمہ طیبہ میں یہی مسئلہ بیان کیاگیا ہے۔ ان شاء اللہ اس مسئلہ کی مزید تشریح و توضیح اسی کتاب میں مسئلہ اِلٰہ کے ضمن میں بیان ہوگی۔
عبادت کی اقسام:۔
علماء کرام عبادت کی اولاً دوقسمیں بیان کرتے ہیں۔
(۱) عبادت اعتقادی
(۲) عبادت عملی
عبادت اعتقادی یہ ہے کہ کسی ہستی کے لئے مذکورہ عقائد اپنے دل میں رکھے ۔ اس عقیدے کادل میں استحضار کرنا عبادت اعتقادی کہلائے گا۔
عبادت عملی کی تین اقسام ہیں:۔
(۱) عبادت قولی
(۲) عبادت فعلی
(۳) عبادت مالی

نماز میں دو زانو بیٹھ کر جو دعاء ہم پڑھتے ہیں اس میں تینوں عبادات کا ذکر ہے۔
’’التحیات‘‘ یعنی ’’قولی عبادتیں‘‘ ’’الصلوٰت‘‘ ’’بدنی عبادتیں‘‘ ’’الطیبات‘‘ ’’مالی عبادتیں‘‘ ۔
اور ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ میری تمام قولی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں صرف تیرے لئے ہیں۔
اب مختصراً ہرایک قسم کا بیان ہوگا۔
قولی عبادت:۔
اس قسم میں دعا بھی شامل ہے ۔ بلکہ حسب فرمان نبوی ﷺ دعا تمام عبادات کا مغز اور نچوڑ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ’’ الدعاء مخ العبادۃ‘‘ یعنی ’’دعا عبادت کا مغز ہے ‘‘

* ارشاد ربانی ہے :۔ ’’ وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جھنم داخرین‘‘ (مومن:۰۶)
’’ اور تمہارے رب نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا جولوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل وخوار ہو کر داخل ہوں گے ‘‘
غور فرمائیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعاء اور سوروپکار کو عبادت سے تعبیر فرمایا ہے:۔
* ایک اور مقام پرفرمایا:۔ ’’ ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیامۃ وھم عن دعاء ھم غافلونواذاحشر الناس کانوا لھم اعداءً و کانوا بعبادتھم کافرین‘‘ (احقاف: ۵)
’’ اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوسکتا ہے جواللہ تعالیٰ کے سوا اس کوپکارتا ہے جوقیامت تک اس کو جواب نہ دے سکے اور وہ اس کی پکار سے بے خبرہیں اور جس دن لوگوں کو اکٹھا کیاجائے گا اور وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے‘‘
توجہ فرمائیے اس آیت میں بھی دعاء اور سوروپکار کو عباد ت سے تعبیر کیاگیا ہے ۔
* جب دعا عبادت ہے توپھر اس میں ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے یعنی اللہ ہی کے لئے خالص پکار ہونی چاہیے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ’’ فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین‘‘ (مومن:۴۱)
’’ پس پکارو اللہ کو خالص کرکے عبادت اس کی ‘‘
* نیز فرمایا : ’’ وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احداً ‘‘ (جن:۸۱)
’’اوریہ کہ مساجد اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو مت پکارو‘‘
(ولا تدع من دون اللہ مالا ینفعک ولا یضرک) (یونس:۶۰۱)
اب جولوگ مصائب و بلیات میں اللہ کے سوا مخلوق کے کسی فرد سے مدد مانگتے ہیں ان کے ایمان کا اندازہ آپ خو دکرلیں۔آپ صبح وشام روزمرہ زندگی میں یہ الفاظ سنتے ہیں اور لکھے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
’’یارسول اللہ مدد‘‘ ’’یاعلی مدد‘‘
’’یاشیخ عبدالقادرشیاً للہ‘‘ ’’یاپیر دست گیر‘‘
’’یاامام بری کھوٹ قسمت کر کھری‘‘ ’’یامعین الدین چشتی پارلگا میری کشتی‘‘
’’یابہاء الحق بیڑا دھک‘‘ وغیرہ
بتائیے! مدد کے لئے مافوق الاسباب ان ہستیوں کو غائبانہ پکار نا شرک نہیں تو اور کیا ہے؟
* اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب وہ بحری سفر میں ہوتے اور طوفا ن وغیرہ آجاتا تو سمجھتے کہ اب بچنا محال ہے اس وقت تو خالص اللہ تعالیٰ کوپکارتے تھے اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا نے لگتے۔
(فاذا رکبو ا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجاھم الی البر اذا ھم یشرکون) (عنکبوت:۵۲)
یعنی’’کشتی میں جب سوار ہوتے ہیں توخالص اللہ تعالیٰ کوپکارتے ہیں اور جب وہ انکو نجات دیکر خشکی پر پہنچا دیتا ہے توجھٹ شرک کرنے لگ جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کوملاکرپکارنا شروع کردیتے ہیں‘‘
یعنی جب مصیبت آئی تو اللہ تعالیٰ یاد آگیا اور جب مصیب ٹل گئی توپھر فرمایا:۔
’’ واذا مس الانسان ضردعا ربہ منیباً الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوا الیہ من قبل وجعل اللہ اندادً لیضل عن سبیلہ ‘‘(زمر:۹۳)
’’ جب پہنچے انسان کوتکلیف تو پکارے اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے نعمت بخش دے تو بھول جائے اس کو جس کے لئے پکاررہا تھا پہلے سے ، اور ٹھہرائے اللہ کے ساتھ شریک تاکہ بہکائے اس کی راہ سے۔

اجتماع سے ناظم دارالقرآن مولانا
اعظم طارق بدخشانی کے خطاب کا خلاصہ
ادارہ
(الحمدللّہ الذی فضل بنی آدم باالعلم والعمل علی جمیع العالم والصلوٰۃ والسلام علی محمد سیدالعرب والعجم وعلیٰ آلہ واصحابہ ینابیع العلوم والحکم:۔
اما بعد فاعوذ باللّہ من الشیطا ن الرجیم بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم :
قال اللہ تعالیٰ فی محکم کتابہ وھو احکم الحاکمین ۔
فی سورۃ النمل آیت سبع وتیسعون (۷۹)
ترجمہ :
ایّھا الاخوتی الکرام الضیوف المکرم من العلماء والطلباء وسائر عوام الناس قبل کل شئی آحنئیکم واحنیئی اجتماعکم ومجلس خیرکم وقدومکم من اقطار الدنیا فی ھٰذا المنظر العطیم و تنظر السامعین من اللغیوب بأ ن ھذا الاجتماع فی تذکرۃ واحیاء التاریخ حضرت شیخ القرآن رحمۃ اللہ علیہ وتجدید الاذھان نسّل النّوین قافلۃ الموحیدین لاشاعت التوحید والسنۃ العالمیہ فی المرکز العظیم تحت المدیریت حضرت العلامہ شیخ القرآن والحدیث استاد المحترم والمکرم شیخ العرب والعجم امیرکل باکستان مولانا محمدطیب طاہری سلمہ الباری فی الدار القرآن الفنجبیر صوابی باکستان۔
وھذٰالاجتماع فی محنتات حضرت العلامہ شیخ القرآن رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ بتحےۃ الاسلام الخالدۃ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ٍٍ ثانیاً فنخبرکم بقطعۃ من اثرات المحنۃ من اثرات امام المجاہدین قدوۃ المحدثین رائیس المفسرین محی السنۃالغراء ماحی البدعۃ الظلماء مرشید العلماء شیخ القرآن منجانب خان بن زوتہ خان بن لعل خان بن عمر خان بن خدر خان بن صفو خان وھو من اولاد با خیل وھو من اولاد افاغینہ۔
شخصےۃ:۔
وھو احدیٰ من النبغاء الصارحین التاریخ فی المیدان العلم والعمل
وھواحدیٰ من المفکرین والمصلحین فی الدعوۃ وللتدبر والقیادۃ ۔
وھو احدیٰ من المدرسین والمفسرین والمحدثین
وھو احدیٰ من المحبتمعین الصفات المصلحہ من العجز والتصوف
ولیس البعد فی تجمیع اللہ تعالیٰ الصفات الکثیرہ فی شخص واحد
کما قال سالک ابو نواس رحمہ اللہ.
وما علی اللہ بمستنکرٍ ا ن یجمع العالم فی واحدٍ
وقد سمعت الشیخ ابو السمحاء و ھو یقول مارائت عینایہ ولا سمعت اذنایہ قطۃٌ جرےئاً فی المسئلۃ التوحید مثل ھٰذا الشیخ رحمہ اللہ ۔
وقد تربیٰ الشیخ ونشاء فی اسرۃٍ عفیفۃ علمیتہ ،
وکان فی زمنہ ملتزماً ومتمسکاً بالسنۃ النبوےۃ،من الحالۃ الصیغر الیٰ حالۃ الکیبر
و کان عالماً عارفاً و فاھماً با القرآن والسنۃ النبوےۃ،
وھو امام من آئمۃ العصر ونجماً من النجوم السماء، یھتدیٰ بہ ،
وکان مجاہداً فی سبیل اللہ بفسہٖ ومالہ ولسانہ
وذاھداً ورعاً و بر کۃً من بر کات الزمان ، مفتاحاً للخیر و مغلاقاً للشر۔ ولایخاف فی اللہ لومۃ لائم۔
ٍ وکان شجاعاً جرئیاً فی دین اللہ وحکیماً فی امور الدعوۃ و یقوم فی مسیریۃ الدعوۃ باسالیب السلف الصالح ومنھجھم وکان مفسیراً کبیراً ومحدیثاً فریداً فعصرہ،
مؤئیداً لقولہ تعالیٰ فی السورۃ الاحقاف، (ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلاخوف علیھم

ولا ھم یحزنون،والی قولہ تعالیٰ ، ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا ،
وکان داعیا الناس الی قولہ تعالیٰ(ومن احسن قولاً ممن دعاء الی اللہ وعمل صالحاً) (حٰمم السجدہ)
وکان معتیقاً الناس من اللعبودےۃ ادیات الباطلہ الی حاکمےۃ دین الحق کما عبرہ قولہ تعالیٰ فی السورۃ الصف(ھوالذی ارسل رسولہ باالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ)
فھذانبذۃ مما ذکرت من محاسن الاسلام للشیخ الاسلام اما م محمد طاہررحمہ اللہ  وباالجملۃ لہ محاسن جمیلۃ و مناقب جلیلۃ واخلاق حمیدہ وفاضلۃ، فلسان القلم تتعب بذکرھا وکتابتھا والحمدللہ کانت للامام جھوداً منبذولۃً فی خدمۃ اُمۃ الاسلام بتصحیح عقائدھم وافکارھم۔
وکان فی الامۃ ظلمات الشرک والبدع والخرافات۔ فقام الامام باالجھد والا جتھاد باذالۃ الشرک والبدع فصبرواستقام ونجح فی نیل مرامہ وھو غرس التوحید والسنۃ فی ھذہ البلاد فلحصول ھذا المقصدالعظیم فتح حلقات التفسیر القرآن الکریم فی الجامعات والمدارس والمعا ھد والمحافل القومےۃ ورغب الناس وشوقھم بتعلیم القرآن الکریم لفظاً ومعنٰیً وحفظاً وتفسیراً۔
ومنھا حلقات دورس العقیدۃ والتربےۃ للتدریب المناقشات لاقامۃ الحق ودحض الباطل۔
(۱) شیخ القرآن وھو رجلٌقد حیاء تاریخ الشبلی والرازی وابن تیمیہ رحمہ اللہ  والقسطلانی والعسقلانی والماوردی والروح المعانی ۔
(۲) شیخ القرآن وھو رجل قد رفع سعود حیاتہ وقار العلم والعلماء۔
(۳) شیخ القرآن وھو رجل قد دفع دم حیاتہ عظمت المراکز الرحبان والرھبانےۃ۔
(۵) شیخ القرآن وھو رجل قد حقق وفصل العلوم الادیان والابدان
(۶) شیخ القرآن وھو رجل قد جمع العلوم المکہ والمدینہ والھند۔
(۷) شیخ القرآن وھو رجل قد دقق با ب من کل الفنون۔
(۸) شیخ القرآن وھو رجل قد ذئب العقیدۃ الصحیح من اعداۂ من المبتدعین والمشرکین والمبطلہ۔
(۹) شیخ القرآن وھو رجل قد حصل جوائز السوابق فی کل مقام ۔
فمن اعظم نشاء طہ تأسیس ھذہ الجامعۃ دارالقرآن وھی اآان مشھورۃ ومعروفۃ بجامعۃ الامام محمدطاہر ؒ ۔و قد اسئسۃ ھذہ الجامعۃ فی ۷۵۳۱ ھ ثلاثۃ مأءۃ عشرو سبع وخمسون الموافق ۰۴۹۱ ء بتسعۃ ماءۃ عشرواربعون بید سماحۃ الشیخ شیخ القرآن رحمہ اللہ فلا یخفیٰ علی امۃ الاسلام بأن لھا سمعۃ حمیدۃ ورفعۃ جمیلۃ وشرف جلیل فی الباکستان والا قالیم الاربعۃ کبشتو نستان والبلوشستان والسند والفنجاب۔
ولہ شہرۃ عظمۃ فی الدول المجاورۃ کافغانستان والھند وایران وبنغلادیش والدول العربےۃ المتحدۃ وغیر ذالک من الدول الاسلامےۃ فللہ الحمد اولاً وآخراً۔ فلجامعۃ جمھو ر مثمرۃٌ فی المتجمع البشری ویعترف بھذا اعداء العقیدۃ الصحیحۃ و جھودھاء الصالحۃ متواصلۃ مستمرۃ کما قیل الفضل ما شھید بہ الاعداء۔
مستمرۃ فی تربےۃ انباءھا و غرس العقیدۃ السلیمۃ فی قلوبھم وبذرالنواۃ فی صدورھم فالجامعۃ ترکیز عامۃ علیٰ تصحیح العقائید، والتزام باللسنۃ النبوےۃ والرد علیٰ الشرک باقسامھا والبدع با نواعھا والرسومات الجاھلےۃ الباطلہ بأطرافھا ، فاالجامعۃ تقوم دوماً امام جمیع الفرق الضالۃ المنحرفۃ عن الکتاب واللسنۃ وفھم المنھج السلف الصالح ، وتقوم انباءھا ومدرسوھاء و جمیع منتسوبو ھا ء لیلاً ونھا راً فی خدمۃ الاسلام والمسلمین واصلاح افکھارھم وعقائدھم ۔
اَلرَحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰن
مولانا مومن گل طاہری.
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے شمار نعمتیں ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے( وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھاَ )(ابراھیم: ۴۳، نحل:۸۱)، ترجمہ:اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتیں گنو تو ان کا شمارا نہیں کر سکتے۔ سب سے بڑی نعمت قرآن کریم ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں (وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ) (الضحیٰ:۱۱) ترجمہ:اور جو آپ کے رب کی نعمت ہے (قرآن) اسے لوگوں کو بیان کرو۔ آج کا مسلمان قرآن کی حقانیت سے انکار نہیں کرتا لیکن جس مقصد کے لئے قرآن کریم بھیجا گیا ہے وہ مقصد حاصل نہیں کرتا، علامہ اقبال فرماتے ہیں،
وہ معزز تھے زمانے میں حامل قرآن ہوکر
ہم ذلیل و خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
اس صدی میں قرآن کریم کی خدمت کا حق شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمد طاہر رحمہ اللہ  نے ادا کیا۔ آپ رحمہ اللہ  کی حقانیت اور للہیت کی یہ نشانی ہے کہ آپ رحمہ اللہ  نے قرآن کریم کا صحیح معنوں میں خدمت کیا، اللہ تعالیٰ نے اُس میں اثر ڈال دیا اور جہاں جہاں آپؒ کے طرز پر درس قرآن ہو رہا ہے وہاں سے شرک و بدعت نے بوری بسترہ گول کیا ہے۔ آپؒ نے اس عظیم مقصد کیلئے ایک تنظیم بنایا جسے اشاعت التوحید والسنت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عوام میں ’’پنج پیریوں‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔راقم الحروف اس عظیم قافلے کا ایک ادنیٰ خادم اور رکن ہے۔ بائیس سالوں سے تنظیمی شکل میں قرآن و سنت کی خدمت اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کر رہا ہے۔دارالقرآن اضاخیل بالا میں حسب معمول امسال بھی موسم گرما کا تائیسواں سالانہ دورہء تفسیر قرآن کریم ۵۱ مئی ۱۱۰۲ ؁ء کو شروع ہوا۔ درس قرآن کریم کے خدمات امسال بھی راقم الحروف (مولانا مومن گل طاہریؔ ) انجام دے رہے ہیں جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے میں ۸۴ سال سے منسلک ہے ۔ شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمد طاہرؒ سے تین دفعہ قرآن کریم پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ آپؒ کی وفات کے بعد 1987 ؁ء سے شعبان و رمضان کے دوروں میں مسلسل شرکت کر رہا ہے اور ہر سال دارالقرآن پنج پیر
شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری صاحبؔ ، مرکزی امیر اشاعۃ التوحید والسنۃ پاکستان نے نماز ظہر کے بعد افتتاح فرمایا۔تقریب سے پہلے صبح دس بجے جماعت اشاعت التوحید والسنت ضلع نوشہرہ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ کثیر تعداد میں اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہریؔ صاحب تشریف لائے۔ ضلع نوشہرہ کے اراکین نے اپنے قائد کا پر جوش استقبال کیا۔ ضلعی امیر حضرت مولانا عبدالحمید صاحب، نائب امیر جناب میاں نور رحمٰن صاحب، ناظم اعلیٰ مولانا مومن گل طاہریؔ صاحب، صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا شمس الہادی صاحب(رکن ضلع نوشہرہ) اور دیگر اراکین نے مرکزی امیر شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہریؔ صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ اُنھوں نے اپنی تنظیمی و تدریسی مصروفیات کے باوجود ضلع نوشہرہ کے ماہانہ اجلاس اور دارالقرآن اضاخیل بالا میں ضلعی نگرانی میں تائیسویں سالانہ دورہء تفسیر قرآن کریم کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ضلع نوشہرہ کے امیر صاحب اور اراکین نے مرکزی امیر صاحب کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ہر قسم مالی و جانی قربانی دینے کی یقین دہانی کرائی۔ آخر میں مرکزی امیر صاحب نے ضلع نوشہرہ کے امیر صاحب اور اراکین کا شکریہ ادا کیا اور تنظیمی ڈھانچے اور کام کی مزید فعالیت کیلئے دعا کی۔ بعد ازاں شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہریؔ صاحب اور اراکین شوریٰ ضلعی ناظم اعلیٰ مولانا مومن گل طاہریؔ صاحب کی چچی کی وفات پر تعزیت کیلئے اُنکے حجرے تشریف لے گئے۔
دورہء تفسیر قرآن کریم میں شرکت کے لئے خواتین و حضرات دور دراز علاقوں سے پہلے ہی دن سے آنا شروع ہوئے ہیں۔ طلباء دارالقرآن اضاخیل بالا میں مقیم ہیں اور طالبات راقم الحروف کے رہائشی گھر میں مقیم ہیں، پردے کا خاص انتظام کیا گیا ہے۔ طلباء و طالبات کھانے پینے کا خرچہ خود برداشت کرتے ہیں۔ کئی سالوں کے تجربہ کے بعد یہ طریقہ کاراختیار کیا ہے۔۹ (نو) سال تک یہ دورہء تفسیر پبی (ضلع نوشہرہ) میں پڑھایا گیا ہے اُس دوران پبی کے ارد گرد تمام دیہاتوں سے تنظیمی خرچے پر سپیشل گاڑیوں(سوزوکی،ڈاٹسن) کے ذریعے بہت سارے طلباء شرکت کرتے تھے لیکن نتیجہ زیرو (Zero) رہا۔
برداشت کرتے ہیں۔ اسکا نتیجہ 95% مثبت رہا۔
الحمد للہ اب حال یہ ہے کہ جو طالب العلم دارالقرآن اضاخیل بالا ایک دورہء تفسیر پڑھتا ہے وہ بحمد اللہ قرآن کریم کا درس دینے کے قابل ہوتا ہے۔
قرآن کریم کے مدرسین طلباء اور طالبات کے ایسے سینکڑوں نمونے صوبہ پختونخوا میں موجود ہیں۔
ان شاء اللہ 3 جولائی 2011 ؁ء کو بروز اتوار دورہء تفسیر کا اختتام ہوگا۔
اسکے ایک ہفتہ بعد (10 جولائی 2011 ؁ء کو بروز اتوار داراالقرآن پنج پیر میں تہترواں (73 واں) سالانہ دورہء تفسیر قرآن کریم کا آغاز ہوگا)۔
جماعت اشاعت التوحید والسنت بلوچستان کا اجلاس
رپورٹ:غلام اللہ دوستی
جماعت اشاعت التوحید والسنت صوبہ بلوچستان کا اہم اجلاس اجتماع پنج پیر کے اختتام کے بعد منعقد ہوا ۔ جس میں دیگر علمائے کے علاوہ مولانا محمدحسن کاکڑ، ناظم اعلیٰ بلوچستان مولانا عبدالسلام صاحب، نائب امیر اور ناظم اطلاعات مولانا مفتی دوست محمدصاحب ، مولانا محمدطیب صاحب، مولانا عبدالجبار صاحب اور مفتی مجیب الرحمن صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں بلوچستان کے تنظیم کاجائزہ لیا گیا۔ اور چند فیصلے کئے گئے۔ بلوچستان کے سطح پر کوئٹہ میں صوبائی دفتر کاقیام ۔تمام اضلاع میں تنظیمیں فعال بنانا۔ مرکزی دفتر دارالقرآن پنج پیر سے رابطہ رکھنا۔ ہرمقام پر دروس قرآن کریم کا انعقاد وغیرہ کے بارے میں فیصلے ہوئیں۔
جبکہ آئندہ اجلاس 2جون کو جامعہ عثمانیہ(مشرقی بائی پاس)میں ہونے کافیصلہ کیاگیا۔
اجلاس میں تمام شرکائے اجتماع کو سراہا ۔ اور کامیاب اجتماع پر شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری اور صوبائی قائدین کو خراج تحسین پیش کیا اور مبارکباد پیش کی۔

شیخ القرآن مدظلہ کا دورۂ
شمالی علاقہ جات وہزارہ ڈویژن
محمدفیاض ، ناظم اطلاعات صوبہ خیبر
جماعت اشاعت التوحید والسنت ایک عالمی مذہبی تنظیم ہے۔ جو ملک پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک افغانستان، سعودی ممالک ، متحدہ امارات ، یورپ ممالک اور دیگر تمام ممالک میں اس کی شاخیں موجود ہیں۔ اکابرین اشاعت نے شاگرد اور عقیدتمند بہت اخلاص و جذبہ سے خدمت اشاعت التوحید والسنت اور قرآن کریم کے دروس میں مصروف ہیں۔ اور جہاں جہاں اس جماعت کے اراکین وعلماء کام کرتے ہیں۔تو کبھی کبھی وہ اپنے قائدین کو وہاں پر مدعو کرتے ہیں ۔کبھی ختم قرآن کریم کے موقع پر کبھی افتتاح قرآن کریم کے موقع پر تو کبھی مدارس کے سالانہ پروگرام کے سلسلہ میں اور کبھی سالانہ اجتماع عام کے سلسلہ میں دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ قائدین اپنے کارکنوں کی محنت دیکھے ۔ ان کی حوصلہ آفزائی کرے۔ تسلی دے۔ اور ان سے ملاقات بھی ہوجائے۔
خصوصاً شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب جو اشاعۃ التوحید والسنۃ کے مرکزی اور عالمی امیر ہے۔ پورے سال دورہ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف اور مسلم شریف پڑھا نے کے ساتھ ساتھ اندرون وبیرون ملک کے کارکنوں کے دعوت پر اشاعت دین کیلئے جاتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو علم کے ساتھ ساتھ عمل، اخلاق ، جذبہ دعوت ، اخلاص اور ہمت جیسے صفا ت سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید توفیق وہمت عطافرمائیں۔
اسی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں گذشتہ دنوں چلاس کے کارکنوں کے دعوت پر جارہے تھے تو اشاعۃ التوحید والسنۃ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ناظم اعلیٰ مولانا ابوعمیر شمس الہادی طاہری اور راقم الحروف کو بھی ساتھ لے جانے کے لئے تیاری کا حکم فرمایا۔
لہٰذا ہم دونوں27اپریل کو پنج پیر گئے۔ رات گزاری اور 28 اپریل کو صبح بعد نماز فجر6بجے پنج پیر سے روانہ ہوگئے۔ ہمارے ساتھ دارالقرآن پنج پیر کے طلبہ کے امیر مولانا محمدفیاض صاحب کوہاٹ والے بھی شریک سفر ہوئے۔ شیخ القرآن صاحب کے قیادت میں قافلہ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ایبٹ آباد پہنچا۔ تو نڈیال سٹاپ
پر مولانا آمان اللہ صاحب ، مولانا عیسیٰ خان صاحب کے قیادت میں کارکنوں نے استقبال کیا۔ اور قریبی ہوٹل
دئیے۔ خصوصاً جماعت کے فعالیت کیلئے تنظیم نو کا مشورہ دیا۔ اور ناشتہ کرنے کے بعد سفر شروع کیا۔ تقریباً10بجے مانسہرہ پہنچے۔ مانسہرہ ڈب نمبر2مدرسہ تعلیم القرآن للبنات کے مہتمم مولانا محمدطیب زغفرانی صاحب کے دعوت پر ان کے مدرسہ گئے۔ جہاں پردیگر کارکنوں کے علاوہ تحصیل مانسہرہ کے ناظم مولانا عبید اللہ صاحب (رنگین مولوی صاحب) ، مولانا قاضی عثمان صاحب، مولانا محمدالیاس صاحب اور مولاناقاری راشد صاحب وغیرہ موجود تھے۔ اراکین سے جماعتی حوالہ سے گفتگو ہوئی۔ اور شیخ القرآن صاحب نے جامعہ کے ترقی کیلئے دعا فرمائی۔ اور پرتکلف تواضع کراکے کارکنوں نے اپنے قائد کو رخصت دی۔
شیخ القرآن مدظلہ کے ایک قریبی رشتہ دار کے دعوت پر شنکیاری میں کچھ دیر ان کے ساتھ گزاری ۔ چائے پانی کرکے بٹگرام روانہ ہوئے۔ بٹگرام کو تقریباً ڈیڑھ بجے پہنچے۔ نماز ظہر ادا کی اور حاجی محمدی گل مرحوم کے رہائش گاہ پر جماعتی کارکنوں خصوصاً حضرت مولانا قاری محمدنبی ،مولانا عبدالحق ، حاجی عبدالتواب مرحوم کے پوتے ، حافظ اشرف علی اور حاجی محمدی گل مرحوم کے بیٹے وغیرہ سے ملاقات ہوئیں۔ تنظیم کے بعض اہم امور پر گفتگو ہوئی اوربشام کیلئے احباب سے رخصت لی۔ 3بجے کے قریب بشام میرہ کے مدرسہ بحرالعلوم پہنچے۔ مفتی حفیظ الرحمن صاحب (نائب مہتمم جامعہ سعیدیہ اوگی اور نائب امیر صوبہ اشاعت التوحید والسنۃ)کے قیاد ت میں کارکن اور جامعہ کے مدرسین و طلبہ نے زبردست استقبال کیا۔ مفتی سعیداللہ صاحب، مفتی امین الرحمن صاحب، قاری محمدلطیف صاحب وغیرہ علاقہ بتکول کے ذمہ دار افراد مولانا کفایت اللہ صاحب، مولانا فیض الرحمن صاحب اورمولانا حسین احمد صاحب وغیرہ بھی موجودتھے۔
شیخ القرآن نے استقبالیہ اور مدرسہ کے طلباء سے پرمغز مختصر بیان فرمایا۔ جامعہ کے انتظامیہ نے پرتکلف تواضع چائے اور پھل سے کیا۔ اورپھر بشام بازار روانہ ہوئے۔ تومولانا عتیق اللہ صاحب جوہرسال رمضان دورہ تفسیر میں طلبہ کا امیر ہوتا ہے اور انتظامی اُمور میں شیخ القرآن مدظلہ کے مکمل معاون یوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ صلاحتیں عطافر مائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید ہمت عطافرمائے کے قیادت میں ایک استقبالی جلوس آیا۔ اورجلوس کے شکل میں ساتھیوں کے دعوت پرطے شدہ پروگرام قاری کفایت اللہ صاحب مدرسہ معہد العلوم تعلیم
القرآن شنگ ، پھر قاری مشتاق صاحب کے مدرسہ عائشہ صدیقہؓ گئے۔ یہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے جو قاری مشتاق
صاحب کے اخلاص کا مظہر ہے۔ حضرت قاری صاحب ایک مخلص خاکسار اور محبت کرنے والا انسان ہے۔ شیخ القرآن صاحب نے مدرسہ کامعائنہ کیا اور ان کے مزید ترقی کیلئے دعافرمائی۔ قاری صاحب نے پرتکلف میزبانی فرمائی۔ اور انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا۔ بعد میں جناب طارق احمد بشام جوایک مؤحد گھرانہ اور خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور انتہائی مخلص ساتھی ہے کے دعوت پر ان کے رہائش گاہ گئے ۔ ان کے والد محترم اور بھائیوں کے علاوہ ریاض احمد استاذ ، اعجاز ، مولاناعبدالعزیز دوبیر، مولانا سراج الدین صاحب، مولانا عبدالشکور صاحب وغیرہ موجود تھے۔ ملاقات ہوئی اور ان سے جماعتی حوالہ سے گفتگو ہوئی۔ کھانے کا انتظام کیاگیاتھا ۔ فارغ ہونے کے بعد بشام کے مولانا عالم دین مولانانور الحق کے رہائش گاہ ومدرسہ گئے۔ اور بعد میں مولانا احمد بشام کے مدرسہ اور رہائش گاہ پرگئے ، ان سے ملاقات کی اور کچھ وقت گزارنے کے بعد نماز عصر ادا کرتے ہوئے پٹن روانہ ہوئے۔
دوبیر پہنچے تو شیخ القرآن مدظلہ کے استاذ محترم مولانا عبدالحلیم صاحب اور مولانا محمد نبی صاحب کے قیادت میں جماعتی احباب استقبال کیلئے موجود تھے۔ نماز مغرب وہاں پڑھ کر ان کے معیت میں پٹن گئے۔ مدرسہ تعلیم القرآن پہنچے جہاں پر شیخ القرآن مدظلہ نے طالبعلم گزاری۔ عشاء کے نمازکے بعد کافی دیر تک شیخ القرآن اپنے طالبعلمی کے حالات ،واقعات اور ساتھیوں کے واقعات بیان کرتے تھے۔ اور اس وقت کے تکالیف کاتذکرہ کرتاتھا اورکافی خوش تھے۔
ضلع کوہستان کے تنظیم کو فعال بنانے کیلئے مولانا عبدالحلیم صاحب کے سرپرستی میں مولانا محمدنبی صاحب کو کنونےئر وامیر مقرر کرکے جلدا ز جلد تنظیم نو کے بارے میں ہدایات جاری کئے۔
پٹن سے دور گمبیلا کے قریب جال کوٹ کے مقام پر راستہ میں شیخ القرآن مدظلہ کا ایک طالبعلم میدان کے ایک ساتھی اور شاگرد سے ملاقات ہوئی۔ قریبی ہوٹل میں قیام کیا۔ اورکچھ بات چیت کے بعد دوبارہ سفر شروع کیا۔ جب شپال کے مقام پر پہنچے تو کارکن کافی تعدا د میں منتظر تھے۔ زبردست استقبال کیا ۔ نعرے لگائے اور شیخ القرآن صاحب سے مصافحہ کیا۔
چندکلو میٹر آگے گئے تو دوسرا جلوس مولانا شہزاد خان صاحب تانگیر ، مولانا عبدالغفور صاحب ، مولانا
عبدالقدوس صاحب اور مولانا خان بہادر صاحب کی قیادت میں منتظر تھا۔ جوکافی گاڑیوں کے شکل میںآئے تھے۔ انہوں نے استقبال کیا اور نعرے لگائے۔ شیخ القرآن صاحب گاڑی سے اتر کر ان سے مصافحہ ومعانقہ کیا۔ اورکچھ دیر بعد چلاس کو گاڑیوں کے جلوس کے شکل میں روانہ ہوئے۔ تقریباً40,45کلومیٹر کا فاصلہ جلوس کے شکل میں طے کرکے چلاس اجتماع گاہ تک ایک بجے پہنچے۔
اجتماع شروع تھا ۔مقامی علمائے کرام کے علاوہ مہمانا ن گرامی حضرات ،مقرر خوش السان ناظم ومدرس تعلیم القرآن راولپنڈی مولانا محمدنذیر صاحب خطاب فرمارہے تھے ۔اجتماع عصرتک جاری رہا اورپھر وقفہ کیا۔ شیخ القرآن صاحب نے آرام کیا اور بعد نماز عشاء علماء وطلباء سے تنظیم کی فعالیت ،مرکز سے رابطہ وغیرہ امور پر ایک اہم خطاب فرمایا۔ جبکہ30 اپریل کوصبح بعد نمازفجر ایک گھنٹہ در س قرآن کریم دیا۔اورسورۃفاتحہ کاخلاصہ اور مطلب بیان کیا۔ شیخ القرآن مدظلہ کے خطاب کے بعد مولانا ابوعمیر شمس الہادی طاہری (ناظم اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخواہ) نے جماعتی کارکنوں اور ذمہ دار افراد کے اجلاس سے جماعتی حوالہ سے خطاب کیا۔ اور تنظیمی امور اور تربیت سے آگاہ کیا۔ مرکز سے رابطہ اور تنظیم سے وابستگی پرزور دیا ۔
وقفہ ناشتہ کے بعد ٹھیک 8بجے پھر تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔
تلاوت و نظم کے بعد راقم الحروف محمد فیاض نے اور صوبائی امیر مولاناابو عمیر شمس الہادی طاہری نے اجتماع سے خطاب کیا۔ شیخ القرآن مدظلہ کے تقریر کاوقت تو عصر کوتھا (یعنی آخری تقریر اُن کی تھی) لیکن انتظامیہ سے معذرت کرکے تقریر کیلئے دس بجے کاوقت لیا۔ اور پھر دس بجے ان کا خطاب ہوا۔
شیخ القرآن صاحب نے ایک جامع اور پر مغز پالیسی خطاب کیا۔ کارکنوں اور علماء کرام کو اتفاق واتحاد کی ترغیب دی۔ حکمرانوں کے غلط پالیسیوں کی تردیدکی۔ اورمسئلہ کی وضاحت بھی فرمائی۔ اور تقریباً گیارہ بجے ہم نے اجلاس سے واپس سفر شروع کی۔
اجتماع میں دیگر علمائے کرام کے علاوہ گلگت جامع مسجد کے خطیب اورتمام دیوبندی جماعتوں کے سرپرست مولانا قاضی محمد نثار صاحب ، مولانا آمان اللہ صاحب جگلوٹ ، مولانا مفتی شیرزمان صاحب گلگت ، مولانا عبدالشکور صاحب، مولانا سمندر خان صاحب، مولانا ظہور الحق علوی صاحب اسلام آباد وغیرہ تشریف
لائے تھے اور خطاب فرمایا۔اجتماع کافی کامیاب رہا اور کافی تعداد میں علماء وطلباء اس میں شریک تھے۔
جماعتی احباب سے کافی وقت گزاری۔
بعد میں شیخ القرآن مدظلہ کے ایک شاگرد قای گلبرصاحب کے مدرسہ کا معائنہ کیا اور پھر سفر شروع کیا۔ عشاء کو بٹگرام پہنچے۔ تومولانا شمس الہادی صاحب کے چچا زاد بھائی حاجی عبدالتواب مرحوم (جو علماء کا ایک خادم تھا اور ایک مخلص مہمانواز اور دیندار لوگوں سے محبت کرنے والا انسان تھا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے) کے پوتے حافظ اشرف علی اور حافظ حسین علی کے دعوت پر ان کے ہاں گاؤں کنڈر میں تھوڑا ساقیا م کیا۔ شیخ القرآن مدظلہ نے ان کیلئے اور ان کے گھروالوں او ر خاندان کیلئے خصوصی دعافرمائی۔ اورپھران سے رخصت ہوکر سفر جاری رکھا۔ تقریباً دو بجے رات دارالقرآن پنج پیر پہنچ گئے۔ الحمدللہ یہ سفر بہت خوشگوار انداز میں بخیر وخوبی سے انجام پائی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے خیریت سے سفرکو تکمیل تک پہنچایا۔
اللہ تعالیٰ شیخ القرآن مدظلہ کے خصوصی ڈرائیور سوار خان کو جزائے خیر عطافرمائے کہ انہوں نے راستے میں کسی قسم کی شکایت کاموقع نہیں دیا اور خندہ پیشانی سے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ (بقیہ ازصفحہ بر۹۲)
سکندر زیب صاحب( دارالقرآن کوٹھا) نے تقلید ، محمد طیب صاحب(تحفیظ القرآن اسوٹا) نے تزہید من الدنیا کے موضوع پر خطابات کئے ۔ خصوصی خطاب امیر محترم قمر زمان صاحب نے کی۔دوسری نشست دو بجے شروع ہوئی۔تلاوت کلام پاک قاری حذیفہ صاحب نے کی۔ اس کے بعد مولانا عبدالوکیل صاحب مہتمم دارالقرآن کوٹھا ، مولانا شریف حسین صاحب گندف، مولاناعبدالحق صاحب جلبئی، مولانا شاہ زمین صاحب ،مولانا امداد الحق صاحب شیوہ ، مولانا مفتی سرا ج الدین صاحب، شیخ الحدیث مولانا عبدالجبار صاحب، شیخ مولانا غلام حبیب صاحب اور مولانا شمس الہادی طاہری رحمہ اللہ  نے خطاب کیا۔ بعد نماز مغرب خصوصی خطاب شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب نے فرمایا۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا فضل منان صاحب دارالقرآن کوٹھا ، قاری فدا محمد صاحب سلیم خان اورمولانا شاہ نعمان باچہ صاحب انجام دے رہے تھے۔
آخر میں شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب کے دست مبار ک پر دارالقرآن کوٹھا کے طلباء میں اسناد اور انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ اوراختتامی دعا بھی فرمائی۔
29 اپریل کو صبح مولانا بوستان صاحب کے مدرسہ میں گئے۔ مدرسین اور طلبہ سے ملاقات کی اور پھر سفر پرروانہ ہوئے۔
وحدۃ المدارس کانفرنس
یقین علی ، ناظم اعلیٰ نوجوانان توحیدوسنت ضلع صوابی
اشاعۃ التوحید والسنۃ کے مرکزی فیصلے کے مطابق نوجوانان توحیدوسنت کی تنظیم مدارس سکول اور کالج کے طلباء تک محدود کردیا گیا ۔ جوطلبہ کالج ، یو نیورسٹی اور مدارس سے فارغ ہوجائیں تووہ پھر جماعت اشاعت التوحید والسنۃ کے تنظیم میں کام کریں گے۔
اسی فیصلے کے مطابق ضلع صوابی کے مدارس کے سطح پر تنظیم نوجوانان توحید وسنت تشکیل دیاگیا ۔
الحمدللہ بہت تھوڑے وقت میں نوجوانان کی کارکردگی بے مثال ہے۔ مختلف اوقات میں اجلاس ہوئے۔ اور کئی اہم فیصلے ہوئے۔
اسی سلسلہ میں ایک اہم فیصلہ نوجوانان توحید وسنت کے سطح پر سالانہ یک روزہ عظیم الشان وحدۃ المدارس کانفرنس 5مئی2011ء کو منعقد کرنا تھا ۔ اس ترتیب کے مطابق آج دارالقرآن کوٹھا میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔
اجتماع کا آغاز باقاعدہ طورپر قاری عبدالباسط (طالبعلم جواہر القرآن مرغز) کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد طلباء نے مختلف موضوعات پرخطاب کیا۔ اس کے بعد مولانا لعل زاہ صاحب (دارالقرآن پنج پیر ) نے شان صحابہؓ ، مولانا رفیع اللہ صاحب (تعلیم القرآن مانیری) نے عصمت انبیاء ؑ ، اسداللہ صاحب (خلفائے راشدینؓ پنج پیر) نے شان ومقام حضرت ابوبکر صدیقؓ ، عبدالرحمن صاحب ( ختم العلوم شیوہ آڈہ) نے رد بدعات ،عبدالرحیم صاحب( دارالقرآن کوٹھا) نے منکرین حدیث، عمرالرحمن صاحب (جواہر القرآن سلیم خان) نے حیاۃ النبیﷺ ، عبداللہ صاحب( تعلیم القرآن تورڈھیر) ذکربالجہر،ولی الرب صاحب (جواہر القرآن مرغز ) نے سماع الموتی ، عبدالوہاب صاحب (تعلیم القرآن گندف)تقویٰ ، یقین علی صاحب( جامعہ عبداللہ ابن مسعودؓ ڈوڈھیر) نے صبر، عبدالباسط صاحب (پنج پیر) نے تاریخ علمائے دیوبند ،مولانا لقمان صاحب (دارالقرآن پنج پیر) بے محبۃ الرسولﷺ ، (۔۔۔بقیہ از صفحہ نمبر:۸۲۔۔۔)

انقلاب مگر کیسا؟
مولاناعتیق اللہ آباسندھی-
ہر ذی عقل اور ہوش سنبھالنے والوں کے لئے یہ اصطلاح کوئی نئی نہیں جو سننے میں آتا ہے تغیر اورتبدیل خواہ روحانی ہو یا مادی اُسے انقلاب کہاجاسکتا ہے ۔ بقول شاعر
آج کل انقلاب ایک موضوع بنی ہوتی ہے ہر ایک اپنے کام کو آگے بڑھا نے کے لئے انقلاب کا سہارا لیتا ہے ۔ ہرطرف انقلاب انقلاب کی دور دورا ہے۔
دنیا نے بہت سے انقلابوں کی مشاہد ہ کیا ہے اور یہ سلسلہ نہ ختم ہونے والا ہے۔ لیکن بعض حضرات انقلاب فرانس اور ایران کو زیادہ ہوا دیتا ہے۔ خاص کر آخر الذکر کو بہت تعریف کے ساتھ پیش کیاجاتا ہے وہ اپنی جگہ صحیح۔
مگر ہمیں انقلاب چاہیے اور جس کی ضرورت ہے وہ مدنی انقلاب ہے ۔ اسی انقلاب کو قرآن کریم نے بہت خوب انداز میں پیش کیا ہے۔قرآن کریم چونکہ خود انقلابی کتاب ہے ۔
بقول علامہ اقبال
چوں بجان رفت جان دیگر مشد جان چوں دیگر مشدجہان دیگر مشد


قرآن کریم نے ہمیںیہ دکھایا کہ سب سے بڑے انقلابی انبیاء علہیم السلام ہیں اور انبیاء علہیم السلام کی
انقلاب قرآن کریم نے پیش کیا ہے (مشت نمونہ کے خروارے) ۔سورۃ القصص میں قوموں کی عروج اور زوال کی اسباب پر غور کر نے کے بعد یہ بات آسانی سے معلوم ہوتی ہے کہ اس انقلاب کی بانی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہے ۔ آپ نے فرعون کی بادشاہی ظلم اور بربریت کو کیسی ختم کی اور انقلاب کی محرکات کیا تھی۔
اسی طرح سورۃ یوسف میں ایک انقلاب کی سبق ہے جو ہمار ے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی انقلاب اور آپ کی برتاؤ جو (لاتثریب علیکم الیوم ) کی تمغہ سے مزین ہے۔ آپ کی حسن صورت ، سیرت وکردار اور گفتار سے بادشاہ وقت متاثر ہوکر ( انک الیوم لدینا مکین امین) سے حضرت یوسف علیہ السلام کو نوازش پیش کرتا ہے۔ سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی انقلاب کی ذکر موجود ہے ۔ آپ نے ملکہ بلقیس کو کیسا متاثرکیا ۔
مملکت سباء کی خاتون لیڈ ر نے حیرت کی آنکھوں سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی کو دیکھا اور تابع بن گئی۔
قرآ ن کریم چونکہ تمام ادیان اور کتب سماویہ کی مجموعہ ہے ۔ اسی وجہ سے تمام انقلابیوں کی صفات کو بیان کئے ہیں او ریہ سلسلہ محمدالرسول اللہﷺ پر ختم کیا ہے اورآپﷺ کو ہمارے لئے نمونہ بنایا ہے تواسی وجہ سے ہمیں انقلاب کی ضرورت ہے جو صبراستقلال اور جرأت کی دعوت دیتا ہے۔
قبائل عرب نے آپ کے ساتھ کیاسلوک کیاتھا ۔ آپﷺ پر اور آپ کی جانثاروں پر کیا بیتی آپﷺ پر حملے کئے ڈرایااور دھمکی دے دی۔ صحابہؓ اور صحابیاتؓ کو شیعہ کہتے ۔ آپﷺ کے قتل پر باقاعدگی سے قبائل عرب سے مشورے طلب کئے تھے۔
(واذیمکر الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او تخرجوک) (الانفال:۰۳)
لیکن آپ نے سب اذیتوں کو برداشت کئے ۔ کسی کو ڈانٹا نہیں پیٹا نہیں۔کیونکہ آپ اس انقلاب کی ثمرات کی منتظر تھے جو خود رسول اللہﷺ چاہتے تھے۔ آخر آپ مکے کو فاتحانہ انداز میں بغیر خون خرابہ کی داخل ہوئے۔تمام کے تمام دشمنوں کو معاف کیا اور باقاعدگی سے اعلانات فرمائے :
(من دخل دار ابی سفیان فھو امن ومن دخل دارفلان ۔۔۔الخ)
اس انقلاب کی بدولت اسلام کی شان وشوکت کتنا بڑھے گا ۔آج پھر اس قربانی کی ضرورت ہے ۔ آج وہی تاریخ قرآن کریم میں موجود ہے ہر ناخبر
آن کتابے بے زندہ قرآن کریم حکمت اولا یزال است او قدیر
انقلا ب جہاں واعظ ہے سن لو ہر تضیر سے صدا آتی ہے فافھم فافھم ؂
فاش گو یم آن چہ دردل مضمر است این کتابے نیست چیزے دیگر است
تونہ می دانی کہ آین تو چست زید گردوں سرتمکین توچست
تقریب ختم بخاری شریف
دارالقرآن پنج پیر میں دورۂ حدیث شریف کا اختتامی
تقریب اِن شاء اللّٰہ
ختم بخاری شریف کا آخری حدیث کادرس
امیر مرکزیہ اشاعۃ التوحید والسنۃ
شیخ القرآن والحدیث
مولانا محمدطیب طاہری دامت برکاتہم دیں گے
اس موقع پر فارغ علماء کی دستار بندی بھی ہوگی اور اسناد بھی دئیے جائیں گے
برائے رابطہ:۔
ناظم دارالقرآن پنج پیر
دارالقرآن پنج پیر ۔ ضلع صوابی


مولانا اعظم طارق،ناظم دارالقرآن
امام الانقلاب شیخ القرآن مولانا محمد طاہر رحمہ اللہ  نے ۲ ربیع الثانی ۶۶۳۱ھ /۴۲ فروری ۷۴۹۱ء کو دار القرآن پنج پیر کی بنیاد رکھی اور ۳۷۹۱ ء میں یہاں دورہ حدیث کا آغاز فرمایا۔ اب تک ہزارو ں خو ش نصیب قرآن وحدیث کے اس چشمہ صافی سے سیراب ہوچکے ہیں۔
ان شاء اللہ دورہ حدیث ۲۱ رجب المرجب ۲۳۴۱ھ بمطابق 12جون2011ء بروزاتوار کو اختتام پذیر ہوگا۔ امسال فارغ ہونے والے شرکائے دورہ کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں :۔
ان علماء کا عز م ہے کہ ہم اپنا تن من دھن اپنے مادری مرکز العلوم ، وہ مرکز جہاں سے توحید وسنت کی صدا بلند ہوئی اور شرک وبدعت اور رسوم باطلہ کے ایوانوں کو خاکستر کردیا، کو ہرقسم کے جانی ومالی تعاون سے بہرور کریں گے ، ان شاء اللہ۔

اسماء الفارغین جامعۃ الامام محمد طاہر  رحمہ اللہ  دارالقرآن پنج پیرصوابی سرحد پاکستان

اسماء المتخصصین جامعۃ الامام محمد طاہر رحمہ اللہ  دارالقرآن پنج پیرصوابی سرحد پاکستان نمبرشمار نام ولدیت مکمل پتہ اسماء الفارغین جامعۃ الامام محمد طاہر  رحمہ اللہ  دارالقرآن پنج پیرصوابی سرحد پاکستان 
ح۸بجے ہوگا   امیرطلباء مولوی محمدفیاض صاحب اسپین گل محلہ ڈھکی بلی ٹنک ضلع وتحصیل کوہاٹ ۲ مفتی عبداللہ صاحب عبدالعزیز سوات مینگورہ ۳ مفتی حیات
مفتی محمدصاحب کریم محمد گاؤں باجا ضلع وتحصیل صوابی ۴مفتی ولی الرحمن صاحب محمد اکبر قوم ماموزئی تپہ سیپائے ضلع کوہاٹ
۵ مفتی سلیم اللہ خان صاحب زمان شاہ قوم ماموزئی تپہ عبدالرحیم خیل ضلع کوہاٹ
۶ مفتی عمرہلال صاحب عتیق اللہ قوم شنواری گاؤں چارباغ لنڈی کوتل
۷ مفتی سخی مرجان صاحب حاجی محمد جان محلہ شیر آباد خرماتو ضلع وتحصیل کوہاٹ
۸ مفتی رضاء اللہ صاحب رجید گل محلہ مینہ بانڈہ ما نیری بالا ضلع صوابی
۹ مفتی حضرت بلال صاحب زیارت گل مانیری بالا محلہ شگئی ضلع صوابی
۰۱ مفتی سعید عمر صاحب گل میر خان تحصیل کالام ضلع سوات
۲۱ مفتی سید الیاس شاہ صاحب سید قاسم گاؤں پنج پیر ضلع وتحصیل صوابی
۳۱ مفتی محمد آدم صاحب محمد آمین ولایت فاریاب ولسوالی المار قریہ خواجہ گوہر
۴۱ مفتی عبدالباری صاحب عبدالہادی ولایت لغمان ولسوالی علیشنگ قریہ جونہ پال
۵۱ مفتی امداد الحق صاحب علی محمد ولایت لغمان ولسوالی علینگار قریہ کولک
۶۱مفتی انیس الرحمن صاحب عبدالودود ولایت بدخشان ولسوالی بہارک قریہ زیر دشتک
۷۱ مفتی محمد زمان صاحب محمدعمر ولایت ننگرھار ولسوالی خوگیانی
۸۱ مفتی عزت اللہ صاحب شریف اللہ تحصیل ماموند ڈاکخانہ مینہ باجوڑ ایجنسی
۹۱ مفتی محمد قاسم صاحب شیر گل بابوزئی ڈاکخانہ شیرینگل دیر
۰۲ مفتی محمدنواز صاحب بختیار رانیال شانگلہ
۰۲ مفتی نظر الدین صاحب ملامحمدابراہیم شیرانی آباد درابن روڈ ڈیرہ اسماعیل خان
۱۲ مفتی نصر الدین صاحب ملامعراج الدین ولایت لغمان ولسوالی دولت شاہ قریہ کمندوگ فراشغان
۲۲ مفتی احمد ر اسیخ صاحب رجب محمد ولایت بدخشان ولسوالی بہارک قریہ اوشکان
۳۲مفتی ملک دین صاحب محمداسماعیل ولایت لغمان ولسوالی دولت شا ہ قریہ پیتک فراشغان
مولوی صاحبان
۴۲ مولوی ابوطاہرذاکراللہ آفریدی حاجی مہدی خیل قوم ذحہ خیل تیراہ میدان خیبر ایجنسی
۵۲ مولوی عبدالمعروف صاحب مولوی عاشور محمد ولایت بدخشان ولسوالی شہر بزرگ قریہ انگار یان
۶۲ مولوی ابومحمد ہدایت اللہ حاذق گنج علی ولایت بدخشان ولسوالی شہر بزرگ قریہ خردکان
۷۲ مولوی تاج الدین صاحب مولوی سید امیر ولایت نورستان ولسوالی وانت قریہ کند کلے
۸۲ مولوی فضل الہادی صاحب عبدالقدیر ولایت بدخشان ولسوالی وردوج قریہ شاکران ۹۲ مولوی محمد مجاہدصاحب دین محمد ولایت نورستان ولسوالی وانت قریہ چمچ ۰۳ مولوی امین گل حقمل امیرحمن ولایت بلخ ولسوالی بلخ قریہ سالارزئی دوبھروی ۲۳ مولوی عبدالرقیب صاحب محمداللہ ولایت بدخشان ولسوالی جرم قریہ کوجگک ۳۳ مولوی عبدالرزاق صاحب عبدالرسول ولایت بدخشان ولسوالی جرم قریہ فریچ ۴۳ مولوی صفی اللہ صاحب ذبیح اللہ ولایت پنجشیر ولسوالی پریان قریہ سرکمر ۵۳ مولوی امین اللہ صاحب عبداللہ ولایت بدخشان ولسوالی یاوان قریہ نوشار ۶۳ مولوی عبدالقاد ر صاحب صوفی ولایت بدخشان ولسوالی یاوان قریہ ساری ۷۳ مولوی محمد سلیمان صاحب عبدالمنان صاحب ولایت نورستان ولسوالی واماء قریہ واماء ۸۳ مولوی رحیم شاہ صاحب ظاہر شاہ سمنگ ڈاکخانہ شیرینگل دیر ضلع اپر دیر ۹۳ مولوی بخت حاضر صاحب عبدالحلیم شانگلہ ڈاکخانہ کوٹکے تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۰۴ مولوی سیف اللہ صاحب رحیم گل صاحب برکلے لیلونئی تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۱۴ مولوی یاسر محمود صاحب امین الحق محلہ سوگندے مےئی ضلع وتحصیل صوابی ۲۴ مولوی محمدداداللہ صاحب شیر محمدخان ولایت لغمان ولسوالی دولت شاہ قریہ پیتک فرشغان ۳۴ مولوی عبدالحق صاحب عبدالوحید صاحب چیل جوڑ تحصیل تخت بھائی ضلع مردان ۴۴ مولوی محمد آمین آفریدی ایوب خان کوکی خیل مینا خیل لالا چینہ جمرود خیبر ایجنسی ۵۴ مولوی شہزادہ صاحب یاسر خان شاہی باغ ڈاکخانہ وتحصیل ثمر باغ ضلع دیر پائن ۶۴ مولوی محمد الیاس صاحب محمدزمین صاحب شریف خانہ چا رمنگ لوئے سم ناواگئی باجوڑ ۷۴ مولوی شفیع اللہ صاحب مسافر خان گوواٹی تر خو ماموند ناواگئی باجوڑایجنسی ۸۴ مولوی برھان الدین صاحب شیر بادشاہ صاحب کوکی خیل سکندر خیل سیڑہے جمرود خیبر ایجنسی ۹۴ مولوی سید مختار احمد صاحب سید دلاور شاہ صاحب محلہ مزیدخیل کوٹھا ضلع وتحصیل صوابی ۰۵ مولوی اعجاز علی صاحب سجاد احمد صاحب محلہ اعوان جلبئی تحصیل لاہور ضلع صوابی ۱۵ مولوی عبدالحلیم صاحب میرزمان صاحب ولایت نورستا ن ولسوالی وانت وائیگل قریہ جمچ ۲۵ مولوی ظہیر خان صاحب محمد رحمت سید صاحب ،خرہ شاہ بہادر کلے ڈاکخانہ یوسف خیل مہمندایجنسی ۴۵ مولوی کاشف حسین صاحب عبدالخالق صاحب محلہ کمال خیل اسوٹہ شریف کرنل شیرکلے ۵۵ مولوی محمدخان صاحب فاروق کلان ترخو ماموند باجوڑ ایجنسی ۶۵ مولوی شاہ ولی صاحب درویش صاحب مینہ ترخو ماموند باجوڑ ایجنسی ۷۵ مولوی اکرام گل صاحب رجب گل صاحب محلہ کرہ خیل شیخ جانہ ضلع وتحصیل صوابی ۸۵ مولوی جلال الدین صاحب فقیر محمدصاحب گھڑیگال عنایت کلے ماموند باجوڑایجنسی ۹۵ مولوی سعید اللہ صاحب رحمت اللہ صاحب گاؤں عظیم گڑھی ڈاکخانہ جہانگیرہ ضلع صوابی ۰۶ مولوی عبدالحمید صاحب محمدعمر صاحب برقمبر خیل ونڈ گرے سپین ڈھنڈباڑہ خیبرایجنسی ۱۶ مولوی لقمان صاحب آمین اللہ محلہ ابراہیم خیل شیوہ ضلع وتحصیل صوابی ۲۶ مولوی گل زادہ صاحب مومن خان زور بندر ڈاکخانہ لوئی سم تحصیل خار باجوڑ ۳۶ مولوی شاہ محمد صاحب امیر محمد تنگی عنایت کلے ماموند باجوڑ ایجنسی ۴۶ مولوی زاہداللہ صاحب شاہ زرین خان تنگی عنایت کلے ماموند باجوڑ ایجنسی ۵۶ مولوی عبدالمالک صاحب فضل خالق محلہ فردوس آباد شیوہ ضلع وتحصیل صوابی ۶۶ مولوی محمدعارف صاحب سردار علی محلہ متنی چنگن تورڈھیر تحصیل چھوٹا لاہور ضلع صوابی ۷۶ مولوی رئیس جان صاحب سید سردار باچہ کوٹ بالا ڈاکخانہ حیاء سیرئی تحصیل بلا مبٹ لوئر دیر ۸۶ مولوی شمس اللہ صاحب آمان اللہ محلہ حاجی لالا خان چمن ضلع قلعہ عبداللہ بلوچستان ۹۶ مولوی عبدالخالق صاحب عقیل شاہ گوری چک غلجو تحصیل اپر ضلع اورکزئی ایجنسی ۰۷ مولوی ریاض الجلیل صاحب گل عظیم خان بابوزئی بالا ڈاکخانہ شیرینگل ضلع اپردیر ۱۷ مولوی عزیز احمد صاحب رحیم اللہ ڈانڈوکئی سلارزئی باجوڑ ایجنسی ۲۷ مولوی عبدالرؤف صاحب عبدالسلام مامازئی شمشاہ ڈاکخانہ غلنئی تحصیل اپرمہمند ایجنسی ۳۷ مولوی محمدوارث صاحب سرمدن خان گاؤں دیوانہ باباتحصیل گاگرہ ضلع بونیر ۴۷ مولوی محمداسحاق صاحب علی محمد چکیاتن تحصیل دیر ضلع اپردیر ۶۷ مولوی زبیر اللہ خان شیرین خان محلہ مسکین آباد ڈوڈھیر ضلع وتحصیل صوابی ۷۷ مولوی سلطان سید صاحب امیر سلطان قاسم خیل باجہ ضلع وتحصیل صوابی ۸۷ مولوی خلیل الرحمن صاحب گل غیاث اضغرچارمنگ ڈاکخانہ وتحصیل ناواگئی باجوڑایجنسی ۹۷ مولوی محمدکمال خوائیداد خان تعویزی بانڈہ ڈاکخانہ بلیا میند ضلع ہنگو ۰۸ مولوی محمد رفیق صاحب محمدرسول تعویزی بانڈی ڈاکخانہ بلیا میند ضلع ہنگو ۱۸ مولوی محمدیونس صاحب اصغر خان باغوکلے ٹیری ڈاکخانہ غلجو تحصیل اپر اورکزئی ایجنسی ۲۸ مولوی نبی رحمان صاحب زیلاور خان ترکی بانڈہ ضلع وتحصیل ہنگو ۳۸ مولوی فرمان علی صاحب محمد مجید اسلام آباد بنوڑی فتح پور تحصیل خوازہ خیل سوات ۴۸ مولوی عبدالرحمان صاحب محمد شیخ شیخ بابا ڈاکخانہ لکڑے تحصیل اپر ضلع مہمند ایجنسی ۵۸ مولوی لعل زادہ صاحب دل محمد لیکوڈا کامبٹ ثمر باغ لیکوڑضلع لوئر دیر ۶۸ مولوی عبدالرحمان صاحب نورالرحمان موسیٰ خیل باجہ ضلع وتحصیل صوابی ۷۸ مولوی صلاح الدین صاحب نورحلیم قوم ملک دین خیل کرنا خیل منڈی کس کجھورہ باڑہ ۸۸ مولوی عبدالسلام صاحب مراد خان ملک دین خیل کراول کجھوری ڈاکخانہ وتحصیل باڑہ خیبر ایجنسی ۹۸ مولوی جان محمدصاحب اول نور درے پلارے کندے عزیز خیل سپین ڈھنڈ کجھوری باڑہ ۰۹ مولوی محمدسعید صاحب دولت خان ملک دین خیل کوہی کلی ڈاکخانہ وتحصیل باڑہ خیبر ایجنسی ۱۹ مولوی رحیم اللہ صاحب عبدالکریم ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ کالر ۲۹ مولوی خان زرین صاحب نرے کڑا جمیڑہ تحصیل آلائی ضلع بٹگرام ۳۹ مولوی حامد علی صاحب شوکت علی نیو ٹاؤن ساولڈھیر ضلع وتحصیل مردان ۴۹ مولوی مکائیل صاحب عبدالقیو م بڈھ عباس خیل ضلع وتحصیل ہنگو ۵۹ مولوی غفران اللہ صاحب محمدیعقوب خان دادیگرہ تحصیل ثمر باغ ضلع لوئر دیر ۶۹ مولوی مطہر شاہ صاحب صاحب شاہ گاؤں اُتلہ گدون آمازئی ضلع وتحصیل صوابی ۸۹ مولوی عارف صدیق صاحب عبدالمنان صاحب گاؤں ہملٹ محلہ باڑہ ٹوپی ضلع صوابی ۹۹ مولوی سید نبی صاحب محمد نبی صاحب ڈبر ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند باجوڑایجنسی ۰۰۱ مولوی بخت منیر صاحب عبدالحکیم صاحب ڈبر ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند باجوڑا یجنسی ۱۰۱ مولوی سید احمد صاحب جمعہ سید صاحب لغڑائی ڈاکخانہ تر خو ماموند باجوڑ ایجنسی ۲۰۱ مولوی شاکراللہ صاحب گل آمین خان نورخیلو ڈاگ خار باجوڑ ایجنسی ۳۰۱ مولوی محمدیعقوب صاحب گل سید صاحب تنائی ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند ضلع باجوڑ ایجنسی ۴۰۱ مولوی عبدالرحمن صاحب جان محمد صاحب ولایت بدخشان ولسوالی یاوان قریہ شاخدرہ أنج ۵۰۱ مولوی حبیب الرحمن صاحب رحیم اللہ جان انذرے خار باجوڑایجنسی ۶۰۱ مولوی محمد حنیف صاحب محمد زرین صاحب محلہ ارٹونہ شموزئی ضلع وتحصیل مردان ۷۰۱ مولوی محمدابراہیم صاحب عنایت زیب خان بکانہ ڈاکخانہ رباط تحصیل بلامبٹ ضلع لوئر دیر ۸۰۱ مولوی سید نواز خان صاحب اسیم خان محلہ تار اخیل جنگدرہ ڈاکخانہ طوطالئی ڈگر بونیر ۹۰۱ مولوی ہلال حیا ت صاحب قلندر خان محلہ مرادو خیل گاؤں جنگدرہ ڈاکخانہ طوطالئی بونیر ۰۱۱ مولوی رحمان اللہ صاحب محمد اعظم شریف خانہ چار منگ ڈاکخانہ لوئی سم تحصیل ناواگئی باجوڑ ایجنسی ۱۱۱ مولوی امتیاز احمد صاحب فرید الحق صاحب محلہ مالی گبرال ڈاکخانہ اتروڑ تحصیل کالام سوات ۲۱۱ مولوی اظہار اللہ صاحب آمان خان محلہ لاگی آباد چونتری ڈاکخانہ جلبئی تحصیل لاہور صوابی ۳۱۱ مولوی عبدالواحد صاحب محمدرازق انعام خورو چینگئی عنایت کلے ماموند باجوڑایجنسی ۴۱۱ مولوی رفیع اللہ صاحب حضرت رسول شاہ گئی تحصیل خار باجوڑ ایجنسی ۵۱۱ مولوی اختر علی صاحب زرداد خان جاگ روبیر ڈاکخانہ رانولیا تحصیل پٹن کوہستان ۶۱۱ مولوی صدیق اللہ صاحب سیاست خان پاٹک صادق آباد باجوڑ ایجنسی ۷۱۱ مولوی سرتاج علی صاحب عبداللہ باکوڈھیری محلہ پار ہوتی ضلع صوابی ۸۱۱ مولوی فضل محمد صاحب شیر محمد گاؤں تورڈھیر تحصیل لاہور ضلع صوابی ۰۲۱ مولوی عبدالصمد صاحب یعقوب خان آفسر خان گڑھی ارمڑ پایان ضلع و تحصیل پشاور ۱۲۱ مولوی عبدالمالک صاحب محمدظاہر چمیارانو بانڈہ ڈاکخانہ معیار تحصیل ثمر باغ لوئر دیر ۲۲۱ مولوی ظہور احمد محمدآمین ترکئی لوئی سم خار باجوڑایجنسی ۳۲۱ مولوی سعید خان محمد یعقوب محلہ ترکھانان اضاخیل پایان ضلع وتحصیل نوشہرہ ۴۲۱ مولوی محمدطیب صاحب سید محمد مجال کارودرہ ڈاکخانہ اخگرام تحصیل واڑی اپردیر ۵۲۱ مولوی محمدظاہر صاحب گل محمد گاؤں گر گٹ ضلع اپردیر ۶۲۱ مولوی اختر محمد طاہری نور محمد سروکیلی ڈاکخانہ جان بھٹی تحصیل براول ضلع اپردیر ۷۲۱ مولوی یوسف خان صاحب جنت خان محلہ بابا خیل مسلم آبا د ضلع وتحصیل کوہاٹ ۸۲۱ مولوی نیاز محمد صاحب محمد کٹکوٹ ڈاکخانہ چمیار جوڑ ماموند باجوڑ ایجنسی ۹۲۱ مولوی امین اللہ آباسندھی علی رحمان گوریاڑ تھا کوٹ ضلع وتحصیل بٹگرام ۰۳۱ مولوی حیاء الدین صاحب رحمن الدین گلی محلہ صاد ق آباد شیوہ ضلع وتحصیل صوابی ۱۳۱ مولوی اختر جاوید صاحب نور احمد جان شینکے خار باجوڑ ایجنسی ۲۳۱ مولوی فضل رحمان صاحب محمد جان رشکئی لوئے سم خار باجوڑ ایجنسی ۳۳۱ مولوی اکمل محمد صاحب وصال محمد محلہ حاجی خیل آدینہ ضلع وتحصیل صوابی ۴۳۱ مولوی عثمان خان صاحب گل زادہ ڈمہ ڈولہ ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند باجوڑ ۵۳۱ مولوی سمیع الحق صاحب مولوی بادشاہ زمین ڈمہ ڈولہ ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند باجوڑایجنسی ۶۳۱ مولوی فضل مولا صاحب عبدالواحد سیاہ جبرڈاکخانہ گام سیر جیر ضلع اپر دیر ۷۳۱ مولوی سیف اللہ صاحب غلام حسین گوگا حصار ڈگر ضلع بو نیر ۸۳۱ مولوی محمد صادق صاحب وزیر خونہ خپہ ڈاکخانہ ڈگر تحصیل ڈگر ضلع بونیر ۹۳۱ مولوی محبوب الرحمن صاحب عزیز الرحمن محلہ امیر خان خیل اینگروڈھیری ضلع سوات ۰۴۱ مولوی محمد یاسین صاحب میاں قلم خان گانشال بالا ڈاکخانہ ساؤنی تحصیل دیر ضلع اپردیر ۲۴۱ مولوی عبدالرحمن صاحب عالم خان گوبل سمزہ تحصیل مٹہ ضلع سوات ۳۴۱ مولوی عباداللہ صاحب بازوان برملا سید ڈاکخانہ پشت تحصیل سلارزئی باجوڑ ۴۴۱ مولوی ذاکر اللہ صاحب فچئی ٹوپ ماندل ڈاکخانہ خار تحصیل سلازئی باجوڑ ۵۴۱ مولوی ضیاء اللہ صاحب طوطی الرحمن گاؤں ترنج ڈاکخانہ تھا کوٹ ضلع بٹگرام ۶۴۱ مولوی احسان اللہ صاحب روح الامین نور خیلو ڈاگ خار باجوڑ ایجنسی ۷۴۱ مولوی صاحبزادہ صاحب دلاور جان ڈوگ بالا ڈاکخانہ شیر ینگل تحصیل دیر ضلع اپردیر ۸۴۱ مولوی نیاز محمد صاحب سوال فقیر محلہ اوچار مشہور بالا ڈاکخانہ شیرینگل ضلع اپردیر ۹۴۱ مولوی عمران صاحب عظیم گل پھاٹک صادق آباد ڈاکخانہ خار باجوڑ ایجنسی ۰۵۱ مولوی ظاہر شاہ صاحب سید احمدخان مشکنڑوشاہ ڈاکخانہ خار میگن کلی باجور ایجنسی ۱۵۱ مولوی داؤد خان صاحب شاتم خان نیو کالونی برترس شموز وڈاکخانہ خار باجوڑ ایجنسی ۲۵۱ مولوی عبداللہ صاحب حاجی رحیم داد تیراہ برترس ڈاکخانہ شموزو تیراہ ڈاکخانہ خار باجوڑایجنسی ۳۵۱ مولوی عبدالمجید صاحب کبیر خان شاہی ڈاکخانہ وتحصیل ثمر باغ ضلع لوئر دیر ۴۵۱ مولوی روح اللہ صاحب عبدالقادر خا ن پشت تحصیل سلازئی ضلع باجوڑ ایجنسی ۵۵۱ مولوی شیر عالم خان صاحب میر اعظم خان ڈانڈوکئی ڈاکخانہ پشت تحصیل سلازئی باجوڑ ۶۵۱ مولوی محبوب اللہ صاحب رحمان گل لیلبن ڈاکخانہ براول بانڈی ضلع اپردیر ۷۵۱ مولوی نعمت شاہ صاحب شہزاد گل دنائی لیلونئی تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۸۵۱ مولوی احسان اللہ صاحب جہانزیب برکا ناڈاکخانہ شاہ پورتحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۹۵۱ مولوی حضرت علی صاحب تاج محمد خان لوگئے اجمیر ڈاکخانہ اولندر تحصیل الپوری شانگلہ ۰۶۱ مولوی رحیم اللہ صاحب زیر ھو س محلہ امیر خیل شیرکیرہ قبائلی علاقہ جات ملحقہ پشاور ۲۶۱ مولوی شیر محمد صاحب میتر خان گوجرانوالہ پاتراک تحصیل کلکوٹ کوہستان ۳۶۱ مولوی سکندر حیات صاحب سرور دین محلہ زرین آبادتارا گڈ کوٹھا ضلع صوابی تحصیل ٹوپی ۵۶۱ مولوی عبدالقدیر صاحب علی احمد ڈھلی ڈھیر بڈھ بیرہ باڑہ خیبر ایجنسی ۶۶۱ مولوی عزت شاہ صاحب میسر شاہ سوکیلئی ڈاکخانہ کبگنی ضلع وتحصیل صوابی ۷۶۱ مولوی محمد فاروق صاحب عمر فقیر گاؤں کلکوٹ کوہستان ضلع اپردیر ۸۶۱ مولوی محمد بختیار عامر صاحب نوشیر باڑہ گبرال ڈاکخانہ اتروڑ ضلع سوات ۹۶۱ مولوی محمد اکرم صاحب جمروز گاؤں شلمانو ڈاکخانہ مارتونگ تحصیل پورن ضلع شانگلہ ۰۷۱ مولوی لیاقت علی صاحب محمد حکیم وڈیگرام ڈاکخانہ پشت تحصیل سلارزئی باجوڑ ۱۷۱ مولوی حسین علی صاحب سلطان محمود گاؤں شگئی سبی خیل ڈاکخانہ نیو دربند کالا ڈھاکہ مانسہرہ ۲۷۱ مولوی مستقیم صاحب مومین خان تو ر بانڈہ ڈاکخانہ مارتونگ تحصل خاص ضلع شانگلہ ۳۷۱ مولوی عبدالمالک صاحب عبدالرازق محلہ شاہی باغ پشمال ڈاکخانہ کالام ضلع سوات ۴۷۱ مولوی نصیب اللہ صاحب حبیب الرحمن چار باغ سنیلہ ڈاکخانہ سندوی ضلع و تحصیل پورن شانگلہ ۵۷۱ مولوی موسیٰ کلیم صاحب شادی خان ائیر پور تروڑ شیخ ماندہ ضلع وتحصیل کوئٹہ ۶۷۱ مولوی مصعب محمود صاحب امین الحق محلہ سوگندے مینئی ضلع وتحصیل صوابی ۷۷۱ مولوی عالم زیب صاحب گل ریحان محلہ گاڑگاؤں پنج پیر ضلع وتحصیل صوابی ۸۷۱ مولوی فضل حسین صاحب محمود خان سربند ضلع وتحصیل پشاور ۹۷۱ مولوی عطاء اللہ صاحب غلام محمد آفریدی روڈ میو ھار شوگگر ڈاکخانہ بڈھ بیر پشاور ۰۸۱ مولوی مقیب خان صاحب عبدالغفو ر صاحب سورہ غونڈی ثمر باغ ڈاکخانہ ثمرباغ لوئر دیر ۱۸۱ مولوی اکبر حسین صاحب نور محمد ہاشم سرایلی ڈاکخانہ وتحصیل ڈگر ضلع بونیر ۲۸۱ مولوی بخت منیر صاحب محمدرازق مندیزو تحصیل و ڈاکخانہ منڈاضلع لوئردیر ۳۸۱ مولوی اورنگزیب صاحب مزمل شاہ محلہ جلال آباد کرنل شیر کلے ضلع وتحصیل صوابی ۴۸۱ مولوی فضل حکیم صاحب فرید اللہ محلہ شگئی ترلاندی ضلع وتحصیل صوابی ۵۸۱ مولوی سعید اللہ سعدی عمر فقیر گوالوئی باوال خیل خوڑ ڈاکخانہ بیلہ شرینگل اپردیر ۷۸۱ مولوی کبیر شاہ صاحب تبارک شاہ بالا میاں گان کھوئی برمول تحصیل کاٹلنگ ضلع مردان ۸۸۱ مولوی محمد رفیق صاحب نسیم شاہ محلہ احمدآباد نزد گیریژن کیڈٹ کالج ڈھوڈہ روڈ کوہاٹ ۹۸۱ مولوی صلاح الدین صاحب رحمن گل الوغونڈی ناوہ چارمنگ ڈاکخانہ لوئی سم تحصیل ناواگئی باجوڑ ایجنسی ۰۹۱ مولوی عزیز الرحمان صاحب محمدحسین ملاسیدو ا نجڑو بانڈہ ڈاکخانہ راغگان باجوڑ ۱۹۱ مولوی عارف خان صاحب عبدالہادی ٹیکر بانڈہ کلابٹ ضلع وتحصیل صوابی ۲۹۱ مولوی عابدالرحمن صاحب عزیز الرحمن ٹیکر بانڈہ کلابٹ ضلع وتحصیل صوابی ۳۹۱ مولوی گران سید صاحب محمد گل ملاسید بانڈہ سلازئی باجوڑ ایجنسی ۴۹۱ مولوی عبدالرحمن صاحب عبدالرزاق کونشے بشام ضلع شانگلہ ۵۹۱ مولوی سعید اللہ صاحب یار اکبر اکاخیل مداخیل سمہ گڑھی میراباڑہ خیبر ایجنسی ۶۹۱ مولوی سیف اللہ صاحب عبدل محمد محلہ گلدارہ خیل باغیچہ چمن ضلع قلعہ عبداللہ بلوچستان ۷۹۱ مولوی محمدطیب صاحب محمدجمیل باغو کلے ڈاکخانہ غلجو تحصیل اپر ضلع اورکزئی ایجنسی ۸۹۱ مولوی محمد طاہر صاحب جان فقیر کلکوٹ تحصیل کلکوٹ کوہستان ضلع اپر دیر ۹۹۱ مولوی سید مرجان صاحب غازی مرجان ڈلانائے ڈاکخانہ غلجو تحصیل اپر ضلع اورکزئی ایجنسی ۰۰۲ مولوی اظہار الحق صاحب فصیح الدین اجمیر ڈاکخانہ اولندر تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۱۰۲ مولوی حبیب اللہ صاحب شتمند جلالے سنیلہ ڈاکخانہ پور ن ضلع شانگلہ ۲۰۲ مولوی عزیز الرحمن صاحب محمد آیاز خان گلشن آباد ٹلتان ڈاکخانہ کالام ضلع سوات ۳۰۲ مولوی عابداللہ صاحب سردار خان باڑہ خیبر ایجنسی ۴۰۲ مولوی نعمت اللہ صاحب نسیم گل مہمندی ڈاکخانہ خدرخیل تحصیل لاچی ضلع کوہاٹ ۵۰۲ مولوی مرصاد علی صاحب واصل خان محلہ ولایت خیل براستہ شہباز تورڈھیر ضلع صوابی ۶۰۲ مولوی عزیز اللہ صاحب آمان اللہ خان باتور ڈاکخانہ جان بھٹی تحصیل براول ضلع اپردیر ۷۰۲ مولوی سعید اللہ جوہری گل ملا خان باتور ڈاکخانہ جان بھٹی تحصیل براول ضلع اپردیر ۹۰۲ مولوی کرامت حسین نعمانی عبدالعزیز گھیل ڈاکخانہ کالام تحصیل کالام ضلع سوات ۰۱۲ مولوی ہدایت اللہ توحیدی نور اللہ مرحوم نواکلی ڈاکخانہ عنایت کلے خار باجوڑ ایجنسی ۱۱۲ مولوی خیر محمد صاحب محمد ظاہر شاہ بدان ڈاکخانہ عنایت کلے باجوڑ ایجنسی ۲۱۲ مولوی خیر محمد صاحب خیر جان شاہین مسلم ٹاؤن مکان نمبر808محلہ نذر آباد پشاور ۳۱۲ مولوی محمد نعمان صاحب رحیم بہادر محلہ امیر خیل شموزئی تحصیل کاٹلنگ ضلع مردان ۴۱۲ مولوی ابراہیم صاحب زڑہ ور عمر آباد تحصیل تخت بھائی ضلع مردان ۵۱۲ مولوی لعل بادشاہ صاحب منور خان گوجر لالہ ڈاکخانہ پاتراک تحصیل کلکوٹ کوہستان ۶۱۲ مولوی محمدیوسف صاحب معشوق جندرئی انار ڈاکخانہ کلکوٹ کوہستان اپردیر ۷۱۲ مولوی محمدآمین صاحب انذر گل محلہ گام سیر جندرئی بالا ڈاکخانہ کلکوٹ کوہستان اپردیر ۸۱۲ مولوی شیر زمان صاحب انذر گل محلہ گام سیر جندرئی بالا ڈاکخانہ کلکوٹ کوہستان اپردیر ۹۱۲ مولوی محمد حنان صاحب گل اصغر پانڈ کولئے ڈاکخانہ غلجو تحصیل اپر ضلع اورکزئی ایجنسی ۰۲۲ مولوی لعل جنان صاحب محمد اکبر پانڈ کولئے ڈاکخانہ غلجو تحصیل اپر ضلع اورکزئی ایجنسی ۱۲۲ مولوی خیر اللہ صاحب محمد کریم چارمنگ کرکنئی لوئی سم ناواگئی باجوڑایجنسی ۲۲۲ مولوی عبدالنافع صاحب گل رو ز مکان نمبر3انصار کالونی پیران پلوسئی فارسٹ کالج پشاور ۳۲۲ مولوی محمدسہیل صاحب عالم شیر محلہ شمشہ خیل کالا ضلع وتحصیل صوابی ۴۲۲ مولوی شیر علی خان صاحب شریف خان حصار ڈاکخانہ ڈگر تحصیل ڈگر ضلع بونیر ۵۲۲ مولوی نسیم شاہ صاحب عبدالاحد ملایوسف ڈاکخانہ ڈگر ضلع بونیر ۶۲۲ مولوی محسن صاحب امیر گلاب رشکئی ڈاکخانہ دادو شاغئی ضلع باجوڑایجنسی ۷۲۲ مولوی حبیب الحق صاحب نور حبیب خان چگرا با ڈاکخانہ معیار تحصیل ثمر باغ ضلع لوئردیر ۸۲۲ مولوی محمد فیروز خان صاحب عبدالکریم فیض درہ داموڈی تحصیل الپوری ضلع شانگلہ ۹۲۲ مولوی عزیز الرحمن صاحب عارف الرحمن قلعہ ڈاکخانہ مسکینی تحصیل ثمر باغ لوئر دیر ۱۳۲ مولوی صدیق اللہ صاحب نجم الدین قریہ زور براول ولسوالی دامگام ولایت کنڑ ۲۳۲ مولوی عبدالرحیم صاحب شاہ ولی خان باگورئی ڈاکخانہ لوئے سم تحصیل خار باجوڑایجنسی ۳۳۲ مولوی کمال الدین صاحب شہاب الدین ڈڈہ پاگوڑی ڈاکخانہ بیلے بابا تحصیل الپوری شانگلہ ۴۳۲ مولوی ضیاء الدین صاحب جمعہ گل گاؤں چمکوٹ ڈاکخانہ باتراک تحصیل کلکوٹ دیربالا ۵۳۲ مولوی عبدالرحمن صاحب رحمان الدین لنڈے خوڑ ہاتن درہ ڈاکخانہ دیر ضلع اپردیر ۶۳۲ مولوی عبدالوہاب صاحب محمد الیاس الاکول ڈاکخانہ بی بیو ڑ ضلع اپردیر ۷۳۲ مولوی سید وحید الدین صاحب سید روز الدین مسجد ومحلہ پانیزئی کلی کربلا ضلع وتحصیل پشین بلوچستان ۸۳۲ مولوی بخت ظاہر صاحب شاہ روم کرڑا ڈاکخانہ جمیڑہ تحصیل الائی ضلع بٹگرام ۹۳۲ مولوی محمدزاہد صاحب سلطنت خان کرڑا ڈاکخانہ جمیڑہ تحصیل الائی ضلع بٹگرام ۰۴۲ مولوی ناظر اللہ صاحب گلفریق کرڑا ڈاکخانہ جمیڑہ تحصیل الائی ضلع بٹگرام ۱۴۲ مولوی سید مسرور صاحب سیدعبدالشکور ولایت ننگرھا ر ولسوالی لعلپور چکنور ۲۴۲ مولوی اختر بلند صاحب شاہ عالم بھیڑوڑ گاہ برپالس ڈاکخانہ شلکھن آباد کوہستان ۳۴۲ مولوی محبت شاہ صاحب ظاہر شاہ شابڑہ ڈاکخانہ جلوزئی ضلع وتحصیل نوشہرہ ۴۴۲ مولوی محمدطیب صاحب شالیار لانگزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۴۲ مولوی محمدبلا ل صاحب ایوب خان نالہ کجھوری تحصیل وڈاکخانہ باڑہ خیبر ایجنسی ۶۴۲ مولوی خائستہ رحمن صاحب محمدزرین بالولئی ڈاکخانہ خار ضلع باجوڑایجنسی ۷۴۲ مولوی ولی اللہ صاحب غلام محمد میان گان کلے ناواگئی باجوڑایجنسی ۸۴۲ مولوی اصغر علی صاحب عظیم خان شالگاہ ڈاکخانہ وتحصیل واڑی ضلع اپردیر ۹۴۲ مولوی فضل واحد صاحب رسول محمد میان گان ناواگئی باجوڑایجنسی ۰۵۲ مولوی انور داد صاحب عجم خان محلہ طوطیان ڈھیری ڈاکخانہ سوا ڑی ڈگر ضلع بونیر ۱۵۲ مولوی سید اسماعیل شاہ صاحب فضل کریم کریم آباد شالگاہ ڈاکخانہ واڑی ضلع اپردیر ۳۵۲ مولوی محمد رحیم صاحب معصوم خان محلہ ڈانکار جندرئی ڈاکخانہ کلکوٹ کوہستان اپردیر ۴۵۲ مولوی بخت محمدصاحب عبدالحق نپڑی نیازئی ڈاکخانہ تھاکوٹ ضلع وتحصیل بٹگرام ۵۵۲ مولوی حکیم اللہ صاحب مولوی رحیم اللہ قاضی غونڈی زو ر بندر ڈاکخانہ خار باجوڑ ایجنسی ۶۵۲ مولوی رفیع اللہ صاحب شیر میر درے پلارسے مسلم ڈھنڈ ارجلی ندی تحصیل باڑہ خیبر ایجنسی ۷۵۲ مولوی نادرخان صاحب رندا علی خان بانڈی شاہ ڈاکخانہ وتحصیل ثمر باغ ضلع لوئردیر ۸۵۲ مولوی زینت اللہ صاحب جانب خان محلہ چترہ میدان میرہ سوری زئی پایان بڈھ بیرہ پشاور ۹۵۲ مولوی محمدطاہر صاحب ظریف خان پوردل کلے ڈاکخانہ وتحصیل باڑہ خیبر ایجنسی ۰۶۲ مولوی خلیل الرحمن صاحب محمدآمان ولایت کنڑ ولسوالی چپہ درہ قریہ وطلہ ۱۶۲ مولوی ارشاد سرور صاحب لعل سرور محلہ بدت خیل شنگرئی گاؤں بابوزئی تحصیل کاٹلنگ ضلع مردان ۲۶۲ مولوی ارشد محمود صاحب سرور دین تارہ گڑہ کوٹھا تحصیل ٹوپی ضلع صوابی ۳۶۲ مولوی محمدفاروق صاحب شاد محمد ڈھیری ڈاکخانہ زیارت تالاش تیمرگرہ ضلع لوئردیر ۴۶۲ مولوی سید شاہ صاحب پیر محمد کوکی خیل سکندرخیل غنڈی ڈاکخانہ جمرود خیبر ایجنسی ۵۶۲ مولوی سمیع اللہ صاحب گل دا علی ولایت کنڑ ولسوالی دانگام قریہ زور براول ۶۶۲ مولوی عبداللہ صاحب سعید اللہ توحید آباد معیار تحصیل ثمر باغ ضلع لوئردیر ۷۶۲ مولوی سمیع الرحمن صاحب اکبرسید شاہی تنگئی ڈاکخانہ عنایت کلے ماموند باجوڑایجنسی ۸۶۲ مولوی سید رحیم صاحب حاجی علم الدین ولایت ننگرھار ولسوالی دبالا قریہ ھسکہ مینہ ۹۶۲ مولوی عبدالہادی صاحب محمد نبی ولایت قندھارولسوالی اسپین بولد ک قریہ لوئی کاریز ۰۷۲ مولوی نصراللہ صاحب جان حضرت بھیائی چینہ عنایت کلے خار باجوڑ ایجنسی ۱۷۲ مولوی لعل بادشاہ صاحب شیر زمین علاقہ کارو درہ گاؤں خڑپوسی حافظ آباد تحصیل واڑی ضلع اپردیر ۲۷۲ مولوی اعجازعلی صاحب محمدروشن کوٹکے ڈاکخانہ الوچ تحصیل پورن ضلع شانگلہ ۳۷۲ مولوی بخت شیر صاحب شیرین خان گاؤ ں کالا خیلہ تحصیل اکبربابا ضلع بونیر ۵۷۲ مولوی رحیم الدین صاحب عصرخان گنڈھیرے ڈاکخانہ ثمر باغ تحصیل ثمر باغ جندول ضلع لوئر دیر ۶۷۲ مولوی ظاہر اللہ صاحب سید نذر محلہ امنور سنگرہ غوخدرہ ڈاکخانہ وتحصیل ڈگر ضلع بونیر ۷۷۲ مولوی حیات اللہ صاحب سلیم جان طورہ وڑی تحصیل ٹل ضلع ہنگو ۸۷۲ مولوی رفیع اللہ صاحب فضل واحد شلاؤ زڑہ ڈاکخانہ ڈھیرئی تحصیل الپوری شانگلہ ۹۷۲ مولوی عاقل خان صاحب ہنر شیر خان غالہ خیل شموزئی ضلع وتحصیل مردان ۰۸۲ مولوی محمدبشیر صاحب محمد رضا صاحب شیخ ماندہ مسلم آباد کوئٹہ بلوچستان ۱۸۲ مولوی محمداقبال صاحب جان محمد شالپین ڈاکخانہ وتحصیل خوازہ خیلہ سوات ۲۸۲ مولوی اسداللہ صاحب مولانا سلطان زمین ڈمہ ڈولہ عنایت کلے باجو ڑ ایجنسی ۳۸۲ مولوی غلام محمد محسن صاحب جمدر خان فتح پور ضلع وتحصیل سوات ۴۸۲ مولوی بختیار احمد صاحب امیر گلاب محلہ بڑا جبہ گجر گبرال ڈاکخانہ اتروڑ ضلع سوات ۵۸۲ مولوی سعیداللہ صاحب مولوی عزت اللہ ولایت کنڑ ولسوالی شگئی قریہ اوار ۶۸۲ مولوی عبدالغفار صاحب محمدیوسف ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ کالر ۷۸۲ مولوی غازی گل صاحب نائب خان ولایت ننگرھار ولسوالی اچین قریہ باندر ۸۸۲ مولوی احسان اللہ صاحب حاجی امیر حمزہ ولایت نورستان ولسوالی کامدیش قریہ پتیگل ۹۸۲ مولوی سردار ولی صاحب یا ر محمدآخوند زادہ ولایت کنڑ ولسوالی چپہ درہ قریہ دیگل ۰۹۲ مولوی محمد معصوم صاحب عبدالرحمن ولایت فاریاب المار قریہ میرادم ۱۹۲ مولوی فتح محمد صاحب حاجی جمعہ خان ولایت فاریاب قیصار قریہ زغفران ۲۹۲ مولوی محمداسماعیل صاحب محمدسرور ولایت فاریاب المار قریہ میرادم ۳۹۲ مولوی علی اللہ صاحب سعید الامان ولایت ننگرھار ولسوالی نازیان قریہ بارہ خیل ۴۹۲ مولوی حمیداللہ صاحب سید ولی ولایت کنڑ ولسوالی وتہ پو ر قریہ دھوز ۵۹۲ مولوی نعمت اللہ صاحب محمد نبی ولایت کنڑ ولسوالی وتہ پو ر قریہ دھوز ۷۹۲ مولوی بخت علی صاحب قدر شاہ ولایت ننگر ھار ولسوالی اچین قریہ باندر ۸۹۲ مولوی رحیم اللہ صاحب اللہ داد ولایت فاریاب ولسوالی قیصار قریہ زغفران ۹۹۲ مولوی سعیدالرحمن صاحب حضرت حسین ولایت کنڑ ولسوالی وتہ پورقریہ دیھوز ۰۰۳ مولوی سعادت اللہ صاحب پیر نظر ولایت کندزولسوالی امام صاحب قریہ آلچین ۱۰۳ مولوی غلام حضرت صاحب عبدالکریم ولایت کندز ولسوالی امام صاحب قریہ ملاافغان ۲۰۳ مولوی شیر محمد صاحب محمد ظفر ولایت ننگر ھار ولسوالی کاماء قریہ ذاخیل ۳۰۳ مولوی محمد اسماعیل صاحب قدرت علی ولایت کنڑ ولسوالی درہ پیچ مانو نگی قریہ قند ھارو ۴۰۳ مولوی امین گل صاحب امیر الرحمن ولایت مزار شریف ولسوالی بلخ قریہ سلارزئی ۵۰۳ مولوی عبدالحق صاحب گل محمدجان ولایت کنڑولسوالی شیگل قریہ مونڑ ۶۰۳ مولوی اسماعیل صاحب وزیر سید گاؤں اراب ماموند باجوڑ ایجنسی ۷۰۳ مولوی نظر محمد صاحب حاجی نیاز محمد ولایت قندھارولسوالی اسپین بولدک قریہ میر گیان ۸۰۳ مولوی محمدرازق صاحب محمدسلطان کالاخیلہ پیرباب ڈگر بونیر ۹۰۳ مولوی روح اللہ صاحب غلام الحق ولایت کنڑولسوالی چپہ درہ قریہ گل سلک ۰۱۳ مولوی عتیق اللہ صاحب شاہ نصیر ولایت نورستان ولسوالی کامدیش قریہ میر دیش ۱۱۳ مولوی عبدالمالک صاحب دوست محمد ولایت لغمان ولسوالی علیشنگ درہ میل قریہ تیلی ۲۱۳ مولوی ضیاء الرحمن صاحب مولوی عبدالرحیم ولایت بدخشا ن ولسوالی یفتل سفلٰی قریہ قدق ۳۱۳ مولوی حسن رفیق صاحب مولوی بہرام خان ولایت کنڑ ولسوالی مانڑونگی درہ کورنگل قریہ اشات ۴۱۳ مولوی سعید الرحمن صاحب محمدغلام ولایت لغمان ولسوالی علینگار قریہ چطلاح ۵۱۳ مولوی عبدالسلام صاحب اسرائیل ولایت بدخشان ولسوالی کوہستان قریہ سدہ کولخک ۶۱۳ مولوی فیض الرحمن صاحب قربان ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ خو نی لر ۷۱۳ مولوی عبدالرازق صاحب عصاء ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ خو نی لر ۸۱۳ مولوی منصف خان صاحب مشرف خان درہ آدم خیل زوڑ کلے ملحقہ کوہاٹ ۹۱۳ مولوی احسان اللہ صاحب محمد اکبر ولایت بدخشان ولسوالی کوہستا ن قریہ چاکر ۰۲۳ مولوی نصر الدین صاحب نوروز ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ خو نی لر ۱۲۳ مولوی عارف اللہ صاحب عزیز الرحمن پیاہ خوڑ مٹہ ڈاکخانہ فتح پور ضلع سوات ۲۲۳ مولوی محمد ایوب صاحب محمد خان نارکن بالا شیرینگل ضلع اپر دیر ۳۲۳ مولوی زاھد حسین صاحب عبد الرحمان بانڈہ تالاش ڈاکخانہ ناسافہ تحصیل تیمرگرہ ۴۲۳ مولوی آیاز علی صاحب زرحکیم محلہ سید خانی نار نجی ضلع صوابی ۵۲۳ مولوی محمد شاہ جی صاحب صدرئے ضلع شانگلہ تحصیل الپوری برکلے لیلونئی ۶۲۳ مولوی حامد علی صاحب نور جمال ضلع وتحصیل صوابی گاؤں گاڑ مینار ۷۲۳ مولوی عبد الواحد صاحب شریف ا ﷲ ضلع وتحصیل صوابی گاؤں ڈاگئی ۸۲۳ مولوی شفیع اﷲ صاحب محمد گل ولایت کاپیساء ولسوالی ألسئی قریہ اسکین قلعہ ۹۲۳ مولوی ریاض احمد صاحب شمس الہادی ضلع بونیر تحصیل ڈگر گاؤں چنگلئی ۰۳۳ مولوی ضیاء الرحمن صاحب جمیع الرحمان برحصار تحصیل ڈگر ضلع بونیر ۱۳۳ مولوی احمد گل صاحب واحد گل برحصار تحصیل ڈگر ضلع بونیر ۲۳۳ مولوی عبد الستار صاحب خدابخش ولایت بدخشان ولسوالی راغستان قریہ احمدر ۳۳۳ مولوی احسان اﷲ صاحب زیارت گل باجوڑ ایجنسی تحصیل ماموند گاؤں غاخے ۴۳۳ مولوی صادق علی صاحب کچکول آمیر لعل خیل باجا ضلع وتحصیل صوابی ۵۳۳ مولوی محمد نصیر صاحب محمد امین محلہ قریشی جبی ضلع وتحصیل نو شہرہ ۶۳۳ مولوی احسان الحق صاحب محمدزمین باجوڑ ایجنسی
١٢
جون2011ء بروز اتوار صب
()۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔()

می 2011

اجتماع پنج پیر کی جھلکیاں

جماعت اشاعۃ التوحیدوالسنۃ صوبہ خیبرپختونخواکے زیراہتمام یکم ،دو اورتین اپریل 2011[جمعہ ہفتہ اتوار] کو شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری کی زیرسرپرستی چھٹاسہ روزہ اجتماع دارالقرآ ن پنج پیر میں منعقدہوا۔اجتماع کاباقاعدہ آغاز شیخ الحدیث مولانا محمدیاربادشاہ صاحب رحمہ اللہ کے فرزند جناب قاری احسان اللہ صاحب کی آواز میں میں تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعدازاں صوبائی ناظم اعلیٰ ابوعمیر مولانا شمس الہادی طاہری نے جمعہ کاخطاب کیاجبکہ خطبہ اورنماز شیخ القرآن مدظلہ نے پڑھائی ۔نمازجمعہ کے بعد صوبائی ناظم اطلاعات جناب محمدفیاض خان نے انتظامیہ اورشرکاء اجتماع کے لئے ہدایات اورتمہیدی کلمات اداکئے ۔شیخ القرآن مدظلہ نے افتتاحی بیان فرمایا ۔شیخ کے بعد ۲۱ نشستوں پر مشتمل دیگرعلماء کرام کے بیانات کاسلسلہ شروع ہوا ۔


صوبہ خیبرپختونخوا کے مندرجہ ذیل علماء کرام نے خطاب کیا:

  • صوبائی امیرمولانا عبدالرحمن چارسدہ ،
  • نائب صوبائی امیرمولانا مفتی محمدایاز پشاور ،
  • صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا شمس الہادی طاہری نوشہرہ ،
  • شیخ الحدیث مولانا صدرالشہید ترناب ،
  • شیخ شاہ زمین خان مانیری ،
  • شیخ التفسیر مولانا غلام حبیب ویسہ ،
  • شیخ سعیدالرحمن الخطیب اوگی ،
  • مولانا میرعبداللہ ڈی آئی خان ،
  • مولاناعبدالحئی بٹگرام،
  • مولانامفتی محمدمسلم نستہ چارسدہ،
  • مولانافیض رسول ایبٹ آباد،
  • مولاناامیرمحمدآلائی ،
  • مولانا عبدالقادر بنوں ،
  • مولاناعبدالرب ہنگو،
  • مولاناخائستہ رحمان دیر،
  • مولاناقاری عبیداللہ شاہ پور[فرزندشیخ شاہ پوررحمہ اللہ ]،
  • مولاناقاری محمدیوسف بٹگرام ،
  • مولانامسیح اللہ باجوڑ[فرزندشیخ الحدیث رحمہ اللہ ]،
  • مولانامحمدطیب زعفرانی مانسہرہ ،
  • مولانااحمدجمشیدہری پور،
  • مولاناعبیداللہ عرف رنگین مولوی صیب مانسہرہ ،
  • مولاناسمیع الحق پشاور،
  • مولانااسحق کوہاٹ،
  • مولاناقریب الرحمن مردان ،
  • مولانافیض الرحمن شاکر اوگی،
  • مولانااعظم طارق [ناظم دارالقرآن پنج پیر]،
  • مولاناحافظ سیف الدین ٹانک
اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے صوبائی رہنمامولانا مومن گل صاحب عمرہ پر تھے انہوں نے وہاں بذریعہ فون خطاب کیا جبکہ حافظ محمد ایاز پشاور نے انگریز ی میں شرکاء اجتماع خطاب کیا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے مندرجہ ذیل علماء کرام نے خطاب کیا:

  • اشاعۃ التوحیدوالسنۃ پاکستان کے مرکزی نائب امیرجانشین شیخ القرآن راوالپنڈی رحمہ اللہ، مولانااشرف علی صاحب ،
  • مناظراسلام مولانا محمدیونس نعمانی ،
  • مناظراشاعۃ مولانا حضرحیات تلہ گنگ ،
  • مولاناحافظ محمدصدیق واہ کینٹ ،
  • نواسۂ شیخ القرآن ؒ مولانا شاکرمحمود صاحب راوالپنڈی ،
  • مولانامحمدنذیزراوالپنڈی ،
  • مولانامحمدیاسر میانوالی ،
  • مولانابشارت حسن ابدال ،
  • مولاناعبدالحمید خوشاب۔ان کے علاوہ
  • مولانا قاری چن محمدگجرات ،
  • مولاناسید شفاء اللہ شاہ بخاری ،
  • مولانا عبدالقدوس فاروقی جھنگ ،
  • مولانا طارق عزیز باجوہ گوجرانوالہ ،
  • مولاناسجادالرحمن ٹیکسلا، مولانامفتی تاج الدین حسن ابدال نے اجتماع میں شرکت کی لیکن بعض اعذارا ورضروری کام کی وجہ سے شرکاء اجتماع سے مخاطب نہ ہوسکے ۔

صوبہ سندھ سے مولانا عبیداللہ کراچی ناظم اعلیٰ صوبہ سندھ نے خطاب کیا۔

صوبہ بلوچستان سے :

بلوچستا ن کے ناظم اعلیٰ
  • مولانامحمدحسن کاکڑ،
  • مولانا محمدطیب کوئٹہ،
  • مولانا شفیع الحق ژوب نے خطاب کیا ۔

صوبہ گلگت بلتستان سے:

مولاناجنت دار، مولانا ابوسعید گل سفید نے نمائندگی کی ۔

جبکہ سعودی عرب سے عمرہ کرنے کے بعد اشاعت کے صوبائی رہنما مولانا مومن گل صاحب نے موبائل پر اجتماع سے خطاب کیا۔ جبکہ لندن سے آئے ہوئے مہمان جناب محمدآیاز پشاوری نے انگریزی میں خطاب کیا۔
واضح رہے کہ شیخ القرآن مدظلہ نے اجتماع سے افتتاحی اور اختتامی خطاب کے علاوہ دو رات اختتامی خطاب بھی کیا ۔ اور آخری د ن بعد نماز فجر درس قرآن کریم دی جبکہ تینوں دن سٹیج پر موجود رہے اور تمام نمازیں انہوں نے پڑھائیں ۔
علماء کرام نے مندرجہ ذیل موضوعات پر خطاب کیا:
علماء کرام نے عقیدہ توحید، عقیدہ ختم نبوت ، تحفظ ناموس رسالت ، اتباع سنت ، عظمت صحابہؓ ، مقام امام ابوحنیفہ ؒ ،تقلید واجتہاد کی ضرورت ، تردیدمنکرین حدیث ، مقصد تکمیل دین ، تردید فرق باطلہ ، انبیاء کرام کی مشترکہ دعوت ، اتحاد وقت کی اہم ضرورت ، محبت رسول ، فضیلت علم حدیث ،دورحاضرکے علماء کرام کی ذمہ داریاں ، طلبہ کی ذمہ داری،اہمیت مدارس عربیہ ، اہمیت وضرورت دروس قرآن ، دورحاضر میں اشاعت کا کردار ،علماء دیوبند اوراشاعۃ، دیوبندیت کیاہے ؟اوردیوبندی کون ہے ؟، وسیلہ کی حقیقت ، مسئلہ حیات النبی وسماع موتیٰ کی حقیقت وتحقیق،امن وامان کیسے قائم کی جائے وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر حاضرین اجتماع سے خطاب کیا ۔

قائد جمعیت کی آمد :

جمعیت علماء اسلام کے قائدشیخ الحدیث مولانا سمیع الحق صاحب اجتماع کے دوسرے دن ۲ ،اپریل کو نمازمغرب سے کچھ دیر پہلے تشریف لائے ،مولاناعرفان الحق صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ان کی آمد پر حاضرین نے پرجوش نعرے لگائے۔ انہوں نے مغرب کی نمازپڑھائی اورپھر سٹیج پر تشریف لاکرتفصیلی خطاب کرتے ہوئے موجودہ ملکی صورتحال پر اظہارخیال فرمایا۔ [تفصیلی خطاب آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمالیں]۔

سابق صوبائی وزیرجناب فضل ربانی ایڈوکیٹ نے بھی اجتماع سے خطاب کیا ۔

شعراء حضرات کی آمد:

علماء کرام کے ساتھ ساتھ شعراء کرام نے بھی اجتماع میں حصہ لیا اورحاضرین کو اپنے کلام سے محظوظ ہونے کا پورا پوراموقع دیا ۔جناب حسین احمدصادق صاحب تخت بھائی کے انقلابی نظموں کے دوران پنڈال فلک شگاف نعروں سے گونجتارہا ۔ ان کے علاوہ جناب ساجدالرحمن ہنگو، جناب ملنگ جان ، معروف نعت خوان حافظ سہیل احمد شب قدر، شوکت علی فدا،جوادعلی صوابی ،محمدعارف دیر ،قاری شمشیر وہاب ،احمدبلخی، ذبیح اللہ ،انورخان صوابی، رحمت اللہ صدیق یار،وغیرہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔خصوصا باجوڑکے مشہور ومعروف عالم دین مولانافضل حق عرف ڈبرصاحب حق نے عربی قصائد پیش کئے جن کو حاضرین نے بہت پسندکیا۔

اجتماع انٹرنیٹ پر:

اجتماع میں عوام الناس کی ایک کثیرتعداد نے شرکت کی اورنہایت سکون واطمنان کے ساتھ تمام تربیانات کو سنا۔بیرون ملک اوراندرون ملک سے اجتماع میں شرکت سے معذورافراد کے لئے اجتماع کوانٹرنیٹ پر براہ راست نشرکرنے کے انتظامات کئے گئے تھے اوریوں پوری دنیامیں خصوصاسعودی عرب ،سوڈان ،متحد ہ عرب امارات، سویڈن ،عمان ،لندن ،آئرلینڈ، کینڈا،کویت ، اٹلی ،انڈیا،فرانس جنوبی کوریا وغیرہ میں موجودہزاروں پاکستانی اوردیگر اقوم جبکہ اندرون ملک کے تمام شہروں میں ناظرین اجتماع کوبراہ راست دیکھ رہے تھے ۔
جناب جاوید،جناب عباس ،جناب انیس اورجناب محمد ہاشم صاحب آف پنج پیر اور مولانا فضل اللہ ترندی بھی اس شعبہ کے کرتادھرتاتھے ۔

سٹیج کے انتظامات ونگرانی :

اجتماع گاہ میں علماء کرام کے لئے ایک بڑااورخوبصورت سٹیج تیارکروایا گیا تھا ۔سٹیج کومختلف قسم کے بینرز اور چارٹس سے سجایاگیاتھا ،چاروں طرف سے سٹیج عوام کی نگاہوں میں تھا۔سٹیج کی نگرانی صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا شمس الہادی طاہری اورصوبائی ناظم اطلاعات جناب محمد فیاض خان صاحب کررہے تھے ۔سٹیج کی حفاظت کی ذمہ داری جناب عمردراز صاحب کے سپردتھی ۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب حاجی دلبر خان اورجناب شاہ نعمان باچہ انجام دے رہے تھے ۔اجتماع گاہ کے دیگرامور کے لئے ناظم اجتماع جناب گل جہاں اورصوبائی نائب ناظم اعلیٰ جناب سیدہارون شاہ صاحب ،حلقہ پنج پیر کے امیر مولاناابراہیم صاحب ، مولانا لیاقت علی کالوخان کی نگرانی میں تقریبا200افرادشعبہ استقبالیہ میں مصروف کارتھے ۔مہمانان گرامی اورطعام کے انتظامات جناب محمدنثاراورمحمدنذیرصاحب آف مرغز(احباب تبلیغی جماعت) کی نگرانی میں تھے ۔
دیگراخباری نمائندگان کے علاوہ دی نیوز کے نمائندہ جناب مشتاق یوسف زئی نے بھی اجتماع میں شرکت کی ۔ واضح رہے کہ اجتماع میں چارزبانوں میں تقاریر(پشتو، اردو، عربی اور انگریزی) میں ہوئے ۔ اجتما ع جمعہ کے دن نمازجمعہ کے بعدشروع ہوا اوراتوارکے دن ایک بجہ دوپہراختتام پذیرہوا ۔


صوبائی ناظم اعلیٰ ابوعمیر مولانا شمس الہادی طاہریؔ کاخطاب

اجتماع سے آخری دن جماعت اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے صوبائی ناظم اعلیٰ مولاناشمس الہادی طاہری نے خطاب کیا ، خطاب کا خلاصہ پیش کیاجارہاہے،ا نہوں نے کہا :
میں اس عظیم الشان سہ روزہ اجتماع میں تمام شرکاء علماء ،طلبہ ،عوام الناس اورخواص کا مشکورہوں اس کے ساتھ ہی میں انتظامیہ کابھی تہہ دل سے شکریہ اداکرتاہوں کہ انہوں نے مسلسل تین دن تک خدمت کی ،اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیردے ۔ الحمدللہ اجتماع بہت ہی پرسکون اورخوشگوار ماحول میں انجام پذیرہوا اورکوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا۔علماء کرام نے اپنے اپنے وقت پر حاضری دی،سامعین کو قرآن وسنت کے بیانات سے مستفید ہونے کاموقع دیا ۔سامعین نے بھی کسی قسم کی شکایت نہیں کی ۔اللہ تعالیٰ تمام کوجزائے خیر دے۔
میں تمام شرکاء اجتماع کو اجتماع کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتاہوں ۔
سامعین حضرات ! یہ اجتماع ایک لحاظ سے چھٹا اجتماع ہے ،نوجوانان توحیدوسنت کے زیراہتمام 2003سے سالانہ اجتماع کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا اور2007تک چلتارہا پھر درمیان میں بعض ناگزیروجوہات کی بنا پر یہ اجتماع تین سال تک تعطل کاشکاررہا ،اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ اس نے دوبارہ اس سلسلے کو جاری کردیا اوریوں آج ہم ایک بارپھر یہاں جمع ہیں ۔جبکہ دوسرے لحاظ سے یہ پہلااجتماع ہے جواشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے زیراہتمام منعقدہورہاہے اورایک قسم کاتجدیدعہدہے ،جس میں ہم تمام جماعتی اراکین کو عہدکرناچاہئے کہ ہم مسئلہ توحیدوسنت ،مسئلہ عقیدہ ختم نبوت ، عظمت صحابہؓ ،نفاذشریعت ،،دفاع اسلام ،اتحاد امت ،استحکام پاکستان کے لئے ہرقسم کی مالی اورجانی قربانی پیش کریں گے اورہرباطل کے خلاف تن من دھن کی قربانی دیں گے اورتمام صلاحیتیں بروئے کارلاکر اس پیغام اورمشن کو وطن عزیز کی گلی گلی تک پہنچاکردم لیں گے ۔توحیدوسنت کے مشن کو چھوڑیں گے نہیں چاہے کچھ بھی ہو، کوئی دھمکی دے ، کوئی لالچ دے ہم نے اسے چھوڑنانہیں ہے ، کیونکہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مشن ہے ،اسی مشن کی خاطر انبیاء کرام علیہم السلام نے تکالیف اٹھائیں ،شہادتیں پائیں ، الزامات کاسامنا کیا،لوگوں کابرابھلابرداشت کیا ،انہیں دھمکیاں دی گئیں ، طرح طرح کے لالچ دیئے گئے ..... لیکن مسئلہ توحیدکو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔اللہ تعالیٰ کواپنے پیغمبروں سے انتہائی محبت ہے ،بے حدپیارہے لیکن مسئلہ توحیداللہ تعالیٰ کو ان سے بھی پیاراہے اوراس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو مسئلہ توحیدکے لئے قربان کردیا ۔
یقیناًمسئلہ ختم نبوت ایک اہم مسئلہ اورایمان کا جز ہے ،تمام دینی اورسیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں لیکن مسئلہ توحیداس سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام اس پر متفق ہیں اوراللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام کو اسی مسئلہ کی ترویج واشاعت کے لئے مبعوث فرمایا تھا :وماارسلنامن قبلک من رسول الانوحی الیہ انہ لاالہ الااللہ انافاعبدون ۔
انہوں نے سامعین سے پوچھا کہ اس مسئلہ کے لئے وقت دوگے ؟۔ تمام شرکاء نے ہاتھ اٹھاکر عہد کیا ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ یہ ہزاروں کا اجتماع شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ کے مشن اور شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری پراعتماداوران کے مشن سے وابستگی کی علامت اوراظہارہے ۔
آخرمیں انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ان شاء اللہ تادم آخراپنے شیوخ کے طرز وانداز پر شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب کے قیادت میں انبیاء کرام کے اس مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے اوراس پرکسی قسم کی سودے بازی نہیں کریں گے ۔
اجتماع پنج پیر کی کامیابی پر مبارکباد
  • مولوی محمدسعید ،سکندرپور ہری پور
1,2,3اپریل کو سالانہ سہ روزہ اصلاحی اجتماع کے لئے مرکز سے اعلامیہ جاری ہوا تو پورے صوبہ کی طرح ضلع ہری پور میں بھی اراکین نے اسی وقت سے تیاریاں شروع کردی ۔ ہرساتھی کی زبان پر اجتماع کی بات ہورہی تھی ۔ تنظیمی ذمہ داران نے ہراجلاس میں اراکین کو اجتماع کی کامیابی کے لئے دعاؤں اور خود شریک ہو نے کی ترغیب دی ۔ آخر کار یکم اپریل بروز جمعہ نماز کے بعد کثیر تعداد میں اراکین مولانا احمدجمشید صاحب کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔ راقم الحروف نے مولانا احمدجمشید صاحب اور مولانا فضل جمیل صاحب کی قیادت میں کثیر تعداد پر مشتمل قافلہ کواجتماع کے لئے رخصت کیا۔ عصر کے بعد اجتماع میں ساتھی پہنچ کر بہت خوش ہوئے ۔ ہرایک ساتھی نے پنڈال سے فون کیا اور حالات بتائے اور علمائے کرام کے بیانات سنائے۔ نئے ساتھیوں کی خوشی قابل دید تھی ۔ بندہ راقم ہفتہ کی صبح کو سرپرست اعلیٰ مولانا عبدالرحمن صاحب اور دیگر شیوخ مدرسہ احمد المدارس سکندر پور کی معیت میں اجتماع میں پہنچے ۔ حضرات علماء کرام کے بیانات جاری تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں سامعین بیٹھے ہوئے خاموشی کے ساتھ اکابرین کا بیان سن رہے تھے ۔ سامنے ایک کونے میں سٹیج بناتھا جس پرقائد محترم مولانا محمدطیب مدظلہ ، صوبائی قائدین اوردیگر علماء اکابرین جلوہ افروز تھے۔ مقررین حضرات کے جذبات اور اراکین اور سامعین کی دلجمعی دیکھ کر مجھے حضرت الامیر محتر م مولانا محمدطیب صاحب کی وہ مثال یاد آگئی جو انہوں نے NTSکے صوبائی اجلاس میں بیان کی تھی۔
مثال:۔ 08جولائی2008ء کو NTSکا پشاور میں اجلاس تھا۔ ملکی حالات انتہائی سنگین تھے۔ نصف شب قائد محترم (النجم الثاقب) کی طرح نمودار ہوئے ۔ تو ہرساتھی فرط مسرت میں اپنے جذبات سب کچھ بھول گیا ۔ ملکی حالات کے پیش نظر امیر محترم نے اراکین سے خطاب کیا اور فرمایا کہ اس وقت میری مثال ایک مرغی اوراس کے بچوں جیسی ہے۔ جس طرح مرغی اپنے نومولود بچو ں کو اپنے پروں میں چھپاکر ہر ایک خطرہ سے تحفظ کرتی ہے ۔ بالائی دشمن چیل ، کوا ، اطراف کے دشمن بلی نیولا سے بچاتی ہے۔ ہر خطرہ کے وقت ایک مخصوص آواز نکال کر خطرہ سے آگاہی کرتی ہے۔ وہ تربیت کرتی ہے اچھی بُری چیز کی پہچا ن کراتی ہے ۔ کبھی ڈانتی ہے کبھی خوشی ہوتی ہے ۔ جب بچے بڑے ہوتے ہیں بچے آپس میں مڈبھیڑہوتے توقریب کھڑی ہو کر خوش ہوتی ہے کہ میں نے جوتربیت کی ہے ۔ اب یہ میدان میں خود اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔
یہ بات امیر محترم نے ارشاد فرمادی ۔ شاید اس وقت ساتھیوں نے وقت کے حالات پیش نظر توجہ نہ دی ہو لیکن میرے دل میں اُسی وقت سے ایک اشکا ل تھا کہ امیر محترم ہمیشہ مثال کو ممثل لہ کے مطابق بیان کرتے ہیں ۔ لیکن اس مثال کی ممثل لہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔
لیکن اس بار جب اجتماع میں گیا تووہاں یہ منظر دیکھ کروہ مثال یاد آگئی اور ممثل لہ بھی ذہن میں آتا گیا۔کافی عرصہ سے ہم اجتماع کا انتظار کرتے لیکن مرکز سے رابطہ کرنے پرہدایت ملتی کہ انتظار کریں ۔ حالات درست نہیں۔ لیکن ابھی جب امیر محترم کی قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے اجتماع شروع ہوا ۔ احسن انداز میں اکابرین بیان کررہیں ۔ عوام الناس شریک ہورہے ہیں۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں ہوا او ر امیر محتر م نے جس انداز میں اپنے روحانی بچوں اور اراکین کی تعلیم وتربیت کی اُس کے مطابق ہر ایک رکن مرکز اور قائد محترم کے بل بوتے پر بڑی جرأت سے اپنے موقف کو بیان کررہا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے مرکز اور شیخ القرآن مولانا محمدطاہرؒ اور اپنے قائد محترم کی قائدانہ صلاحیتوں اور اخلاص کی تعریف اور خراج تحسین پیش کررہا ہے ۔ امیر محترم دل میں سوچ رہیں ہونگے کہ جو تربیت میں نے اراکین اس پر پورا عمل کررہے ہیں ۔ اس لئے تو کبھی وہ کھڑے ہو کر تائید کرتے ہیں۔ آفرین کہتے ہیں لیکن سستی کرنے والے کے لئے چھاڑ پھونک بھی کررہے ہیں اور اپنی دی ہوئی تربیت اور بچوں واراکین کی کامیابی پر وہ میدان میں آکر باطل قوتوں کو للکارتے ہیں۔ اورکبھی چیلنج دیتے ہیں کہ میرے روحانی بیٹے بھائی مولانا یونس نعمانی اور مولانا حضرحیات کومیدان میں اتار دیا اگر کسی کی جرأت ہے تو آئے میدان میں آؤ مقابلہ کرو ۔ ہم ہرمحا ذ پر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ دیگر جماعتوں کے قائدین تو اپنے اراکین کیساتھ ملاقات توکیا ہاتھ ملانا بھی گوارانہیں کرتے۔ لیکن ہمارا قائد نہ صرف قائد ہے بلکہ ایک مشفق اور خوش اخلاق دوست ہے جوہر آنے والے سے بنفس نفیس ملاقات کرتے حال دریافت کر نے کے بعد منتظمین کے ذمہ حوالہ کرتے کہ طعام ورہائش کا بندوبست کریں۔ اگرچہ اتنے جم غفیر میں ملاقات نہ کرنے سے شکوہ نہیں ہوتا ۔ لیکن پھر بھی وہ پوری کوشش کرتے کہ کسی ساتھی کوکوئی تکلیف نہ ہو ۔ ہر چھوٹے بڑے سے خود ملتے حال دریافت کرتے تھے۔
صوبائی قائدین مولانا شمس الہادی صاحب اور محمدفیاض صاحب ہر آنے والے کو اردو اور پشتو میں خوش آمدید کہتے ۔ صوبائی قائد توخوش مزاجی میں مشکوہ بھی کرتے تھے ۔ افراد کم کیوں آئے ہیں ۔ تاخیر سے کیوں آئے ہو ۔ کبھی حوصلہ بھی دیتے کبھی سٹیج پر وقفہ وقفہ سے ساتھیوں کو دعوت دیتے تو تعارف بھی کرواتے۔ اور ساتھ ساتھ نئی ہدایت بھی جاری کرتے ۔ آخری دن جب مولانا شمس الہادی صاحب نے آئندہ سال کھلے گراؤنڈ میں اجتماع کے انعقاد کی اعلان کیا تو لوگوں کی خوشی قابل دید تھی کیونکہ امسال بھی مرکز کا حال اس عظیم اجتماع کے لئے تنگ شکنی کا دعویٰ کررہا تھا۔ جب محمدفیاض صاحب تو بار بار سامعین سے مخاطب ہوتے قائدین کا پیغام سناتے اور ساتھ انتظامی اُمور پر کھڑی نظر رکھے ہوئے وقتاً فوقتاً انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے۔ کبھی مجمع کو خوش گپی سے ہنساتے اور کبھی سامعین پر گرم ہوتے۔
بہرحال جتنی تعریف کرو ں کم ہے اس سال کاا جتماع ایک منفرد اجتماع ثابت ہوگا ۔ تمام اکابرین نے خلوص کے ساتھ بیانات کئے ۔ اراکین وسامعین اطمینان و تسلی سے اپنے اکابرین کو سنا ۔ یہ یقیناًہمارے اکابرین اولیاء کی کرامات ہیں ۔بغیر اشتہاراور بغیر دعوت کے لاکھوں افراد کا جمع ہونا اپنے مرکز کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھنا ۔
اللہ تعالیٰ امیر محترم ، صوبائی قائدین اور انتظامیہ کو اجرعظیم عطافرمائے اور اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے۔ ہری پور کے تمام رفقاء وقائدین صوبہ خصوصاً شیخ القرآن مدظلہ کو اس کامیاب اجتماع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تجویز ہے کہ آئندہ اجتماع سے قبل ڈویژن میں اجتماعات اور صوبائی دورے ہونا چاہیے۔

مقام الشیخ عالی السند حضرت العلامہ مولانا محمد طاہر ؒ باعتبار الحدیث
  • شیخ الحدیث مولانا عبدالشکور صاحب ، خال دیر
جب ہم پنج پیر کے سالانہ سہ روزہ اجتماع سے واپس ہوئے تو بعض دوستوں نے بار بار اصرا ر کیا کہ پنج پیری حضرات کی نسبت دیوبند کے ساتھ بیان کی جائے۔ کیونکہ اجتماع میں ایک نعرہ لگایاجاتاتھا ’’ کہ دیوبند کی تصویر پنج پیر پنج پیر ‘‘ تو اس وجہ سے بعض لوگوں نے اصرار کیا کہ یہ تعلق بیان کی جائے۔ اسی وجہ سے امیر صاحب مولانا محمدطیب طاہر ی مدظلہ العالی کے مشورے پر میں حضرت شیخنا العرب والعجم مولانا محمدطاہر پنج پیری ؒ کا تعلق دیوبند کے ساتھ باعتبار اخذ سند کے ذکر کرونگا۔ سلسلہ سند اگرچہ چار حصو ں میں منقسم ہیں ۔ حصہ اول اکابر دیوبند حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ اور امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے ہے۔ کیونکہ یہ دیوبند کے بانی اول اور واضع ہیں۔ حصہ دوم شیخ الاسلام ولی اللہ دہلوی ؒ (احمد ولی اللہ قطب الدین بن عبدالرحیم الدھلوی ؒ ) ہے۔ حصہ سوم حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے لیکر صحا ح ستہ تک ہے۔ اور حصہ چہارم صحاح ستہ سے لیکر نبی علیہ السلام تک ہے ۔ لیکن میں حصہ اول کے ذکر پر اکتفاء کرونگا۔ کیونکہ اس کے علاوہ جو حصے ہیں وہ معروف اور مشہور ہیں اور الیانع الجنی اور اس کے علاوہ اور کتب میں ا س کا ذکر موجود ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ تفصیل کاموقع نہیں ہے ۔ضرورت کی بناء پر ان چند سطور پر اکتفاء کیا ہے۔ ان شاء اللہ اسانید مشائخ اشاعت تفصیل سے لکھنے کا ارادہ ہے ۔ مناسب وقت میں منظرعام پر آجائے گی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم ایسے دور میں ہیں کہ اس میں بعض لوگوں نے دیوبند کے نام اور تقدس واحترام کو اپنی خود غرضیوں اور دنیا کے حصول اور لوگوں اور امیروں سے چندہ ، روپے اورپیسے وصول کرنے کے لئے اور طلباء اور عوام کو اپنے طرف متوجہ کرنے کے لئے ذریعہ بنا رکھا ہیں۔ اور دیوبند کاوہ عظیم مشن جس سے ساری دنیا ، خصوصاً ایشیاء میں انقلاب برپا ہو گیاتھا اور ہور ہا ہے، ان کو انہوں نے اس سے چند نوازل اور نوادر اور صوفیاء کرام کے بعض متشابہ اور وہمی انکشافات جس میں زیادہ تر کا تعلق قبو ر اور اموات سے ہے منتخب کیا ہے اور اسی نوادر اور نوازل اور اسی انکشافات اور دھمیات پر یہ لوگ انتہائی جذبے کا اظہار کرتے ہیں اور اس میں شغلہ بیانی کرتے ہیں ۔ فکر ہر کس بقدر رحمت اوست ۔ نصوص قطعیہ ، صریح الدلالت اور اقوال ظاہرہ ، فتویٰ دارالعلوم دیوبند، امداد الفتاویٰ وغیرہ اقوال علماء واکابرو فقہآء میں تاویل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیوبند کے اصل اصولوں سے روگردانی کررہے ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک ظریف الطبع انسان کبھی کبھی کہتا تھا کہ قرآن کریم میں مجھے دو جگہیں بہت پسندہیں ۔ ایک یہ کہ (قال تعالیٰ: وانزل علینا مائدۃً من السمآء ) (الاےۃ) ترجمہ:۔ ’’ اے اللہ ہمارے لئے اوپر سے ایک خوانچہ بھیج دیں‘‘ اور دوسری جگہ یہ کہ ( قال تعالیٰ: کلوا واشربوا ) ترجمہ:۔ ’’ کھاؤ پیو‘‘ ۔ حالانکہ کتاب اللہ تو ایک بے مثل و بے نظیر اور حکمت و دانائی سے بھری ہوئی کتا ب ہے ۔ لیکن اس بے چارے اور پیٹ کے پوجاری کو قرآن کریم میں صرف یہی دو آیت پسند آئے ۔
افسوس ہے ایسے پسماندگان پر جو اپنے بڑوں کے لئے سبب عارو شرم بن جائے ۔ ’’ بجا این فخرے او بدنام اسلاف ‘‘۔
؂ فان اللباس کلباسھم واری الرجال فیھم غیر رجالھم
ترجمہ:۔ ’’ ا ن لوگوں کا لباس توان جیسا ہے لیکن ان کی ہستیاں ان جیسی نہیں ہیں ‘‘
(مریم: ۹۵)
ترجمہ:۔ ’’ پس پیچھے رہ گئے ان سے ایسے پسماندگان کہ جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کی پیروی کی‘‘۔
(و الی اللہ اشتکی) ایسے لوگو ں کو ہرگز تحقیق کی حلاوت اور معرفت کی نور نصیب نہیں ہوئی۔ (اٗ عاذنا اللہ منھا )
ہمارے اشاعۃ التوحید والسنۃ کے شیوخ بالخصوص شیخ القرآن شیخنا شیخ العرب والعجم محمدطاہر ؒ تکلف و تصنع سے بالکل اجتناب کرنے والے تھے ۔ جس طرح صحابہ کرامؓ کے صفات میں آتا ہے  (الحدیث) (مشکوۃ المصابیح کتاب الایمان:۲۳)
ترجمہ:۔ ’’ صحابہ کرامؓ اس امت کے افضل ترین لوگ تھے اور انتہائی پاک صاف دل والے، علم کی سمندر کی انتہائی تہہ تک پہنچنے والے اور بہت کم تکلف والے تھے‘‘۔
حضرت الشیخ ؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے دین کا عظیم جذبہ ڈالاتھا اور وہ انتہائی عالی السند تھے۔ جس طرح اس کا ذکر آنے والے سطور میں آرہا ہے (ان شاء اللہ) لیکن حضرت الشیخ ؒ نے نہ اس پر فخر کیا ہے کہ میرا سند مکی ہے ۔ کیونکہ حضرت شیخ ؒ نے بعض علوم دینیہ مکہ مکرمہ میں حضرت العلامہ مولانا عبید اللہ سندھی ؒ سے حاصل کی تھی اور حضرت شیخ ؒ کو سند عالی سے نوازاتھا۔ اس کے علاوہ حضرت شیخ ؒ کے ساتھ مدنی سند بھی تھا۔ کیونک حضرت شیخ ؒ نے صحیح البخاری حضرت الشیخ علامہ عمر بن حمدان المہاجر الفاسی الغربی سے مدینہ میں ۶۰۳۱ھ ؁ میں پڑھی تھی۔ اس کے علاوہ حضرت شیخ ؒ پکے دیوبندی تھے ۔ کیونکہ حضرت شیخ ؒ اپنے استاذ محترم حضرت مولانا حسین علی الوانی ؒ کے مشورے پر دیوبند گئے تھے اور اس وقت دیوبند میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ بحیثیت شیخ الحدیث اور صدر مدرس تھے اور مولانا اعزاز علی صاحب ؒ بحیثیت شیخ الفقہ والادب موجود تھے۔ اس کے علاوہ جامع المعقول والمنقول مولانا ابراہیم بلیاوی ؒ بھی تھے لیکن حضرت مولانا حسین علی الوانی ؒ کے شاگردوں نے اگر چہ مختلف مواضع سے استفادہ کیا ہیں ۔ لیکن وہ اپنی سند اور تعلق کی نسبت دوسرے حضرات کی جانب نہیں کیا کرتے تھے ۔ اور بالخصوص ہمارے شیخ مولانا محمد طاہرؒ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت الشیخ ؒ کو و ہ سعادت بخشی تھی کہ اس کی وجہ سے حضرت شیخ ؒ کا سند حضرت العلامہ انور شاہ المحدث الکشمیری ؒ ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ اور مولانا محمد الیاس دہلویؒ کے مساوی اور برابر تھا۔
ذیل میں ان کا نقشہ بناتا ہوں اور ان کا سند ذکرکرتا ہوں۔
  • محدث الکبیر حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ
  • مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ
  • حضرت الشیخ مولانا حسین علی الوانی ؒ حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
  • حضرت شیخ القرآن والحدیث مولانا محمدطاہر پنج پیریؒ حضرت العلامہ انور شاہ کشمیریؒ
اگرچہ سند کو یہا ں پر میں اختصاراً ذکر کیا ہے۔ کیونکہ سند میں اس کے علاوہ اور بھی بہت تحویلات ہیں۔ جس طرح کہ مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ ۔ لیکن علو سند کے لئے یہی مقدار کافی ہے۔
لیکن ایک سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت العلامہ رشید احمد گنگوہی ؒ کے شاگردوں میں اتنا زیادہ تفاوت کیسے آگیا۔ تو اسکا جوا ب یہ ہے کہ اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے ۔ کیونکہ حافظ الحدیث علامہ ابن حجر ؒ نے شرح نخبۃ الفکر :۱۳۱ میں لکھاہے کہ ’’ حافظ سلفی ؒ نے ابوعلی البردانی ’’ المتوفی :۰۰۵ ھ ؁ سے من وجہ اخذ کیا ہے۔ اور دوسری مرتبہ یہ فرمایا ہے کہ عبدالرحمن بن مکی المتوفی ۰۵۶ ھ ؁ نے ان سے آخذ کیا ہے۔ حالانکہ حافظ سلفی ؒ اور عبدالرحمن بن مکی ؒ کے درمیان۰۵۱ سال کا فاصلہ ہے۔
اس سند کے ذکر کرنے سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ آحادیث میں ترجیح صرف سند عالی کی وجہ سے ہے ۔بلکہ ہر حدیث کی ترجیح کی وجہ ضبط اور علالت راوی ہے۔ اور دوسرا یہ کہ متصل ہو، معلل اور شاذ نہ ہو۔ اور تعین مکان کا بھی حدیث کی ترجیح میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ورنہ علامہ خلیل احمد سہارنپوری ؒ کے شاگردوں نے ان سے آحادیث کا آخذ دیوبند میں نہیں کیاہے اور حضرت شاہ انور شاہ کشمیری ؒ جب ڈابیل کو منتقل ہوگئے تو حضرت الشیخ ؒ کے شاگردوں نے حدیث کا آخذ ڈابیل میں کیا ہے نہ کہ دیوبند میں۔ اور یہ سب حضرات دیوبند کو منسوب ہیں اور دیوبندی کہلاتے ہیں۔ لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ حضرت حسین علی الوانی ؒ کے شاگردوں نے ان سے آخذ میانوالی میں کیا ہے اور پھر پڑھنے کے لئے دیوبند بھی چلے گئے تھے۔ اور دیوبند میں مدرسین بھی تھے۔ مثلاً قاضی شمس الدین صاحب ؒ وغیرہ۔ اور دیوبند میں صد سالہ جلسہ کی قیادت انہی حضرات نے کی ہیں۔ کیونکہ اس موقع پر پاکستانی علماء کرام کا قیادت حضرت قاضی شمس الدین صاحب ؒ اور مولانا غلا م اللہ خا ن صاحبؒ وغیرہ نے کی تھی ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان حضرات کی نسبت دیوبند کو کیوں نہیں ہوئی۔ اور یہ دیوبندی کیوں نہیں کہلائے۔
؂ تعصب کی نگاہ ہو تو یوسف ؑ بھی حسین ٹھہرے محبت کی نگاہ ہو تو زنجی بھی ماہ جبیں ٹھہرے
بس آخری التجاء یہ ہے کہ اکابرین اشاعت کا درس قرآن اور حدیث کے ساتھ انتہائی زیادہ تعلق ہیں ۔ خاص کر شیخ القرآن مولانا محمد طاہر ؒ کی زندگی سنت کی پیروی میں اور حق گوئی میں ان کے مثال بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ صحیح مصداق ہے اس کے کہ (لایخافون فی اللہ لومۃ لائم)
ان حضرات کی دینی اور ملکی خدمات کو مدنظر رکھ کر ان کی پیروی کی جاوے۔ اور ا ن کے شاگردوں سے قرآن اور حدیث پڑھی جائے اور بڑوں کے محض تقدس اور محبت پر اگرچہ اجر ملے گا لیکن ہمارے لئے مدار نجات قرآن اور حدیث ہیں ۔

مناظر اسلام علامہ قاضی محمدیونس نعمانی کے خطاب کا خلاصہ

تمام توحیدی احباب کو مرکز دارالقرآن پنج پیر میں جمع ہونے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطافر مائی ہے۔ یہ مرکز ہمارے روحانی باپ آےۃ من آیات اللہ شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ کی یاد گار ہے۔
آج شیخ القرآن ؒ تو ہمارے اندر موجود نہیں ۔لیکن ان کے واقعتا اور حقیقتاً وارث ان کے فرزند ارجمند شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب ہمارے ساتھ موجود ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اس اجتماع میں جوعالم اور مبلغ بھی آئے گا ۔ وہ قرآن کریم سنائے گا جو شیخ القرآن ؒ نے ہمیں تعلیم دیا ہے ۔آج ملک میں بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں ۔ ان اجتماعات میں ساری باتیں بیان کی جاتی ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی کتاب بیان نہیں کیاجاتا ۔
ہماری جماعت کا چھوٹا یا بڑا اجتماع ہو۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم سنایا جاتا ہے ۔ لیکن آج لوگ قرآن کریم کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم سنانے والوں اور بیان کرنے والوں پر فتوے لگاتے ہیں ۔لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر پیغمبر جب آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کتاب کو بیان کیا ہے توان کے دشمنوں نے ان پرفتوے لگائے ہیں۔
حتیٰ کہ آخری نبی حضرت محمدﷺ پر مشرک پیروں اور مشرک مولویوں نے فتوے لگائے ۔جولوگ آج ہم پر فتوے لگائے جاتے ہیں ۔ تو کونسی بڑی بات ہے۔ ہمارے پیغمبر پاکﷺ نے قرآن کریم کے ذریعے مسئلہ سنایا اور وہ مسئلہ جو تمام پیغمبروں کا اجتماعی اور اتفاقی مسئلہ ہے (مسئلہ توحید) آ ج لوگ اس کو اختلافی مسئلہ کہتے ہیں کہ یہ بیان نہیں کرنا چاہیے۔
اس دور میں اشاعۃ التوحید والسنۃ نے انبیاء علہیم السلام کا وہ مسئلہ اور مشن اختیار کیا ہے اور قرآن کریم کے ذریعے اس مشن کو پھیلا نے میں مصروف ہے اوریہ اجتما ع بھی اس کی نمونہ ہے ۔ جس میں قرآن کریم سنایا جاتا ہے۔ ہمیں واں بچھراں کے درویش شیخ المشائخ مولانا حسین علی ؒ ، شیخ القرآن مولانا محمدطاہرؒ ، شیخ القرآن مولانا غلا م اللہ خان صاحب ؒ اور دیگر اکابرین نے یہ سبق پڑھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبادت کے لائق ہے ۔اللہ تعالیٰ نذرونیاز کے لائق ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو ۔اللہ تعالیٰ سے شرک نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ ہی مشکل کشا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی حاجت روا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے ۔اللہ تعالیٰ کسی کامحتاج نہیں ہے ۔باقی تمام انبیاء ؑ ، اولیاء اور ملائک اللہ تعالیٰ کے محتاح ہیں اور محتاج الہ نہیں ہوسکتے ۔

حرمین شریفین کا سفر اور اجتماع سے خطاب
  • مولانا مومن گل طاہریؔ
ہرمومن مسلمان کی یہ آرزو اور تمنا ہوتی ہے کہ حرمین شریفین (بیت اللہ شریف اور مسجد نبویؐ) جانے کا شرف حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے ہرکسی کاسنتا ہے لیکن بیت اللہ کے کچھ اپنے خصوصیات ہیں۔ عام حالات میں دعا کے قبولیت کے بعض مواضع ہیں مثلاً ہرفرض نماز کے بعد، آخری رات سحری کے وقت وغیرہ۔ لیکن بیت اللہ آکر 24گھنٹوں میں ہروقت طواف کیا جاسکتا ہے اور طواف کے دوران اللہ تعالیٰ اپنے مہمانوں کے سوال قبول فرماتے ہیں ۔ جس طرح کسی کامہمان آجاتا ہے تو تین وقت کھانے کے علاوہ بھی میزبان مہمان کا مختلف طریقوں سے مہمان نوازی کرکے مہمان کوخوش کرتا ہے۔ رخصتی کے وقت میزبان اور خصوصاً مہمان خفا ہوتا ہے۔ دنیاوی میزبان پر تو مہمان کبھی کبھی بوجھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا مہمان تو اللہ تعالیٰ پر کیسے بوجھ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی بادشا ہ ہے رحیم ہے کریم ہے۔ یہاں تک کہ حرم شریف ( بیت اللہ) کے حدود میں داخل ہونے کی جگہ سعودی عرب کے بادشاہ نے بڑے بڑے حروف میں لکھوایا ہے ( مرحباً بضیوف الرحمن) اللہ کے مہمانوں خوش آمدید۔
ناچیز ہروقت اللہ تعالیٰ کی دربار میں دعاگو رہتا ہے کہ (رب اوزغنی ان اشکر نعمتک) (النمل:۹۱)’’ کہ اے اللہ ! مجھے توفیق عطافرمائے کہ میں آپ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرسکوں‘‘
ایک احسان اور نعمت یہ بھی ہے کہ مجھے تیسری دفعہ حرمین شریفین آنے کا شرف حاصل ہور ہا ہے۔ پہلی دفعہ1993ء میں حج کی ادائیگی کے لئے آیاتھا ۔ دوسری دفعہ اپریل2010ء میں عمرہ کی سعادت حاصل کیا اور ابھی تیسری دفعہ مارچ2011ء میں عمرہ کی ادائیگی کا شرف حاصل ہورہاہے۔ الحمدللہ ثم الحمد للہ۔
پاکستان سے26اپریل2011ء کو سعودی عرب آیا۔27اپریل 2011ء کو عمرہ کی سعادت بمعہ والدین ،رفیقہ حیات ،بہو اور بیٹے حاصل کیا ۔3 اپریل تک بیت اللہ کی طوافوں کا شرف استطاعت کے مطابق حاصل کیا۔ 4 اپریل2011ء کو مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ آنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ساتھ ساتھ روضہ اطہر کا بھی زیارت کیا ۔ مسجد نبویؐ میں چونکہ نماز کے علاوہ کوئی خاص مصروفیت نہیں ہوتا ہے اس لئے خیال آیا کہ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنے تاثرات قارئین کرام تک پہنچاؤں ۔ ہوسکتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور انابت پیدا ہو کر ان کو بھی اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کی زیارت نصیب فرمائیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مومن مسلمانوں کو خصوصاً ماہنامہ التوحید والسنۃکے قارئین کرام کو حرمین شریفین کی زیارت نصیب فرمائیں۔آمین یارب العٰلمین۔
5 اپریل2011ء کو نماز مغرب کے بعد مسجد نبویؐ میں یہ چند لکیریں لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ 9 فروری2011ء کو راقم الحروف نے پاسپورٹ وغیرہ متعلقہ ایجنسی اسلام آباد میں دئیے تھے لیکن ایجنسی کی کچھ مجبوریوں اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر ہم لیٹ ہوگئے ۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ ان شاء اللہ پنج پیر اجتماع تک واپسی ہوجائے گی۔ ایسے مشکل میں پھنس گیا کہ ایک طرف ویزہ ختم ہورہاتھا اور دوسری طرف پنج پیر اجتماع کا وقت نزدیک ہورہا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں اپنے مشفق استاد شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمدطیب طاہریؔ صاحب سے مشورہ کیا۔ بارک اللہ فی عمرہ وعلمہ ، انہوں نے مشفقانہ انداز میں عجیب طریقے سے مجھے مطمئن کرکے بیت اللہ شریف میں عمرہ کی آدائیگی کا مشورہ دے کر فرمایا کہ بیت اللہ شریف میں طوافوں نمازوں اورنوافل کے دوران اجتماع کی کامیابی کے لئے دعا بھی جماعت اشاعت التوحید والسنت کے لئے سعادت ہوگی۔ بے چین دل کچھ نہ کچھ مطمئن ہوا ۔ عمرہ کی آدائیگی کے بعدیکم اپریل سے اپنے مشفق استاد شیخ القرآن حضرت مولانا محمدطیب صاحب ،دیگر جماعتی اراکین اور اجتماع کے انتظامیہ سے مسلسل رابطہ رہا ۔ واقعی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے ۔ راقم الحروف پر تو بے شمار نعمتیں اور احسانات کی ہیں اللہ تعالیٰ شکریہ ادا کر نے کی توفیق عطافرمائے ۔(آمین) ۔ بیٹا نصر اللہ رزق حلال کی طلب میں سعودی عرب ریاض میں مقیم ہے ۔ ہماری خدمت کے لئے حرم شریف پہنچا۔ اجتماع میں شرکت کے لئے اسباب مہیا ہو رہے تھے وہ اپنے ساتھ اپنا چھوٹا کمپیوٹر لیپ ٹاپ لایا ۔ پنج پیر اجتماع چونکہ پنج پیر کے ویب سائٹ پر نشر ہونے کا پروگرام تھا۔ لیپ ٹاپ کے ذریعے پنج پیر اجتماع سے کنکٹ ہوکر خوشی کی انتہانہ رہی۔ بعض مشفق ساتھی عدم موجودگی پر دل میں پریشان تھے۔ میر ے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایک تجویز ڈال دی ۔ میں نے اپنے مشفق استاد امیر محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمدطیب صاحب سے فون پر رابطہ کیا انہوں نے اجتماع میں حاضری لگوانے کی اجازت دے دی۔ اجتماع کے دوسرے دن 2 اپریل 2011ء کو سعودی ٹائم کے مطابق پونے نو بجے اور پاکستانی ٹائم کے مطابق صبح پونے گیارہ بجے موبائل پر اجتماع سے چند منٹوں کے لئے خطاب کیا۔ جس میں اپنی تنظیمی وابستگی اور محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ خطاب کاخلاصہ مندرجہ ذیل ہیں:۔
’’سب سے پہلے میں اپنے مشفق استاد شیخ القرآن حضرت العلامہ مولانامحمدطیب طاہری صاحب کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے بندہ ناچیز کو پنج پیر کے اس عظیم اجتماع سے مخاطب ہو نے کی اجازت دی۔ مجھے اجتماع میں عدم شرکت کا شدت سے احساس ہورہاتھا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے ۔ اس خطاب سے اس پیاس کی شدت کچھ کم ہوئی۔ آج سے72سال پہلے شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمدطاہرؒ نے درس قرآن شروع کرنے سے پہلے بیت اللہ شریف آکر اللہ تعالیٰ سے پٹھانوں میں قرآن کریم کافہم ، ترجمہ اور دروس عام کرنے کاسوال کیاتھا اور آپ ؒ کا یہ سوال قبول ہوکر 40سال بعد آپ ؒ نے پھربیت اللہ شریف تشریف لے جا کر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ آج میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں بیٹھ کر اجتماع کی کامیابی، پاکستان میں امن اور دروس قرآن کریم کے ذریعے توحیدوسنت کی اشاعت اور اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے دعائیں مانگ رہا ہوں۔ مجھے پنج پیر اور دارالقرآن پنج پیر سے قریبی تعلق رکھنے کے 25سال ہوگئے۔ شعبان اور رمضان میں قرآن کریم کے دورہ تفسیر کے دوران دارالقرآن پنج پیر ہمیشہ تنگی کا شکایت کرتا آرہا ہے ،یہاں حرمین شریفین آکر مجھے اس سلسلے میں تسلی مل رہی ہے کہ بیت اللہ شریف اور مسجد نبویﷺ میں ہمیشہ توسیع کاکام جاری رہتا ہے ۔آج سے اٹھارہ سال پہلے1993ء میں جب میں حج کا فریضہ ادا کرنے آیاتھا توحرمین شریفین میں توسیع کاکام ہورہاتھا ۔ آج بھی توسیع کاکام جاری ہے ۔ سعودی عرب کے حکام کے پاس مالی طاقت کی کمی نہیں ہرقسم کے اسباب موجود ہیں لیکن تنگی کی شکایت دور نہ کرسکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کے مراکز ہمیشہ ہی اسی طرح ہوا کرتے ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوگی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تیسری بات میں نے یہ بتائی کہ بدن کے اعضاء ہاتھ ، پاؤں ، کان ، ناک وغیرہ بدن کے ساتھ منسلک ہوکر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں ، ہاتھ اگر بدن سے کٹ جائے تو بدن کے ساتھ نزدیک رکھے ہوئے بدن کی خوشی اور تکلیف محسوس نہیں کرسکتا ۔ کان اگر بد ن سے کٹ کر اسے جیب میں رکھاجائے تو اپنی ڈیوٹی نہیں دے سکے گا۔ اسی طرح بدن کے دوسرے اعضاء بدن سے کٹ کر اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے قاصرر ہیں گے۔ الحمدللہ ثم الحمد للہ مرکز، مرکزی امیر اور دارالقرآن پنج پیر کے تنظیمی ڈھانچے کے بدن سے میرا الحاق ہے ۔ اس لئے بیت اللہ شریف میں ہوتے ہوئے بھی مجھے اجتماع کے انعقاد کی خوشی محسوس ہورہی ہے اور (ان اللہ یھدی من ینیب) کا مصداق بن کر شوق، انابت اور تعلق رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اجتماع میں اس خطاب کے ذریعے شرکت کی توفیق عطافرمائی ۔( الحمدللہ علیٰ ذالک)۔
ایک بار پھر آخر میں ، میں اپنے مشفق استاد شیخ القرآن حضرت مولانا محمدطیب طاہری صاحب ،اجتماع کے منتظمین مولانا شمس الہادی صاحب ، محترم فیاض صاحب ، سٹیج سیکرٹری محترم مولانا شاہ نعمان باچا صاحب ، ضلع صوابی کے امیر محتر م حاجی دلبرخان صاحب ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام حبیب صاحب، اور دیگر تمام شرکاء اجتماع کاشکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس عظیم اجتماع سے خطاب کا موقع دے کر میری حوصلہ آفزائی فرمائی ۔ میں بیت اللہ میں بیٹھ کر ان سب کے لئے دل کی گہرائیوں سے دنیا وآخرت کی کامیابی کے لئے دعاگو ہوں۔ میں اس شعر سے اپنا بیا ن ختم کرناچاہونگا۔
رضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللجھال مال
ترجمہ:۔ ’’ ہم جبار (اللہ ) کی تقسیم پر راضی ہیں ، ہمارے لئے (قرآن وسنت کا) علم ہی کافی ہے اور جاہلوں کے لئے مال ‘‘
1992ء میں حضرت مولاناعبدالرحمن صاحب آف چارسدہ صوبائی امیر صاحب نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ خوش آمدید کے لئے میں نے اُن سے ملاقات کی۔ انہوں نے حرمین شریفین کے چند واقعات بیان کئے۔ جن کا مجھ پر انتہائی اثر ہوا اور اُدھر ہی دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی در بار میں سوا ل کیا کہ اے اللہ مجھے آئندہ سال فریضہ حج کی ادائیگی نصیب فرمائے۔ وہ سوال اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور آئندہ سال 1993ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ حدیث قدسی ہے( انا عند ظن عبدی بی) میں اپنے بندے سے اُس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔
عین ممکن ہے کہ یہ چند لکیریں اللہ تعالیٰ بہت سے قارئین کرام کو حرمین شریفین کی زیارت کاسبب بنائے۔ میری دعا ہے کہ جس مومن مسلمان کے دل میں یہ تمنا ہو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ (آمین یا مجیب یا رحمن)

تائیسواں سالانہ دورہء تفسیرِ قرآن اضاخیل بالا
  • مولانا سلام دین
شائقین حضرات و خواتین متوجہ ہوں۔
جماعت اشاعت التوحید والسنت ضلع نوشہرہ کی نگرانی میں تائیس سالوں سے ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں اساتذہ کرام، طلباء عظام اور عوام و خواص کے لئے قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر پشتو زبان میں دارالقرآن اضاخیل بالا میں شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمد طاہرؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب صاحب کے خصوصی شاگرد مولانا مومن گل طاہریؔ صاحب پڑھاتا ہے، حسب سابق امسال بھی ان شاء اللہ دورہء تفسیر 50 دنوں میں پڑھایا جائے گا۔ شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہریؔ صاحب ان شاء اللہ15 مئی 2011 ؁ء کو بروز اتوار بعد از نماز ظہرافتتاح فرمائیں گے۔ اختتام ان شاء اللہ 3 جولائی 2011 ؁ء کو بروز اتوار ہوگا۔ ان شاء اللہ درس قرآن کا دورانیہ روزانہ ۴ بجے سے شام تک ہوا کریگا۔ موسم کے مطابق وقت میں تبدیلی سے سامعین کوساتھ ساتھ مطلع کیا جائے گا۔ چونکہ پنج پیر کا ۳۷ واں سالانہ دورہ تفسیر ان شاء اللہ ۱۱ جولائی ۱۱۰۲ ؁ء کو شروع ہوگا اس لئے چھٹیوں سے پندرہ دن پہلے ہم دورہء تفسیر شروع کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ان شاء اللہ اختتام کے بعد شائقین حضرات پنج پیر کے دورہء تفسیر میں شرکت کریں گے۔ان شاء اللہ اس سال مستورات کے لئے باپردہ دورہء تفسیر سننے کا انتظام ہوگا ، والحمد للہ علٰی ذالک۔
الداعی الی الخیر: جماعت اشاعت التوحید والسنت اضاخیل بالا۔

نائب مرکزی امیر جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علی راولپنڈی کے خطاب کا خلاصہ

اشاعۃ التوحید والسنۃ کے چھٹا اجتماع عام پنج پیر سے اشاعۃ کے نائب مرکزی امیر جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علی راولپنڈی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور امیر مرکزیہ شیخ القرآن مدظلہ کو صوبائی قائدین اورکارکنوں کو اس عظیم الشان کامیاب اجتماع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آج ایک طرف حکمران طبقہ مدارس اور علمائے کرام کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں اوران کو بدنام کرنے کا ہرقسم کوشش کرتے ہیں ۔علمائے کرام اور طلبا ء دین کو دہشت گرد اور مدارس کو دہشت گردی کے مراکز کانام دیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ پروپیگنڈہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ یہ مدارس اسلام کے حلقے ہیں ۔ یہاں سے اسلام کی آواز بلند ہورہی ہے اور بلند ہوتے رہے گی۔ جس نے مدارس سے ٹکری وہ مٹ گئے ۔ اوراسلام اور مدارس کو نہیں مٹاسکے ۔ حکومت مٹانے پر لگی ہوئی ہے ۔لیکن طلباء دن بدن زیادہ ہوتے ہے ۔مدارس بڑھتا رہتے ہیں۔ اور یہی مدارس اسلام کی بقاء بھی ہیں اورملک کی بقاء بھی ہیں ۔اور مسلمانوں کی بقاء بھی ہیں ۔مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی بقاء اسلام میں ہے اور اسلام کی بقاء دینی مدارس میں ہے۔ یہی مدارس حفاظ قرآن کریم ، مفسرین ، محدثین ، مبلغین اور مجاہدین پیدا کردیتے ہیں اور انشاء اللہ یہ مدارس بھی رہیں گے اور علمائے کرام بھی رہیں گے۔
دوسری طرف اشاعۃ التوحید والسنۃ کے خلاف بعض لوگ گلی کوچوں میں پھرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اشاعت والے دیوبندی نہیں ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ میں ان لوگوں کو بتا نا چا ہتا ہوں کہ اشاعت التوحید والسنت ہی اصل دیوبندی ہیں ۔
ہمارے جماعت کے معروف عالم شیخ المحدثین مولانا قاضی شمس الدین ؒ جو دیوبند میں پڑھا بھی ہے اور وہاں پر پڑھایا بھی ہے ۔یعنی وہ طالبعلم بھی رہے اور وہاں مدرس ، معلم اور استاد بھی رہے۔ ان کو حضرت مولانا قاری محمدطیب ؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے دیوبند کے اسٹیج پر خود ہزاروں کے اجتماع میں دعوت دیکر فرمایا کہ میں قاضی شمس الدین کی دستار بندی کرتا رہوں اور انہوں نے خود ان کی دستار بندی کرائی۔ اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ ؒ کانام لیکر فرمایا کہ میں مولانا غلام اللہ خان صاحب کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسٹیج پر آئے تاکہ ان کی دستار بندی کریں۔ اور فرمایا اگرچہ وہ فارغ ڈابھیل مدرسہ کا ہے لیکن ان کو اعزازی طور پر دستار بندی کی جاتی ہے۔ تو میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آیا یہ دیوبندی ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ دیوبندی نہ تھے تو پھر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا قاری محمدطیب دیوبندی ان کی دستاربندی کیوں کرتے اور ان کو سند کیوں دیتے۔ اُن کا یہ اعتراض تو قاری محمد طیب صاحب اور دیو بند والوں پر ہے ۔ میں ان لوگوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ایسے باتیں کرتے ہیں۔ اور انتشارو فساد پھیلاتے ہیں ۔ اور اشاعۃ التوحید والسنۃ کو ایک سازش کے تحت بدنام کر نے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ وہ آئیں ، مناظرہ کریں ، بحث کریں ۔ پتہ چل جائے گا۔ کہ یہ دیوبندی کون ہیں ؟اور غیر دیوبندی کون ہیں؟
الحمدللہ جماعۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ میں مفسرین ، محدثین ، مقررین ، مبلغین ، مصنفین ، مناظرین کی کمی نہیں ۔مجھ سے پہلے بھی میرے بھائی مولانا حضرحیات بھکروی نے خطاب فرمایا ۔ اسی طرح علامہ محمد یونس نعمانی صاحب یہ بہترین مناظرین ہیں۔ ہرباطل کے ساتھ مناظرے کئے ۔ ہروقت کمربستہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہرمیدان میں باطل کے خلاف مناظرے میں ان کو کامیابی اور فتح عطافرمائی ہے ۔
اللہ تعالیٰ مزید علم واخلاص کی دولت عطافرما۔


شیخ القرآن مدظلہ کاا جتماع پنج پیر سے اختتامی خطاب
  • مولانا شمس الہادی طاہریؔ

خطبہ مسنونہ کے بعد(۔۔۔۔۔۔(سورۃ الاعراف،ہود، شعراء)
ترجمہ:۔
معز ز محترم علمائے کرام ، طلباء عظام اور دیگر ساتھیو واخباری نمائندگان! میں تمہارا بہت مشکور ہوں کہ آپ نے ہمارے اس محفل و اجتماع میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر اور عوض عطافرمائے۔
میں اپنے تنظیم جماعت اشاعۃ التوحید والسنۃ صوبائی عہدیدار ، ضلعی عہدیدار ، علاقہ ، حلقہ اور گاؤں کے ارکان وکارکنوں کا بھی بے حدمشکور ہوں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ اس اجتماع میں بہت تعاو ن کیااور ساتھ دیا۔ اور اسی طرح پولیس انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آخروقت تک انہوں نے اپنی ڈیوٹی پوری کی۔
سامعین حضرات! میں نے جو آیتیں پڑھی ہیں اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انبیاء علہیم السلام کو کفار نے کہا کہ (لنخرجنکم من ارضنا) کہ تم کو ضرور ملک سے نکالیں گے۔ یا ہماری باتوں کو مانیں۔ ہمارا نظریہ قبول کریں ۔ ہمارا عقیدہ اور دین کو تسلیم کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ترجمہ ) اللہ تعالیٰ نے انبیاء علہیم السلام کو وحی فرمایا اور کہا کہ میں ضرور ظالموں کو ہلاک کروں گا۔ اور یہ ملک و زمین تمہارے قبضے میں دوں گا۔ لیکن یہ بات شرط ہے کہ( ذالک لمن خاف مقامی وخاف وعید) جولوگ ہماری ملاقات سے ڈرتے ہیں اور میرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ تو ان کو یہ حیثیت اور مقام دوں گا ۔
سامعین حضرات! میں نے تقریباً چار تقاریر اس اجتماع میں کئے ۔ بعض مختصر او ر بعض تفصیلی بیانات تھے ۔اس میں کچھ تمحیدی باتیں اور کچھ توحید وسنت کے مسائل بیان کئے ہیں۔ آج میں چند مختصر باتیں عرض کروں گا ۔ اس لئے کہ آپ سفر بھی کریں اور اپنے گھروں کو پہنچنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام حضرات کو امن اور خوشی سے گھر کو پہنچائے۔ (آمین)
سامعین حضرات! اللہ تعالیٰ آیات کریمہ میں دو تہذیبوں کا تذکرہ فرماتے ہیں ۔ ایک تہذیب والے وہ ہیں کہ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ اور دوسرے تہذیب والے اللہ کے دین کے حمایتی سپاہی اور اشاعت کرنے والے ہیں۔ اوریہ دونوں تہذیبوں والے بہت پہلے سے شروع ہیں۔ اور ہر ایک اپنا اپناکام کررہا ہے اور اپنے مشن چلاتے ہیں۔
لیکن قانون یہ ہے کہ جس تہذیب والے نے دین کو قائم رکھا۔ اور دین پر مضبوط ہوتے تو وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اورنجات پالیا ہے قرآن کریم نے ان کا بہت مثالیں بیان کئے ہیں لیکن تفصیل کا وقت نہیں ہے۔
اس دور میں دو تہذیبوں کی لڑائی اور جنگ جاری ہے ۔ ایک تہذیب باطل پرستوں کا ہے اور دوسرا حق پرستوں کا۔ نیک لوگوں اور انبیاء علہیم السلام کے تابعدار لوگوں کا ہے۔
علامہ اقبال ؒ نے بھی اس کو اشارہ کیا ہے ۔
؂ دنیا کو ہے پھر معرکہ روح وبدن پیش              تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
یعنی کفری اور تہذیب والوں نے اپنے درندوں کو اٹھایا ہے مسلمانوں کے اور مسلمانو ں کے تہذیب کے خلاف لیکن ایک بات ہے ۔اللہ تعالیٰ کو پامردی مومن پر بھروسہ ابلیس کو یورپ کے مشینوں کا سہارا
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے استقامت اور صبر پر ان کا امداد کرتا ہے اور ابلیس کو یورپ کے مشینوں پر سہارا یقین ہے اور یہ ابلیس کے قوتیں اللہ تعالیٰ کے قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان بہت فتنوں اور مشکلات میں گھیرا ہوا ہے اور گھیرا بھی اپنوں کے ہاتھوں سے ہے۔
؂ ہرکس از دست غیر نام کند سعدی از دست خویش کن فریاد
لوگ غیروں سے تنگ ہے اور فریاد کرتے ہیں اور میں اپنوں سے روتا ہوں ۔
آج پاکستان ان لوگوں کے ہاتھوں مشکلات سے دو چار ہیں کہ اس ملک کے مالک ہیں اور اس ملک کے واکداری کے دعوے کرتے ہیں اور وہ اس ملک کے حکمران ہیں۔
ابھی بات یہ ہے کہ ان مشکلات سے نجات کا راستہ کیا ہوگا ؟ ہرانسان یہ کوشش کرتا ہے کہ اس مشکلات سے نکلے۔ ایک تحریک ایک گروہ اور ایک جماعت معلوم کرناچاہتا ہے ۔ ایسے قائدین کے تلاش میں ہیں کہ ان کو ایسی جماعت اور ایسا قائد ملے کہ وہ اس کے ساتھ دیں او ر ان تاریکیوں اور بدامنی فسادات سے نجات ملے۔
سامعین حضرات! اس ملک میں بہت جماعتیں اور بہت تحریکیں ہیں۔ میں صاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جتنے سیاسی جماعتیں ہیں ۔ہر جماعت کو ایک بار مار پڑی ہے ۔ تکالیف اور مصائب کے شکار ہوئے ہیں۔ خواہ پیپلز پارٹی ہو یا نیشنل پارٹی ہو یا مسلم لیگ وغیرہ وغیرہ۔ توان لوگوں پر جب بھی تکلیف اور مصیبت آیا ہے تو یہ لندن ، برطانیہ یا امریکہ گئے ہیں اور اپنے لئے ان ملکوں کو پناہ گا بنائے ہیں۔ اور اس ملک پاکستان کے خلاف منصوبے وسازشیں بنائے ہیں۔ اور اس ملک میں دہشت گردی کے میناررکھے ہیں۔ اور اس ملک میں دھماکے اور فسادا ت شروع کئے ہیں اور ان تمام فسادا ت دہشت گردی اور دھماکوں کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں اور یہ سب کچھ یہی لوگ کرر ہے ہیں۔ تفصیل نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے تمام لوگ آگاہ ہیں۔
اس ملک میں ایک جماعت ایسی بھی ہے کہ وہ فقیر ملنگ اور غریب لوگوں کی جماعت ہے ۔اس جماعت کو خریدنے کے لئے بڑے بڑے قوتوں والے اور حکمران نے بھی کوشش کی ہے۔ لیکن ہم نے ان کو یہ جوا ب دیا ہے
؂ مانا ہماری ذات میں سو غیب ہیں مگر
بکتے نہیں خدا کی قسم ہم فقیر لوگ
نہ ہم بکے ہیں ، نہ ہم جھکے ہیں ، نہ ڈرے ہیں ، نہ ہم نے ضمیر کاسودا کیا ہے ۔نہ ہم نے اس ملک کے مٹی کا سودا کیا ہے اور نہ ہم نے اسلام کا سودا کیا ہے۔ اس جماعت نے کہ انہوں نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ، شہداء کو اٹھائے اور شہداء کو اٹھااٹھا کے تھک گئے ۔ ان کے خون کو اپنے رومالو ں پر صاف کئے ۔ ان شہداء کے یتیم بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا ہے ۔ اس جماعت کے کارکنوں کے گھروں کو لوٹ لیاگیا۔ اور ویران کیا ۔ ان کے مدارس کو ختم کیا اور اس کو کالجوں میں تبدیل کیا۔ اور حد سے زیادہ ظلم و تشدد کیا گیا۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود وہ پاکستان میں ہے اور پاکستانی ہیں اوراس ملک کے خیر خواہ ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔ اس ملک کو نہ چھوڑا ہے نہ چھوڑتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ ہمارا پناہ گا ہے ۔ یہ ہمارا ملک ہے ۔ یہ ہماری مٹی ہے۔
اب بھی بہت اراکین یہاں تشریف فرما ہیں کہ ابھی جیلوں سے با ہر نکلے ہیں۔ میں نے ان کے لئے حرم میں دعائیں مانگے تھے ۔ ابھی ایک ساتھی میرا ساتھ بیٹھا تھا۔ ڈھائی سال جیل میں گزار کر آئے۔ کہنے لگا کہ جیل میں میں نے درس قرآن کریم دیا ، عبادات کئے ۔ تکلیف تھا لیکن پھر بھی خوشی تھی۔ ابھی جب جیل سے باہر نکل آیا اور گاؤں پہنچا تو گھر کوجانا چاہتا تھا لیکن گھر کے بنیاد اور دیواروں کا پتہ نہیں چلا ۔ حالانکہ نہ میں نے بندوق اٹھایاتھا نہ ان کے ساتھ شامل ہواتھا۔ اس کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا ہے ۔لیکن پھر بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان کاخیر خواہ ہی رہوں گا ۔
سامعین حضرات! دارالقرآن پنج پیر وہ مرکز ہے کہ آج سے ساٹھ ستر(60-70) سال سے جوفارم رکنیت اراکین اشاعت پر کیا ہے اس میں یہ عہد لیاگیا ہے کہ ہم قرآن وسنت کے ذریعے عقید ے اور ملک کا اصلاح کریں گے اور اس ملک میں نفاذشریعت کے لئے کوشش کریں گے ۔ آج بھی ہم اس عہد پر قائم ہیں ۔ اس جماعت کا نہ مشن تبدیل ہوسکتا ہے ۔ نہ راستہ تبدیل ہوسکتا ہے ۔ نہ تحریک تبدیل اورنہ ختم ہوسکتا ہے۔ لوگوں نے راستے تبدیل کئے ، تحریک تبدیل کئے ، نام تبدیل کئے ۔لیکن جماعۃ اشاعۃ التوحیدوالسنۃ الحمد اللہ اپنے موقف پر خاتم ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ اور ہم ان لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ ہونگے جو اس ملک کے خیر خواہ ہوں اور ملک کے سوداگروں اور دشمنوں کے الہ کار نہیں بنیں گے۔ہم ان لوگوں کاساتھ دیں گے اور ان کا تعاو ن کریں گے جوا س ملک اور دین اور شریعت اسلام کی دفاع کریں گے۔ خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کوئی بھی ہوں اور ہم صرف زبانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر دکھا دیں گے۔
ایک ساتھی نے شعر کہاتھا ۔ شیخ القرآن ؒ والد محترم کے زندگی میں
بیا بہ دعزت پہ براق سور شیخ القرآن کڑو
داوطن بہ مونزہ پہ سنت سرہ روخان کڑو
یعنی اس ملک کو ہم نفاذ شریعت اور سنت نبویﷺ سے روشن کردیں گے انشاء اللہ ۔ آج بغیر کسی رنگین پوسٹر واعلانات کے اتنا بڑا اجتماع کررہے ہیں ۔ ہرطرف پھول ہی پھول نظر آرہے ہیں ۔ عوام بھی ہیں علماء بھی ہیں طلباء بھی ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ طالبان ہیں۔ ان شاء اللہ یہ سب طالبان ہونگے ۔ اللہ کے دین کے سپاہی اور محافظ ہونگے ۔ اللہ کے دین کے خادم ہونگے۔
سامعین حضرات! یہ دارالقرآن آپ کا مرکز ہے ۔ یہاں سے ایک مرد درویش اٹھاتھا ۔ اپنے پاس روٹی لیکر گلی گلی جا کر اللہ کے دین کے دعوت دیتے تھے ۔ آج اگر چہ وہ موجود نہیں ہے لیکن ان کے دعوت ومحنت کے آثار موجود ہیں ۔ا ن کی دعوت اور مشن زندہ ہے اورا ن شاء اللہ زندہ رہے گا۔
؂ جب تک سورج چاندرہے گا شیخ القرآن ؒ تیرا نام رہے گا
اے نوجوانان ملت! کمر باند ھ لو ۔ اللہ کے دین کی خدمت بغیر لالچ صرف اللہ تعالیٰ کے رضاکے لئے کریں گے۔ اگر یہ لوگ رکاوٹ ڈالے گا ، لیکن کوئی پرواہ نہیں ۔ ہم اپنے منزل کو ہرحالت میں پہنچیں گے۔
؂ اٹھو میرے دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراء کے درو دیوار ہلادو
ان غریب لوگوں کا آہ اور آواز آسمان تک پہنچتا ہے۔
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقین ہے ، کبھی خشک فرومایا کو شاہین سے لڑاؤ
میں حکمران کو کہناچا ہوں! اے ارباب حکومت ! اگر تم یہ چا ہتے ہو کہ اس ملک میں امن آئے ، سکون واطمینان آئے ، فساد ختم ہوجائے ۔ اس کاعلاج صرف یہ ہے کہ جو علماء جیلوں میں ہے ۔ ان مظلومو ں کو جیلوں سے باہر کرکے رہا کریں۔ یہ ملک کے محافظ ہیں ۔ ان کو ملک کے دشمن نہ بناؤ ۔ جیلوں میں ایسے بہادر اور مخلص علماء اور انسان بند ہیں کہ انہوں نے جیلوں میں بھی اللہ کی کتاب کو نہیں چھوڑا ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے ۔ ہم اس میں قرآن سنت کی اشاعت کریں گے۔
شیخ القرآن نے حاضرین سے پوچھا کہ آیا تم یہ وعدہ کریں گے کہ اس ملک میں توحید وسنت کی اشاعت کریں گے اور ہر قربانی کے لئے تیار ہوں گے۔تمام حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر وعدہ کیا۔
شیخ القرآن نے مزید فرمایا کہ ارباب حکومت ! کہ ہم اس ملک کے وفادار ہیں یہ نہ کہ ہم کمزور ہیں ۔ الحمدللہ ہم بہادر ہیں جو اپنے سروں پر کھیلتے ہیں وہ کمزور نہیں ہوتے جو اپنے خو ن کو سیاہی بنا کر اس پر لکھائی کرتا ہے وہ کمزور نہیں ہوتا ۔ ہم کمزور نہیں ہے۔ ظلم مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ایک آہ کریں گے اور وہ شغلہ بنے۔ اور سب کچھ خاکستر بنائے۔ اس ملک کو تباہ نہ کرو۔ اس ملک کو دشمنوں سے خالی کرو۔ دشمن کو یہاں سے نکالو۔ اور انشاء اللہ عنقریب افغانستان سے بھی دشمن نکلے گا صرف پاکستا ن سے نہیں؟
جب تک اس ملک میں اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کا ورکر زندہ ہو ، اس جماعت کا ایک فرد زندہ ہو بلکہ ایک بچہ بھی زندہ ہو ۔ تو دشمن ہمارے پاک سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ یاد رکھو ہمارا امتحان نہ لو۔ ہم اپنے قوت اور صلاحیت کو اپنے بھائیوں پر نہیں دکھاتے اور نہ ان کے خلاف استعمال کر نے کو تیار ہیں۔
جب ہمارے سامنے ہمار ے دشمن کو لاؤ گے تو پھر تم ہمارے ایمان کو دیکھوگے ۔ اشاعت کے غیرت ، جرأت اور بہادر ی کو دیکھو لوگے ۔اشاعت کے نوجوانوں کی قربانیاں دیکھوگے کہ دشمن کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں ۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں ۔ جن لوگوں نے اجتماع میں شرکت کی یا انٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے اجتماع میں شریک رہے ۔ اللہ تعالیٰ تما م کے حاجات کو پوری فرمائے ۔ جو لوگ جیلوں میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح سلامت اپنے گھروں کو واپس کریں ۔ جو لوگ شہید ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بہتر مقامات عطافرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے بچوں اور گھروں کی حفاظت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو شفاء کاملہ عطافرمائیں ۔ جن کے اولاد نہیں اللہ تعالیٰ ان کو آنکھوں کی ٹھنڈ ک کے لئے نیک اور صالح او لاد عطافر مائیں۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو فتنوں اور فسادات سے محفوظ کریں اور مسلمانوں کے جن ملکوں میں فسادات ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کافروں کے ملک میں لے جائیں اور مسلمانوں کو محفوظ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ افغانستان کو مسلمانوں کے ہاتھوں میں مضبوط کریں۔ اللہ تعالیٰ مسلمان ممالک کے درمیان اتحادو اتفاق پیدا فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو توحید وسنت پر قائم رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائیں۔(آمین)



تجدید عہد کانفرنس مولاناعتیق اللہ آباسندھیؔ

ماہنامہ التوحید والسنۃ کی وساطت سے ہم اشاعۃ التوحید والسنۃ کی پروگرامات کو بآسانی سے پڑھتے ہیں ۔ ماہنامہ اشاعت کی ترجمان رسالہ ہے اس میں ہم اپنے آراء و تاثرات کو شائع کرسکتے ہیں۔
یوں ایک سلسلہ ہے جو اشاعت التوحیدوالسنۃ کو رواں دواں اور آگے بڑھا نے میں ہمیں کام آجاتی ہیں ۔ یہ ایک رابطہ ہے جوہمیں اپنے مرکزسے جوڑتے ہیں ۔ آئیے اس کام میں خود حصہ لیجئے اور دوسرو ں کو دعوت دے دیں۔
اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے لئے امام الانقلاب شیخ القرآن ؒ نے1938ء میں ارض مقدس حرم پاک میں امام الانقلاب مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے حلقہ درس میں سوچا کہ اس ملک میں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے ۔ آپ اس ملک کو واپس آئے اور توحیدو سنت کی خدمت کے لئے قرآن کریم کا سہارا لیا اور اس کو مشغل راہ بنایا اور عوام الناس میں اتنا شعور پیدا کیا کہ اَن پڑھ عوام نے دین فطرت کو سمجھا اور اس پر عمل کرنا شروع کیا۔ آج اللہ تعالیٰ کی فضل وکرم سے یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے تعدا د میں لوگ پنج پیر کا رُخ کرتے چلے آرہے ہیں یہ کیوں اور کیسے؟یہ ایک اہم سوال ہے کئی زاویوں سے ہر اس سوال کی جوابات دے سکتے ہیں انشاء اللہ لیکن پھر سہی۔
ہمارا مشن کیاہے اور یہ کیسے بڑھے گا ۔74سال سے یہ پروگرام شروع ہے اور یہ کئی دوروں سے گزرا۔ اس مشن کے لئے اکابرین ؒ نے ایک جماعت کی تشکیل دیا ہے جو اشاعت التوحیدوالسنت کی نام سے مشہور ہے ۔ سال بھر اس جماعت کی پروگرامات ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے مرکز سے رابطہ وحدۃ فکر اور نظم جماعت کی پابندی ضروری ہے ۔
امسال بھی1-2-3 اپریل کوتجدید عہد کانفرنس کی عنوان سے دارالقرآن پنج پیر میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا۔ نامساعد حالات کی بناء پر مختلف خیالات پائے جاتے تھیں ۔لیکن آخر وہی ہوا جو اللہ رب العزۃ کو منظور تھا۔ اس اجتماع میں ملک بھر کی پانچ صوبوں سے توحید وسنت کی شیداؤں نے شرکت کی اور ہرضلع سے ہرایک نمائندے نے اپنے خیالات کی اظہار کیا ۔ شاید آپ نے دیکھا ہوگا پڑھا ہوگا۔
سہ روزہ اجتماع عام میں مختلف زبانوں مثلاً عربی ، انگلش ، اردو اور پشتو میں علماء کرام ، سیاسی عمائدین ، سکالرز اورطلبہ کرام نے اپنے خیالات پیش کئے ۔خصوصاً قرآنی علوم کی ماہر قائد اشاعت شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب نے قرآن وسنت کی روشنی میں سامعین کو مستفید کیا ۔آپ کے بیانات میں قرآنی دلائل ، احادیث کی تشریح ، مفکرین اُمت کی اقوال اور پرجوش اشعار مگر عبرت اموز شامل تھیں۔ قائداشاعت نے مثبت انداز میں اپنی جماعت کی پالیسی بیان کی اور پاکستان کی استحکام کے لئے تجاویز پیش کئے۔ آپ نے مختلف اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے موقف اشاعت کی تشریح کی ۔ (۱)توحید باری تعالیٰ کا بیان (۲) نبی کریمﷺ کی اتباع (۳) اپنی قوم کی خیرخواہی (۴)دعوۃ الی الحق (۵) اپنے موحد احباب کے ساتھ دینا ۔ یہی پانچ اصول جماعت اشاعت التوحید والسنت کا مشن ہے ۔ ایک سوال کی جواب میں آپ نے فرمایا کہ ہر بنیاد پر کام کرتے ہیں جب بنیاد صحیح ہوجائے تو معاشرہ خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے اور بنیاد عقیدہ توحید ہے اس کی بعد اتباع سنت ہے تو سارے کے سارے معاشرہ کی راز سنت رسولﷺ میں ہے ۔ آ پ نے رسوم فاسدہ پر کڑی تنقید کی اور فرمایا کہ غلط اور فاسد رسوم سے معاشرہ بگڑ جاتی ہے ۔ آپ نے ایک اور سوال کے جواب میں واضح کیا کہ ہم ایسے لوگوں کو تیار کرتے ہیں کہ وہ معاشرہ کی ہر شعبہ میں کام پر آجائے اور اپنے ذمہ داری کو خوب نبھائے ۔ آپ نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ دین فطرت بیان کریں اور عوام میں شعور پیدا کیا جائے کہ وہ آسان دین پر آجائے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہم معاشرہ میں امن کی خاطر ہرقربانی کوتیار ہیں ۔ آپ نے اپنے والد محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمدطاہرؒ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایساوقت تھا کہ شیخ القرآن ؒ اکیلے تھے اور اپنا کھانا پاس رکھتاتھا ۔گاؤں اور قصبے میں جاتے تھے اور مسئلہ توحید بیان کرتا تھا ۔ آج یہ جم غفیر جو آپ کو نظر آتے ہیں یہ شیخ القرآن ؒ کی ثمرات ہیں۔ کاش! کہ آپ ؒ زندہ تھے اور اس منظر کو دیکھتے تھے۔  (ترجمہ ) جولوگ چلے گئے ہیں آپ نے کسی قسم کا کسر نہیں چھوڑا۔
شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب نے امام شیخ عبدالوہاب نجدی ؒ کی تاریخ پر روشنی ڈالا کہ عرب میں آپ نے اتناکام کیا کہ آخر ملک سعود نے آپ کے ساتھ دیا اورکہا کہ مجھے علماء اور قضاۃ فراہم کریں تو یہ علماء کاکام ہے ۔اسی طرح خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا کہ بادشاہ نے وقت کی محدث اور بڑے عالم کو بلایا اور کہا کہ میں اپنے بیٹے کوخلیفہ بنانا چاہتا ہوں تو محدث وقت نے آپ ؒ کو منع کیا اور فرمایا کہ آپ کا بیٹا خلافت کے لائق نہیں ۔بادشاہ نے پوچھا کہ خلیفہ وقت کون ہوگا ۔ آ پ نے فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز کو منتخب کریں تو اس سے عمر ثانی بن گیا ۔ یہ علماء کا کمال تھا کہ وہ معاشرہ کو ایسے لوگ فراہم کریں کہ وہ یہ چیزیں جانتے ہیں اور چلانا سیکھتے ہیں۔
قائد اشاعت نے اخباری نمائندوں کو واضخ کیا کہ ہم اپنا کام جانتے ہیں اور اس پرخوش ہے کہ اس اداروں کو آگے بڑھائے ۔ آپ نے حکومت وقت کو مشورہ دیتے ہوئے فرمایاکہ اگر آپ اس ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہو تو اپنے وطن کے اولاد کو راضی کرکے مسلمانان عالم کی خدمت میں لگالیں ۔ایک عاقل باپ کے لئے چاہیے کہ وہ اولاد کے ساتھ مل کر کام کریں ایسا نہیں کہ اولاد کو دشمن بنائیں۔
شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب کی خطاب نے لوگوں پر رقت طاری کردی ۔تجدید عہد کانفرنس میں اشاعت التوحید والسنت کی کارکنان نے بلند آواز سے اپنے مشن کو پرامن طریقے سے آگے بڑھانے کا اعلان کیا اور قائد اشاعت کی اعلان پر لبیک کی صدا گونج اٹھی۔
راقم الحروف اور صوبائی تنظیم کی اہلکار انتظامیہ اور پنج پیر کے نڈر عوام کو اس منظم پروگرام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

شیخ القرآن مدظلہ کا اہم اعلان

اجتماع کے دوسرے دن بعد نماز ظہر اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے ترجمان اور مناظر اسلام مولانا حضرحیات صاحب نے خطاب کیا۔ توشیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب امیر مرکزیہ مائیک پرخود تشریف لائے۔ اور اجتماع سے خطاب فرمایا۔ کہ اس دور میں بڑے بڑے فتنے ہیں او رمسلمان قوم کو بہت بڑے بڑے قوتوں اور بڑے چیلنجوں اور فتنوں کاسامناہے۔ اور ان چیلنجوں کے مقابلہ کے لئے تمام مسلمانوں خصوصاً مذہبی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے ۔
الحمدللہ اشاعۃ التوحید والسنۃ ایک عالمی تنظیم ہے اس کاکام بھی عالمی ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں اس کی شاخیں موجود ہیں ۔ شرکیات وبدعات اور رسوم باطلہ کے باطل قوتوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس سے ہم توکوئی نہیں روک سکتا۔ بلکہ اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بیرونی ایجنسیاں بھی مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرناچاہتے ہیں تاکہ مسلمان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو اور باطل قوتوں سے توجہ ہٹ جائے ۔لیکن بعض ملکی مذہبی بہروپے بیرونی ایجنسیوں کے اشاروں پرچلتے ہیں اور بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ وہ علمائے حق کے کام میں روڑے رٹکا رہے ہیں اور ہمارے جماعت کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرناچاہتے ہیں اور ہم کو اختلافات میں الجھا نا چاہتے ہیں اور ملک میں انتشار وافتراق کی فضاء قائم کرناچاہتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کوجانتے ہیں ۔ ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ میں ان لوگوں کانام لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اور نہ میں ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں۔ اور نہ میں اپنے مشن کو چھوڑنے والا ہوں۔ میں بڑے بڑے طاقتوں کا مقابلہ کرتا ہوں او ر انشا ء اللہ کرتا رہوں گا ۔ ان کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے رویہ سے باز آئے اور انتشار نہ پھیلائے۔ لیکن پھر بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر ایسے افراد جو سستی شہرت حاصل کرنے اور خواہ مخواہ اختلافات اور انتشار پیدا کرنے کے لئے ہماری جماعت کے سامنے رکاوٹ ڈالنے لگے اور ہماری تنظیم کوبدنام کرنے کی کوشش کرتاہے ۔ اور ان کا شوق ہے تو میں اپنے طرف سے اپنے جماعت کی طرف سے دو نمائندے مقرر کرتا ہوں۔ ایک مناظر اسلام علامہ محمد یونس نعمانی صاحب اور دوسرا ترجمان اشاعت مولانا حضرحیات صاحب بھکر ۔ ان کی جیت اور ہار میری جیت اور ہار ہوگی ۔ اور میرے جماعت کی جیت اور ہار ہوگی۔ لیکن یہ بھی میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ میرے طالبعلموں اور شاگردوں کے سامنے بیٹھ بھی نہیں سکتے ۔صرف اپنے مزدوری پکے کرنے کے لئے کام کرر ہے ہیں۔ میں پھر اعلان کرتا ہوں کہ تمام فرق باطلہ جو اشاعت کے مخالف ہیں ۔ تمام کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میدان میں آئے اور مناظرہ کرے۔

صوبائی نائب امیر مولانا مفتی محمد آیاز صاحب کاخطاب

اجتماع سے نائب صوبائی امیر مولانا مفتی محمد آیا ز صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا:۔

تین دن سے جو اجتماع شروع ہے جماعت کامقصد عرض وعایت لائحہ عمل پرمشائخ علماء کرام محنت انداز میں پیش کیا۔ ابھی اس مقصد اور پیغام کو ملک میں پھیلانے کے لئے ہم کو کوشش کرنا ہے ۔
شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ نے جماعت کو مقاصد کو پانچ باتوں میں جمع کیاہے ۔ایک مسئلہ توحید ہے جس کے لئے کائنات بنایا گیا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایاتھا ۔دوسری بات پیغمبر پاکﷺ کی سنت کی اتباع ہے۔ تیسری با ت اللہ تعالیٰ کے قانون کو پیغمبرﷺ کے سیرت کے روشنی میں دنیا میں نافذ کرنا ہے۔ اوریہ چیزیں کیسی وجود میں آئیگی۔ اور انقلاب کیسے آئے گا ۔توچوتھی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے دروس کے ذریعے آئے گا کہ دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے تعلیمات آجائے ۔ تو انقلاب آسکتا ہے۔ اور پانچویں بات یہ ہے کہ جس ذریعہ سے کتاب ، توحید وسنت ،قانون اور دین ہم تک پہنچا ہے تو ان ذرائع اور شخصیات کا دفاع کرنا یعنی انبیاء علہیم السلام ، صحابہ کرامؓ ، بزرگان دین ، اولیائے امت اور علمائے حق کا دفاع کرنا ہے ۔ ابھی یہ مشن اکابرین ؒ نے ہم کو دی ہے اور یہ امانت ہم کو سونپا ہے۔ ہم اس پر عمل کرکے آگے پہنچا ہیں ۔ اور اس کیلئے ہرقسم کی قربانی دیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔اگرہم نے یہ نہیں پہنچایا تو اللہ تعالیٰ بھی پوچھے گا اور ہمارے اکابرین بھی ہمارے گریبان پکڑیں گے۔
اس مشن کے لئے اخلاص کی بھی از حد ضرورت ہے ۔بغیر اخلاص کے کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ آج یہ مدارس ، دینی مراکز جو آباد ہیں ۔یہ اکابرین کااخلاص ا ور ان کا اخلاص اور ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کا نتیجہ ہے۔
اس کے لئے مسلسل جدوجہد اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اور اصولوں کی پابندی بھی لازمی ہے ۔اگرایسانہ ہو پوپھر بھی کامیاب نہیں ہونگے۔اور ساتھ ساتھ امیر کی اطاعت لازمی ہے۔ بغیر اطاعت امیر کے جماعت ترقی نہیں کرسکتی۔ اس لئے آج ہی امیرکی اطاعت کرنے کی عہد اور عزم کریں اور قدم بڑھائیں انشاء اللہ کامیابی آپ کی قدم چھو مے گی ۔
اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطافرمائیں(آمین)


امیر جمعےۃ العلمائے اسلام شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق صاحب کا خطاب

اجتماع سے امیر جمعیت العلمائے اسلام شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق صاحب اکوڑہ خٹک نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔

انتہائی قابل احترام اکابرین مفسرین محدثین علمائے کرام وطلباء کرام ! میں مولانا محمدطیب صاحب کا انتہائی مشکور ہوں کہ مجھے توحید وسنت کے مرکز کو آنے کی حکم دیا ،دعوت دی ۔اگرچہ میں بیمار تھا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا کہ مجھے اس عظیم الشان اجتماع میں میں شریک ہوا۔ الحمدللہ ہرطرف شائقین اور عشاق قرآن کریم کا ہجوم ہے اور ایک بہار ہے۔
میرا کئی دنوں سے مولانا محمدطیب صاحب کے ساتھ ملاقات کرنے کا ارادہ تھا۔ کہ ان کے ساتھ کیسے ملاقات ہوجائیگی۔ لیکن انہوں نے ملاقات کا موقع دیا۔ میں اشاعۃ التوحید والسنۃ کا نہایت مشکور ہوں۔ کہ جب بھی کوئی ملکی ،ملی یا مذہبی و دینی مسئلہ پیش آیا ہے ۔ تواشاعۃ التوحید والسنۃ نے ہم کو اکیلا نہیں چھوڑا ہے۔ شریعت بل کا مسئلہ تھا ۔09-10سال پارلیمنٹ میں جنگ تھا۔ تو اس میں پنجاب سرحد کے اشاعۃ التوحید والسنۃ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے تھے ۔افغانستان کامسئلہ آیا ۔دفاع پاکستان افغانستان کونسل بنا ۔ملک میں تحریک شروع ہوا تو اشاعۃ التوحید والسنۃ ا ورہم شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ اس کے علاوہ سوات میں نفاذ شریعت شروع ہوا ۔ اس وقت کوئی نام بھی نہیں لے سکتا تھا۔ کوئی حمایت نہیں کرتاتھا ۔اس وقت ہمارا ملی یکجہتی کونسل بناتھا ۔ا س میں تمام مکاتب فکر شامل تھے۔ تو اس وقت ملی یکجہتی کونسل نے تحریک نفاذشریعت کی حمایت کی ۔ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اسلام کے جنگ کو لڑا۔ لوگ مخالفت کرتے تھے ۔ ہم نے کہا کہ ہم نہ جمہوریت مانگتے ہیں نہ مارشل لا۔نہ آمریت چاہتے ہیں ۔ ہم صرف اسلام کامطالبہ کرتے ہیں اوراس ملک میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہمارے بھائی مولانا اشرف علی صاحب جو شیخ مراد نیلوی رحمہ اللہ کے فرزندہیں ۔شیخ القرآنؒ اور ہم شانہ بشانہ اسلام کے سربلندی کے لئے ہرموقع پراکٹھے تھے۔
ابھی بہت نازک وقت آیا ہے جو اس سے قبل کبھی بھی یہ وقت نہیں آیاتھا۔ پوری عالم کفر مسلمانوں کے مٹانے کے لئے متحد ہوچکے ہیں ۔ عالم کفر نے اپنے اختلافات ختم کئے ہیں ۔یہود ونصاریٰ ایک ہیں ۔ انہوں نے اپنے دشمنوں کو معاف کئے ہیں ۔(الکفر ملۃ واحد ) کے تحت تمام عالم کفر اسلام مدارس ، علماء اور طلباء اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں۔ہدف صرف تم ہو او ر تم کو (یعنی مسلمانوں کو) چیلنجز دیتے ہیں ۔ دین کے تشخص کو ختم کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ اور مسلمانوں کو بھڑ کاناچاہتے ہیں ۔ پیغمبرپاکﷺ کے خاکے بنائے گئے۔ اور پھر توہین رسالت قانون کے ختم کرنے کے لئے کوشش کی۔ کہ یہ ختم ہوجائے ۔
پھر پیغمبرپاکﷺ کے شان میں گستاخی کی اور کتابیں لکھیں ۔بکواسات کئے ۔سلمان رشدی ،تسلیم نسیرین وغیرہ جیسے ناپاک اور گندے لوگوں نے پیغمبرپاکﷺ کی توہین کی اور کتابیں لکھیں۔ابھی آخری حربہ استعمال کیا کہ امریکہ کے ایک ملعون پادری نے قرآن پاک کے نسخے کو علی الاعلان جلایا۔ یہ تمام اسلام اور مسلمانوں کے تھرکانے کے لئے کرتے ہیں۔
عالم کفرکے یہ تمام عزائم مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں کہ مسلمان قوم غیرت کرے اور متحد ہوجائے اور قرآن پاک پر عمل کرکے عملی جواب دے۔
الحمدللہ! اس اجتماع پر مجھے بہت روحانی خوشی حاصل ہوئی۔یہ آپ کا اکٹھا ہونا قرآن کریم کے لئے جدوجہد ، قرآن کریم سے وابستگی ، رات کوجاگنا اور یہ متحدہونا یہ عملی جواب ہے عالم کفر کے لئے اور ملعون پادری کو کہ قرآن کریم کے شان وعظمت میں کوئی کمی نہیںآئی ہے۔بلکہ اس کے لئے جدوجہد جاری ہے اور امت مسلمہ اس پر متفق ہیں۔اور ہماری بقاء اور نجات کاراستہ اور ذریعہ بھی یہی ہے کہ ہم قرآن کریم کوپڑھے اور اس پرعمل کریں اور اس کو مضبوطی سے تھامے۔ اوریہی عالم کفرکو عملاً جواب ہے۔ کفار ہم کو مٹانا چاہتے ہیں ۔کفار نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے اور پاکستان بھی عملاً ان کاعلاقہ ہے۔ بلکہ اس ملک کے تمام سیاستدان آج امریکہ کے ساتھ ہیں ۔خواہ وہ مسلم لیگ ہیں ۔ پیپلز پارٹی یا نیشنل پارٹی ہے یا ایم کیو ایم۔ یہ لوگ امریکہ کوناراض کرنانہیں چاہتا ہے۔ اور ہرایک اپنے اپنے انتظارمیں ہے کہ کب ان کوامریکہ اقتدارمیں لائے گا۔ ان لوگوں کو نہ ملک کی پرواہ ہے نہ اسلام کی۔ انہوں نے سب کچھ داؤ پرلگایاہے۔
امریکہ ملک میں مدارس دینی مراکز بدنام کرناچاہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد کے مراکز ہیں اور عالم وطالبعلم دہشت گرد ہیں۔ جہاد کے جذبہ کوختم کرناچاہتے ہیں۔ یہ سیاستدان لوگ بھی ان کے حامی ہیں۔ یہ ان کامقابلہ نہیں کرتے ہیں۔ ان کامقابلہ صرف یہ مذہبی قوتیں کرتے ہیں ۔افغانستان نے قربانیاں دیں ۔ آج امریکہ افغانستان میں ہے لیکن اس نے شکست کھایاہے۔ اور افغانستان امریکہ کاقبرستان بن گیا ہے۔ اسی طرح دیگر اسلامی ممالک میں امریکہ نے اپنے عزائم کوظاہر کیا ہے۔ آج ہمارے ملک کے فوج بھی ان کے حامی ہیں اور اپنے ملک کے لوگوں سے فارغ نہیں ہیں۔ بلکہ فوجی اپریشن کے نام سے اپنے لوگوں پر بمباری کرتے ہیں۔
ایسے وقت میں عالم کفر کے اتحاد کامقابلہ اپنے آپس میں اتحاد پر کرنا چاہیے کہ ہم آپس میں متحد ہوں۔ میں نے ہروقت کوشش کیا ہے اور ہرموقع پر جماعتوں کااتحاد قائم کیا ہے اس کے لئے قربانیاں دیں ہیں۔
نفاذ شریعت کے لئے متحدہ شریعت محاذ بنایا۔ بریلویوں کی منتیں بھی کیں۔ ان کو بھی شامل کیا ۔ پھر ملی یکجہتی کونسل بنایا۔ اور دفاع پاکستان وافغانستان تشکیل دیا۔ تاکہ ہم متفق ومتحدہوجائیں اور مضبوط ہوں۔ تاکہ ہم بھی ختم نہ ہوں اور اسلام کا نفاذ بھی ہوجائے۔ اس وقت صلیبی دہشت گردی اور یہود ونصاریٰ کے خلاف متحد ہوناچاہیے اور اس سیلاب کے سامنے تمام مذہبی قوتوں کوبند باندھنا چاہیے ورنہ یہ مدارس اور مراکز دینی (خدا نہ کرے) اگر ختم ہوجائے ۔تو ہماری آئندہ نسل کویہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ ہم کیاہیں؟ہم کس کے اولاد ہیں ؟اسلام کیاہے؟مسلمان کون ہوتا ہے؟اس لئے اس پر سوچنا چاہیے اور متحد ہوکر قرآن کریم پرمضبوطی سے عمل کرکے دنیا وآخرت کی کامیابی اور نجات حاصل کریں۔


شیخ القرآن مدظلہ کا ابتدائی خطاب

شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا :۔(والعصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

میرے محترم معزز ساتھیو!

میرے پاس وہ کلمات نہیں ہے کہ اس پر میں آپ تمام کا شکریہ ادا کروں۔ میں تمام ساتھیوں کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔یہ تمہارا مرکز ہے اور ہرایک فرد کا مرکز ہے۔ جو توحیدو سنت کی اشاعت کا دعویٰ کرتا ہے۔
اس پروگرام میں میرے ساتھ صوبائی قائدین خصوصاًصوبائی ناظم اعلیٰ مولانا شمس الہادی طاہری ، صوبائی ناظم اطلاعات جنا ب محمد فیاض اور ضلع صوابی کے امیر حاجی دلبر خان اور گاؤں کے امیر مولانا محمدابراہیم ، مولانا سید ہارون شاہ پنج پیر اور دیگر گاؤں کے نوجوانان احباب جنہوں نے دن رات محنت کرکے اجتماع کے لیے انتظامات کئے۔ اور اس کو کامیاب بنا نے کے لئے کوشش کی۔ میں ان تمام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میں چند باتیں مختصر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ۔ہم پاکستان کے ہیں او ر پاکستان ہمارا ہے۔ ہماری مٹی پاکستان کا ہے اور ہم اسی پاکستان کے مٹی میں دفن ہونگے۔ ہمارے اکابرین اور بزرگ بھی اس ملک میں دفن ہیں۔اس ملک کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے اور تاحیات اس کا دفاع کریں گے انشاء اللہ۔ ہم دیگر اسلامی ممالک کے استحکام بھی چاہتے ہیں اور اس میں اسلامی مملکتوں کا قیام چاہتے ہیں اور تمام مسلمان ممالک کے غم ودرد میں شریک ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اور یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم دولت کے بل بوتے پر یا اقتدار وکرسی کے حصول یا ذاتی مقاصد کے لئے یا بزدلی کی وجہ سے اپنے مقاصد اور اہداف سے پیچھے ہیں بلکہ ہم آگے قدم بڑھائیں گے۔ اور ہمار اخون ہمارے ہڈیاں اور ہمارا گوشت توحید وسنت اور مسلمان مملکتوں کے لئے قربان ہیں اور قربان ہونگے انشاء اللہ۔
ایک بات کھلے کانوں سے سنیں ۔ پاکستان واحد ملک ہے کہ اس کا مدینہ طیبہ سے بہت مناسبت اور تعلق ہے ۔
(۱) مدینہ عربی میں گاؤں کو کہتے ہیں اورطیب کے معنی پاک ہے۔ مدینہ طیبہ کا معنی یہ ہوگیا ۔ کہ یہ گاؤں پاک لوگوں کی رہائش گاہ ہے۔اور پاکستان کا مطلب و معنی بھی یہی ہے کہ پاک لوگوں کی رہائش کاملک ، علاقہ اور مملکت ہے۔ پاکستان اس نام پر بناتھا۔ تو انشاء اللہ یہ پاک لوگوں کا ہی رہائش گاہ ہوگا اور ناپاک و پلید لوگ اس سے نکلیں گے۔
(۲) کہ مدینہ طیبہ کی بنیاد بھی لا الہ الا اللہ پر قائم کیا گیا تھا اور پاکستان کی بنیاد بھی لا الہ الا اللہ پر رکھاگیا ہے۔
(۳) پاکستان اور مدینہ طیبہ کی مماثلت اور مناسبت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کا پہلا نام یثرب تھا ۔جب مدینہ طیبہ نام رکھاگیا تو پیغمبرپاکﷺ کے قیادت اور رہنمائی میں چند مہاجرین وانصار صحابہ کرامؓ نے کام شروع کیا۔
رہنما لیڈر بھی بہادر اور صحابہ کرامؓ بھی بہادر تھے اور پاک لوگ تھے ۔ انہوں نے اپنا پروگرام نہیں چھوڑا۔ تکالیف آئے ،رکاؤٹ آئے برداشت کئے ۔ لیکن اپنے مشن کو آگے بڑھایا ۔ جس طرح مدینہ طیبہ کے قیام میں پیغمبر پاکﷺ اور اس کے پاک جماعت نے قربانیاں دیں اور تکالیف برداشت کئے۔ اسی طرح پاکستان کے قیام کے لئے علماء دیوبند رحمہم اللہ نے قربانیاں اور تکالیف برداشت کئے۔ اور ان کے روحانی فرزند ابھی بھی اس کے لئے قربانیاں دیتے ہیں اور تاحیات تکالیف برداشت کرتے رہیں گے۔ جس طرح پیغمبر پاکﷺ نے اپنے ساتھیوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں کہ اے آل یاسر ! صبر کرو ، مضبوط رہو ۔ اللہ تعالیٰ جنت عطافرمائیں گے۔
اسی طرح علمائے دیوبند اور اس کے صحیح وارث جماعت اشاعت التوحید والسنۃ اپنے ارادہ اور عزم پر مضبوطی سے قائم ہیں اور انشا ء اللہ جب تک زندگی ہے تو اپنے مشن اور پروگرام کو آگے بڑھا ئیں گے۔
اسی طرح پاکستان اور مدینہ طیبہ کی مماثلت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں پیغمبر پاکﷺ کے مقابلہ میں منافقین ہوتے تھے اور وہ یہ چاہتے تھے اور اس کے لیے کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرے اور ان کے اتحاد اور قوت کو تہس نہس کرے۔ اور مسلمانوں کے مخالفین کے لئے مدینہ طیبہ میں مرکز تعمیر کرے اور منصوبہ بندی کرے۔ اسی وجہ سے مسجد ضرار تعمیر کیا۔ اسی طرح پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے توا س میں بھی منافقین موجود ہیں اور دشمنان اسلام کے لئے مراکز دیتے ہیں اور ا ن کے پائے ہوئے اور تیار کردہ لوگوں کو پاکستان میں اندر داخل کرنا چاہتے ہیں ۔ اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیا ن اختلاف ، انتشار اور افتراق پیدا کیا جائے۔
خصوصاً اس ملک کے محافظین اور وفادار علمائے دیوبند میں اختلافات اور افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ جس طرح مدینہ طیبہ کے منافقین کامیاب نہیں ہوئے ۔ اسی طرح یہ منافقین بھی کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ (انشاء اللہ)
آج ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم ملک اور اسلام کے لئے متحد ہوں گے اور اپنے خون ، مال اوراولاد کی محبت کو ملک اوراسلام کے محبت پر مقدم رکھیں گے ۔اور منافقین کی چالیں اور سازشیں ناکام بنا دیں گے۔اس میں قربانیاں آئیں گے ، تکالیف آئیں گے۔ لیکن ہمارا عزم یہ ہوگا کہ ہم مضبوط رہیں گے۔
ہمارا آج اجتماع کا مقصد بھی یہی ہے ۔ اس تجدید عہد کے لئے اکٹھے جمع ہیں کہ ہم ملک اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف متحد ہوں گے۔اور توحید وسنت کی اشاعت اور ملک کی حفاظت کے لئے ہرقربانی کے لئے تیار ہوں گے اور یہ پروگرام جاری وساری رہے گا۔ میرے جماعت کے تمام علماء اراکین شیر ہیں ۔ اس میں کوئی گیڈر نہیں ہے اور مشن پر جان بھی دیں گے ، مال بھی دیں گے۔ آگے بڑھنے والے ہیں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
میں تمام شرکاء اجتماع کا مشکور ہوں اور تمام علمائے کرام کا مشکور ہوں اور ضلعی انتظامیہ کابھی مشکور ہوں ۔
تمام شرکاء کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائیں ۔
یہ اجتماع دیگر ممالک میں انٹرنیٹ کے ذریعے جولوگ دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی پورا پورا اجر عطافرمائیں۔

نواسہ شیخ القرآن مولانا شاکر محمود کے خطاب کا خلاصہ

اشاعۃ التوحید والسنۃ کا اولین مقصد عقیدے کی اصلاح ہے کہ عوام کی عقائد کی اصلاح ہوجائے اور شرکیہ عقائد سے بچیں۔ کیونکہ اعمال کی بنیاد عقیدے پر ہے ۔ اگر عقیدہ درست نہیں ، عقیدہ توحید نہیں۔ تو اعمال کاکوئی اعتبار نہیں۔ کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ توحیدکا عقیدہ وضاحت اور بیان قرآن کریم کے ذریعے کرتے ہیں۔ عقیدہ کی درستگی قرآن کریم کی سمجھنے سے ہوگی ۔ اس لئے اکابرین اشاعۃ التوحید والسنۃ نے قرآن کریم کے دروس کو عام کیا ہے ۔دورہ تفسیرپڑھاتے جاتے ہیں۔ مساجد،مدارس اورگلی گلی درس قرآن کریم کا اہتمام کیا ہے۔ اور کررہے ہیں۔ اورہمارے اکابرین نے مرتے وقت وصیت بھی کی ہے ۔ حضرت شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ نے فرمایاتھا کہ میری موت یہ نہیں کہ مجھ پر مٹی ڈال کر دفن کردوگے بلکہ میری موت اس وقت ہوگی ۔جب تم دروس قرآن کریم چھوڑدوگے۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ اشاعۃ التوحید والسنۃ کی یہ مشن اکابرین دیوبند کاتھا۔ اوراکابرین دیوبند کے اصل جانشین اور وارث جماعت اشاعۃ التوحیدوالسنۃ ہے ۔ اکابرین اشاعت نے دیوبند کو منوایا اور چمکایابھی۔ اور ان کے مشن کوقائم رکھا۔ ان کاتحفظ کیا اوران کا دفاع کیا۔ ہمیشہ ان کے مشن کے خادم رہیں۔
آج بھی ہم نے اپنے اکابرین دیوبند اور اکابرین اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے موقف پرقائم ہیں ۔ اور اس کو اپنایا ہے۔ اور اس سمت کو تبدیل کرنے اور چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ لوگ ہم اس محنت سے ہٹانے اور تبدیل کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔لیکن ہم اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہیں۔ ہم اسلام کے داعی اور محافظ ہیں اور پاکستان کے بھی محافظ اور وفادار ہیں اور انشاء اللہ تاحیات اس پرقائم رہیں گے۔
میں تمام اجتماع شرکاء سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے محلوں میں، مساجد میں دروس قرآن کریم کا اہتمام کریں ۔
انشاء اللہ دنیاو آخرت کی کامیابی اسی میں ہے۔

حضرت مولانا حافظ محمد صدیق صاحب واہ کینٹ کے خطاب کا خلاصہ

اشاعۃ التوحید والسنۃ کامشن اور پروگرام توحیدوسنت کی اشاعت کے لئے رہے گا ۔ توحیدوسنت کے لئے ہمارے اکابرین نے بے انتہا قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت بھی ہمارے مشن اور اہداف کاحصہ ہے۔ اور اس کے لئے ہمارے اکابرین کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ راولپنڈی کے شہر اور اسلام آباد کے ایوان اس بات اور قربانیوں کے گواہ ہیں۔ کہ جو قربانیاں اشاعۃ التوحیدوالسنۃ نے اس مسئلہ ختم نبوت کے لئے قادیانیت کے خلاف دی ہیں۔ اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مصائب اور مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں۔ آج تک کسی نے اتنی قربانیاں نہیں دی ہیں۔
جب مسئلہ ختم نبوت (عدالت میں) حل ہوگیا اور قادیانی غیر مسلم قرار دیاگیا۔ توتعلیم القرآن راولپنڈی کے ایک بہت بڑے عظیم الشان اجتماع عام میں ملک کے نامور مورخ اور پاکستان کے عظیم سکالرشپ جناب آغا شورش کشمیری نے کھڑے ہوکر خطاب فرمایا۔ کہ اس مسئلہ حل کرنے میں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب کی محنت اور قربانیوں کو داد دیتا ہوں اور تعلیم القرآن (پنڈی میں جواشاعۃ کا ایک عظیم مرکز ہے) کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
توحیدیو! ہمارے اکابرین نے توحید وسنت کی اشاعت کی۔ اور مسئلہ توحید کی بے لوث خدمت کی ہے ۔مسئلہ ختم نبوت کے لئے بے لوث قربانیاں دیں ۔ شان صحابہؓ کا علم بلند کیا۔ ہم بھی اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے عظیم قائد محترم شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب کے امارت و قیادت میں توحیدوسنت ، ختم نبو ت ، شان صحابہؓ ، دفاع اسلام اور استحکام پاکستان کے لئے ہرقسم کی قربانیاں دیں گے انشاء اللہ۔

صوبائی اجلاس اشاعۃ التوحید والسنۃ صوبہ خیبر پختونخواہ

جماعت اشاعت التوحیدوالسنت صوبہ خیبر پختونخواہ کا صوبائی اجلاس انشاء اللہ 2جون بروز جمعرات بعد نماز عصر بمقام جامعہ حصفہ للبنات (مدرسہ حضرت مفتی سراج الدین صاحب )ڈھوک براستہ مرغز ضلع صوابی منعقد ہو رہا ہے۔
تمام اراکین شوریٰ سے شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
الداعی:۔ ناظم اعلیٰ جماعت اشاعت التوحیدوالسنت صوبہ خیبر پختونخواہ

جماعت اشاعت التوحید والسنت بلوچستان کا اجلاس

رپورٹ:غلام اللہ رحمی
جماعت اشاعت التوحید والسنت صوبہ بلوچستان کا اہم اجلاس اجتماع پنج پیر کے اختتام کے بعد منعقد ہوا ۔ جس میں دیگر علمائے کے علاوہ مولانا محمدحسن کاکڑ، ناظم اعلیٰ بلوچستان مولانا عبدالسلام صاحب، نائب امیر اور ناظم اطلاعات مولانا مفتی دوست محمدصاحب ، مولانا محمدطیب صاحب، مولانا عبدالجبار صاحب اور مفتی مجیب الرحمن صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں بلوچستان کے تنظیم کاجائزہ لیا گیا۔ اور چند فیصلے کئے گئے۔ بلوچستان کے سطح پر کوئٹہ میں صوبائی دفتر کاقیام ۔تمام اضلاع میں تنظیمیں فعال بنانا۔ مرکزی دفتر دارالقرآن پنج پیر سے رابطہ رکھنا۔ ہرمقام پر دروس قرآن کریم کا انعقاد وغیرہ کے بارے میں فیصلے ہوئیں۔
جبکہ آئندہ اجلاس 2جون کو جامعہ عثمانیہ(مشرقی بائی پاس)میں ہونے کافیصلہ کیاگیا۔
اجلاس میں تمام شرکائے اجتماع کو سراہا ۔ اور کامیاب اجتماع پر شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری اور صوبائی قائدین کو خراج تحسین پیش کیا اور مبارکباد پیش کی-

***ختم شد***

 


اپریل 2011

بسم اللّٰہ الرّ حمٰن الرّ حیم
شیخ القرآن ؒ نے فرمایا:
(’’ ایک نام نہاد پیر نے میرے قتل کا فتویٰ دیاتھا ۔مجھے پتہ چلا تو میں نے اس کچھ تحفہ لے گیا ۔توآئندہ جمعہ میں اس نے اعلان کیا کہ تم نے تو اسکے قتل کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں تھا ۔خبردا راگرابھی اس کو کسی نے قتل کیا تواس کو ستر(۰۷) مجاہدین کے قتل کا گناہ ملے گا-

من انوار القرآن الکریم
(سورۃ النساء:۴۳)
ترجمہ: ۔’’مردحاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے ۔ اللہ کی حفاظت سے۔ اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو ۔ تو ان کو سمجھاؤ او ر جدا کرو سونے میں اور مارو ۔ پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی ۔ بیشک اللہ ہے سب سے اوپربڑا‘‘۔
توضیح:۔’’نظام چلانے کے لئے ایک حاکم اور امیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ملک کانظام چلانے کے لئے بادشاہ ضروری ہے تاکہ نظام صحیح چلتا رہے۔ تواسی طرح گھر کانظام بھی اس وقت تک صحیح چلے گا جبکہ مرد اس کاحاکم رہے ‘‘۔
من کنوز السنۃ المطھرۃ
(’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عن النبی ﷺ )۔ (راوہ الترمذی)
ترجمہ: ۔’’ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشادفرمایا : کہ اگر میں کسی کوحکم دیتا سجدہ کرنے کا تو میں عورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔‘‘
توضیح:۔’’یعنی شوہر کے بیوی پر اتنے زیادہ حقوق واجب ہوتے ہیں کہ غیراللہ کے لئے سجدہ کرنا اگرکسی کوجائز ہوتا ۔ توبیوی شوہر کو سجدہ کرتا ۔مگرشریعت میں غیراللہ کا سجدہ مطلقاً حرام ہے ۔ تواس لئے بیوی شوہر کو سجدہ نہ کرے مگر اس کی اطاعت ضرور کرے ‘‘۔

قرآن کریم کی توہین کا المیہ
مدیر اعلیٰ
معاشرہ فرد کی شخصیت کی تعبیر وتشکیل کے لئے مفید عوامل کو بروئے عمل لانے اور مضر عوامل سے بچاؤ کے لئے مذہب اور قانون اور ادارے کام آتے ہیں ۔ چونکہ قانون کے مقابلہ میں مذہب کے ساتھ فرد کی ایک جذباتی اور قلبی وابستگی ہوتی ہے ۔اس لئے جہاں قانون بے اثر ہو جائے وہاں مذہب کام دیتا ہے اور جہاں قانون کے پَر جلتے ہیں ۔وہاں سے مذہب کی عمل داری شروع ہوتی ہے۔
جدید معاشرہ سے مذہب کاعمل دخل ختم کیاگیا تو وہاں سے انسانیت بھی رخصت ہوگئی اور وہاں انسان نما درندوں کا راج آگیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ان افراد میں اعلیٰ انسانی اوصاف واقدار کا ڈھونڈھنا ایک لا حاصل مشق نظرآتا ہے حتیٰ کہ یہ اوصاف واقدار ان کی ڈکشنری سے بھی غائب ہوگئے ہیں اور ان کے اظہار کے لئے مناسب الفاظ ان زبانوں میں نہ رہے ۔ مثلاً حدیث نبویﷺ ہے کہ :۔
اذا فاتک الحیاء فافعل ماشءٰت
اور اذا لم تستحی فا صنع ما شئت
فارسی کا مشہورمحاورہ ہے کہ بے حیاء باش وہرچہ خواہی کن
یعنی جب حیاء ہی نہ رہے تو کیاشرم اور کونسا مانع ، جوچاہے کر گزر ۔
چنانچہ یورپی اور امریکی معاشروں میں اور ان کے ایجنٹ طبقات میں تو ہین رسالت کے واقعات عموماً ہوتے رہتے ہیں۔حالیہ چنا نچہ قرآن کریم کی توہین اور جلانے کانہایت قابل مذمت فعل ہی سنگینی میں اس لحاظ سے ناقابل برداشت ہے کہ یہ مکروہ کام ایک پادری نے کیا ہے جو مذہبی رہنما ہونے کادعویدار ہے ۔ اُس ظالم کویہ احساس نہیں کہ مقدس ہستی کے نام پر اُس نے اپنی نام نہاد مذہبی دکان چمکا رکھی ہے کبھی اُس کی صفائی دنیا میں صرف قرآن کریم نے دی ہے جب بدبخت یہودی نے حضرت مریم صدیقہؓ اور اُن کے صاحبزادہ گرامی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائی اور ان پاکباز ہستیوں کی توہین کی تو دنیا میں کوئی ان کی صفائی دینے والا نہیں تھا ۔ یہ قرآن کریم ہے جس نے آکر سب سے پہلے ان کی صفائی دی اور ان کی پاکبازی وپاک نہادی کی گواہی دی ۔ اس لئے عیسائیت کو سب سے زیادہ قرآن کریم کا احسان مند ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن یہ ظالم حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ اور ا ن کی والدہ محترمہ کے دشمنوں کو ہم نوا بن کر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گواہ کو جلا رہے اور اسے مٹانے کے درپے ہیں۔ کیا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کے دشمن ہیں؟ کیا یہ عیسائیوں کے بارے میں عیسائیت کے دشمن ہیں؟
خدارا! مقدس دینی شخصیات اور مقدس دینی علامات کا احترام باقی رہنے دو ۔ ورنہ نہ انسانیت رہے گی نہ امن وامان ہی رہ پائے گا ۔یہ کیسے روشن خیال مہذب اور برداشت پر قائم معاشرے ہیں جو اسلامی علامات ، اسلامی شخصیات اور اسلامی اقدار وروایات کو برداشت نہیں کرسکتے اور انہیں زندہ رہنے کا حق دینے کوتیار نہیں ۔ یہ لوگ اسلام دشمنی کے جنون میں عدم برداشت اور انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہی لوگ انسانیت کے دشمن ہیں جواپنے سنگین ترین جرائم کی وجہ سے کسی رورعایت کے حقدار نہیں ہے ۔اگر اس جنونی پادری اور اس کے بدبخت ساتھیوں کو پھانسی نہیں دی جاتی تو تمام دنیا کے مہذب ممالک کو امریکہ کا بائیکاٹ کرکے اس کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کردینا چاہیے اور جب تک وہ اس شیطانی ٹولے کو پھانسی نہیں دیتا ۔ تو اس کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ بحال نہیں کرناچاہیے۔
موت کاخوف مجھے اسلام کے قریب لایا
علمائے کرام کے کتب ورسائل سے مختلف اقتباسات وعبارات کا سلسلہ
چوہدری آر۔کے عادل
انتخاب:۔ مولاناشمس الہادی طاہریؔ
میرا پرانا نام رام کرشن لاکڑا ہے ۔ میں دہلی نجف گڈھ کے علاقے کی ہندو جاٹ فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔میر ے با باجی ہمارے گاؤں کے پردھان اور زمیندار ہیں۔ ہمارا گاؤں کچھ زمانہ پہلے روہتک ضلع ہریانہ میں تھا ، اب دہلی کا ایک محلہ ہے ۔ میرے پتاجی کا انتقال میرے بچپن میں ہوگیا تھا۔ میں آج کل دہلی میں پراپرٹی ڈیلنگ کاکام کرتا ہوں۔ یوں تو میں اس سنسار میں 27ستمبر1959ء کو آگیا تھا مگردوسرا جنم ٹھیک 45سال بعد27ستمبر 2004ء کو ہوا۔
میں اپنے پڑوس کی مسجد کے مولوی صاحب سے بھی کہہ رہاتھا کہ عجیب بات یہ ہے کہ پہلے جنم کے ٹھیک 45سال بعد میں نے نیا جنم لیا اور دوبارہ جنم کے عقیدے سے توبہ کی۔میں نے27ستمبر2004ء کو بروز پیر ساڑھے سات بجے غروب آفتاب کے بعد مولوی کلیم صاحب کے ہاتھ پر پھلت میں ان کے گھر کے اوپر والے کمرے میں کلمہ پڑھ کر اپنی نئی اسلامی زندگی شروع کی۔
میں نے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کی اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے بجائے دو سال تک فارغ بیٹھا رہا ۔ میرے تاؤ اور ایک موسا (پھوپھا)فو ج میں بڑے کرنل تھے ۔ وہ گھر آئے ، انہوں نے مجھے دھمکایا کہ اگر تو پڑھنے نہیں جاتا تو تجھے فوج میں بھرتی کرادیں گے اورتجھے لام پر جانا پڑے گا ۔1971ء کی جنگ قریب تھی ، میں نے داخلہ لیا اورانٹر کرنے میں کامیاب رہا۔ مگر آگے پڑھنے کو دل نہ چاہا۔ میری ماں نے بابا سے کہہ کر میری شادی کرادی اور ماں کی خوشی کیلئے میں نے پرائیویٹ بی اے بھی کرلیا۔ شاد ی کے دو سال بعدمیرے پھو پھا نے ایک ضروری کام کے بہانے دھوکے سے بریلی بلایا اور مجھے بیرک میں لے جا کر میرے بال کٹوائے ۔ وہ فوج میں کرنل تھے۔ سارے کا غذات اورمیڈیکل کروا کے مجھے کہا کہ تیری بھرتی ہوگئی ہے۔ اب اگرتو بھاگے گا ٹریننگ کے لئے جانا پڑا، وہاں میرا دل نہیں لگتاتھا اور گھر یاد آتا تھا اور گھر سے زیادہ گھر والی ۔ بے چاری بڑی محبت کرنے والی شریف عورت۔ میں نے ٹریننگ کے دوران میں ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اس فوج سے جان چھڑانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ میرے ایک ساتھی نے بتایا کہ اگر افسران فٹ(Unfit)کردے تو کام ہوجائے گا ۔ میں نے کہا کہ یہ تو آسان کام ہے۔ میں نے پاگل پن کا ڈرامہ رچایا ، بہکی بہکی باتیں کرتا، کبھی ہنستا تو ہنستا رہا ، کبھی چیختا تو چیختا رہا ۔ مجھے ہسپتال میں داخل کرایاگیا اور میڈیکل چیک اپ ہوا۔ ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ یہ بہانہ ہے ۔ مجھے افسر نے بہت گالیاں دیں اور سخت سزا کی دھمکی بھی۔ ناچار پھر ٹریننگ شروع ہوگئی ۔ ایک روز پریڈ میں صبح کے وقت جیسے ہی افسر آیا ، میں نے رائفل کھڑی کی اور تمبا کو کی پڑیا ہتھیلی پر ڈال کر اس میں چونا ملاناشروع کردیا ، جوں ہی افسر سامنے آیا میں نے دوسرے ہاتھ سے سیلوٹ مارا اور جے ہند بولا۔ میرے ہاتھ میں تمباکو دیکھ کر اس نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ میں نے ہاتھ آگے کرکے کہا : سر! یہ تمباکو ہے ، لو آپ بھی کھا لو۔ وہ غصے میں بولے : نالائق تیرا بیلٹ نمبر کیا ہے ، میں نے نمبر بتا دیا ۔ دو پہر کے بعد انہوں نے مجھے دفتر میں بلایا اور مجھ سے کہا : جب جنگ میں دشمن کے سامنے ہوتو تو تمباکو کھائے گا یا گولی چلائے گا ؟ میں نے عرض کیا : سر تمباکو کو کھا کر گولی چلا نے میں تو مزہ ہی آجائے گا ۔ بہت ناراض ہوا ، میری فائل نکالی اور اس پر لال قلم سے اَن فٹ (Unfit) لکھ دیا ۔ میں نے جے ہند کو خوشی سے سلام کیا اور رات کو ہی گاڑی میں بیٹھ کر دہلی آگیا۔ میرے پھوپھا کومعلوم ہوا تو انہوں نے گھر فون کردیا کہ غدار بھگوڑا فوج سے جان بچا کر بھاگ آیا ہے ۔ میری بیوی مجھ سے بات نہیں کرتی تھی کہ تو تو غدار بھگوڑا ہے ۔ میں نے سمجھایا کہ بھاگیہ دان! اگر وہ جنگ میں بھیج دیتے تو تُو ودھوا ہو جاتیْ ۔ اب موج سے ساتھ رہیں گے ۔ بڑی مشکل سے اس کی سمجھ میں آیا اور وہ راضی ہوگئی ۔ میں نے ماں کو بھی بہت سمجھایا ۔کچھ روز یار دوستوں میں آوارہ پھر کر اپنے بابا کے ڈر سے پراپرٹی ڈیلنگ کاکاروبار شروع کردیا۔ بابا نے میرا دل لگانے کے لئے ایک کھیت کا پلاٹ کاٹنے کے لئے دیا۔ رفتہ رفتہ مجھے چسکا لگ گیا۔ دوستی کچھ غلط لوگوں سے ہوگئی۔ جھگڑے کی زمین خریدی، مار پیٹ اور دھمکا کر قبضہ کیا اور بیچ دی۔ نہ جانے کتنے لوگوں کوستایا ،کتنوں کا مال مارا، ماردھاڑ اور پراپرٹی کے19مقدمے بن گئے ۔ میں جیل چلاگیا، کسی طرح ضمانت ہوئی ، میں پہلے ہی جیل سے بہت ڈرتاتھا ، اڑھائی مہینے کی جیل سے اور بھی دہشت بیٹھ گئی۔دو باتیں مجھ میں پہلے سے ہی مسلمانوں جیسی تھیں، جب سے ہوش سنبھالا ، کسی مورتی ، کسی دیوی کی پوجا نہیں کی اور دوسری یہ کہ نجف گڈھ سے آگے ایک جگہ سُور کے گوشت کی دکانیں تھیں، جوانی کے دنوں میں میرے لئے اس راستے سے گزرنا مشکل تھا، اگر مجبوری میں گزرتا توسانس روک کر نیچی نگاہ سے گزرتا ۔ سُور کے گوشت کو دیکھ کر ہی مجھے اُلٹی سی آتی تھی ۔ جیل سے ضمانت پرواپس آیا تو میری ماں نے مجھے جو بہت دھارمک (مذہبی) ہیں اور شکروار (جمعہ) کو برت رکھتی ہیں ، مجھ سے کہا ’’ توناستک (ملحد) ہے، دیوتاؤں کو مانتا نہیں بلکہ ان کا انادر(بے ادبی) کرتا ہے ، اس لئے تیرے اوپر اتنی آفت ہے ‘‘۔ مجھے ایک ہنومان کی مورتی اور ہنومان چالیسادیا کہ اس کا جاپ کر۔ میں اندر کمرے میں ماں کی ضد اور کچھ ڈر کی وجہ سے کئی روز ہنو مان چالیسا کا جاپ کرتا رہا۔ مقدمے کی تاریخ آئی ۔ایک عورت کی گواہی تھی۔ میں نے صبح تڑ کے اٹھ کر ہنومان چالیسا کا جاپ کیااور پرارتھناکی، حالانکہ دل میں وشواش (یقین )یہی تھا کہ بے جان مورتی کے بس میں کیا رکھا ہے۔ ڈھل مل یقین کے ساتھ شاید لالچ میں دیر تک میں نے جاپ اور پرارتھنا کی کہ گواہی ٹوٹ جائے ۔ عدالت گیا تو اس عورت نے ایسی ڈٹ کر گواہی دی کہ جج سمجھ گیا کہ بات سچ ہے ۔ مجھے غصہ آگیا ، یہ خیال بھی نہ رہا کہ عدالت ہے، میں نے غصے میں اس عورت سے کہا :تجھے باہر نہیں نکلنا ہے ؟جج نے سن لیا، برہم ہو ا او ر ضمانت کینسل کرکے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ دو مہینے پھر جیل میں رہا ۔ بابا جی ہائی کورٹ سے ضمانت کرائی ۔ جیل سے گھر آیا تو پہلے کمرہ بند کرکے ہنومان کی مورثی پر جوتا گیلا کرکے بجایا۔ ہنومان چالیسا کوجلایا اور خوب گالیاں دیں۔
ہمارے علاقے میں ایک ملاجی پھلوں کی ٹھیلی لگاتے تھے ۔ میں نے ان سے بات کی کہ کوئی تعویذ والا بتاؤ ، میں بہت پریشان ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی تعویذ والے کو نہ تو میں جانتا ہوں او ر نہ مجھے اس پر اعتقاد ہے ۔ ہاں! تمیں ایک وظیفہ بتا تا ہوں ، تم روزانہ سو بار صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا : بہت اچھا ۔ میں پریشان تھا ، اس لئے میں نے صبح وشام پانچ پانچ سو بار پڑھا۔ مالک کو مجھ پر رحم آگیا۔ پہلی ہی تاریخ میں ، میں بری ہوگیا ۔ ایک سال میں گیارہ مقدموں کا میرے حق میں فیصلہ ہوا ۔ میں ملاجی کے پاس آنے جانے لگا اور ان سے کہا کہ اور کچھ بتاؤ تاکہ سارے مقدموں سے میری جان بچے۔ انہوں نے خود کچھ بتا نے کے بجائے مجھے ہندی زبان میں ایک کتاب’’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ دی ۔ میں نے اس کوغور سے پڑھا۔ دوزخ کی سزاؤں کا پڑھ کر میرے دل میں ڈر بیٹھ گیا۔ رات کو ڈراؤ نے خواب بھی آنے لگے۔ مجھے بار بار ایک خیال آتا کہ میں نے کتنے لوگوں کی زمینیں دبائیں، کتنے لوگوں کومارا ، میرا اب کیا ہوگا؟ مجھے اس کتاب نے بے چین کردیا۔ مقدموں سے زیادہ رات دن موت اور دوزخ کا خوف سوار رہنے لگا۔ میں سوچتا کہ اس سنسار کی عدالت کے اُنیس مقدموں سے زندگی خراب ہے تو اس مالک کے سامنے ان گنت مقدموں سے کیسے چھٹکارا ملے گا؟ میں نے ملا جی سے مشورہ کیا تو انہوں نے مسلمان ہوجانے کو کہا ۔ میں نے اسلام کے بارے میں کسی کتاب کے لئے کہا تو انہوں نے ’’ اسلام کیا ہے؟ ‘‘ لاکر دی ۔ میری سمجھ میں اسلام آگیا۔
اس کے بعد ایک صاحب نے دہلی ہی کی فتح پوری مسجد جانے کو کہا۔میں وہاں پہنچا تو مفتی صاحب نے کہا کہ مسلمان ہونے کے بعد تمہارا نکاح ختم ہوجائے گا۔ تمہیں اپنی بیوی کو چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے کہا: وہ25 سال سے میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔ ایسی بھلی عورت ہے کہ آج تک مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہوئی، میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا : پھر تمہیں کلمہ نہیں پڑھوایا جاسکتا اور نہ تم مسلمان ہوسکتے ہو۔ وہاں سے مایوس ہو کر میں نے تلاش جاری رکھی ۔
ایک صاحب نے مجھے ایک مزار پر بھیج دیا ۔ وہاں ایک میاں جی لمبے لمبے بال ، ڈھیرساری مالائیں گلے میں ڈالے ، ہرے رنگ کا لمبا کُرتا اور بہت اونچی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ میں ایک جاننے والے کو وہاں لے کرگیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں کلمہ پڑھواتا ہوں، میرے قریب بیٹھو ۔ گھٹنوں سے گھٹنوں ملاکر ادب سے بٹھایا ۔ اپنے داہنے ہاتھ میں میرا بایاں انگوٹھا اور بائیں ہاتھ میں دایاں انگوٹھا لے لیا اور بولے: مرید ہونے کی نیت کرو اور میرے پیروں پر ادب سے نگاہ رکھو۔ مجھے بچپن کے کھیل کا دھیان آگیا۔ ہم بچے ایک دوسرے کواسی طرح گھمایا کرتے تھے ، مجھے ہنسی آگئی۔ وہ غرائے کہ ہنس رہا ہے ۔ میں نے کہا : مجھے بچپن کا ایک کھیل یاد آگیا ہے ۔اگر بچوں کی طرح آپ کوبھی سر کے اوپر گھما کر پھینک دوں تو؟ انہوں نے پھر دھمکایا ۔ نہ جانے کیا کیا کہلوایا:قادریہ ، غوثیہ، وغیرہ وغیرہ ، پھر بولے :میرے پاؤں کے بیچ سر رکھو۔ میں نے انکار کیا تودھمکا کر بولے: مرید ہوکر بات نہیں مانتا ۔ میں نے سرٹیکا اور جلدی سے اٹھالیا۔ وہ دوبارہ بولے :ادب سے قدموں آگیا۔ میں اسلام کیبارے میں بہت کچھ پڑھ چکاتھا۔ میں نے اس نالائق سے کہا کہ اگر میں تجھے اٹھا کردے ماروں توخدا تو میں ہوں گا،اسلئے جوطاقتور ہوتا ہے وہ خدا ہوتا ہے، میں نے دو چار گالیاں دیں اور چلا آیا۔
مجھے مسلمان ہونے کی بے چینی تھی اور موت کا کھٹکا تھا ۔ میں نے ایک ملاجی سے ذکرکیا، وہ مجھے ایک قاضی جی کے ہاں لے گئے۔قاضی جی نے کہا :مسلمان تو ہم تمہیں کرلیں گے مگر دو ہزار روپے فیس ہوگی۔ میں نے کہا کہ مجھے مسلمانوں کا اسلام نہیں چاہیے میں تو محمد صاحب والا اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ اگر محمدصاحب نے کسی کو مسلمان کرنے کے لئے پیسے لئے ہوں تو آپ بھی لے لیں۔جب انہوں نے کبھی ایک پیسہ نہیں لیا تو آپ کیسے پیسے مانگتے ہیں؟ دوہزار کی رقم زیادہ بڑی نہیں مگر مجھے وشواس نہ ہوا۔ میں وہاں سے بھی واپس آگیا ۔
اگلے روز ایک مسجد کے سامنے سے گزر رہاتھا تو صاف ستھرے کپڑوں میں ایک مولوی صاحب مسجد کی طرف جاتے دکھائی دئیے ، بعد میں ان سے تعارف ہوا۔ ان کانام مولوی عبدالسمیع قاسمی تھا۔ میں نے ان سے کہا :مجھے اسلام کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنی ہیں۔ پہلے تو وہ ٹھٹکے ، بعد میں وہ تیار ہوگئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ اسلام کے بارے میں ، میں نے پچاس سے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ آخری حج کو گئے تو ان کے ساتھ سوا لاکھ ساتھی تھے۔ آپﷺ نے سب کو اکٹھا کرکے ان سے سوال کیا کہ میں نے اسلام تم تک پہنچایا ۔ سب نے کہا کہ بالکل پنچا دیا۔ حضرت محمدﷺ نے کہا کہ اب جویہاں سے غائب ہیں،یہ اسلام تمہیں ان تک پہنچانا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جن مسلمانوں تک اسلام پہنچ چکا ہے ، وہ دوسرے انسانو ں تک پہنچانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مولوی صاحب! آپ مجھے ایسے دو چار لوگوں سے ملوائیں جودین کو دوسروں تک پہنچانے کاکام کررہے ہیں۔ مولوی صاحب بولے: ایسے لوگ بھی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ کام توسارے مسلمانوں کو کرناچاہیے ، مگر مجھے ایک مسلمان بھی نہیں ملا۔ میں خود اسلام لانا چاہتا ہوں ، چار بڑے مولویوں نے مجھے دھکے دے دئیے ہیں ۔ مولوی قاسمی نے کہا کہ آپ کو ایک آدمی کا پتا بتا تا ہوں ، آپ پھلت چلے جائیں ۔ میں نے ان کا پورا پتا اورفون نمبر مانگا۔ انہوں نے کہا کہ فون نمبر میں ابھی معلوم کرکے دیتا ہوں۔ ناگلوئی (دہلی) کے کسی مولوی صاحب کو انہوں نے فون کیا اور مولوی کلیم نے کہا کہ ہمارے چوہدری صاحب اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں ۔ مولوی صاحب نے کہا :ان کو آج شام تک پھلت بھیج دیں۔ میں نے کہا :فون پر مجھ سے بات کروادو، انہوں نے فون مجھے دے دیا۔ میں نے بات کی۔ مولوی صاحب نے کہا : آپ جب بھی آئیں ، ہمارے اتتھی (مہمان) بلکہ آدرنیہ اتتھی(معزز مہمان) ہوں گے۔ میں سیوا(خدمت) کیلئے ہرسمے (وقت) حاضر ہوں ۔ میں نے کہا :بہت بہت دھن واد (شکریہ) مجھے بڑا عجیب لگا۔ پہلی بار ایک آدمی سوڈیڑھ سو کلومیٹر دور میر ا ایسا سواگت (استقبال) کررہاتھا ۔
میرے لئے تو ایک ایک منٹ مشکل ہورہاتھا ۔ میں نے اسی روز 27ستمبر2004ء کوسورج غروب ہونے تک پھلت پہنچ گیا ۔ مولوی کلیم صاحب نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے، میں بیٹھک میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ مولوی صاحب آئے تو میں نے ملاقات کی۔ مولوی صاحب بہت خوشی سے ملے۔ ان کے ہاں باہرسے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے ،جومکان کے اوپر والے کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ تھوڑی دیر میں مولوی صاحب نے مجھے بھی وہیں بلا لیا۔ مجھ سے پیار سے سوال کیا: میرے لئے سیوا(خدمت) بتائیے ۔ میں نے کہا : میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا : بہت مبارک ہو، جوسانس اندر چلاگیا ، اس کے باہر آنے کا اطمینان نہیں اور جو باہر نکل گیا اس کے اندر جانے کا بھروسا نہیں، اصل میں تو ایمان دل کے وشواس(یقین) کانام ہے۔ آپ نے ارادہ کرلیا،دل سے طے کرلیا کہ مجھے مسلمان ہونا ہے تو یہ کافی ہے، مگر اس سنسار(دنیا) میں ہم لوگ دل کے حال کوجان نہیں سکتے، اس لئے زبان سے بھی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے ۔ آپ جلدی سے دو لائن جس کو کلمہ کہتے ہیں پڑھ لیجئے۔ میں نے کہا: مجھے ایک بات پہلے بتائیے کہ مسلمان ہوکر کیا مجھے بیوی کوچھوڑنا پڑے گا۔ مولوی صاحب نے کہا :واہ صاحب!آپ کیسے مسلمان ہوں گے،جواپنے جیون ساتھی کوچھوڑیں گے۔ آپ چھوڑنے کی بات کرتے ہیں، اگر آپ سچے دل سے مسلمان ہورہے ہیں توآپ کو اپنی بیوی کو بھی سورگ(جنت) تک ساتھ لے جانا پڑے گا ، بلکہ اس سارے سنسار کو نرک سے بچاکر سورگ لے جانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلویہ اچھے آدمی ملے ہیں۔ مولوی صاحب نے مجھے کلمہ پڑھایا۔ہندی میں ارتھ (مطلب ) بھی کہلوایا اور بتایا کہ تین باتوں کا آپ کوخیال کرنا ہے : ایک یہ کہ ایمان اس جانے کیاکیاکہتے ہیں، مگرمیرا مالک جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں یانہیں اور اسلام وہ ہے جو دلوں کے بھید جاننے والے کو قبول ہوجائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس دنیامیں بھی ایمان کی ضرورت ہے اور وہ آدمی جوایک مالک کوچھوڑ کر دوسرے کے آگے جھکے، کتے سے بھی زیادہ کیا گزرا ہے، کیونکہ کتا بھی بھوکاپیاسا اپنے مالک کے در پر پڑا رہتا ہے ۔وہ آدمی کتے سے بھی بدتر ہے جو در در جھکے۔ اصل ایمان کی ضرورت موت کے بعد پڑے گی جہاں ہمیشہ رہنا ہے ، اس لئے موت تک اس ایمان کو بچا کر لے جانا ہے۔
تیسری سب سے ضروری بات یہ ہے کہ یہ ایمان ہماری آپ کی ملکیت نہیں، بلکہ ہمارے پاس ہر اس انسان کی امانت ہے جس تک ہم اسے پہنچا سکتے ہیں۔ اب اگر مالک نے ہمیں راستہ دکھا دیا ہے توہمیں سارے خاندان،دوستوں اورجاننے والوں تک اس سچائی کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ میں نے کہا: مولوی صاحب ! آپ سچ کہتے ہیں ۔ میں اصل میں خوف اور لالچ سے مسلمان ہورہا ہوں ۔ ’’ مرنے کے بعد کیا ہو گا ؟ ‘‘ ’’دوزخ کا کھٹکا ‘‘ اور ’’ جنت کی کنجی‘‘ کتابوں میں، میں نے جوکچھ پڑھا ،فلم کی طرح میرے دل و دماغ میں گھومتا رہاہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ میں نے اتنے ظلم کئے ہیں ، موت کے بعد کیاہوگا ۔اب میں آپ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ اسلام میں مالک نے جن کاموں سے روکاہے، پوری جان لگاکر ان کاموں سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ شایدمالک کے سامنے جانے کے قابل ہوجاؤں۔ میں نے مولوی صاحب کوبتایا کہ یہ بھی اچھا ہوا کہ میں نے اسلام کوپڑھ کر مسلمان ہو نے کافیصلہ کیا ، مسلمانوں کودیکھ کر نہیں۔ آج کے مسلمانوں کو دیکھ کر کون مسلمان ہوسکتا ہے ؟میرے چاروں طرف بہت سے مسلمان رہتے ہیں۔ ہمارے ایک کرایہ دار کا سید غلام حیدر نام ہے ۔نماز بھی نہیں پڑھتا ۔میں نے اس سے ایک بار کہا :تم ہرمہینے میرے بابا کو کرایہ دیتے ہوں، اگر تم ان سے مسلمان ہونے کو کہو توکیاخبر وہ مسلمان ہوجائیں ۔اوراگر وہ مسلمان ہوجائیں گے توہمارا پوراخاندان مسلمان ہوجائے گا۔ وہ بولے: تمہارے بابا علاقے کے پردھان ہیں ۔اگر میں نے ان سے کہہ دیا تو وہ ہمارا جینا مشکل کردیں گے۔ میں نے کہا: تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، میرے بابا سے ڈرتے ہو ، اس لئے بابا نے کسی دن دیکھ لیا تو وہ تمہارا کرایہ معاف کردیں گے۔ تمہارے مزے ہوجائیں گے۔ میرے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ بڑی لڑکی کی شادی میں نے کردی ہے ۔ ہمارا سماج اصل میں پٹھانوں سے بہت ملتا جلتا ہے ، بہت شرم وحیاء ہے ، مردوں کا باہر رہنا اور عورتوں کااندر، یہ ہمارے یہاں کادستور ہے ۔میں اپنی ماں کے سامنے اپنی بیوی سے آج تک بات نہیں کرسکتا۔ ماں بیٹھی ہوگی تو میں اسکوہی کام بتاؤں گا۔ وہ کبھی کہتی بھی ہے کہ یہ تیری پانچ ہاتھ کی بیوی ہے تو اس سے کیوں نہیں کہتا؟ میں کہتا ہوں :ماں ! جب تو مرجائے گی تب اس سے کہوں گا۔
اب میں نے مکمل اسلامی اصولوں پرزندگی گزارنے کافیصلہ کیا ہے۔میں شراب کا بہت عادی تھا، جب سے میں نے کلمہ پڑھا ہے عہد کیا ہے کہ اب زندگی بھر نہ پینی ہے اورنہ کسی کوپلانی ہے اورنہ پینے والوں کے ساتھ بیٹھنا ہے ۔ مالک کاکرم ہے کہ کسی دوست نے بھی میرے سامنے نہیں پی، حالانکہ کسی کومعلوم بھی نہیں ہے کہ میں نے چھوڑ دی ہے یا اسلام قبول کر لیاہے۔ میری بیوی میری ماں کی طرح کٹر دھارمک(مذہبی) ہے۔ جب مولوی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ اسکواپنے ساتھ جنت میں لے جانا ہے تومیں نے بتا یا کہ وہ تو کٹر ہندو ہے۔جس روز گوشت کھاکر آتا ہوں ، گھر میں گھسنا مشکل کردیتی ہے۔ نہ جانے اسکو کیسے خوشبو آجاتی ہے ۔مولوی صاحب نے کہا کہ کٹر ہندو سچی مسلمان ہوتی ہے۔ انسان اپنے مالک کو خوش کرنے کیلئے ہی دھرم کی پابندی کرتا ہے۔ اگر آپ اس کوسمجھادیں کہ یہ راستہ غلط ہے اور سچا راستہ اسلام ہے۔ تواسلام پربھی وہ بہت سختی سے عمل کرے گی۔ میں نے پھلت میں مولوی صاحب کے بھانجے کے موبائل سے اس کوبتا دیا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں تو وہ بہت ناراض ہوئی۔ میں نے یہ کہہ کر بات بندکردی کہ میں دوسرے کے موبائل سے فون کررہاہوں۔اگلے روز صبح کومیرے مقدمے کی تاریخ تھی۔ مجھے وکیل سے بھی ملنا تھا اسلئے رات کومولوی صاحب نے اپنی گاڑی سے کھتولی پہنچا دیا۔ رات کو بارہ بج کر45منٹ پرگھر پہنچا۔ مہارانی جی غصے میں بھری بیٹھی تھی۔ دھکے دینے لگی، بار بار گالیاں دیں ، 25سال کا ادب بھول گئی۔ کہنے لگی کہ تو دھرم بھر شٹ(برباد) کرکے آیاہے، تومیرا کیالگتا ہے ،بھاگ جا ،نہ جانے کیاکیاکہا۔ صبح تک لڑائی ہوتی رہی۔ مولوی صاحب نے
تویہ سب کوبتا دے گی، اسلئے میں نے آخری تیر کے طور پر اس کااستعمال کیا۔ میں نے اس سے پوچھا :تو اصلی ہندو ہے یا نقلی؟ اس نے کہا :اصلی ہوں، بالکل اصلی۔ میں نے کہا کہ اگراصلی ہندوہے اور میں اسلام کی چتا میں جل رہاہوں توتجھے بھی میرے ساتھ ستی ہوجانا چاہیے۔ تیر نشانے پرلگ گیا ،وہ چپ ہوگئی۔ دیرتک ہچکیوں سے روتی رہی۔ میں اس کے قریب گیا ، پیار کیااور دکھ سکھ اور جیون مرن میں ساتھ دینے کے وعدوں کی دہائی دے کر مسلمان ہونے کیلئے کہا۔ وہ تیار ہوگئی، ٹوٹا پھوٹا کلمہ پڑھوایا اور صبح فجر کی نمازہم دونوں نے ایک ساتھ پڑھی۔ بیوی کے مسلمان ہونے کی اپنے مسلمان ہونے سے زیادہ خوشی ہوئی۔ مجھے مولوی صاحب کی ہربات سچی لگنے لگی۔ انہوں نے ہی کہاتھا کہ بیوی کوچھوڑنے کی بات کاکیا مطلب؟ اس کوتو جنت تک ساتھ لے جانا ہے۔
ہمارے علاقے میں ایک مولوی صاحب مسجد میں امام ہیں، میں روزانہ رات کو ان کے پاس جاتا ہوں۔مجھے جماعت میں جانا ہے مگر مقدموں کی تاریخوں کی وجہ سے ابھی مجبور ہوں۔ میں نے اپنی بڑی لڑکی اور داماد کوبھی ’’ مرنے کے بعد کیاہوگا؟‘‘اور’’ آپ کی امانت آپ کی سیوامیں‘‘ پڑھنے کیلئے دی ہے۔
مجھے مسلمانوں سے صرف یہ کہنا ہے کہ یہ دین جب امانت ہے ، جیساکہ مولو ی صاحب نے ’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا ‘‘کتاب میں لکھا ہے توپھر اسے سارے سنسار تک پہنچا نا چاہیے ۔ آج کے دور میں اسلام پہنچانا بہت مشکل ہے۔ میں لاکڑ جاٹ ہوں۔ جاٹ قوم کی سائیکا لوجی اچھی طرح جانتا ہوں ۔ جاٹ بہت لالچی ہوتا ہے اور لالچی سے زیادہ ڈرپوک ہوتا ہے ، خصوصاً جیل اور سزا سے جتنا جاٹ ڈرتا ہے ، شاید دوسرا کوئی نہیں ڈرتا۔ اگر ’’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ‘‘ اور ’’دوزخ کا کھٹکا ‘‘ ہندی انوداد (ترجمہ ) کرکے جاٹوں تک پہنچایا جائے اور قرآن مجید میں جنت ودوزخ کاجو ذکر ہے انکو سنایا جائے تو جاٹ کے سارے مسلمان ہو جا ئیں گے ۔ اس سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ جب دین امانت ہے اور مالک کے سامنے حساب دینا ہے تو اس کا بھی حساب ہوگا کہ اس کو پہنچایا یا نہیں ، اسلئے دین کو دوسرو ں تک پہنچانا نہ صرف یہ کہ دوسروں کیلئے ضروری ہے ، مرنے کے بعد کے جواب سے بچنے کیلئے خود مسلمانوں کیلئے ضروری ہے ۔
(مستفاد از ماہنا مہ ’’ضیائے آفاق لاہور‘‘ نومبر2010ء)
فاتحہ خلف الاما م اور احناف کا مسلک حق
قسط سولہویں (شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا سید محمد حسین شاہ صاحب نیلوی ؒ )
* اس لئے اب ہم بطور اختصار صحابہ کرامؓ اور انکے بعد تابعین ؒ و تبع تابعین ؒ وغیرھما کے اسماء گرامی مع حوالہ کتب جدول کی صورت میں تحریر کررہے ہیں، جنمیں انہوں نے قرأت خلف الامام سے منع فرمایا ہے۔
جدول مانعین قرأۃ خلف الامام
عدد اسمائے گرامی صحابہ کرامؓ حوالہ
عدد اسمائے گرامی من بعدالصحابہ حوالہ

امیر المؤمنین سیدنا امام ابوبکر صدیقؓ حاشیہ نسائی:۸۲۱ و عمدۃ القاری۳/۷۲ ۲ امیر المؤمنین سیدنا امام عمرؓ مصنف ابن ابی شیبہ جلد۱ صفحہ:۶۷۳و موطاامام محمد ۱/۲۰۱ ۳ امیر المؤمنین سیدنا امام عثمانؓ حاشیہ نسائی :۸۴۱ وعمدۃ القاری۳/۷۲ ۴ امیر المومنین سید ناامام علیؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۶۷۳ ۵ سیدنا ابوالدرداءؓ سنن نسائی :۶۴۱ وکنزالعمال ۸/۹۸۲ ۶ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ صحیح مسلم:۴۷۱ ۷ سیدنا ابوسعید خدریؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۸ سیدنا ابو ہریرہؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۹ سیدنا انس بن مالکؓ کنزالعمال ۸/۳۹۳ ۰۱ سید نا جابر بن عبداللہؓ جامع ترمذی :۰۵ و مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۶۷۳ و ۷۷۳ وکنزالعمال۸/۸۸۲ ۱۱ سید نا حذیفۃ بن الیمانؓ شرح المقنع لابن قدامہ ۲/۱۱ ۲۱ سیدنا زید بن ثابتؓ صحیح مسلم :۵۱۲و مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۶۷۳ و۷۷۳ و موطااما م محمد :۲۰۱ ۳۱ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۶۷۳وموطاامام محمد:۱۰۱ ۵۱ سید نا عبداللہ بن عباسؓ کنز العمال ۸/۱۹۲ و فتح الباری ۲/۱۱۲ ۶۱ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کنزالعمال ۸/۲۹۲ و موطاامام مالک :۹۲ و موطا اما م محمد :۹۹ ۷۱ سید ناعبداللہ بن مسعودؓ مجمع الزوائد :۰۱۱ وکنزالعمال ۸/۲۹۲ ۸۱ سید نا عبداللہ بن عمرؓ و کنز العمال ۸/۲۹۲ ۹۱ سیدنا عبداللہ بن بحینہ کنز العمال ۸/۲۹۲ ۰۲ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ عمدۃ القاری ۹/۷۶ وحاشیہ نسائی :۸۴۱ ۱۲ سیدنا عقبۃ بن عامرؓ شرح المقنع لابن قدامہ ۲/۱۱ ۲۲ سیدنا عمران بن حصینؓ کنز العمال ۸/۸۸۳ و مصنف ابن ابی شیبہ۱/۶۷۳ ۱ ابراہیم بن یزید نخعیؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۲ ۲ ابن ابی لیلیٰ مؤطا امام محمد :۹۹ ۳ ابن حبیبؒ تفسیر قرطبی۱/۹۱۱ ۴ ابن عبدالحکیمؒ تفسیر قرطبی۱/۹۱۱ ۵ ابن وہبؒ تفسیر قرطبی۱/۹۱۱ ۶ ابن خثیم ؒ تلمیذابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۷ ابوالاحوصؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۸ ابو السائبؒ سنن ابن ماجہ :۱۶ ومؤطا اما م محمد :۵۹ ۹ ابوعبیدۃ بن عبداللہ بن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۰۱ ابوعمروالشیبانی ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳

* ا س جدول میں سید نا عبداللہ بن مسعودؓ کے پندرہ تلامذہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی بھی شامل ہیں ، جوکہ حضرت علامہ ذہبیؒ نے سیرا علام النبلاء ۱/۲۶۴ میں تحریر فرمائے ہیں ۔ جبکہ ان بزرگوں کانام لئے بغیر حضر ت مالک بن عمارہ نے فرمایا ہے کہ سیدنا ابن مسعودؓ کے تمام شاگردوں کا یہی مسلک ہے کہ امام کے پیچھے قرأت نہ کی جائے۔ اس لئے سیدنا ابن مسعودؓ کے لاتعداد شاگردوں میں سے پندرہ مشہور تابعین کے نام ہم نے مندرجہ بالا فہرست میں شامل کردئیے ہیں۔
خلاصہ:۔
یہ کہ ’’قرأت خلف الامام ‘‘ یا ’’ فاتحہ خلف الامام‘‘ کے معاملے میں عہد صحابہؓ و تابعین ؒ وتبع تابعین ؒ مشہود لہا بالخیر میں ہی تین مسلک تھے۔
(۱) تو بعض کے پیچھے ہرسری وجہری نماز کے ہر رکعت میں قرأت کرتے تھے، مثلاً سیدنا عبادۃ بن
فاتحہ اور اس سے زیادہ دو تین آیتیں یا سورت بھی پڑھا کرتے تھے ، جبکہ بعض روایات میں صرف سورۃ فاتحہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ امام کے پیچھے ’’ ام الکتاب‘‘ تو ضرور پڑھتے تھے، جو قرآن پاک کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے ایک عظیم الشان سورت ہے ، یہ سورت نزولی اعتبا ر سے تو پانچویں ہے،لیکن قرأت کے لحاظ سے اسے پوری ایک سو چودہ سورتوں میں اولیت حاصل ہے
(۔۔۔جاری۔۔۔)
۲۱
ابووائلؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ وموطا امام محمد:۹۹ ۳۱ ابو یوسف قاضی تفسیر قرطبی ۱/۹۱۱ ۴۱ اسود بن یزیدؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۵۱ اسودؓتلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۶۱ اشہب ؒ تفسیر قرطبی ۱/۹۱۱ ۷۱ حسن بصری ؒ حاشیہ مؤطا امام محمد :۹۹ ۸۱ حمادؒ حاشیہ مؤطا امام محمد :۹۹ ۹۱ ربیع تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۰۲ زربن جیش ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۱۲ زید بن اسلم ؒ کنزالعمال۸/۲۹۲ ۲۲ زید بن وہبؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۳۲ سعید بن جبیر ؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۴۲ سعید بن مسیبؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۵۲ سفیان بن عینیہؒ سنن ابی داؤد :۶۲ ۶۲ سفیان ثوریؒ شرح المقنع لابن قدامہ ۲/۱۱ ۷۲ سوید بن غفلہؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۸۲ شعبیؒ دارقطنی :۵۲۱ ۹۲ ضحاکؒ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۰۳ طارق بن شہاب ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۲۳ عبیدۃ ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۳۳ علقمہؒ تلمیذ ابن مسعودؓ جامع المسانید ۲/۰۲۳ ومؤطا اما م محمد :۰۰۱ ۴۳ عمرو بن میمون ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ جامع المسانید ۲/۰۲۳ ۵۳ قاسم بن محمدؒ فقیہ مدینہ مؤطا امام محمد :۹۹ ۶۳ قیس بن ابی حازم ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۷۳ لیثؒ قلائد الازہار ۲/۵۴ ۸۳ محمد بن حسن شیبانیؒ تفسیر قرطبی ۱/۹۱۱ ۹۳ محمدبن سیرینؒ شرح المقنع لابن قدامہ ۲/۱۱ ۰۴ محمدبن مسلمابو الزبیر مکیؒ بنایہ :۹۰۷ ۱۴ مسروق ؒ تلمیذ ابن مسعودؓ مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۷۷۳ ۲۴ موسیٰ بن عقبہؒ قلائد
الازہار ۲/۲۱ و ۲۴
شرک کی قسمیں
(قسط ہفتم) مولاناحکیم عبدالخالق
ٍ اللہ تعالیٰ جب چاہے نبی کیلئے کوئی فرق عادت امر ظاہر کردے ۔ نہ چاہے تو ظاہر نہ کرے اگر معجزات انبیاء کرام ؑ کے اختیار میں ہوتے توعملی زندگی میں انہیں کوئی مشکل پیش نہ اتی ۔
(۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مشہو ر معجز ہ ہے کہ عصاسانپ بن گیاتھا ۔ مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ جب رات کے اندھیرے میں وہ عصاسانپ بن گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام خوفزدہ ہوگئے اور پیٹھ دے کر بھاگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ڈریے نہیں اس کو پکڑلے میں اس کو پہلی حالت پر لوٹادوں گا ۔
توجہ فرمائیے! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اختیار سے وہ معجزہ ظاہرفرمایا تھا تو پھر ڈ ر کر بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ؟
اگر اس عصا ء کو سانپ بنانا ان کے اختیار میں تھا تو پھر جادوگروں سے مقابلہ کے وقت اندر ہی اندر ڈر کیوں رہے تھے ؟پھر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی : ’’ لاتخف انک انت الاعلیٰ ‘‘ (سورۃطہ:۸۶) ’’ ڈرئیے نہیں آپﷺ ہی کامیاب اورفاتح ہونگے‘‘
گرامی قدر قارئین ! یہ بات ذہن میں رکھیں کہ معجزہ تو ایک مخصوص وقت کیلئے ظاہر ہوتا ہے جب کہ نبی کی عام عادی زندگی ماتحت الاسباب گزرتی ہے ۔
(۲) حضرت یعقوب علیہ السلام کو مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرُتے کی خوشبو آگئی یہ ان کا معجزہ تھا اور کنعان کے کنویں میں پڑے حضرت یوسف علیہ السلام کا پتہ نہ چلا یہ ان کی عام عادی زندگی تھی ۔ اسی طرح پیغمبر علیہ السلام الصلوۃ والسلام کی عملی زندگی میں غور فرمائیں۔
(۳) بار ہا آپ کی دعاء سے پانی ، دودھ اور کھانے میں برکت پیدا ہوگئی یہ معجزہ تھا ۔ دوسری طرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں افلاس کے ڈیرے ہیں دل کڑھتا ہے ۔ یہ عام عادی زندگی ہے۔
(۴) طے زمان ومکان کا یہ عالم ہے کہ معراج کی رات آناً فاناً مسجد اقصیٰ میں پہنچ گئے اور پھر وہا ں سے ہجرت کے سفر میں مکہ سے مدینہ کے لئے کئی دن لگ گئے اور پاؤ ں مبارک زخمی ہوگئے۔
(۵) شفاء امراض کا معجزہ ہے کہ حضرت علیؓ کی آنکھ میں لعاب دہن لگایا توفوراً شفاء ہوگئی۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی ایڑی پر یہی لعاب لگایا تو سانپ کے زہر کے اثرات کافور ہوگئے ۔ دوسری طرف یہ عالم ہوگئے کہ خیبر میں کھائے جانے والے زہر سے خود مدت العمر متاثر رہے اور اسکی تکلیف وفات تک محسوس فرماتے رہے۔
(۶) مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر خفیہ مشورہ کرنے والے عمیر بن وہب اور صفوان بن امیہ کے خفیہ مشورہ کا علم ہوجاتا ہے ۔ دوسری طرف یہ عالم ہے کہ چھ میل کے فاصلہ پر مکہ مکرمہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ زند ہ موجود ہیں اور آپ حدیبیہ میں بیٹھ کر ا ن کے قصاص کیلئے صحابہؓ سے بیعت لے رہے ہیں۔
(۷) حفاظت کا یہ عالم ہے کہ سفر ہجرت میں حملہ آور سراقہ کا گھوڑا بار بار زمین میں دھنس جاتا ہے اور سراقہ ارادہ بد میں ناکام ہوتا ہے ۔ دوسری طرف غزوہ اُحد میں ابن قمیہ کے وار سے چہرہ مبارک زخمی ہوجاتا ہے۔
(۸) مدینہ منورہ میں بیٹھ کر کسریٰ شاہ ایران کی موت کی خبر دے دی ۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ مسجد نبوی کی خادمہ انتقال کرگئی اور اس کی موت کا پتہ نہ چلا۔
(۹) خندق کھودنے کے موقعہ پر چٹان کو ضرب لگائی تو اس سے چنگاری پیدا ہوئی تو فرمایا کہ میں نے ایران اور روم کے محلات دیکھ لئے ۔ دوسری طرف یہ عالم ہے کہ یہی خندق کا موقع ہے ۔ رات کے وقت خندق کے اس پار کفا ر کے حالات معلوم کرنے کیلئے حضرت حذیفہؓ کو سخت سردی میں روانہ فرمارہے ہیں۔
(۰۱) منافق کو گم شدہ اونٹنی بتا دی کہ کہاں ہے ۔ دوسری طرف سفر میں حضرت عائشہؓ کا ہار گم ہوگیا ۔ نما زمیں دیر ہوگئی۔ صحابہؓ کوتلاش کرنے کیلئے بھیج رہے ہیں ۔ ہار نہ مل سکا نا چار روانگی کا قصدفرمایا تو حضرت عائشہؓ کے اونٹ کے نیچے سے ہار مل گیا۔
(۱۱) ابو جہل کے ہاتھ میں بے جان کنکریاں کلمہ پڑھ رہی ہیں ، دوسری طرف ساری عمر کوشش کرنے کے باوجود چچا کو کلمہ نہ پڑھا سکے۔
دوسری طرف عبداللہ بن اُبیّ کے زہریلے کلمات کی خبر نہیں اور حضرت زید بن ارقمؓ کو جھوٹا قرار دے دیا۔
(۳۱) با رہا صحابہ کرامؓ کو انکی شہادت کی اطلاع دے دی۔ دوسری طرف اپنی موت کے بارے میں علم نہیں ہے ، فرمایا:۔ ’’ انی لا ادری ما بقانی فیکم ‘‘ ’’ مجھے پتہ نہیں کہ کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا ‘‘
(۴۱) ایک طرف یہ معاملہ کہ شارہ سے چاند دوٹکڑے ہوگیا ۔ دوسری طرف یہ حالت کہ جنگ میں تلوار لئے زرہ پہنے خود پہنے کھڑے ہیں ۔ا سباب استعمال کرتے ہیں مگر اشارہ سے کافروں کو دوٹکڑے نہیں کرتے۔
(۵۱) حضرت عمرفاروقؓ کی مشہور کرامت ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں کھڑے ساریہ کے لشکر کودیکھ رہے ہیں اور اسے ہدایات دے رہے ہیں ۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ محراب نبویﷺ میں قاتل چھپا ہوا ہے اسے نہ دیکھ سکے اور اس کے وار کا شکا ر ہوگئے۔
ناظرین گرامی!
خوف طوالت سے اسی پر اکتفاء کرتا ہوں ، میں نے آپ کوسوچنے کا انداز بتا دیا ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں گے تو اس قسم کی سینکڑوں مثالیں آپ کو مل جائیں گی ا ن شاء اللہ تعالیٰ۔
اللہ تعالیٰ کی عبادات میں شرک
عبادت کامفہوم:۔

لفظ عبادت کی اگر لغوی تحقیق کی جائے اور علماء لغت اور مفسرین کرام کے اقوال کو دیکھا جائے تو دو چیزیں سامنے آتی ہیں ۔
(۱) انتہائی درجے کی ذلت و مسکنت کا اظہار
(۲) اعلیٰ درجے کی عظمت وبڑائی کا اعتراف
یعنی جوعبادت کررہا ہے اس کی طرف سے انتہائی عاجزی وبندگی کا اظہار ہو اور جس کی عبادت کی جارہی ہے اس کے لئے انتہائی تعظیم ۔ بڑائی اور ادب کا اظہار ہو۔ (۔۔۔جاری۔۔۔)
توہین رسالت قانون ختم کرنے کاناپاک یہودی عزم
جمال الدین روغانی ، واڑی دیربالا
واحسن منک لم ترقط عین واجمل منک لم تلدا لنساء
خلقت مبرواً من کل عیب کانک قد خلقت کما یشاء
آج پاکستان میں ناموس رسالت ﷺ کے بارے میں مختلف قسم کی واقعات رونما ہوجاتے ہیں ۔دل تو چاہتا ہے کہ اس عظیم موضوع پر بہت کچھ لکھوں لیکن میں صرف مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرواناچاہتا ہوں ،کہ آخر یہ کیا ہورہاہے ؟ اور کیوں ہورہاہے؟
مثلاً بلب جب روشنی دیتا ہے تو جب تک اُس کے پیچھے بجلی کاکرنٹ نہ ہو تو اس وقت تک یہ بلب روشنی نہیں دے سکتا، اس مثال کہنے کامقصد صرف اتنا ہے کہ یہ واقعات جورونماہورہے ہیں کیا اس کے پیچھے بھی کوئی ایسی طاقت ہیں جومسلمانوں کی جذبات کو مجروح کررہی ہیں ۔آئیں دیکھتے ہیں ان کاحال! اسلام کے دشمنوں نے نینسی چے پال کوجس مشن پر پاکستان بھیجاتھا اُس میں اسے تقریباً ۰۷ فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مشن میں دو ایجنڈے کامیاب ہوچکے ہیں ۔اس مشن کاتیسرا ایجنڈا توہین رسالت قانون اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس تھا ۔یہ مشن۷۰۰۲ ء میں شروع ہونا تھا اور ۸۰۰۲ء تک اسے مکمل کرناتھا ۔لیکن مارچ۷۰۰۲ء میں اس وقت کا صدر پاکستان(پرویزمشرف) کی حکومت سنگین حالات کاشکار ہوگئی اور بالآخر عوامی سطح پر شدیدترین مخالفت کی بناء پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی صدارت چھوڑنے کااعلان کرناپڑا جسکی وجہ سے یہو د کایہ مقصد پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اسلام کے دشمن اپنے اس خفیہ منصوبے کوہرحال میں کامیاب کروانا چاہتے ہیں ۔ اس مقصد کیلئے یہ طے پایاہے کہ۹۰۰۲ء سے ۲۱۰۲ ء تک تین سالوں میں یہ اہم ترین قانون ’’توہین رسالت‘‘ جوکہ مسلمانوں کے ایمان کاحصہ ہے اور ہرمذہب میں اس کواحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے ،ختم یاغیر موثرکروایا جائے گا اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ تیار ہوچکی ہیں جس کا آغاز گوجرہ، سمبڑیال اورڈسکہ کے سانحات سے کیاگیا۔ اس طرح دیوبندی بریلویوی میں بھی افسوس کی بات ہے کہ بعض لیڈروں اور اہم شخصیات نے بھی اس قانون کے خلاف بیانات دئیے ہیں۔
مانچسٹر سے قادیانیوں کے رہنما برسرعام کہتا ہے کہ ’’اگرپاکستان میں ہمارے خلاف منظور کیاگیا قانون ختم نہ کیاگیا تو پھریہ ملک اس طرح جلتا رہے گا ۔اگرپاکستان سلامتی چاہتا ہے تو پھر یہ قانون ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بھی مرزائیوں کی ترجمانی کئی لوگ کررہے ہیں ۔ان کاکہنا ہے ۔توہین رسالت کاقانون ختم ہوناچاہیے ۔توہین رسالت قانون اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس کا قانون ختم کرنے کی سازش کا علم ہونے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا توہین رسالت قانون اتنی جلدی اور آسانی سے ختم ہوسکتا ہیں۔
آخر سازشی عناصر نے ایسا کون ساراستہ تلاش کرلیا ہے کہ انہوں نے اس قانون کو ختم کرنے کے لئے صرف تین سال کی ٹارگٹ رکھی ہے ۔آخر ایسا کونسا طریقہ ہے؟ جس پرچل کر صرف تین سال میں مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیاجاسکتا ہے ؟ اس عالمی سازش کے کرتادھرتا اور پلاننگ کے ماسٹر کے ذہن میں آخر ایسا کیاہے جوتمام عالم اسلام عرب وعجم کو خاموش کرواسکتا ہے ۔بظاہر آسان نظرآنے والے یہ سوالات بہت پیچیدہ ثابت ہوئے۔ ان کے جوابات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے طریقہ کار کی تہہ میں جانے کیلئے ہر اس لائن پر سوچنا تھا جس کی مدد سے مطلوبہ مقاصد بھی حاصل کئے جاسکے ہوں اورکس طرف سے کوئی آواز یا اعتراض بھی نہ اٹھا یاجاسکے ۔ اس کے علاوہ حقائق تک رسائی بھی بہت ضروری تھی ۔کسی بھی سازش منصوبہ یاپلان میں سب سے مشکل بات یہی ہوتی ہے کہ آخر اس کے پیچھے ماسٹرکے ذہن میں کیا ہے اور کس راستے کاا نتخاب کرے گا ؟ان سوالوں کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جب تحقیقات کی گئی تویہ بات سامنے آئی کہ اس قانون کو چونکہ ایک دم ختم کرنا بہت مشکل ہے ۔
لہٰذا اسے غیر موثر کرنے کی سازش پر عمل کیا جاسکتا ہے اس مقصد کیلئے اس پر نظرثانی ’’ریویو‘‘ کے نام پر سرد خانے میں ڈالا جاسکتا ہے ۔جس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوجائیں گے ۔یعنی عوام اور مذہبی رد عمل سکتے۔ آخر ہم مسلمان ہیں ۔لیکن اس کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اس قانون پر از سر نو نظرثانی کی ضرورت ہے اسکے بعد نظرثانی کے نام پر اس قانون کوالتواء میں ڈال دیاجائے ۔ تواس وقت تک عدالتیں اس قانون کے مطابق سزائیں نہ دے سکیں گی جب تک اسے نظرثانی کے بعد پارلیمنٹ سے منظور نہ کروا لیاجائے۔
نظرثانی کایہ عمل طویل سے طویل بھی ہوسکتا ہے اس دوران ہوسکتا ہے کہ گوجرہ سمبڑیال اور ڈسکہ جیسے واقعات بھی دہرائے جائیں اور روشن خیالی والے طریقہ کار کے مطابق بیانات ، ٹی وی ، مباحثے اور تقریبات کے ذریعے عوام کی برین واشنگ ’’ذہن صفائی‘‘ کرنے کی کوشش بھی کی جائے ’’ جیساکہ چند سال پہلے ’’ فلم خدا کے لئے‘‘ ٹی وی پرنشر ہوتی تھی ۔ یہ تھی بجلی کی وہ کرنٹ جوبظاہر تو نظر نہیں آتی لیکن بلب اس کی وجہ سے روشنی دیتا ہے ۔ یہ منصوبہ ۹۰۰۲ ء سے ۲۱۰۲ ء تک مکمل کرنے کا پلان ہے ۔
اے غیور مسلمانوں! آخر آج تمہیں کیا ہوا ہے کہ خاموش بیٹھے ہو اور دشمن کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہوں اور دشمن تماشائی بن کر یہ حالات بڑی خوشی سے دیکھ رہے ہیں ۔کیاکل روز محشر میں جناب رسول اللہﷺ سے آنکھیں نہیں ملاؤگے ۔
آخری گذارش!
آئیے اپنے باہمی اختلافات کو بلائیں اور سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اس دشمنی عناصر کا مقابلہ کریں۔۔۔ ورنہ اگر کڑی سے کڑی ملائی جائے تو اور بھی بہت سے خطرناک حالا ت سامنے آسکتے ہیں ۔جن کا اندازہ ہر شخص بخوبی لگاسکتا ہے۔
بقول شاعر
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجد بطحاء کی حرمت پر خدا شایدہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
نہ جب تھا نہ اب ہے نہ ہوگا میسر شریک خدا اور مثال محمدﷺ
نماز اچھا روزہ اچھی حج اچھا مگر باوجود اس کے میں مسلمان ہونہیں سکتا


پتنگ بازی کا آغاز اور انجام

مفتی نورالحق ، مدرس جامعہ ھادیہ کالنجر،نوشہرہ

یہ ان دنوں کی با ت ہے جب ہم دارالعلوم فیصل آباد میں درجہ اولیٰ پڑھ رہے تھے۔ اس وقت میرے ساتھ دو عزیز بھی تھے جو اب ماشاء اللہ بڑے بڑے نامی گرامی جامعات میں اللہ تعالیٰ اُن سے خدمات دین لے رہے ہیں۔(تقبل اللہ منا ومنھم)
دارالعلوم فیصل آباد سے متصل کشمیری پارک ہے ۔ دارالعلوم اور پارک کے درمیان صرف ایک چو ک ہے جو پہاڑی چوک سے معروف ومشہور ہے ۔ ہم چھٹی میں اور کبھی کبھار عصر کے بعد سیروتفریح کے لئے پارک جایاکرتے تھے ۔یہ موسم بہار کی آمد آور تھی ۔ ایک دن پارک میں عام معمول سے زیادہ اژدھام پایا۔ عام لوگوں کا کیاکہنا بعض ایم اینیز ، ایم پییز اور سرکاری عہدیداروں کوبھی پتنگ بازی اُڑانے اور جشن بہاراں منانے میں مشغول دیکھا۔ نیچے پارک لوگوں کی ہجوم سے کچا کچ بھرا ہواتھا۔ اور اوپر آسمان کی وسعتیں ان پتنگوں سے آٹی پڑی تھیں۔ ہرایک کامیاب پیچ لڑانے اوردوسرے کے ڈور کاٹنے والے کی داد میں ڈھول باجے بچتے، بھنگڑا ڈلتے، تالیاں بجتیں۔ خوب ہلاگلا اور شور شرابا ہوتا۔ دوسری طرف پارک کے جنوب میں مکانوں پر لڑکے اور لڑکیاں اپنے حیاء کو فضا میں اُڑانے میں مشغول تھے۔ درمیان میں کچھ نوجوان ہاتھوں میں بڑے بڑے بانس ، خاردار ٹہنیاں لئے ہوئے کٹے ہوئے پتنگوں کے پیچھے حواس باختہ کتوں کی طرح بھاگتے ۔ میں جب ان تیسرے طبقے کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے قوم حضرت لوط علیہ السلام کی وہ حالت یاد آجاتی ہے جس کے دوڑنے کے منظر کااللہ تعالیٰ نے یوں نقشہ کھینچا ہے ( وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ) کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جب ان چوکروں کو دیکھتے ۔ توحالت اضطراب میں نے اختیار دوڑے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے مسارعت کے بجائے اھراع کا لفظ لا فرمایا ۔اھراع میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی حواس باختہ ہوجاتا ہے ۔ اس کو احساس نہیں ہوتا کہ میرے قدم کہاں پڑرہے ہیں ۔ یہی حالت ان پتنگوں کے پیچھے بھاگنے والے نوجوانوں کی بھی ہوتی تھی ۔ ان کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ میرا والے کھیتی کو پاؤں تلے روند رہاہوں۔
وقت گزرتا رہا ۔ اُس وقت بھی میں نے یہ ایک شیطانی کھیل محسوس کیا ۔ کہ ہمارے دین کا اس سے دورکا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن ا س پتنگ بازی کی پوری حقیقت اس وقت واضح ہوگئی ۔ جب میں نے دارالافتاء والارشاد میں فقیہ العصر حضرت اقدس مفتی رشیداحمدلدھیا نویؒ کے ہاں تخصص فی الفقہ میں داخلہ لیا ۔ حضرت والا ؒ ہمارے تخصص کے سال حیات تھے ۔ وہاں پرضرب مومن اخبار کی وساطت سے معلوم ہوا کہ بسنت فقط ایک موسمی تہوار نہیں رہا ۔بلکہ اب ایک ہندوانہ مذہبی تہوار کے طور پرمنایا جاتا ہے ۔ اس موضوع پر ضرب مومن میں بہت سارے مضمون نگاروں نے تحقیقی مضامین لکھے جوبعد میں مستند تاریخی شہادتوں اور ہندو مصنفین کی تحاریر کے عکس کے ساتھ ’’بسنت کیاہے‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔ میں اپنے اس مضمون میں اس کتاب سے بھی استفادہ کرونگا ،مزید تحقیق کیلئے مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کریں۔
پتنگ بازی کی تاریخ:۔
ہندوستان میں پتنگ بازی کا فن صدیوں سے موجود تھا۔ پتنگ کی ایجاد کاسہرہ دو قومیں اپنی سرلیتی میں ہے:۔ (۱) چینی (۲) مصری ۔ چینیوں کادعویٰ ہے کہ پہلی بار پتنگ چارسو سال قبل مسیح چین میں بنائی گئی اور اُڑائی گئی۔ جبکہ مصریوں کادعویٰ ہے کہ پتنگ سازی فراعنہ کے دور میں موجود تھی ۔ مصری بطور ثبوت وہ تصاویر اور بُت پیش کرتے ہیں ۔ جن میں فرعون کو پتنگیں اُڑاتے دکھایاگیاہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ بعد میں یہ فن مصری تاجروں کے ذریعے چین پہنچا ہے۔ اگر ہم مصریوں کے دلائل تسلیم کرلیں تو پھر پتنگ بازی کی تاریخ پانچ ہزار سال قبل مسیح ہے ۔
بسنت مذہبی تہوا ر کیسے بنا:۔
یہ ۴۳۷۱ ء کا واقعہ ہے ۔ ہندوستان پر اُورنگزیب عالمگیر کی حکومت تھی ۔اُن کے دور حکومت میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ حقیقت رائے نام کے ایک ہندو لڑکے نے رسول اللہﷺ اورآپﷺ کے لخت جگر حضرت فاطمہؓ کی شان اقدس میں گستاخی کی ۔ ملز م کو عدالت میں پیش کیاگیا ۔تحقیق ہوئی جرم ثابت ہوا ۔ گستاخ کو سزائے موت سنائی گئی۔ چنا نچہ سزا کے طور پر گستاخ کو پہلے کوڑے لگائے گئے اور بعد میں ایک ستون سے باندھ کر گردن اُڑا دی گئی۔ اگلے سال ہندوؤں نے حقیقت رائے کی برسی منائی اور اس برسی میں پیلے کپڑے پہن کر اُنکے سمادھی پر اُن کے ساتھ اظہار عقیدت کے طور پر پتنگیں اُڑائی اور بسنت میلے کا آغاز ہوا۔
بسنت ہندوؤں کا مخصوص تہوار:۔
مایہ ناز مؤرخ وریاضی دان ابو ریحان البرونی نے۹۱۰۱ء اور ۰۲۰۱ ء میں ہندوستان کاسفرکیاتھا ۔ کتاب الہند (البرونی) مترجم سید اصغرعلی صاحب صفحہ:۸۳۲ پرلکھتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بسنت کا تہوا ر ہندوؤں کامخصوص تہوار ہے جوہزاروں سال سے ان کی عیدکے طور پر معروف چلا آرہا ہے ۔ اصل کتاب کاعکس ’’بسنت کیا ہے؟‘‘ نامی کتاب کے صفحہ:۹۹،۰۰۱ پردیکھ سکتے ہیں ۔
ہندومذہب کی کامیابی متعصب اور مسلم دشمن ہندو لیڈر بال ٹھاکرے کا طنزیہ بیان:۔
کہ پاکستان میں بسنت کا انعقاد ہندو مذہب کی کامیابی ہے ۔ مرنے والے ہمارے شہید ہیں ۔ مسلمان ہندو ثقافت اپنا لیتے تو لاکھوں زندگیاں بچ جاتیں۔ (ضرب مومن جلد۵ شمارہ:۹)
اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانی غیرت کو سامنے لاکر ، مردہ ضمیر کوجگاکر سوچئے اوراس کے یہ طنزیہ جملے باربار دہرائیے۔ کہ ایک خبیث ، متعصب منہ پھٹ ہندو کو یہ جرأت کیسی ہوئی کہ ہمیں اپنا سمجھنے لگے ، کس نے اس کویہ موقع فراہم کیا کہ ہم سے یہ اُمیدیں باندھنے لگے۔
عبرت آموز واقعہ:۔
ایک بچہ اپنے باپ کے آگے موٹرسائیکل پرسوارتھا ۔ پتنگ کی تنی ہوئی ڈور عین گلے پر آٹھہری ۔موٹرسائیکل کی رفتار نے اُسے چھری بنادیا اور بچے کے کٹے ہوئے گلے سے خون تیزی سے بہنا شروع ہوگیا۔ باپ جب تک موٹرسائیکل کا بریک لگاتا توخون سے لت پت جگر گوشہ ان کے گود میں آچکاتھا ۔
دوسرا واقعہ:۔
یہ جہلم کاواقعہ ہے کہ بجلی کی تاروں میں پتنگ اٹکی ہوئی تھی ۔چھت پر کھڑے ایک بچے نے جونہی پتنگ کے حصول کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔ہاتھ پتنگ کے بجائے ننگے تار پر پڑا۔ جتنی دیر میں گھر والے اُوپر پہنچتے ، تاروں میں جھولتابچہ کباب بن چکا تھا۔
تیسرا واقعہ:۔
ایک ہاکر (اخبار بھیجنے والا) جواپنے گھرانے کاواحد کفیل تھا ۔صبح سویرے موٹرسائیکل پر اخبار خرید کر تیزی سے آرہا تھا کہ پتنگ کی تنی ہوئی ڈور اس کے گلے پر آرے کی طرح کام کرگئی ۔ اس کواحساس ہوتے ہوئے ڈور کافی گہرائی میں جاچکی تھی۔ اُن کے کپڑے اور اخبار خون سے لت پت ہوچکے تھے۔ یوں اپنے گھرانے کے واحد کفیل نے اپنے بوڑھے والدین اور پورے گھرانے کو اشک بار چھوڑ کر موت کی وادی کی راہ لی۔
پتنگ بازی کے مفاسد:۔
فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے احسن الفتاویٰ میں پتنگ اُڑانے کے متعلق سوال کیاگیاہے۔ مفتی صاحبؒ جواب میں لکھتے ہیں :۔ پتنگ اُڑانا جائز نہیں۔ انمیں مندرجہ ذیل مفاسد ہیں:۔
(۱) کبوتر کے پیچھے بھاگنے والے کوحضورﷺ نے شیطان فرمایاہے(عن ابی ھریرہؓ ان رسول اللہ رأی رجلاً یتبع حمامۃً فقال شیطان یتبع شطانۃً ) (ابوداؤد ۲/۴۹۱)
کبوتربازی میں انہماک کی وجہ سے امور دینیہ ودنیویہ سے غفلت کا مفسدہ پتنگ بازی میں بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا یہ وعید (کہ شیطان کے پیچھے بھاگتا ہے) اس کو بھی شامل ہے۔
(۲) مسجد کی جماعت بلکہ خود نماز سے ہی غافل ہوجانا، شراب اور جوئے کے حرام ہونے کی علت اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمائی ہے (ویصدکم عن ذکراللہ وعن الصلوٰۃ)
ہوتی ہے۔
(۴) بعض اوقات پتنگ اُڑاتے پیچھے کو ہٹتے ہیں اور نیچے گرجاتے ہیں ۔اس میں اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔حضورﷺ نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر آڑ نہ ہو۔
(۵) بے جا مال صرف کرنا تبذیر اور حرام ہے۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی قرار دیاگیا ہے۔ پتنگ بازی کا باہم مقابلہ معصیت میں تسابق اور تفاخر ہے جو حرام ہے اور اس پر کفر کاخطرہ ہے۔( احسن الفتاویٰ۸/۶۷۱)
پتنگ بازی کی خرابیاں:۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب اصلاح الرسوم میں پتنگ بازی کی نو(۹) خرابیاں بیان کی ہے جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ (اصلاح الرسوم)
کیا پتنگ بازی محض ایک تفریح ہے؟:۔
ان سب کچھ کے باوجود بعض لوگ ایک ہی بات بار بار دہرارہے ہوتے ہیں کہ بسنت ایک تفریح ہے اور اسلام نے تفریح کی اجاز ت دی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام تفریح کی اجازت دیتا ہے ۔کیونکہ اسلام دین فطرت ہے او ر وہ فطرت کے تقاضوں کو نہ دباتا ہے ، نہ ختم کرتا ہے بلکہ اس کا رُخ بدلتا ہے۔ کھیل کود، دل لگی ، خوش طبعی اور تفریح طبع انسان کی فطرت میں داخل ہے ۔ اسلئے اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ۔
آپﷺ ازواج مطہراتؓ کے ساتھ ،صحابہ کرام ؓ اورمعصوم بچوں کیساتھ دل لگی کیلئے ضرور وقت نکالتے تھے۔ کُشتی ، گھڑ دوڑ اورنیزہ بازی جیسے جنگی کھیلوں میں آپﷺ کاعملی طور پر حصہ لینا احادیث سے ثابت ہے۔ عید کے دن کچھ حبشی بچے ڈھال اور نیزوں سے کھیل رہے تھے ، وہ حضورﷺ کودیکھ کر جھجکے ، آپﷺ نے فرمایا : اے حبشی بچو! کھیلتے رہو تاکہ یہود ونصاریٰ کو پتا چل جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے۔
اسی طرح عید کے دن کچھ بچیاں کھیل رہی تھیں ۔حضرت ابوبکرصدیقؓ نے انہیں منع کرنے کا ارادہ کیا ۔ آپﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر انہیں چھوڑدو ۔ یہ عیدکادن ہے۔ تاکہ یہودیوں کومعلوم ہوجائے کہ ہمار ا دین گنجائش والا ہے۔ مجھے ایسی شریعت دے کر بھیجاگیاہے جو افراط و تفریط سے پاک اور بہت آسان ہے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب آپﷺ کسی صحابی کو مغموم اور پریشان دیکھتے تو دل لگی کے ذریعے اُسے خوش فرمادیتے تھے۔ ایک روایت میں ہے ۔آپﷺ نے ارشادفرمایا :دل اسی طرح اُکتانے لگتا ہے جیسے بدن تھک جاتے ہیں تو اس کے لئے حکمت کے راستے تلاش کرو ۔۔۔(نہ کہ گناہ اور معصیت کے)
لیکن ایسے کھیل اور تفریحات جوکسی حرام اور معصیت پر مشتمل ہوں، جن کی وجہ سے دوسروں کوتکلیف ہو، جن کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہو، بے پردگی ، بے حیائی ہوتی ہو، لاکھوں ، کروڑوں سرمایہ برباد ہوتا ہو اور نہ جانے کتنے شریعت کے احکام پامال ہوتے ہو او ر کتنے ناجائز امور کا ارتکاب کیاجاتا ہو۔ ان سب سے بڑھ کر ایک مکار قوم کی مشابہت او ر ایک گستاخ رسولﷺ کے ساتھ اظہار وابستگی اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں ۔ یہ ایک ایسی قوم کی خرمستیاں ہیں جس کا بچہ بچہ ماں کے پیٹ سے مقروض پیدا ہوتا ہے اور اس کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے ۔ جس قوم کے متعلق یہ سوالات اٹھائے جار ہے ہوں کہ ایسے حالات میں ان پر حج و قربانی بھی فرض ہے یانہیں ۔ وہ کروڑوں روپے ڈوروں پر چڑھا کر پھونک دیتے ہوں ۔
خدارا!
کچھ عقل سے کام لیں ۔بہار کاموسم تو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اقرار کیاجائے اس کے سامنے جب حسین نیاز جھک جائے اور دل معبود حقیقی کی طرف مائل ہوجائے ۔نہ کہ ہندوؤں کی شیطانی خرافات میں خود کو کھو دیا جائے۔

شیخ القرآ ن ؒ اور موجود ہ سیاست
(قسط دہم) اکمل محمدسعید ادنیوی
مخلوق خدا کے برگزیدہ ہستیاں انبیاء کرام ؑ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق خدا کی سیادت و قیادت کیلئے مبعوث کی جاتی ہیں اسلئے ان میں صفا ت امارت وقیادت بھی بطریق اتم واکمل واحسن پائی جاتی ہیں۔ کمالات نفسانی ہو یا کمالات جسمانی دونوں میں انبیاء کا مثل پیش کرنا نا ممکن ہے ۔ اول سے آخرتک قرآن کریم کی تمام واقعات کا مطالعہ خوب تجسس کے ساتھ کرلو۔ جہاں کہیں بھی انبیاء کرام کے واقعات بیان ہوتے ہیں وہاں پریہ اشارات ملتے ہیں کہ انبیاء کرام ان صفات میں سے ایسے بلندیوں پرتھے جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے واقعات پر نظر کرو۔ (وقالت امرأۃ فرعون قرت عین لی ولک لا تقتلوہ) (سورۃ القصص:۸۲:۹)
’’ اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا‘‘
یہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا ظاہری جسمانی حسن تھا جسکی وجہ سے دشمن نے آپ کے قتل سے گریز کیا۔
اسی طرح ارشا د باری تعالیٰ ہے :(ودخل المدنےۃ علیٰ حین غفلۃ من اھلھا فوجد فیھا رجلین یقتلن ھذا من شیعۃ وھذا من عدوہ فاستغاثہ الذی من شیعۃ علی الذی من عدوہ فوکزہ موسیٰ فقضیٰ علیہ) (سورۃ القصص:۸۲:۵۱)
ترجمہ:۔’’او رو ہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بے خبرتھے تو دیکھاکہ وہاں دو شخص لڑرہے ہیں ایک تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا ہے اور دوسرا انکے دشمنوں میں سے تو جو شخص ان کی قوم میں سے تھا ۔ اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو انہوں نے اس کا مُکامارا اور اس کاکام تما م کردیا‘‘۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جسمانی قوت اتنی مضبوط تھی کہ قبطی آپ کے ایک مُکے کی تاب نہ لاسکا ۔ آپ کی علمی مقام کے بارے میں اتناکافی ہے کہ آپ علوم آسمانی کے امین تھے۔ آپ میں سے یہ صفات اتنے آشکارہ تھیں کہ ایک ان جانی اور اجنبی عورت کوبھی اس کا احساس ہوگیا ۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی لخت جگر اپنے باپ سے کہتی ہے :۔(قالت احداھما یابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین) (سورۃ القصص:۸۲:۶۲)
’’ایک لڑکی دونوں میں سے بولی کہ آبا انکو نوکر رکھ لیجئے ۔ کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو‘‘۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے د و صفات کمالیہ ذکر کئے ہیں ۔یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو علم کی صفت سے متصف نہیں کیا شاید اسی وجہ سے کہ ابھی تک ان کو تورات نہیں دی گئی تھی ۔ یا اس میں علم کا ذکر موجود ہے کیونکہ امانت علم کاہی اثر مرتبہ ہے۔ حضرت ابوحیانؒ اسی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:(اذا اجتمعت الکفاےۃ والا امانۃ فی القائم بأمر من الامور فقدتم المقصود) ( البحر المحیط ۷:۴۱۱)
ترجمہ:۔ ’’ جب کسی کام پر قائم شخص میں کفایت اور امانت جمع ہوجائے تو مقصود پورہ ہوجائے گا‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زندگی میں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ آپ کی پرورش اللہ تعالیٰ نے فرعون کے گھر میں کیوں فرمائی اس میں کیاحکمت پوشید ہ تھی؟ اس کا انتظام ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ وہ اپنے گھر میں رہے اور فرعون کوخبر نہ ہونے دیتے۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ اس صندوق کو کسی چرواہے کے پاس پہنچا کر آپ کو محفوظ کردیتا۔ اس کی ایک حکمت عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت کا اظہار مقصودتھا کہ آپ جس کو مروانا چاہتے ہو میں اس کی پرورش آپ کے ہاتھوں سے کرتا ہوں۔ اس حکمت سے انکا ر ممکن نہیں لیکن اس میں وہ جامعیت نہیں جو یہاں مقصود تھی۔ اصل حکمت یہی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعونی نظام کے مقابلے میں ایک جامع نظام پیش کرنے والے تھے۔ اسلئے وہ فرعونی نظام کی تردید فرمائیں گے۔ کسی نظام پر رد کرنے کیلئے اول یہ ضروری ہے کہ آپ کو اس سے علی وجہ البصیرت آگاہی حاصل ہو۔ رائج الوقت سیاست اور فرعونی نظام کو علی وجہ البصیرت سیکھنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرعون کی پرورش میں پہنچایا۔ فرعون کے مظالم ،بنی اسرائیل کی بے بسی اور قبطیوں کی جبر وتشد د کے بیش بہاء واقعات آپ کے دل پر نقش فی الحجر کی طرح رسم ہوگئیں اور آپ کو قوم کی راہ نجات سوچنے پرمجبور کردیا ۔ یہاں تک کہ (فوکزہ موسیٰ) کاعظیم کرشمہ دیکھنے میں آیا اورآپ مصرسے نکلنے پر مجبورہوگئے۔ لیکن کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت عظیمہ نے آپ کی معیت نہیں چھوڑی ۔وہاں پر مدین میں آپ کو حضرت شعیب علیہ السلام کی جوار میں پہنچایا جواللہ تعالیٰ کی نظام پیش کرنے کی جرم میں لوگوں کے ظلم وستم کا شکارتھے اور لوگوں کی مقاطعہ کی وجہ سے صحرا میں زندگی گزارنے پرمجبور ہوچکے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دس سال تک آپ کی خدمت کرتے رہے ۔نہ معلوم کہ اس زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے کتنے علوم کو ازیر کیا ہوگا۔ جب تربیت مکمل ہوئی تو واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے عظیم تحفے سے مشرف فرمایا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے توخود ہی اپنی ان صفات کا اعلان فرمایا(اجعلنی علیٰ خزائن الارض انی حفیظ علیم) (یوسف:۵۵)
ترجمہ:۔ ’’ مجھے خزانوں پر مقرر کردیجئے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا اور (اس کام سے)واقف ہوں‘‘
استاذمحترم شیخ ولی اللہ کابلگرامی نوراللہ مرقدہ فرماتے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے قو ت کی بجائے حفاظت کا ذکر فرمایا کیونکہ مصر میں قوت والے لوگ زیادہ تھے لیکن حفیظ وامین لوگوں کی کمی تھی کرپشن کی بہتات تھی یہی وجہ تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی صفت حفاظت کاظہور فرمایا کہ میری تقرر سے بلیک مارکیٹنگ اور اقرباء پروری کی علاج بھی ہوسکتی ہے۔ علامہ سیوطی ؒ اس آیت کی ذیل میں لکھتے ہیں:۔(ان المتولی امرا شرطہ ان یکون عالمابہ خبیراً ذکی الفطنۃ) (الاکلیل:۲۳۱)
ترجمہ:۔ ’’ اس سے استدلال کی گئی ہے کہ کسی امر کی ولایت کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کا علم رکھتا ہو او رفطانت کی اعتبار سے ذکی ہو‘‘
اس پر چند مشہور اعتراضات وارد ہوتے ہیں کہ آپ نے مطالبہ امارت وریاست کیونکر کیا اور ایک غیر شرعی مملکت کاعہدہ کیوں قبول کردیا؟
علامہ قرطبی ؒ مختلف جوابات ذکرکرنے کے بعد لکھتے ہیں:( الرابع : انہ رائ ذلک فرضا ترجمہ:۔ ’’چوتھا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس کو اپنے آپ پر فرض عین سمجھتے تھے کیونکہ وہاں ان صفات کاحامل آپ کے علاوہ کوئی اور نہ تھا اور یہی بات اظہر ہے واللہ اعلم‘‘
حاصل یہ ہے کہ کوئی ایسانہیں تھا کہ نظام عدل قائم کرکے اصلاح کرے اور فقراء ومساکین تک ان کاحق پہنچائے توحضرت یوسف علیہ السلام نے اس کو اپنے آپ پر فرض خیال کیا آج بھی اگرکوئی ایسا ہو تواس کیلئے مطالبہ جائز ہے ۔کیا آج کے دور کا کوئی سیاستدان یہ کہہ سکتا ہے کہ حکومت کامطالبہ مجھ پرفرض ہوچکا ہے اور پھر صرف دعویٰ نہیں بلکہ اس کو دلائل سے مبرھن کرے۔
ثانیاً :اُستاذ محترم شیخ ولی اللہ کابلگرامی نوراللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے اس فعل سے پارلیمنٹ وغیرہ پر استدلال کرنا درست نہیں کیونکہ یہاں پریہ قانون ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان ،وزراء ، صدر اور وزیراعظم سب اس بات کا حلفیہ اقرار کرتے ہیں کہ میں قانون ودستور کا وفادار رہوں گا ا ور اس کی حفاظت کروں گا اور قانو ن نافذ ہے طاغوت کا۔ قرآن کریم تو تحاکم الی الطاغوت کو اللہ تعالیٰ سے بغاوت اورکفر قرار دیتا ہے۔ توطاغوتی نظام کی حکومت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون ہے جوثابت کرے کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے بھی یہ عہد وپیمان لی گئی تھی۔ آج کے سیاستدان حفاظت کا حلفیہ اقرار کرتے ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں صدائیں لگائی:( انی ترکت ملۃ قوم لا یومنون باللہ وھم بالاخرۃ ھم کافرون oواتبعت ملۃ آباء ی ابراہیم واسحاق ویعقوب ما کان لنا ان نشرک باللہ من شئی ) (یوسف:۷۳۔۸۳)
ترجمہ:۔ ’’ جولوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکارکرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں اور اپنے باپ داد ا حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علہیم السلام کے مذہب پر چلتا ہوں ۔ہمیں شایان شان نہیں ہے کہ کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنائیں‘‘
(ےٰصاحبی السجن ء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القہار ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واٰباؤکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان الحکم الا اللہ یعلمون0)(یوسف:۹۳۔۰۴)
ترجمہ:۔ ’’ میرے جیل کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا اللہ یکتا وغالب! جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے ۔اس نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ‘‘
تویہ کیونکر ممکن ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مستحق اور بے سرو سامانی کے دور میں غیراللہ کی قانون سے بغاوت کی صدائیں لگاتے رہیں اورجب اقتدار مل گیا طاقت و شوکت نصیب ہوئی تواب طاغوتی نظام پر عمل درآمد کریں گے اور شرعی قانون سے دستبردار ہو جالیں گے ۔حالانکہ قرآن کریم انبیاء کرام ؑ کی شان بیان فرماتا ہے : (ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) (النحل:۶۳)
ترجمہ:۔ ’’ اور ہم نے ہرجماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت اور طاغو ت سے اجتناب کرو۔
حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں:(قال مجاہد: الطاغوت الشیطان فی صورۃ الانسان یتحاکمون الیہ وھو صاحب امرھم) (ابن کثیر ۱/۲۸۶ بذیل سورۃ النساء:۱۵)
ترجمہ:۔ ’’امام مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ طاغوت انسان کے شکل میں شیطان ہے جس کو فیصلے لئے جاتے ہیں اوروہ ان کے امورکا اختیار مند ہوتا ہے‘‘
کسی بھی نبی کیلئے ممکن نہیں کہ وہ غیر اللہ کے قانو ن پر عمل درآمد کرے بلکہ پیغمبروں کی بعثت طاغوتی نظام کو ڈھا دینے کیلئے ہوتی ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں تو نص قطعی وارد ہے کہ وہ بادشاہ کی قانون پر عمل نہیں کرتے تھے۔
(ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک)(سورۃ یوسف:۶۷)
کسی صدر ، وزیراعظم یا سنیٹر وغیرہ کیلئے آج کے دور میں یہ ممکن ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے باوجود ملکی دستور وقانون پرعمل درآمد نہ کرے اگر ایسا ممکن ہے تو پھر اپنے عمل کو حضرت یوسف علیہ السلام کے عمل طریقہ کا ر پر قیاس کرسکتے ہیں اور اگر ایسا کرنے پر ریاست کے اندر ریاست بناتے، انتہا ء پسندی اورعسکریت پسندی جیسے القابات کے علاوہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو آج کل کی وزارت اور حضرت یوسف علیہ السلام کی وزارت میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
اس استدلال سے تفصیلی جوابات کے لئے قسط چہارم ماہنامہ جولائی ۸۰۰۲ء کی طرف مراجعہ کریں۔
(۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔)
(۔۔۔۔۔۔بقیہ صفحہ بر:۷۴۔۔۔۔۔۔)

تھوڑی ہی مدت نہ گزرے گی کہ انسان ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کے بغیر ہی ختم ہوجائے گا لیکن فیصلہ بھی آپ نہیں کرتے اور اس تقسیم کو بھی مٹانا چاہتے ہیں تو یہ عورت کے ساتھ بڑی بے انصافی ہے کہ وہ اس پورے بوجھ کو بھی اٹھائے جو فطرت نے ماں بننے کے سلسلے میں اس پر ڈالا ہے اور جس میں مرد ایک رتی برابر بھی اس کے ساتھ حصہ نہیں لے سکتا ۔
پھر وہ مرد کے ساتھ آکر سیاست اور تجارت اور صنعت و حرفت اور لڑائی دنگے کے کاموں میں برابر کا حصہ بھی لے ، خدا کیلئے ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو انسانیت کی خدمت میں آدھا حصہ تو وہ ہے جسے پورے کا پورا عورت سنبھالتی ہے ، کوئی مرد اس میں ذرہ برابر بھی اس کا بوجھ نہیں بٹا سکتا باقی آدھے میں سے آپ کہتے ہیں کہ آدھا بار اس کا بھی عورت اٹھائے ۔
گویاتین چوتھائی عورت کے ذمہ پڑا اور مرد کے ذمہ ایک چوتھائی کیا یہ انصاف ہے ؟

)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(

وَلَقَدْکَرَّمْناَ بَنِیْ اٰدَمَ (بنی اسرائیل:۰۷)
(اور تحقیق ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے)
مولانا مومن گل طاہریؔ
دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ عزت کی زندگی بسر کرے اور آخرت میں بھی معزز اور مکرم رہے۔ اپنی عزت کرانے کے کئی طریقے ہیں۔ بعض عزتیں زمان و مکان کی وجہ سے ہوتی ہیں، بعض عزتیں بناوٹی ہوتی ہیں یعنی انسان اسکے لئے اسباب پیدا کرتا ہے وہ اسباب موجود ہوں تو عزت ہوتی ہے نہ ہوں تو عزت بھی نہیں۔ جیسے اقتدار اور کرسی ہو تو عزت بھی ہوتی ہے نہ ہو تو عزت بھی نہیں۔اکثر لوگ عزت کے ان اسباب کے پیچھے لگے رہتے ہیں کہ عزت والے اسباب ہوں تو وہ عزت مند رہیں گے۔ورنہ نہیں۔ مثلاً دولت کماتا ہے دنیاوی عہدہ حاصل کرتا ہے کیونکہ مالدار اور عہدے دار لوگوں کی طرف عوام و خواص کی طبیعتیں مائل ہوتی ہیں۔ مولانا خلیل الرحمن صاحب ( گلبہار پشاور) کی درسگاہ (بیٹھک) میں کسی سالک کے مندرجہ ذیل عربی اشعار دیوار پر لکھے تھے جن میں لوگوں کے ایمان و اسلام کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ مجھے بہت پسند آئے۔ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں:
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ مال والوں کی طرف مائل ہوتے ہیں)۔
(اور جس کیساتھ مال نہ ہواُس سے لوگ میلان کرتے ہیں)۔
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ جن کیساتھ ذھب (سونا) ہو تا ہے اُن کی طرف لوگ جاتے ہیں)۔
(اور جس کے ساتھ ذھب (سونایعنی مال) نہ ہو اُس سے لوگ جاتے ہیں)
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ جس کے ساتھ چاندی یعنی مال ہو اُس کی طرف لوگ جاتے ہیں)۔
(اور جس کے ساتھ چاندی نہ ہو اُس سے لوگ بکھرجاتے ہیں)

استعمال کرے جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺنے بتائے ہیں تویہ پیدائشی عزت اسکی برقرار رہتی ہے بلکہ یہ پیدائشی عزت بڑھ کر ایسی عزت بن جاتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں عزت مند ہو کر جنت الفردوس میں جگہ ملتی ہے جو کہ حقیقی عزت اور کامیابی ہے ۔ اصل میں عزت و ذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لئے فرمایا : مَنْ کاَنَ ےُرِےْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃ(الفاطر:۰۱) ترجمہ: جو عزت کا ارادہ رکھے(یعنی عزت چاہے) تو اللہ تعالیٰ کے ہاں (اختیار)ساری عزتوں کا ہے۔ اسی طرح ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ(یونس: ۵۶)، ترجمہ:یقیناًعزت (دینے )کا اختیار سار ا اللہ کے پاس ہے۔ مزید فرماتے ہیں، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ (اٰل عمران: ۶۲)۔ترجمہ:(اے اللہ) اورتُو ہی جسے چاہے عزت دیتے ہیں اور تُو ہی جسے چاہے ذلیل کرتے ہیں، تمہارے ہاتھ (اختیار) میں خیر(اور شر) ہے۔اسی طرح فرمایا: وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہُ (الحج:۸۱)،: اور جسے اللہ ذلیل کرے اُسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔
مندرجہ بالا آیتوں سے ظاہری طور پر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا عزت اور ذلت حاصل کرنے میں کوئی دخل نہیں۔ لیکن در حقیقت ایسا نہیں۔ بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت مند پیدا کیا ہے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے وَلَقَدْکَرَّمْناَ بَنِیْ اٰدَمَ (بنی اسرائیل:۰۷)، ترجمہ: اور تحقیق ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے، اسکی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک زمیندار کھیت میں تخم بو تا ہے،اسکی پرورش کرتا ہے ، پھر اسے اُگانا اور بڑا کرنا اللہ کے اختیار میں ہے لیکن زمیندار کی محنت کے اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ اگر وہ تخم کو زمین سے نکال کر کسی فرش کے اوپر رکھے تو اُگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسباب غلط استعمال ہوئے اور دنیا اسباب کی ہے، انسان اسباب استعمال کرتا اور اللہ تعالیٰ ان میں اثر ڈالتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت دی ہے لیکن اگر انسان اس عزت کی پرورش نہیں کرتا اور( پیدائشی عزت کی تخم کو قرآن و سنت کی صحیح عمل کی مٹی سے نکال کر)بے عزتی کے اسباب استعمال کرتا ہے تو عزت مند انسان بے عزت ہو جاتا ہے۔عزت کی پرورش کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ کو سکھایا ہے، ارشاد ہوتا ہے، اِقْرَاْ نبویﷺ ہے، ۔ ترجمہ:یقیناًاللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم) کے ذریعے (بہت سے)قوموں کو عزت دیتے ہیں اور دوسرے (بہت سے) اقوام کو(جو قرآن کریم کا حق ادا نہیں کرتے ہیں) ذلیل کرتے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے بالکل بے اختیار نہیں ہے۔ جیسے ارشاد ہوتا ہے:(الکھف:۹۲)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر ﷺ) کہہ دے کہ (قرآن کریم) حق؍سچ ہے تمہارے رب کی طرف سے ، سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
سو معلوم ہو اکہ انسان کی پیدائشی عزت کی نشو و نما اور پرورش کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم بھیجا ہے، جو شخص اس (قرآن کریم) کے ذریعے اپنی پیدائشی عزت کی پرورش کرے گا دنیا اور آخرت میں عزت مند رہے گا اور جو اس (قرآن کریم) کو چھوڑے گا اس کا حق ادا نہیں کرے گا۔ یعنی اسکے اوامر پر عمل نہیں کرے گا اور نواہی سے اپنے آپ کو نہیں بچائے گا تو اسکی پیدائشی عزت عدم پیروی کی وجہ سے بے عزتی میں تبدیل ہو کر اس کی زندگی اجیرن بن جائے گی، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے،وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہُ مَعِےْشَۃً ضَنْکاً وَّ نَحْشُرُہُ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ اَعْمٰی۔ قاَلَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ اَعْمٰی وَقَدْکُنْتُ بَصےْراً۔ قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ اٰےٰتُنَا فَنَسِےْتَھَا ج وَکَذٰلِکَ الْےَوْمَ تُنْسٰی۔(طٰہٰ: ۴۲۱) ترجمہ:اور جومیرے ذکر (قرآن کریم) سے اعراض کرے سو اس کی زندگی تنگ ہوگی اور (قیامت کے دن) ہم اسے (قبر سے) اندھا اُٹھائیں گے ،یہ کہے گا اے میرے رب! مجھے کیوں اندھا اُٹھایا گیا میں تو یقیناً(دنیا میں) بینا (دیکھنے والا) تھا۔ (اللہ تعالیٰ جواب میں)فرمائیں گے کہ اسی طرح تمہارے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں سو تُو نے انھیں بھلایا؍چھوڑا تھا اور اسی طرح ہم آج تمہیں بھلاتے؍چھوڑتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط
ترجمہ: یقیناً تم میں سے اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو پرہیز گار ہو(یعنی اُن کاموں سے پرہیز کرتا ہو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کرنے کا حکم دیا ہو)۔تقویٰ اور پرہیز گاری کی عزت دنیا اور آخرت دونوں میں ملتی ہے۔ فرمایا:  (الطلاق:۲،۳)
ترجمہ: اور (تمام مصیبتوں سے) پناہ دے گا اور اس کو ایسی طرف سے رزق دے گا کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح تقویٰ اور پرہیز گاری کا نتیجہ یہ بھی ہے(الطلاق:۴)
ترجمہ: اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے منکرات سے پرہیز کرے اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے اس کے کام آسان فرما دیتے ہیں۔ مزید فرمایا۔(الطلاق:۵)
ترجمہ:اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے منکرات سے پرہیز کرے اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرکے اسے عظیم اجر دے گا۔
مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرے اسکے رسول ﷺ کے طریقوں پر عمل کر ے قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے تو اس نے اپنی پیدائشی عزت کی تربیت کی ،اللہ تعالیٰ کی خوشی میں انسان کی عزت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشی میں انسان کی خوشی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے فَاذْکُرُوْنِیْ ٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلاَ تَکْفُرُوْنِ۔
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) سو مجھے یاد کرو (تابعداری کے ساتھ یعنی میر ے احکام کی تابعداری کرو)میں تمہیں یاد کروں گا (نعمتوں کے ساتھ یعنی تمہیں عزت دونگا)اور میرا شکریہ ادا کرو اور( کفران نعمت کر کے یعنی نعمتوں کو چھپا کر) میری ناشکری نہ کرو۔
پھل دار درخت کے دشمن زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح عزت مند آدمی کے دشمن بھی زیادہ ہوتے ہیں، دشمنی اور حسد کی بنیاد شیطٰن نے رکھی ہے، آدم ؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سجدہ کرانے سے ہیں،دشمنی اور حسد کی بنیاد شیطٰن نے رکھی ہے، آدم ؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سجدہ کرانے سے عزت بخشی تو شیطن کہنے لگا، ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ (بنی اسرائیل:۲۶)،
ترجمہ: (کیا) اس آدمی (آدم ؑ )کو تُو نے میرے مقابلے میں عزت دی۔اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرکے شیطان نے کہا کہ یہ (عزت) تو میرا حق تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شیطٰن خوار و ذلیل ہوا اور قیامت تک لعین رہے گا۔
اسی طرح حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی تو اس کے بھائی یوسف ؑ کی عزت برداشت نہیں مصر نے خریدا، اسکی بیوی ذلیخا نے اُسے گناہ کی دعوت دی کیونکہ یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حسن دیا تھا۔چالیس سال تک اپنے والد محترم حضرت یعقوب ؑ سے غائب رہے، لیکن جو عزت اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو دی تھی وہ اس کے بھائی اور ذلیخا اس سے چھین نہ سکے۔ مجبوراً حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کو اپنی غلطی کا اقرار کرکے کہنا پڑا ،  (یوسف:۱۹)
ترجمہ: (یوسف ؑ کے بھائی) کہنے لگے، اللہ کی قسم! یقیناًاللہ تعالیٰ نے تمہیں ہم پر فضیلت دی ہے اور یقیناًہم ضرورغلطی پر تھے۔ اُنھوں نے اپنی غلطی مان لی تو یوسف ؑ نے (انتقام لئے بغیر) بھائیوں کو معاف کر دیا۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ طاقت رکھتے ہوئے دشمن کو (اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ) معاف کیا جائے۔
آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی بن سلول آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ پر تہمت لگا کر آپ ﷺ کی بے عزتی کرنا چاہتا تھا لیکن خود بے عزت ہوگیا اور قیامت تک بے عزت رہے گا۔
دنیا دار لوگ عزت حاصل کرنے کیلئے جائز اور ناجائز دونوں طریقے استعمال کرتے ہیں، کہ کسی طریقے سے عزت حاصل کی جائے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:( (النساء:۹۳۱)،
ترجمہ: وہ لوگ جو مومنوں کو چھوڑ کرکافروں سے دوستی رکھتے ہیں (یہ خیال ان کا غلط ہے) کیا یہ لوگ اُن(کافروں) کے ساتھ عزت ڈھونڈتے ہیںیقیناًعزت تو سارا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
دنیا و آخرت کی عزت حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک خود ساختہ طریقہ اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا طریقہ۔ خود ساختہ طریقے سے کبھی عزت مل تو جاتی ہے لیکن دائمی نہیں ہوتی ،عارضی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے سے کبھی ظاہری طور پر بے عزتی محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں وہی عزت ہوتی ہے۔جیسا کہ انبیاء ؑ کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی تھی، باوجود اسکے وہ تکالیف اور امتحانات میں مبتلا ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ سب سے زیادہ تکالیف اور امتحانات انبیاء ؑ پر آئے ہیں، ان کے علاوہ ایک تو حدیث شریف اَلْحُبُّ لِلّٰہِ وَالْبُغْضُ لِلّٰہِ کے مطابق دوستی و دشمنی ہوتی ہے۔یہ تو مطلوب ہے۔ اس کے علاوہ مومنوں کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ
ترجمہ: (مومن) کفار کے سا تھ سختی اور آپس میں نرمی کرتے ہیں۔اگر ایک آدمی اپنی عزت چاہتا ہے تواُسے چاہئے کہ وہ دوسروں کی عزت کرے۔اگر دوسرے کی عزت نہ کی جائے تو اس سے اپنی عزت کی اُمید رکھنا بے جا ہے۔ قرآن کریم یہاں تک ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ  ترجمہ: اور اُن لوگوں(مشرکین) کے معبودوں کو گالی مت دو سو وہ دشمنی اور جہالت کی وجہ سے تمہارے اللہ کو گالی دیں گے۔ارشاد ربانی ہے-  ترجمہ: جو رحمت اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے کھول دے اُسے کوئی بند نہیں کر سکتا اور جو بند کرے اُسے اللہ تعالیٰ کے بند کرنے کے بعد کوئی بھیجنے والا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنے چچازاد بھائی عبد اللہ بن عباسؓ سے فرماتے ہیں کہ اگر ساری دنیا اکٹھی ہو جائے اور تمہیں عزت دینا چاہے تو نہیں دے سکتی جب تک اللہ تعالیٰ عزت نہ عطا فرمائے اور اگر تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ تعالی نقصان نہ پہنچائے۔
دنیا پرست مولویوں اور پیروں نے سستی عزت حاصل کرنے کیلئے دین کو ذلیل کیا۔ شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث حضرت العلامہ مولانا محمد طاہر ؒ اپنی کتاب ’’اُصول السنۃ‘‘ (عربی) صفحہ ۲۳ پرمشہور تابعی حضرت مجاہد ؒ المتوفیٰ ۴۰۱ ھ ؁کا قول نقل کرکے فرماتے ہیں ،مَنْ اَعَزَّ نَفَسَہُ اَذَلَّ دِےْنَہُ وَمَنْ اَذَلَّ نَفْسَہُ اَعَزَّ دِےْنَہُ (صفوۃ الصفوہ ص ۷۱۱ ج ۲)،
ترجمہ:جس نے (دین کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنا کر) اپنے آپ کو معزز بنایا اُس نے اپنے دین کو ذلیل کیا اور جس نے(اپنی عزت کی پروا کئے بغیر،کھل کر صحیح دین بیان کرکے) اپنے آپ کو ذلیل کیا اُس نے دین کو عزت مند کیا۔ یعنی لوگ حق پرست مبلغ کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے لیکن اسکے بیان کردہ صحیح مسئلہ پرعمل کرکے دین کو عزت مند بناتے ہیں۔ شیخ القرآنؒ ’’اُصول السنۃ‘‘ (اُردو)کے صفحہ ۷۴ پر فرماتے ہیں، ’’(آج کل) ان علماء نے شرک اور بدعت کا رد چھوڑ دیا کہ کہیں لوگوں مٹ گیا۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا ’’اور ان علماء نے علم دین کو دنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے ان میں سے تقریباً ہر ایک نے ایک سجی سجائی دُکان کھول رکھی ہے جس کا نام انہوں نے ’’مدرسہ‘‘ رکھا ہے، سوائے ان خوش قسمت علما ء کے کہ جنہوں نے تقویٰ اور خوف خدا کی راہ اختیار کی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت کی عزت عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العٰلمین۔
دنیا داری کا نقشہ
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ مال والوں کی طرف مائل ہوتے ہیں)۔
(اور جس کیساتھ مال نہ ہواُس سے لوگ میلان کرتے ہیں)۔
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ جن کیساتھ ذھب (سونا) ہو تا ہے اُن کی طرف لوگ جاتے ہیں)۔
(اور جس کے ساتھ ذھب (سونایعنی مال) نہ ہو اُس سے لوگ جاتے ہیں)
(لوگوں کو میں نے دیکھا کہ جس کے ساتھ چاندی یعنی مال ہو اُس کی طرف لوگ جاتے ہیں)۔
(اور جس کے ساتھ چاندی نہ ہو اُس سے لوگ بکھرجاتے ہیں)

(مومن گل طاہریؔ )


)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔)(

کیاپردہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟
محترمہ پروین رضوی
پردہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے یانہیں؟ اس سوال کافیصلہ کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ پردہ ہے کیاچیز؟ کیونکہ ہم اس کے بغیر اس کی غرض ، اس کے فائدے اور اس کے نقصانات کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اس کے بعد ہمیںیہ طے کرنا چاہیے کہ وہ ترقی کیا ہے جسے ہم حاصل کرناچاہتے ہیں کیونکہ اسے ہم طے کئے بغیر یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ پردہ اس میں حائل ہے بھی یا نہیں؟
پردہ عربی زبا ن کے لفظ حجاب کالفظی ترجمہ ہے۔ جس چیز کو عربی میں حجاب کہتے ہیں ، اس کو فارسی اور اُردو میں پردہ کہتے ہیں ۔ حجاب کا لفظ قرآن مجید کی اس آیت میں آیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نبی کریمﷺ کے گھر میں بے تکلف آنے جانے سے منع فرمایاتھا اور حکم دیاتھا کہ اگر گھر کی خواتین سے کوئی چیز مانگنی ہو توحجاب (پردے) کی اوٹ سے مانگا کرو، اسی حکم سے پردے کے احکام کی ابتداء ہوئی ۔ پھر جتنے احکام اس سلسلے میں آئے ان سب کے مجموعے کو احکام حجاب (پردے کے احکام) کہاجانے لگا۔ پردے کے احکام قرآن مجید کی چوبیسویں اور تینتیسویں سورت میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں ۔ ان میں عورتوں کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہیں ۔ اپنے حسن وآرائش کی نمائش نہ کرتی پھریں ، جس طرح زمانہ جاہلیت میں عورتیں کرتی پھرتی تھیں۔ گھروں سے باہر نکلنا ہو توا پنے اوپر ایک چادر ڈال کر نکلیں اور بجنے والے زیورپہن کر نہ نکلیں ۔ گھروں کے اندر بھی محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے درمیان امتیاز کریں ۔ محرم مردوں اور اپنے میل جول کی عورتوں کے سوا کسی کے سامنے زینت کے ساتھ نہ آئیں۔ زینت کے معنی وہی ہیں جوہماری زبان میں آرائش و زیبائش اور بناؤ سنگھار کے ہیں ۔ اس میں خوشنمالباس ، زیور اور میک اپ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ پھر محرم مردوں کے سامنے بھی عورتوں کو حکم دیاگیا ہے کہ اپنے گریبان پر اپنی اوڑھینوں کے آنچل ڈال کررکھیں اور اپناستر چھپائیں اور گھر کے مردوں کو ہدایت کی گئی کہ ماں بہنوں کے پاس بھی آئیں تواجازت لے کر آئیں تاکہ ان کی نگاہ اچانک ایسی حالت میں نہ پڑے جبکہ وہ جسم کا کوئی حصہ کھولے ہوئے ہوں۔ کے تین بڑے مقصد ہیں ۔
اول یہ کہ عورتوں اور مردو ں کے اخلاق کی حفاظت کی جائے اور ان کی خرابیوں کا دروازہ بند کیا جائے جو مخلوط سوسائٹی میں عورتوں او ر مردوں کے آزادانہ میل جول سے پیدا ہوتی ہے۔
دوسرے یہ کہ مردوں اور عورتوں کا دائرہ عمل الگ کیا جائے تاکہ فطرت نے جوفرائض عورت کے سپرد کئے ہیں انہیں وہ اطمینان کے ساتھ انجام دے سکے اور جو خدمات مرد کے سپرد ہیں انہیں وہ اطمینان کے ساتھ بجالا سکے ۔
تیسرے یہ کہ گھر اور خاندان کے نظام کو مضبوط اور محفوظ کیا جائے ۔جس کی اہمیت زندگی کے دوسرے نظاموں سے کم نہیں بلکہ کچھ بڑھ کرہی ہے ۔
پردے کے بغیر جن لوگوں نے گھر اور خاندان کے نظام کو محفو ظ کیا ہے ۔ انہوں نے عورت کو غلام بناکر تمام حقو ق سے محرو م کرکے رکھ دیا ہے۔ جنہوں نے عورت کو اس کے حقوق دینے کے ساتھ ساتھ پردے کی پابندیاں نہیں رکھی ہیں ان کے ہاں گھر اورخاندان کا نظام بکھر گیا ہے اور رو ز بروز بکھرگیا ہے اور روزبروز بکھرتا چلا جار ہا ہے ۔
اسلام عورت کو پورے حقوق بھی دیتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ گھر کے اور خاندان کے نظام کو بھی محفوظ رکھنا چاہتا ہے ۔یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جب تک پردے کے احکام اس کی حفاظت کیلئے موجود نہ ہوں۔
خواتین وحضرات! میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ ٹھنڈے دل سے ان مقاصد پرغور کریں ۔ اخلاق کا مسئلہ کسی کی نگاہ میں اہمیت نہ رکھتا ہو تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں مگر جس کی نگاہ میں اس کی کوئی اہمیت ہو اس کو سوچنا چاہیے کہ مخلو ط سوسائٹی میں جہاں بن سنور کر عورتیں آزادانہ پھریں اور زندگی کے ہرشعبہ میں مردوں کے ساتھ کام کریں وہاں اخلاق بگڑنے سے کیسے بچ سکتے ہیں اور کب تک بچے رہ سکتے ہیں؟ ہمارے اپنے ملک میں یہ صورتحال جتنی بڑھتی جارہی ہے جنسی جرائم بھی بڑھتے جارہے ہیں اور ان کی خبر یں آپ آئے دن اخبارات میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ کہناکہ ان خرابیوں کا اصل سبب پردہ ہے ، جب کے دل نہ بھرے اور ا ن کی خواہشات کے تقاضوں نے عریانی تک نوبت پہنچائی پھرعریا نی سے دل نہ بھرے اور کھلی جنسی آوارگی تک نوبت پہنچائی اور اب جنسی آوارگی کے کھلے لائسنس سے بھی دل نہیں بھر رہے ہیں اور آج بھی کثر ت سے جنسی جرائم ہورہے ہیں جن کی رپورٹیں امریکا ،انگلستان اور دوسرے ممالک کے اخبارات میں آتی رہتی ہیں ۔کیا یہ کوئی قابل اطمینان حالت ہے، یہ صرف اخلاق ہی کا سوال نہیں ہے ، ہماری پوری تہذیب کا سوال ہے۔ مخلوط سوسائٹی جتنی بڑھ رہی ہے عورتوں کے لباس اور بناؤ سنگھار کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اس کے لئے جائز آمدنیاں ناکافی ثابت ہورہی ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہرطرف رشوت ، غبن او ردوسری حرام خوریاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ حرام خوریوں نے ہماری پوری ریاست کے پورے نظام کو گھن لگادیا ہے اور اب کوئی قانون ٹھیک طرح سے نافذ ہونے ہی نہیں پاتا۔ پھر بھی یہ سوچنے کی بات ہے کہ جن کو اپنی خواہشات کے معاملے میں ڈسپلن کی عادت نہ ہو وہ دوسرے کسی معاملہ میں ڈسپلن کے پابند ہوسکتے ہیں؟ جو شخص اپنی گھریلو زندگی میں وفادار نہ ہو اس سے اپنی قوم اور ملک کے معاملے میں وفاداری کی توقع کہاں تک کی جاسکتی ہے؟ عورت اور مرد کا دائرہ عمل الگ الگ کرنا خود فطرت کا تقاضا ہے ۔ فطرت نے ماں بننے کی خدمت عورت کے سپرد کرکے آپ ہی بتا دیا ہے کہ اس کے کام کی اصل جگہ کہاں ہے اور باپ بننے کافرض مرد کے ذمہ ڈال کر خود ارشارہ کردیا ہے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ دونوں قسم کی خدمات کیلئے عورت اور مرد کو الگ الگ جسم دئیے گئے ہیں ۔ الگ الگ قوتیں دی گئی ہیں ، الگ الگ صفات دی گئی ہیں ، الگ الگ نفسیات دئیے گئے ہیں۔
فطرت نے جسے ماں بننے کیلئے پیدا کیا ہے اسے صبر وتحمل بخشا ہے ، اسکے مزاج میں نرمی پیدا کی ہے اسے وہ چیز دی ہے جسے مامتا کہتے ہیں ، وہ ایسی نہ ہوتی تو ہم اور آپ پل کر بخیریت جواں نہ ہوسکتے تھے ۔ یہ کام جس کے ذمہ ڈالا گیاہے اس کیلئے وہ کام موزوں نہیں ہیں جن کے لئے سختی اور سخت مزاجی کی ضرورت ہے ۔ وہ کام اسی کے لئے موزوں ہے جسے ماں بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور جسے ان بھاری ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے ۔ جو ماں بننے کا لازمہ ہے ۔ آپ اس تقسیم کو مٹانا چاہتے ہیں تو پھر فیصلہ کرلیجئے کہ اب دنیا کو ماؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔
(۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ از صفحہ بر نمبر:۶۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
جماعت اشا عۃ التوحیدوالسنۃ صوبہ خیبر پختونخوا کاصوبائی اجلاس
رپورٹ : محمدفیاض، ناظم اطلاعات صوبہ
اجلاس مجلس عاملہ :۔جماعت اشاعت التوحیدوالسنۃ صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی مجلس شوریٰ کااجلاس 10 مارچ کو ضلع مردان میں بلانے کافیصلہ کیا گیا تھاجبکہ اس اجلاس میں اہم بات یکم دواورتین اپریل کو ہونے سہ روزہ اجتماع کے پروگرام کوترتیب دینا تھا اس لئے مجلس شوریٰ کے اجلاس سے ایک دن قبل ۹ مارچ کو دارالقرآن پنج پیر میں مجلس عاملہ کاایک اجلاس طلب کیاگیا ۔جس میں مرکزی امیرشیخ القرآن مولانامحمدطیب طاہری ، صوبائی امیر مولانا عبدالرحمن ،صوبائی ناظم اعلیٰ مولاناشمس الہادی طاہری ،نائب ناظمین مولانامفتی محمدمجتبیٰ عامر اورمولاناسیدہارون شاہ ،نائب ناظم اطلاعات حاجی دلبر اورراقم الحروف (محمد فیاض )شریک ہوئے ۔
اجلاس میں مجلس شوریٰ کے اجلاس اوراجتماع کے حوالے سے بات چیت کی گئی اورچنداہم امورکے بارے میں فیصلے کئے گئے ،اجتماع میں علماء کرام کیلئے موضوعات اورخطاب کیلئے اوقات کی تعیین کی گئی اوراجتماع کے دیگرانتظامات کوترتیب دیاگیا۔
اجلاس مجلس شوریٰ :۔ 10 مارچ کو مردان گڑھی کپورہ میں مجلس شوریٰ کا اجلاس ہو ا ،اجلاس کے فیصلے کے مطابق بعدنماز عصرتاعشاء بیانات کاسلسلہ جاری رہا ،شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری شیخ مولانا عبدالرحمن ،مولانا شاہ زمین مانیری ، مولاناقاری سیف الدین ڈی آئی خان ،مولانا محمداسحق کوہاٹ ، مولاناسمیع اللہ مردان اوردیگرمقامی علماء کرام نے خطاب کیا ۔بعدنماز عشاء شیخ القرآن مدظلہ کی صدارت میں مولانا قاری شادمحمد صاحب میرانی کے تلاوت کلام پاک سے اجلاس کاآغازہوا ۔
تلاوت کلام کے بعد صوبائی ناظم اعلیٰ ابوعمیر شمس الہادی طاہری نے تمہیدی کلمات کے دوران صوبائی امیر مولانا عبدالرحمن کی ہمشیرہ اورشیخ سعیدالرحمن الخطیب اوگی مانسہرہ کے عم محترم کے لئے دعائے مغفرت ،شیخ غلام حبیب صاحب ، مولانا میرسمیع الحق ، اوردیگرعلماء کرام کے لئے صحت کی دعا کی درخواست پردعامانگی گئی۔
بعد میں اجلاس سے مرکزی امیر شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب طاہری اورصوبائی امیر مولانا عبدالرحمن صاحب کے مختصرخطاب کے بعد ضلعی امراء اورناظمین نے اپنے اپنے اضلاع کی رپورٹ پیش کی۔
امیرجان پشاور ، شیخ عبدالجبار باجوڑ ،مولانا محمد اسحاق کوہاٹ ،مولاناقاری سیف الدین ڈی آئی خان ، مولانا رحمان الدین دیر ، مولانا شمس الرحمن ہنگو،مولانا محمدیونس ٹانک ،مولانا محمدعثمان ملاکنڈایجنسی ، مولانا یارمحمد خیبرایجنسی ، مولانا محمدامیر چارسدہ ،مولانا محمداعظم ہری پور ، مولاناقاری شادمحمد مانسہرہ ،مولانا گل شریف بٹگرام ، مولانا عتیق اللہ آباسندھی شانگلہ نے اپنے اپنے اضلاع کی رپوٹس پیش کیں ۔
اجلاس سے مجلس مقننہ کے اراکین شیخ مولانا سعیدالرحمن [خطیب اوگی ] شیخ شاہ زمین ، مفتی سراج الدین ،شیخ مولانا عبدالجبار صاحب کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا محمدیاربادشاہ صاحب رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا مسیح اللہ صاحب ،شیخ القرآن پنج پیرؒ کے بزرگ شاگردمولانا عبیداللہ مانسہرہ ،صوبائی رہنما مولانا پروفیسر جاویداحمد بالاکوٹی نے خطاب کیا اوراجتماع کی کامیابی کے لئے مفید تجاویز دیئے ۔صوبائی ناظم مالیا ت مولانا مومن گل طاہری نے دارالقرآن کی تعمیر کے بارے میں رپورٹ پیش کی اوراس میں تعاون کرنے کے لئے ساتھیوں پر زوردیا ۔اجلاس میں دیگرفیصلوں کے علاوہ مندرجہ ذیل اہم فیصلے کئے گئے :
[۱] ہر عالم کواجتماع کے لئے عنوان اوروقت دیاگیا ۔
[۲] دیگرصوبوں کے علماء کرام کواجتماع میں دعوت دینے کے لئے پروگرام وضع کیا گیا ۔
[۳] ہرضلع میں صوبائی اجتماع سے پہلے ضلعی سطح پر اجتماع کاانعقادکیاجائے گا ۔
[۴] ہرضلع مقامی اخبارات میں اجتماع کے لئے بیانات اوراعلانات دے گا۔
[۵] ہرضلع [اگرممکن ہو اجتماع گاہ میں ] اپنے لئے کینٹین کاانتظا م کرے گا۔
[۶] اجتماع کے اشتہارات کی تقسیم کی گئی ۔
[۷] اجتماع میں شرکت کے لئے اصول وضوابط کااعلان کیا گیا۔
[۸] تمام مدارس میں اجتماع کے لئے تین دن کی تعطیل دی جائے گی ۔
[۹] اجتماع کے انتظامات 25 مارچ سے شروع کئے جائیں گے ۔
رات دو بجے اجلاس کے اختتام پر شیخ القرآن مدظلہ نے اختتامی دعافرمائی ۔اگلے دن نماز فجر کے بعد شیخ التفسیر مولانا سعیدالرحمن صاحب نے درس قرآن کریم دیا ۔
***ختم شد***

مارچ 2011

بسم اللّٰہ الرّ حمٰن الرّ حیم
شیخ القرآن ؒ نے فرمایا:
(’’ کھیل کے دوران بہادر اور دلیر لڑکا کہتا ہے کہ میرا ساتھی کون کون ہونگے
اور بزدل لڑکا کہتا ہے کہ میں کس کے ساتھ ہوجاؤں ۔
من انوار القرآن الکریم
(سورۃ آل عمران:۰۳) )
ترجمہ: ۔’’ توکہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے
گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔
توضیح:۔’’یعنی جو شخص نبی اکرم ﷺ کا کامل متبع ہو ۔ وہ حقیقتاً اللہ والا ہے اور جو شخص اتباع سنت سے جس قدر دور ہو وہ قر ب الٰہی سے بھی اسی قدر دور ہے ۔ مفسرین نے لکھاہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرے اور سنت رسول اللہﷺ کی مخالفت کرے وہ جھوٹا ہے‘‘۔
من کنوز السنۃ المطھرۃ
(’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعاً من ستر علیٰ مسلمٍ سترہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ واللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون اخیہ‘‘ )۔ (راوہ مسلم وابوداؤد)
ترجمہ: ۔’’ حضرت ابوھریرہؓ سے مرفوعاًروایت ہے کہ جوشخص مسلمان کا پردہ پوشی کرتا ہے۔اللہ جل شانہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرماتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ بندہ کی مددفرماتے ہیں جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے‘‘۔
توضیح:۔’’بہت سے روایات میں مسلمان کی آبرو ریزی پر سخت سے سخت وعیدین وارد ہوئی ہیں ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے جو شخص ایسے وقت میں مسلمان کی مدد نہ کریں کہ اس کی آبروزیزی ہو رہی ہو ۔تو اللہ جل شانہ اس کی مددسے ایسے وقت میں اعراض فرماتے ہیں جبکہ وہ مددکا محتاج ہو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ بدترین سود مسلمان کی آبروریزی ہیں ‘‘۔
ریمنڈ ڈیوس کیس
مدیر اعلیٰ
جو قوم قرض کے ٹکڑوں پر پھلتی ہے اُس کی نہ کوئی رائے ہوتی ہے ، نہ ہی کوئی عزت ۔دوسروں ہی کے عیب پر نظر رکھنے والا ہمیشہ ذلت ورسوائی کی زندگی کا عذاب جھلتا ہے۔ یہ اصول فطرت جس طرح افراد کی تقدیر کا حصہ ہے ، ویسے ہی قوموں کی بلندی وپستی کے فیصلوں کا مدار ابدی بھی ہے۔ جب ہم امریکی ڈالروں پر چلنے کا فیصلہ کرچکے توکہاں کی آزادی وخودمختاری اور کس طرح کے برابری کے تعلقات! جب ہم اُس مرض میں بھی ڈالر لیتے ہیں اور قرض میں بھی ڈالر مانگتے ہیں تو پھر قومی عزت وخو د مختاری کوبھولنا ہی ہوگا ۔ ریمنڈ ڈیوس کیس اس کی تازہ ترین اور بہترین مثال ہے۔
ریمنڈ جاسوس، تخریب کار اور قاتل مانا جاچکا ۔ اس کے قبضے سے ناجائز غیر قانونی اسلحہ ،تخریب کاری کاسامان اور حساس مقامات کی تصاویر برآمد ہوچکیں۔ فارغ ٹائم میں ان سے قبل کہیں کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی جاسوس کو سفارت کار بنوانے پر زور دیا گیا ہو یا کسی تخریب کار اور وحشی قاتل کے لئے سفارتی استثنیٰ کا مطالبہ کیا گیاہو۔ جبکہ ہم ان کی نظر میں بھکاری اور کمیشن خورہوں گے، تو پھر ہر ناممکن کے ممکن سے بننے کودیکھنا اور برداشت کرنا ہوگا۔
اگر شرعی قانون کو مدنظر رکھیں تو اور اس کا باقاعدہ پاسپورٹ اورحکومتی اجازت سے ملک میں داخل ہونا تسلیم کریں تو وہ معاید اور ذمی ثابت ہوگا۔ اس صورت میں تو اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری بن جائے گی ۔ مگر بہت سی باتوں سے معاہدہ اور ذمہ ختم ہوجاتا ہے۔ چنا نچہ معاہدہ اور ذمہ قتل کی سزا سے نہیں بجاسکے۔
اگردنیاوی قانون کو مدنظر رکھیں تو باقاعدہ پاسپورٹ اور حکومتی اجازت کے باوجود قاتل کو عدالتی عمل سے بالا تر نہیں دیا جاسکتا ۔ جس انداز سے اس کے قتل کی واردات کی ہو جس طرح وہ قتل کے بعد وقوعہ کی تصاویر بنا تا رہا ۔ ا س سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کوئی عام قاتل نہیں بلکہ پیشہ ور تخریب کار ہے اور وقوعہ کے وقت اُس کی بے فکری واطمینان یہ ثابت کرنے لئے کافی سے زیادہ شہادت فراہم کرتی ہے کہ وہ تخریب کاری کے مینڈیٹ پرہی پاکستان آیاتھا ۔ لہٰذا اُسے پوری پوری امریکی پشت پناہی ہونے کایقین تھا ۔ چنا نچہ اُس کایہ یقین درست ثابت ہوا ۔
چنانچہ اُس کو بچا نے کیلئے امریکی سفارتخانے کی گاڑی میں ایک اور تخریب کار آیا اور ایک شہری کو گاڑی تلے کچل دینا یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ کہ وہ تو انفرادی کاروائی نہیں بلکہ امریکی سفارتخانے ہی کی سرپرستی میں ایک پورا گروہ انہیں گھناؤے کے کاروبار میں ملوث ہے۔
اس کا اپنے دفاع میں قتل کرنے کا موقعہ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں غلط ثابت ہوچکا۔ لیکن اگر اسے درست بھی مان لیا جائے تو کیا اس سے ہر ایک کو اپنے دفاع کے بہانے قتل کا لائسنس نہیں مل جائے گا ؟ کیا اس طرح ملکی قانون بے اثر امن وامان تباہ وبر باد نہیں ہوجائے گا؟
اس کیس میں جس طرح امریکی حکومت کھل کر سامنے آتی ہے اوراس نے پاکستا ن کو دباؤ میں لانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا، اُس سے پاکستانی عوام میں امریکی نفرت کو مز ید ہوا ملی اور ملک میں موجود امریکی مواد مزید کمزور پوزیشن میں آگئے ۔اس کے باوجود امریکی یہ سوال کر تے ہیں کہ دنیا ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے؟ یہ سوال کمال سادگی کا مضمر ہے کہ ڈھیٹ پن کی انتہاء کی مثال۔
ایک اور شہری کیلئے امریکی پھرتیاں بھی ہم سے عافیہ صدیقی کے لئے امریکی انصاف ہم نے دیکھ لیا۔ ان دو مختلف واقعات سے امریکی نفسیات کو سمجھنے اور دوسروں کے متعلق امریکی رویوں کو پڑھنے میں کافی مدد ملتی ہے کہ امریکی معاشرہ اپنی طبعی عمر پوری کرچکا اور انسان نما امریکی مخلوق اپنی بدعملیوں کی پادا ش جلد تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہونے والی ہے ۔ یہ بھی اصول فطرت ہے اورفطرت اپنے اصولوں کے خلا ف نہیں کیا کرتی۔

اقوالِ امام ابوحنیفہ ؒ
علمائے کرام کے کتب ورسائل سے مختلف اقتباسات وعبارات کا سلسلہ
مولاناشمس الہادی طاہریؔ
ایک شخص نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا ۔کہ حصول علم میں کیا چیز مددگار ہوسکتی ہے۔ فرمایا ’’دلجمی‘‘ اس نے پوچھا ۔دلجمی کیونکر حاصل ہو۔ فرمایا :تعلقات کم کئے جائیں ۔ پوچھا :تعلقات کیسے کم ہوں ۔ جواب دیا انسان ضروری چیزیں اختیار کرے اور غیرضروری چھوڑ دے۔
فرمایا اگرکوئی شریعت میں کسی بدعت کاموجد ہو، تو اعلانیہ اسکی غلطی کا اظہار کرنا تاکہ دوسرے لوگوں کو اس کی تقلید کی جرأت نہ ہو۔ اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرنا کہ وہ شخص جاہ و حکومت رکھتا ہے ۔کیونکہ اظہار حق میں اللہ تعالیٰ تمہارا مدد گار ہوگا۔اور وہ اپنے دین کا جانی ومحافظ ہے۔
* تحصیل علم سب پر مقدم رکھو ۔ ا س سے فراغت ہونگے تو جائز ذرائع سے دولت حاصل کرنا کیونکہ ایک وقت میں علم اور دولت دونوں کی تحصیل نہیں ہوسکتی۔
* اگرعلماء حق اللہ تعالیٰ کے دوست نہیں تو دنیا میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دوست نہیں۔
* جوشخص علم دینا کے لئے سیکھتا ہے توعلم اس کے دل میں جگہ نہیں پکڑتا۔
* سب سے بڑی عبادت ایمان اور سب سے بڑا گناہ کفر ہے۔
* مناظرہ کے وقت غصہ ہر گز نہیں کرنا چاہیے اور ہنسنا بھی کم چاہیے۔
* عام اور معمولی درجہ کے لوگوں سے مناظرہ کرنے میں احتراز کرو۔
* جس عہدہ اورخدمت کی تم میں صلاحیت و قابلیت نہ ہو ۔اس کو ہرگز قبول نہ کرنا۔
* جولوگ آداب مناظرہ سے واقف نہ ہوں ان سے گفتگو ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
* علمی تذکرہ آئے تو جوبا ت کہو خوب سوچ سمجھ کر کہو اور ایسا کہو جس کا کافی ثبوت دے سکتے ہو۔
* جس شخص کو علم نے بھی معاصی اور فواحش سے باز نہ رکھا تو اس سے زیادہ زیان کار کون ہوگا۔
* ہربات میں تقویٰ اور امانت کو پیش نظر رکھو۔
* ہمسایہ کی کوئی برائی دیکھو ۔تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ تاکہ تم پر اس کا اعتماد رہے۔
* اپنی جان کے لئے گناہ جمع کرنا اور ورثاء کے لئے مال جمع کرنا سب سے بڑی غلطی ہے ۔
* مناظرہ کے وقت نہایت جرأت واستقلال سے کام لو ۔اگر دل میں ذرابھی خوف ہوگا تو خیالات مجتمع نہیں رہ سکیں گے اور زبان میں لعزش ہوگی۔
* شاگردوں کیساتھ ایسے خلوص اور محبت سے پیش آؤ کہ کوئی غیر دیکھے تو سمجھے کہ تمہاری اولاد ہیں۔
* جوشخص علم کا مزاج نہیں رکھتا ۔ اس کے سامنے علمی گفتگو کرنا گویا اس کو اذیت دینا ہے۔
(ماخوذ از مخز ن اخلاق (نذیر انبالوی)
اعدل الکلام فی حکم الفاتحۃ خلف الامام
فاتحہ خلف الاما م اور احناف کا مسلک حق
قسط پندرھویں (شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا سید محمد حسین شاہ صاحب نیلوی ؒ )
* امیر المؤمنین سیدنا اما م عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں کسی نے عرض کیا کہ جو لوگ میدان عرفات میں ظہر کے وقت ہی ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لیتے ہیں توکیا حضرت رسول اللہ ﷺ نے بھی کبھی ایسا کیا تھا؟ تو اس شخص کے جواب میں حضرت سالم ؒ نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو صرف حضرت رسول اللہﷺ ہی کے طریقے اور سنت کی اتباع کیا کرتے تھے۔ (مشکوۃ :۰۳۲)
* طیبی شرح مشکوۃ جلد۲ صفحہ ۲۱۱ میں ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ حضرت نبی کریمﷺ کی اقتداء اور پیروی فرمایا کرتے تھے اور آپﷺ ہی کے طریقے اور چال چلن پر چلتے تھے ۔ اس لئے یہ برگزیدہ ہستیاں امت محمدیہ ﷺ کی متبوع ہوئیں ، جیساکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ : ’’لوگ تمہاری اتباع کریں گے ‘‘ چنانچہ:۔
* حضرت رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام ں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔ (ایتموا بی ولیاتم بکم من بعدکم) کہ اے صحابہؓ ! تم میری پیروی کرو اور تمہارے بعد آنے والے لوگ تمہاری اتباع کریں۔ (صحیح بخاری :۹۹)
* حضرت رسول اللہﷺ کے مذکورہ بالافرمان ذی شان میں درحقیقت صحابہ کرامؓ کے بعد قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو صحابہ کرامؓ کی اتباع ، تقلیداورپیروی کاحکم دیا گیا ہے۔ اس لئے ہم پر صحابہ کرامؓ کی تقلید اور ان کے طریقے کی اتباع اور پیروی واجب ہے۔
اب اگر کوئی شخص صحابہ کرا مؓ کے طریقے کی اتباع نہ کرے تو وہ سخت مجرم اور گناہگار ہوگا۔
* حضرت علامہ شمس الدین ذہبی ؒ نے سیر اعلام النبلاء جلد ۸ صفحہ ۱۹ میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تقلید ہم پر ضروری ہے ، بشرطیکہ ان کی بات سند سے ثابت ہو۔
* پھر ا ن کے بعد ہمارے مقلد ائمہ تابعین ہیں ، جیسے : علقمہؒ ، سعید بن مسیب ؒ ، سعید بن جبیرؒ ، شعبیؒ ، ابن سیرینؒ ، حسن ؒ ، ابراہیم نخعی ؒ وغیرھم ۔
* پھر ان کے بعد زہریؒ ، ابو الزناد ؒ ربیعہ وغیرھم۔
* پھر ان کے بعد ابو حنیفہ ؒ ، مالکؒ ، اوزاعیؒ ، ابن جریجؒ ، معمرؒ ، سفیان ثوریؒ ؒ وغیرھم ۔
* پھران کے بعد ابن مبارکؒ ، قاضی ابو یوسف ؒ اور وکیعؒ وغیرھم ۔
* پھران کے بعد شافعیؒ ، احمدؒ او راسحاق ؒ وغیرھم۔
* پھران کے بعد محمد بن جریر طبریؒ ، ابوبکر بن خزیمہؒ ، ابن منذرؒ اور طحاویؒ وغیرھم ۔
* پھرا ن کے بعد اجتہاد میں کمی آگئی۔
* بہرحال یہ توتھا حضرت علامہ ذہبی ؒ کاقول ۔ ہم انکی ہربات کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔ لیکن رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق صحابہ کرامؓ کی تقلید ہم پر واجب ہے اور پھر تابعین اورتبع تابعین رحمھم اللہ تعالیٰ کی ہر وہ بات ماننا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جو قرآن وسنت اور عمل صحابہؓ سے مستنبط ہو۔ (۔۔۔جاری۔۔۔)
قارئین حضرات متوجہ ہوں
رسالہ وصول کرتے ہو ئے اپنے اسم گرامی کے ساتھ لکھی ہوئی مدت خریداری (ترسیل تا ماہ فلاں ) کو بھی
ملاحظہ فر ما لیا کریں ۔ جن احبا ب کی مدت ترسیل ختم ہو ، وہ از کرم نیا سالانہ چند ہ ارسال فر مائیں تا کہ اُنکے
نا م رسالہ جاری رکھا جا سکے ۔ یہ رسالہ صرف آپ کی علمی تشنگی ہی نہیں پوری کرتا بلکہ دعوت و تبلیغ کے دینی حکم
میں آپکی شرکت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔
جن اضلاع میں ماہنامہ کے نمائندہ نہیں ہے وہاں کے جماعتی احباب نمائندہ مقرر کرکے دفتر ماہنامہ سے رابطہ کرے۔
آپ ایک عرصہ سے یہ رسالہ پڑ ھ رہے ہیں۔
ااس کی روشنی میں اپنی آراء وتجاویز بھی ارسال فر مائیں ، شکریہ۔

شرک کی قسمیں

(قسط ششم) مولاناحکیم عبدالخالق
* پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے خطاب ربانی ہے :۔ (لیس لک من الامر شئی او یتوب علیہم او یعذبھم فانھم ظالمون) (سورۃ آل عمران:۸۲۱ ) ’’ آپﷺ کوکوئی دخل نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر یا تو متوجہ ہوجائے یا ان کوسز ادے کیونکہ وہ ظلم کررہے ہیں‘‘
اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے صفوان بن امیہ ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لئے بددعا مانگی۔ چونکہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کے علم میں مسلمان ہونے والے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تنبیہ فرمائی کہ آپ کویہ حق حاصل نہیں کہ آپ ان کے لئے بددعا مانگیں اور مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اگر آنحضرتﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختارکل بنادیاگیا تھا توآپﷺ کو ان کیلئے بددعا سے کیوں روکا اور منع کیاگیا ؟ اور کیوں یہ فرمایا کہ آپ کو کوئی دخل نہیں ۔
* قرآن مجید کے اندر اگر آپ غور فرمائیں توجابجا مشرکین کے فرمائشی معجزات مانگنے کا ذکر ہے۔ بعض دفعہ مشرکین نے مطالبہ کردیا کہ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو ہمارے اوپر عذاب نازل کردیجئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا ’’ماعندی ما تستعجلون بہ ان الحکم الا للہ ‘‘ (سورۃانعام:۷۵) ’’ جس چیز کا تم تقاضا کرتے ہو وہ میرے پاس نہیں سارا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔ ’’ قل انما الایات عنداللہ ‘‘ (سورۃ انعام: ۹۰۱)
’’آپ کہہ دیجئے کہ معجزات اور نشان تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہیں ‘‘
معلوم ہوا کہ نشانات اور فیصلوں کا صادر اور ظاہر کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔نبی کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں ہوتا۔
یشآء ) (سورۃ قصص:۶۵) ’’ آپﷺ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ہدایت کر دیتا ہے‘‘
آیت ہذا کا شان نزول حسب روایت بخاری شریف یہ ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب ہوا توآپﷺ نے بڑی شفقت اور محبت سے ابو طالب کے سامنے کلمہ توحید پیش کیا لیکن اس نے لوگوں کی ملامت کے خوف اور ڈر سے کلمہ نہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ آپﷺ اپنے حقیقی چچا کو بھی ہدایت نہیں دے سکتے تو اور کس کو ہدایت دے سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آپﷺ بھی باوجود اپنی بلند شان او رمقام کے مختار کل نہیں ہیں۔
ناظرین گرامی ! پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی پر اگر طائرانہ نظرڈالیں تو یہ مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ہے ۔ ذرا توجہ فرمائیں اگر آپ مختار کل ہوتے اور سب اختیارات آپ کو دئیے گئے ہوتے تو:۔
(۱) آپﷺ ۲۱ سال تک مکہ مکرمہ میں کفار کے مظالم برداشت نہ کرتے۔
(۲) صحابہ کرامؓ کو بھی مظالم کا شکار نہ ہونے دیتے۔
(۳) تین سال تک شعب ابی طالب میں مجوس نہ رہتے ۔ بے سر و سامانی سے دوچار نہ ہوتے۔
(۴) طائف کے سفر میں مارنہ کھاتے۔
(۵) مکہ مکرمہ سے ہجرت کیلئے مجبور نہ ہوتے۔ حالانکہ فراق بیت اللہ میں آپ آنسو بہاتے ہوئے روانہ ہوئے ۔
(۶) میدان جنگ میں اسلحہ وغیرہ اکٹھا نہ کرتے۔
(۷) غزوہ بدر والی رات اللہ تعالیٰ سے دورد کر دعائیں نہ مانگتے ۔
(۸) غزوہ اُحد میں آپﷺ کی پیشانی مبارک زخمی نہ ہوتی۔ دندان مبارک شہید نہ ہوتے۔ بے خود ہوکر گڑھے میں نہ گرتے۔
میں آپﷺ کی نماز قضانہ ہوتیں۔

(۰۱) آپﷺ کے گھر میں فاقے نہ ہوتے۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر میں افلاس کے ڈیرے نہ ہوتے۔
(۱۱) گھوڑے سے گر کر آپﷺ کی ٹانگ مبارک زخمی نہ ہوتی۔
(۲۱) آدائیگی عمرہ کے سفر میں مقام حدیبیہ پر رکنے پر مجبور نہ ہوتے اور عمرہ ادا کئے بغیر احرام کھولنے پر مجبور نہ ہوتے اور واپس نہ لوٹتے۔
(۳۱) آپ ﷺ کا بیٹا آپ کے سامنے انسو بہانے کے باوجود موت کاجام نہ پیتا۔
(۴۱) آپﷺ کانواسہ آپ ﷺ کے سامنے موت سے ہم کنار نہ ہوتا۔
(۵۱) غزوہ تبوک میں اخراجات جہاد کے لئے صحابہ کرامؓ سے چندہ نہ مانگتے ۔ سامان جنگ کی قلت نہ ہوتی۔ اس غزوہ کو جیش العسرہ کانام نہ دیاجاتا۔ اور بعض صحابہ کرامؓ کو سواریوں کی قلت کی بناء پر واپس نہ کرتے اور وہ صحابہ کرامؓ جنگ میں عدم شمولیت کی وجہ سے آنسو بہاتے ہوئے واپس نہ جاتے۔
(۶۱) متعدد مقامات پر آپﷺ دعاؤں کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے۔
(۷۱) آپﷺ کو بارہا آپنی ضروریات کے لئے یہودیوں سے قرضہ نہ لیناپڑتا۔
(۸۱) آپﷺ پر موت کی سکرات اور جان کنی کی کیفیات واردنہ ہوتیں ۔ باربار غشی میں مبتلا نہ ہوتے ، جبکہ جبکہ باربا ر نماز کی تیاری کے لئے باوجود مسجد میں آپ تشریف نہ لاسکے۔
ناظرین گرامی!
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ تاجدار ختم نبوت سردار انبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی مختار کل نہیں ہیں تو ماسوائے اللہ تعالیٰ کے اور کون ہوسکتا ہے ؟
اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ان اختیارات میں سے کچھ اختیار مافوق الاسباب طور پر مخلوق کے لئے مانتا ہے تو وہ ’’شرک فی التصرف‘‘ کا مرتکب ہوگا ۔ اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مخلوق کے جتنے اختیارات یہ اشعار پڑھیے اور اندازہ لگائیے کہ شرک کی بیماری کس حدتک قوم کے اندر پھیلائی جارہی ہے:۔

کیوں نہ قاسم کہوں کہ تو ابن ابی قاسم ہے کیوں نہ قادر ہو کر مختار ہے بابا تیرا
ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی ہے مختار بھی ہے کار عالم کا مد بر بھی ہے عبدالقادر
احد سے احمد ، احمد سے تجھ کو کن اور سب کن مکن حاصل ہے یاغوث (حدائق بخشش)
قارئین گرامی! یہ بحث اس وقت تک مکمل نہ ہوگی جب تک ایک اشکال اور مغالطے کا سدباب نہ کیا جائے۔
عام طور پر عوام کے سامنے انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات بیان کرکے دھوکہ دیا جاتا ہے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو جب یہ کام انہوں نے کرلئے تو وہ مختار کل ہوئے اور وہ جوچاہیں کرسکتے ہیں۔
حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ معجزات کافاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہوتا ہے ۔ ہاتھ نبی کا ہوتا ہے اور اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے۔ معجزہ نبی کی نبوت اور اسکے دعویٰ کی صداقت کے لئے خدائی برہان اور دلیل ہوتی ہے ۔ اس کے صادر کرنے میں نبی کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔
ارشاد ربانی ہے :۔(سورۃ رعد :۸۳)
’’ اورکسی رسول کے بس میں یہ بات نہ تھی کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر کوئی نشانی لاسکے‘‘ (۔۔۔جاری۔۔۔)
* اے اللہ! میں میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو گناہوں سے ایسا صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان انتا زیادہ فاصلہ کر داے جیسا کہ مشرق و مغرب میں تو نے فاصلہ رکھا ہے۔ (صحاح ستہّ، عن عائشہؓ )۔
شیخ القرآ ن ؒ اور موجود ہ سیاست
(قسط نہم) اکمل محمدسعید ادنیوی
تقرر امام وامیر ایک حکم شرعی ہے ۔ لیکن طریق تقرر و انتخاب کو نساہو تو ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جمہوری طرز انتخاب قرآن وسنت کے مسلمہ اصول سے متصادم ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ ہم واضح کریں کہ دین اسلام میں انتخاب امیر کا طریقہ کار کیا ہے ۔
بحرالعلوم علامہ سید امیر علی ملیح آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ ’’ پھر امامت کبھی بذریعہ تصریح حاصل ہوتی ہے جیسے ایک جماعت اہل سنت نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوصریح خلیفہ کہا گیاتھا اور دوسرے گروہ نے کہا کہ خلیفہ بنا نے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح اگر ایک خلیفہ اپنی وفات کے وقت دوسرے کو خلیفہ کہا تو وہ خلیفہ ہوجائے گا جیسے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ کہا ۔ اسی طرح اگر جماعت صالحین کی مشورت پر خلافت رکھی تو وہ جس کو خلیفہ کریں۔ خلیفہ ہو جائے گا ۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بت افاضل صحابہ میں سے چھ آدمیوں کے مشورہ پر خلافت چھوڑدی اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ کیا۔ اسی طرح اگر اہل حل وعقد کسی شخص کے ہاتھ پربیعت کرنے کیلئے متفق ہوئے تو جمہور پر بیعت لازم ہے۔ حتیٰ کہ امام الحرمین نے اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔اسی طرح اگر کسی شخص نے بزور شمیشیر سلطنت حاصل کی تواحکام شر یعت میں اسکی اتباع لازم ہے تاکہ جماعت اسلام میں شقاق ونفاق نہ ہو۔ ( مواہب الرحمن ۱/۸۰۱)
انتخاب امیر کیلئے پانچ طریقے صحابہ کرامؓ سے منقول ہیں ۔ جس میں سوائے اول کے باقی چاروں امت کے لئے قابل عمل ہیں۔ سید امیر علی صاحب کی عبارت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام میں جمہوریت نام کی کوئی شے نہیں۔ افسوس کہ بعض مولوی جوعقل کے اندھے اور قرآن وسنت سے بہرے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ناقص سے ناقص جمہوریت ایک اچھے مارشل لاء سے بہتر ہے ۔حالانکہ اسلامی نکتہ نظر سے بات بالعکس ہے۔
اس کے بعد ایک بحث رہ جاتی ہے کہ اس طریق کار سے کن صفات کے حامل کا انتخاب کیا جائے گا ۔ ان صفات کا بیان علم کلام کے علماء نے بسط وتفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔ہم سردست چند حوالہ جات پیش کرتے ۔ الثانی: ان یکون ممن یصلح ا ن یکون قاضیا من قضاۃ المسلمین مجتھد الا یحتاج الی غیرہ فی الاستقاء فی الحوادث۔ الثالث : ان یکون ذاخیرۃ ورأی حصیف بأمرالحرب وتد بیر الضیوش وسد الثغور وحماےۃ البیضۃ وردع الامۃ والانتقام من الظالم والأخذ للمظلوم ۔ الرابع : ان یکون ممن لا تلحقہ رقۃ فی اقامۃ الحدود ولافزع من ضرب الرقاب ولاقطع الابشار۔ الخامس :ان یکون حرا ولا خفاء باشتراط حرےۃ الامام واسلامہ و ھو السادس ۔ السابع :أن یکون ذکر اسلیم الاعضاء وھو الثامن واجمعوا علیٰ ان المرأۃ لا یجوز ان تکون اماما وان اختلفوا فی جواز کونھا قاضےۃ فیماتجو ز شھادتھا فیہ۔ التاسع والعاشر: ان یکون بالغا عاقلا ۔الحادی عشر: ان یکون عدلا لا نہ لا خلاف بین الامۃ انہ لا یجوز ان تعقد الامامۃ لفاسق۔ (قرطبی ۱:۲۱۳ تحت اےۃ البقرہ ۲:۰۳)
تفسیر القرطبی کی جو عبارت اختصاراً نقل کی گئی اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔
امام کے لیے شرائط گیارہ ہیں:۔ (۱)نسب قریش سے ہونا(۲) اس میں مسلمانوں کے قاضیوں میں سے ایک قاضی ہونے کی صلاحیت ہو ، نیز اجتہاد کی صلاحیت بھی ہے تاکہ نئے مسائل میں فتویٰ کے لئے غیر کا محتاج نہ ہو۔ (۳)ہربات سے خبر اور مضبوط رائے کا مالک ہو امور حرب میں ۔ لشکروں کی تدبیر میں اور ظالموں سے انتقام لینے وغیرہ میں ۔ (۴)ایساشخص ہوکہ جس پر اقامت حدود کے وقت نرمی اور گردن الگ کرتے وقت گھبراہٹ طاری نہ ہو ۔ (۵)حریعنی آزاد ہونا (۶)مسلمان ہونا (۷) مرد ہونا (۸)سلیم الاعضاء ہونا (۹)بالغ ہونا (۰۱) عاقل ہونا (۱۱)عادل ہونا
حافظ عماد الدین ابن کثیر نے بھی تقریباً گیارہ شرائط ذکر کی ہیں:۔ (ویجیب ان یکون
ذکرا حرا بالغا عاقلا مسلما عدلا مجتہد ا بصیرا خبیرا سلیم الاعضاء بالحروب والاراء قرشیا علی الصحیح ۔ (ابن کثیر ۱/۸۰۱)
علامہ ماوردی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : واما اھل الامامۃ فالشروط المعتبرۃ فیھم سبعۃ احد ھا: والاحکام ۔ والثالت :سلامۃ الحواس من السمع والبصر واللسان لیصح معھا مباشرۃ مایدرک بھا۔ الرابع : سلامۃ الاعضاء من نقص یمنع عن اسیفاء الحرکۃ وسرعۃ النھوض والخامس : الرای المفضی الی سیاسۃ الرعےۃ و تد بیرالمصالح۔ السادس : الشجاعۃ والنجدۃ المؤدےۃ الی حماےۃ البیضۃ وجھاد العدو۔ والسابع : و ھو ان یکون من قریش لورود النص فیہ۔ (االاحکام السطانےۃ:۶)
ترجمہ:۔ اما مت کے اہل میں شروط معتبرہ سات ہیں ۔ اول عدالت اپنی تمام شرائط جامعہ کے ساتھ دوم ایسا علم جس کے ذریعے نئے مسائل اور احکام میں اجتہاد کرسکے۔ سوم سمع و بصر اور زبان وغیرہ حواس کا سالم ہونا تاکہ ان کی وجہ سے جن اشیاء کی ادراک کی جاتی ہے ان کا مباشرت کرسکے۔ چہارم اعضاء کا ایسے نقصان سے سالم ہونا جس کی وجہ سے پوری حرکت نہ کرسکے۔ پنجم ایسی رائے جس کے ذریعے رعیت کی سیاست اور تدبیر مصالح کرسکے۔ ششم شجاعت اور بہادری جس کے ذریعے قو م کی میدانوں کی حفاظت اور دشمن سے جہاد کرے گا۔ ہفتم یہ کہ قریش سے ہو کیونکہ اس میں نص وارد ہے۔
تمام علماء وفقہاء تقریبا اسی طرح کم وبیش شرائط ذکرکرتے ہیں۔ شیخ القرآن ؒ نے ان تمام علماء سے منفرد انداز اختیار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ شروط امارت کچھ قبل التقرر ہیں اور کچھ بعد التقرر ۔ قبل التقرر شرائط دو ہیں جو قرآن کریم نے ذکر فرمائے ہیں ۔ بنی اسرائیل کے سرداروں نے تقرر امیر کا مطالبہ کیا تو پیغمبر وقت نے طالوت کی امارت کی خبردی ۔ جب ان کی طرف سے اعتراض کیا گیا توان کے جواب میں استحقاق طالوت کیلئے وہ شرائط بیان فرمائیں جوامارت کیلئے ضروری ہیں اور طالوت میں موجود تھی۔ (ان اللہ اصطفاہ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم ) (سورۃ البقرہ:۷۴۲)
ترجمہ:۔ ’’ اللہ تعالیٰ نے ان کو تم پر( فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلئے) منتخب فرمایا ہے۔ اس نے اسے علم بھی بہت سابخشا ہے اور تن و توش بھی بڑا عطاکیاہے‘‘
شیخ القرآن ؒ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ واقعات قرآن کو محض واقعات کی نظر سے آشکارہ ہوجاتے ہیں۔
(۱) بنی اسرائیل نے اپنی ذلت ورسوائی اور غلامی کی علت نظام جماعت نہ ہو نا قرار دیا ۔اسی وجہ سے تقرر امیر کا مطالبہ کیا۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں :قرآن وسنت نے بتلایا ہے کہ شخصی زندگی کے معاصی کسی قوم کو یکایک برباد نہیں کردیتے بلکہ اشخاص کی معصیت کا زہر آہستہ آہستہ کام کرتا ہے لیکن جماعتی زندگی کی معصیت کاتخم (یعنی نظام جماعتی کا نہ ہونا) ایسا تخم ہلاکت ہے جوفوراً بربادی کا پھل لاتا ہے اور پوری قوم تباہ ہوجاتی ہے۔ (مسئلہ خلافت : ۷۰۲)
(۲) تقرر امیر اور تاسیس جماعت کا مقصد قتال فی سبیل اللہ قرار دیا ہے۔
(۳) انتخاب امیر کیلئے پیغمبر کی طرف رجوع سے معلوم ہوتا ہے کہ انتخاب امیر ایک امر شرعی ہے اس لئے اس کا طریقہ کار بھی شرعی ہوناچا ہیے نہ کہ جمہوری۔
(۴) اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت جمہوریت کے ساتھ نہیں ہوتی (کم من فءۃ قلیلۃ غلبت فءۃ کثیرۃ باذن اللہ)
(۵) امیر اورافسر کے لئے مالدار ہونا ضروری نہیں ۔گویاسرمایہ دارانہ نظام پر رد کی گئی ہے۔
(۶) امیر کے صفات میں سے ہیں کہ اُس میں علمی اور جسمانی قوتیں اعلیٰ درجہ کی موجود ہوں ۔ (فضائل نفسانیہ فضائل جسمانیہ سے اعلیٰ ہیں اسلئے اس کو اول ذکر فرمایا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :(فتضمنت بیان صفۃ الامام واحوال الامامۃ وانھا مستحقۃ بالعلم والدین والقوۃ ) (قرطبی ۳/۵۳۲)
(۷) اس واقعہ میں مامورین کی صفت کا بھی بیان ہے کہ وہ آزمائش کے بعد منتخب شدہ ہو ۔
(۸) ارکان جماعت اگر ثابت قدم ، مشکلات برداشت کرنے والے اور جذبات پر قابو پانے والے ہوں توتھوڑی جماعت بھی ایک عظیم انقلاب بھر پا کرسکتی ہے۔
(۹) جمہور ہمیشہ دین اور دینداروں کے خلاف رہے اور اقلیت نے دین کا ساتھ دیا ہے۔
(۰۱) رحمت رب اور فتح ونصرت رب کے لئے امیر کا تقرر شرط ہے۔ (تلک عشرۃ کاملۃ)
السیاسۃ ، وال�أمر الثانی قوۃ البدن لیعظم خطرہ فی القلوب و یقدرعلیٰ سقاوےۃ الاعداء وسکایدۃ الشدائد ۔ (صفوۃ التفاسیر ۱:۳۴۱)
ترجمہ:۔طالوت کے چننے میں دو امور قابل اہمیت ہیں۔ علم جسکے ذریعے امور سیاست جانتے پرقادر ہو اور دوسرا قوت جسمانی تاکہ دلوں میں اس کا ہیبت زیادہ ہو اور دشمن کے مقابلے اور شدائد برداشت کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔ حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں:
ومن ھنھا ینبغی ان یکون الملکزا علم وشکل حسن وقوۃ شدیدۃ فی یدنہ ونفسہ ۔(ابن کثیر ۱/۴۰۴)
ترجمہ:۔اوراسی وجہ سے چاہیے کہ بادشاہ عالم ، خوبصورت شکل والا اور نفس وبدن کیلحاظ سے سخت قوت والا ہو۔
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے امارت طالوت کا اعلان کیا گیا تو بنی اسرائیل کے سرداروں نے اس پردو طریقوں سے طعن کیا۔
(۱) طالوت خاندان مملکت سے نہیں۔
(۲) مالدار نہیں فقیر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر رد فرماکر استحقاق امارت طالوت کیلئے دوصفات بیان فرمائے ۔ علم اور قوت جسمانی ۔ اللہ تعالیٰ کے بیان فرمودہ دو صفات انکے ذکر کردہ صفات کے مقابلے میں چند وجوہ زیادہ قرین قیاس ہیں۔
(۱) اولاً علم وقوۃ کمالات حقیقۃ میں سے ہیں ۔اور مال وجاہ اس طرح نہیں ۔
ثانیاً :علم وقوت کے ذریعے مال وجاہ کو وصولی ممکن ہے جبکہ عکس ممکن نہیں۔
ثالثا: مال وجاہ کا انسا ن سے سلب کرنا ممکن ہے اور علم کاسلب کرنا ممکن نہیں۔
رابعاً: امور جنگ پرعالم اور قوی وشدید شخص اس کے ذریعے مصلحت ملک فیصلے کرسکتا ہے اور دشمنوں کے شرکو دفع کرسکتا ہے ۔ دوسری طرف زیادت مال اور نسب وغیرہ کوا ن امور میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں۔
(اللباب بتغیریسر ۴/۱۷۲) (۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔)
(خوشخبری)
شیخ القرآن والحدیث مولانا محمدطاہررحمۃ اللہ علیہ
شیخ القرآن والحدیث مولانا محمدطیب مدظلہ
کے دروس قرآن کریم ، تقاریرسننے اور
دارالقرآن پنج پیر * جماعت اشاعۃ التوحید والسنۃ
کے بارے میں مکمل معلومات سے آگاہی کے لئے
اورماہنامہ ’’ا لتوحید والسنۃ ‘‘ پنج پیر کے مطالعہ کے لئے دیکھئے:۔
ویب سائٹ:www.panjpir.org
جماعۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ کے زیر اہتمام چھٹا عظیم الشان اجتماع بمقام دارالقرآن پنج پیر
بتاریخ 1,2,3 اپریل 2011ء بھی اس ویب سائٹ پر براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔
المشتہر:۔جماعت اشاعۃ التوحیدوالسنۃ صوبہ خیبرپختونخواہ
آخرت کی کامیابی
مولانا نعیم احمد ابرار
حضرت حاتم اصم رحمہ اللہ بہت مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ آپ کا شمار اپنے دور کے بہترین عابدوں میں ہوتا ہے اور آپ حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ علیہ کے خاص شاگردوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔
ایک مرتبہ شیخ ؒ نے دریافت کیا کہ حاتم تم کتنے عرصے سے میرے ساتھ ہو؟
حاتم اصم رحمہ اللہ نے عرض کیا تیس بتیس برس سے۔
شیخ ؒ نے فرمایا ’’تم نے اتنے دنوں میں مجھ سے کیا سیکھا ؟‘‘
حضرت حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا ’’ آٹھ مسئلے سیکھے ہیں ‘‘
حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ نے فرمایا :۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون) اتنی طویل مدت میں صرف آٹھ مسئلے سیکھے ہیں ۔ میری تو عمر ہی تمہارے ساتھ ضائع ہوگئی ہے۔
حضرت حاتم رحمہ اللہ کہنے لگے ’’ حضرت میں نے صرف آٹھ مسئلے ہی سیکھے ہیں۔ میں جھوٹ تو بو ل نہیں سکتا‘‘۔
اس پر حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ نے فرمایا ’’ اچھا بتاؤ وہ آٹھ مسئلے کیا ہیں؟‘‘
حضرت حاتم رحمۃ اللہ نے عرض کیا :۔
(۱) میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق کو کسی نہ کسی سے محبت ہے (بیوی سے، اولاد سے، مال سے ، احباب سے وغیرہ وغیرہ) لیکن میں نے دیکھا کہ جب وہ قبر میں جاتا ہے تو ا س کا محبوب اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے میں نے نیکیوں سے محبت کرلی۔تاکہ جب میں قبرمیں جاؤں تو میرا محبوب بھی میرے ساتھ قبر میں جائے اور مرنے کے بعد بھی مجھ سے جدا نہ ہو۔
حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا ’’ بہت اچھا کیا ‘‘

ترجمہ:۔ ’’ اور جوشخص دنیا میں رب کے سامنے (آخرت میں ) کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا اور نفس کو(حرام خواہش) سے روکا ہوگا تو جنت میں اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ ( والنازعات)
میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد حق ہے ۔ میں نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر جم گیا۔
(۳) میں نے دنیا کودیکھا کہ ہرشخص کے نزدیک جوچیز بہت قیمتی ہوتی ہے وہ ا س کو اٹھا کر بڑی احتیاط سے رکھتا ہے۔ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک دیکھا۔
(ما عندکم ینفذ وما عنداللہ باق) (نحل)
ترجمہ:۔ ’’ جوکچھ تمہارے پاس دنیا میں ختم ہوجائے گا (خواہ وہ جاتارہے یاتم مرجاؤ ہرحال میں ختم ہوگا) اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے‘‘
اس آیت شریفہ کی وجہ سے میرے پاس جو چیزبھی ایسی ہوتی جس کو میرے نزدیک وقعت زیادہ ہوتی یا پسند زیادہ آتی وہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پاس بھیج دی تاکہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائے۔
(۴) میں نے ساری دنیا کو دیکھا کوئی شخص مال کی طرف (اپنی عزت اور بڑائی میں)لوٹتا ہے ۔کوئی حسب کی شرافت کی طرف اور فخر کی چیزوں کی طرف ۔ یعنی ان چیزوں کے ذریعے سے اپنے اندر بڑائی پیدا کرتا ہے اور اپنی بڑائی ظاہر کرتا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد دیکھا :۔
(ان اکرمکم عنداللہ اتقکم) (حجرات)
ترجمہ :۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ برتروہ ہے جوسب سے زیادہ پرہیزگار ہو‘‘
اس بناء پر میں نے تقویٰ اختیار کر لیاکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شریف بن جاؤں۔
(۵) میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے پرطعن کرتے ہیں۔ عیب جوئی کرتے ہیں۔ برابھلا کہتے ہیں اور یہ سب کا سب حسد کی وجہ سے ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر حسد آتا ہے ۔ میں نے اللہ جل شانہ کا ارشاد مبارک دیکھا :۔
ترجمہ:۔ ’’دنیوی زندگی میں ان کی روزی ہم نے ہی تقسیم کررکھی ہے اور(اس تقسیم میں) ہم نے ایک دوسرے کو فوقیت دے رکھی ہے تاکہ ( اسکی وجہ سے) ایک دوسرے سے کام لیتا رہے (سب کے سب) برابر ایک نمونہ کہ بن جائیں تو پھر کوئی کسی کاکام کیوں کرے کیوں نوکری کرے اور اس سے دنیا کا نظام خراب ہوجائے گا۔
میں نے اس آیت شریفہ کی وجہ سے حسد کرنا چھوڑ دیا۔ ساری مخلوق سے بے تعلق ہوگیا اور میں نے جان لیا کہ روزی کا بانٹنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے۔ وہ جس کے حصے میں جتنا چا ہے لگائے اس لئے لوگوں کی عداوت چھوڑدی اور یہ سمجھ لیا کہ کسی کے پاس مال کے زیادہ یا کم ہونے میں ان کے فعل کو زیادہ دخل نہیں ہے۔ تو مالک الملک کی طرف سے ہے اس لئے اب کسی پر غصہ ہی نہیں آتا۔
(۶) میں نے دنیامیں دیکھا کہ تقریباً ہرشخص کی کسی نہ کسی سے لڑائی ہے ۔کسی نہ کسی سے دشمنی ہے۔ میں نے غور سے دیکھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا :۔
(ان الشیطن لکم عدوٌ فاتخذوہ عدواً ط ) (فاطر)
ترجمہ:۔ ’’ شیطان بلاشبہ تمہارا دشمن ہے پس اس کے ساتھ دشمنی ہی رکھو (اس کو دوست نہ بناؤ)‘‘
پس میں نے اپنی دشمنی کیلئے اسکو چن لیا اور اس سے دو ر رہنے کی انتہائی کوشش کرتا ہوں۔ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن ہونے کوفر مادیا تو میں نے اس کے علاوہ سے اپنی دشمنی ہٹالی ۔
(۷) میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق روٹی کی طلب میں لگ رہی ہے۔ اسکی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرتی ہے اور ناجائز چیزیں اختیار کرتی ہے۔ پھر میں نے دیکھا تو اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے :۔ (وما من دآبۃٍ فی الارض الا علیٰ اللہ رزقھا ) (ہود)
ترجمہ :۔ ’’ اورکوئی جاندار زمین پر چلنے والا ایسا نہیں ہے جس کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو‘‘
میں نے دیکھا کہ میں بھی انہی زمین پر چلنے والوں میں سے ایک ہوں جن کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ پس میں نے اپنے اوقات ان چیزوں میں مشغول کرلے جو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لاز م
(۸) میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق کا بھروسہ کسی ایسی چیز پر ہے جو خود مخلوق ہے۔ کوئی اپنی دستکاری پر نگاہ جمائے ہوئے ہے۔ کوئی اپنے بدن کی صحت پر ( کہ جب چاہے جس طرح چاہے کمالوں) ساری مخلوق ایسی چیزوں پر اعتماد کئے ہوئے ہے۔ جو انکی طرح خود مخلوق ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا اشیاء مقدس ہے۔(ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ) (الطلاق)
ترجمہ:۔ ’’جوشخص اللہ تعالیٰ پر توکل(اعتماد) کرتا ہے ۔بس اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔
حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ نے فرمایاکہ تمہیں حق تعالیٰ شانہ توفیق عطا فرمائے میں نے توریت ، انجیل ، زبور اور قرآن کریم کے علوم کودیکھا ۔ میں نے سارے خیر کے کام انہی آٹھ مسائل کے اند ر پائے۔ پس جو ان آٹھ مسائل پر عمل کرے وہ کامیاب ہے اور اس قسم کے علوم کو توعلمائے آخرت ہی پاسکتے ہیں اور دنیا دار عالم تو مال اور جاہ کے ہی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ (از نوادرات علمی)
تنظیم سازی حلقہ کوپر تحصیل درگئی ملا کنڈ ایجنسی
وہاب گل ، درگئی ملاکنڈ
جماعت اشاعت التوحید والسنت تحصیل درگئی کا ماہانہ اجلاس 06فروری بروز اتوار کو مُلا مصری علاقہ کوپر ملا کنڈ ایجنسی میں تحصیل ناظم جناب سعیدا للہ صاحب کے بیٹھک میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیل کے اراکین کے علاوہ علاقہ کوپر کے احباب کی کل تعداد بھی موجود تھی ۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تحصیل درگئی کے سرپرست اعلیٰ جناب مولانا جمعہ گل صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اجلاس میں دروس قرآن پاک کو عام کر نے پرزور دیا گیا اور ساتھ ہی ہر شوریٰ میں مختصر درسِ قرآن اور احادیث نبویؐ میں سے ایک حدیث کا معنی و مفہوم پیش کر نے کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔
آخر میں جماعت اشاعت التوحیدوالسنت تحصیل درگئی کے امیر جناب مولانا محمدعثمان صاحب نے حاضرین کی آراء وتجاویز کی روشنی میں حلقہ کوپر کیلئے مندرجہ ذیل تنظیمی ڈھانچے کا انتخاب کیا:۔
سرپرست اعلیٰ:جناب الحاج حبیب الرحمن صاحب،امیر: مولانا امان اللہ صاحب،نائب امیر:جناب سعیداللہ صاحب ناظم:جناب مولانا محمد عزیز صاحب،نائب ناظم: جناب عمرخان صاحب، ناظم نشرواشاعت:جناب جمیل شاہ صاحب
نائب ناظم نشرواشاعت: جناب سعید شاہ صاحب، ناظم مالیات:جناب ظاہر شاہ صاحب
مولاناعتیق اللہ آباسندھیؔ
شیخ الحدیث مولانا محمدیاربادشاہ صاحب(باچاصاحبؒ ) نے جامعۃ الاما م محمدطاہرؒ دارالقرآن پنج پیر میں قرآن وسنت کی خدمت میں37سال کی عرصہ گزارا۔ اور یہ شیخ الحدیث صاحب کی ایک دلی خواہش تھی کہ تاحیات پنج پیر میں قرآن وسنت کی خدمت کرتا رہوں ۔ دوران درس اور تقاریر میں اکثر (واذکر ھارم اللذات اور اللھم بالرفیق الاعلیٰ) کی ورد کیا کرتے تھے ۔ تواسی حالت میں 17جنوری کو بوقت عصر داعی اجل کو لبیک کہہ کر عالم دنیا سے عالم برزخ چلے گئے ۔(انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)
باچا صاحب نے باقیات صالحات میں خلاصۂ قرآن، اتقاط الدرراور الکوثر البخاری فی شرح البخاری اور ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید وسنت چھوڑے ہیں ۔
پنج پیر کو با چا صاحب ؒ کی آمد
بندہ راقم کافی عرصہ سے پنج پیر سے منسلک ہے اسی وجہ سے زیادہ تر وقت باچا صاحب کی صحبت میں گزارا ہے ۔ ایک دن میں نے پوچھا جی آپ پنج پیر کیسے آئے ہیں ۔ مسکراتے ہو ئے فرمایا کہ جب تحصیل علوم سے فراغت ہوئی توتدریس کے لئے مولانا شیخ تنار صاحب ؒ کے ہاں مدرسہ تعلیم القرآن تورڈھیر کا انتخاب کیا اور ابتدائی درجوں کی کتابیں شروع کئے ۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ شیخ القرآن نوراللہ مرقدہ نے مجھے پنج پیر بلایا ۔ میں حاضر ہوا ۔ شیخ القرآن ؒ نے فرمایا باچا صاحبؒ پنج پیر نہیں آنا ہے ؟ ارادہ ہے کہ آئندہ سال دورہ حدیث کی افتتاح ہوجائے ۔ میں نے عرض کیا جی کیوں نہیں ؟ لیکن پہلے ابتدائی در جوں کی کتابیں پڑھاتا ہوں ۔ اس لئے کہ علوم پختہ ہوجائے ۔ بعد میں انشاء اللہ احادیث پڑ ھاؤں گا ۔
شیخ القرآن ؒ ہنستے ہوئے فرمایا: باچاصاحب !گھوڑے کی سواری خچر اور گدھے کی سواری سے اچھی ہوتی ہے جب احادیث کی تدریس مل جاتی ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوتا ہے۔ بس یہ مثال میرے لئے
قرآن کریم کے ساتھ شیخ القرآن ؒ بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف وغیرہ پڑھاتے تھے اور ترمذی اور ابوداؤد میں نے شروع کئے ۔ شیخ القرآن ؒ کی وفات تک میں آپ کے درس بخاری میں پابندی کے ساتھ شریک ہوتا تھا ۔
پنج پیر میں باچا صاحبؒ کا مقام
آپ ؒ کا پنج پیر میں جو مقام تھا شاید آپ کو اندازہ ہوا ہوگا لیکن میں اتنا کہوں گا کہ شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب نے مجھے جو ہدایات دیتے تھے اس میں باچا صاحبؒ کی خدمت سرفہرست تھی شیخ القرآن فرماتے کہ عتیق! باچا صاحبؒ کی خدمت کاخاص خیال رکھنا ۔ باچا صاحبؒ میرے شفیق استاد ہیں ، شیخ القرآن ؒ کے خاص شاگرد ہیں ۔ آپ ؒ نے خوددرس حدیث کے لئے آپ کو چنا ہے۔ باچا صاحب ؒ نے شیخ القرآن ؒ کی وفات کیبعدہم سے وفا کیا ہے اور تاحیات پنج پیر رہنے کا عزم کیا ہے اور جب باچا صاحبؒ پنج پیر آتے تھے تو امیر محترم مجھے حکم کرتے تھے کہ عتیق! باچا صاحبؒ آرہے ہیں خوب تیاری کرلیں اور استقبال میں کھڑے رہو ۔ باچا صاحبؒ کی آمد ایسی ہوتی تھی کہ بادشاہ وقت آرہا ہے ۔یقیناًآپ بادشاہ تھے جو چاہتے تھے وہ حاضر ہوتا تھا اور جب چھٹیوں میں اپنے گاؤں باجوڑ جاتے تھے تو رخت سفر امیر محترم خود با ند ھتے تھے اور رخصتی تک باچا صاحب ؒ کے ساتھ پید ل جاتے تھے اوران کے اہل وعیال کے لئے سامان اور گاڑی مہیا کرتے تھے ۔
اورپھر جب سال کا آغاز ہوتا تھا اور اسباق شروع ہوتے تھے تو مولانا صاحب طلبہ کو فرماتے تھے کہ یہ مدرسہ شیخ القرآن ؒ کا قائم کردہ ادارہ ہے نہ اس میں مہتمم ہے نہ ناظم ہے۔ سب اختیارا ت باچا صاحب ؒ ؒ ؒ کے پاس ہیں۔
لیکن اس کے باوجود کہ باچا صاحب ؒ مولانا صاحب کے استاد تھے ۔ امیر جماعت کی حیثیت سے باچا صاحب ؒ مولانا محمدطیب صاحب کا بڑا خیال کرتا تھا اور ساتھیوں کو آپ کے اطاعت کی نصیحت کرتے تھے
ہمیشہ شوریٰ میں مولانامحمدطیب صاحب کی ذہانت اور فطانت کا اقرار کرتا تھا ۔
ایک دفعہ شیخ الحدیث مولانا نقیب احمد صاحبؒ پنج پیر میں تشریف لائے ۔ باچاصاحبؒ چونکہ موصوف کے شاگرد تھے ۔ باچا صاحبؒ آپ کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ مولانا صاحب باچاصاحبؒ کو مخاطب ہوئے فرمانے لگے با چاصاحب یہ کیا کر رہے ہو ۔ ساری زندگی پنج پیر میں گزارنی ہیں؟ ذرہ باہر نکلو دنیا دیکھو سیرو تفریح تو کرو ۔ باچا صاحب مسکراتے ہو ئے جی نہیں نہیں ۔ ہر گز نہیں ۔ ہم نے شیخ القرآن ؒ سے عہد کیا تھا کہ آپ کے ساتھ وفا کروں گا اور آپ کا مسند حدیث نہیں چھوڑونگا۔
باچا صاحبؒ اور خاندان شیخ القرآن ؒ
بقول مولانا محمدطیب صاحب کہ باچا صاحب مرحوم ہمارے خاندان کی ایک فرد ہے ۔ باچاصاحب ؒ جو بات آپ کے درمیان کرتے تھے خاندان شیخ القرآن ؒ خوشی سے قبول کرتے تھے ۔ بندہ راقم کے سامنے یہ حالت ہو تی تھی کہ محمد صابر صاحب(شیخ القرآن ؒ کے بڑے فرزند) باچاصاحب ؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور دنیا کی مختلف موضوعات پر بحث کرتے تھے عجیب و غریب سوالات پوچھتے تھے ۔ باچا صاحبؒ ہنستے تھے اور فرماتے تھے کہ صابر آزاد ہے۔
(فرزند شیخ القرآن ؒ )جنا ب میجر محمدعامرصاحب باچا صاحبؒ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے تھے اور دعاؤں کی درخواست کرتے تھے ۔ باچاصاحب ؒ میجر صاحب کے ساتھ بے حدمحبت کرتے تھے ۔ جناب محمدحماد صاحب (شیخ القرآن ؒ کے سب سے چھوٹے فرزند)بھی باچاصاحبؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور اپنے بچوں کو با چا صاحبؒ کی ہاں دعاکے لئے لاتے تھے ۔
الغرض شیخ القرآ ن ؒ کے فر د فرد کی محبت باچا صاحب کے ساتھ عجیب وغریب تھی۔
اہلیان پنج پیر اور با چا صاحبؒ
اہلیان پنج پیر کا باچاصاحب ؒ سے فرط محبت تھی ۔ با چا صاحبؒ کا وجود پنج پیر کے گاؤں میں رحمت
میں ہوتے تھے ۔ایک عجیب قسم کا سماں ہوتا تھا ۔ اہلیان پنج پیر کو باچاصاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ خاندان شیخ القرآن ؒ کی خاص خیال رکھنا کیونکہ شیخ القرآن ؒ ہی کی وجہ سے پنج پیر میں مسئلہ توحید وسنت اور دروس قرآن عام ہوئے ہیں ۔ اگر شیخ القرآن ؒ نہ ہوتے آپ ایسے قرآن خوان نہ ہوتے تھے ۔ اس تعلق کی یہ عالم تھا کہ 18جنوری صبح ۸ بجے سردی کی موسم میں اہلیا ن پنج پیر نے باچا صاحب ؒ کی جنازہ میں جوق درجوق شرکت کی۔ باچاصاحبؒ اور جماعت اشاعت التوحیدوالسنت شیخ الحدیث صاحب صوبہ خیبر پختونخواہ کی امیرتھے ۔ باوجود درس وتدریس شوریٰ میں پابندی سے شریک ہوتے تھے ۔ اصول جماعت کی پابند تھے ۔ ہمیشہ شوریٰ میں شیخ القرآن ؒ کی تاریخ پر نظر ڈالتے تھے ۔ سب ساتھیوں کو اتفاق اور اتحاد پر امادہ کرتے تھے ۔ گذشتہ سال جب بیمار ہوئے اور تکلیف زیادہ ہوئی تو امارت سے استعفیٰ دے دیا اور سر پرست اعلیٰ منتخب ہوئے۔
باچا صاحب ؒ اور درس قرآن کریم
دارالقرآن پنج پیر چونکہ علوم قرآنی کی مرکز ہے ۔شعبان ، رمضان اور شوال کی علاوہ سال بھر میں قرآن کریم کی درس دیاجاتا ہے ۔ باچاصاحب ؒ نمازعصر کے بعد درس قرآن کریم دیا کرتے تھے ۔ درس کے دوران طلبہ خاص کر اہلیان پنج پیر اور آس پاس کے علاقو ں سے لوگ شریک ہوتے تھے ۔ آپ ؒ درس قرآن کریم میں مفسرین کی اقوال پیش فرماتے تھے اور تفسیر بیان کرتے تھے ۔ خاص کر شیخ القرآن ؒ کی تفسیر بالحاصل پر درس قرآن کریم کو منور کرتے تھے ۔ چھٹیوں میں اپنے علاقہ باجوڑ میں دورہ تفسیر پڑھاتے تھے ۔ ختم قرآن کریم کے موقع پر علماء کرام آپ کو دعوت دیتے تھے ۔
باچا صاحب ؒ اور در س حدیث
آپ 37سال سے درس حدیث دیتے رہے ۔ علوم حدیث میں مہارت تام رکھتے تھے ۔ راقم نے باچاصاحبؒ سے تفسیر اور صحاح ستہ میں بخاری ، ابوداؤد جلددوم ، ترمذی ، ابن ماجہ ، نسائی ، مؤطا ئین ،طحاوی شمائل وغیرہ پڑھی ہیں۔ جبکہ مسلم جلداول ترمذی جلددوم امیر محترم مولانا محمدطیب صاحب سے پڑھی ہیں اور مسلم جلد دوم ابو داؤد جلد اول مفتی سراج الدین صاحب سے پڑھی ہیں ۔
در س حدیث میں شیخ الحدیث صاحب ؒ کی امتیازی شان تھا ۔ آپ ؒ روزانہ درس حدیث کے لئے غسل کا ااہتمام کر تے تھے ۔ ہر کتاب میں عنوانات مجملہ لضبط المقاصد بطور تمہید بیا ن فرماتے تھے اور پھر تفصیل فرماتے تھے ۔ آپ کے کوثرالجاری فی شرح البخاری سے آپ کو پتہ چلے گا ۔ آپ کتب احادیث ربط کے ساتھ پڑھاتے تھے ۔ اخراج الحدیث آپ کے درس میں نمایاں شان رکھتے تھے ۔آپ محدثانہ انداز میں بخاری کوحل کرتے تھے ۔ تمام شارحین کے اسمائے گرامی نہایت احترام سے لیتے تھے ۔ اپنے اساتذہ شیخ القرآن ؒ اور شیخ الحدیث مینوی صاحبؒ کی اقوال نقل کرتے تھے اور اپنے رائے کو اخیر میں ان الفاظ کے ساتھ بیان فرماتے تھے (ان کان صحیحاً فمن اللہ وان کان غیر صحیح فمنی ومن الشیطن ) پھر اپنا توجیہ بیان فرماتے تھے ۔ قرآن وحدیث کی خدمت کا یہ عالم تھا کہ آپ افراط اور تفریط سے پاک اور اعتدال کے راہ پر گامزن تھے ۔
باچا صاحب ؒ اور عبادت خداوندی
باچا صاحب نہایت متقی پرہیز گار اور متبع السنت عالم باعمل تھے ۔ را ت کی اکثر حصہ عبادت خداوندی میں گزارتا تھا ۔ایا م بیض میں صوم کی پابند تھے ۔ بندہ راقم خاص طور پر باچا صاحب کی تین کاموں سے نہایت متاثر رہا ۔جو آپ پابندی کے ساتھ کرتے تھے (۱) قرآن وسنت کی مطالعہ (۲) درس وتدریس (۳) عبادت ، نوافل ذکرواذکار ۔ آپؒ جب درس سے فارغ ہوتے تھے تو ذکر واذکارمیں مشغول ہوتے تھے ۔جمعرات کے دن ظہر کے بعد ایک مرتبہ میں نے پوچھا جی آرام کرنا ہے؟ آپؒ نے فرمایا نہیں عتیق آرام کیلئے اللہ تعالیٰ نے رات پیدا کی ہے۔ آپکے مطالعہ میں امام احمد بن حنبل ؒ کے کتاب الزھد اکثر ہوتی تھی ۔باچاصاحب ؒ کے وصایا میں اکثر (واذکر ھازم اللذات اور اللھم بالرفیق الاعلیٰ )کی ورد ہوا کرتے تھے ۔
امسال جب بیماری نے شدت اختیار کی تو آرام کے لئے پشاور میں رہے ۔22دسمبر کو بندہ راقم عیادت کے لئے گیا تو آپ کے فرزند ارجمند مولانا مسیح اللہ ، قاری احسان اللہ ، مولانا حیات اللہ خدمت میں موجود تھے ۔ باچا صاحب ؒ سے ملاقات ہوئی بہت خوش ہوئے اور میرے لئے دعاکی اور مجھ سے دعا کی درخواست فرمائی کہ اے ہمارے نیک بچو میرے لئے دعامانگیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے دیں اور میں دوبارہ در س شروع کروں ۔
صبح۸بجے جنازے کا وقت تھا ۔ جنازے کیلئے صفیں بنا نا شروع کئے۔دریں اثنا شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب تشریف لائے اور ساتھیوں کو اپنے مدبرانہ انداز میں خطاب کیا اور باچا صاحب ؒ کی حیات پر روشنی ڈالی ۔ چونکہ تمام شاگرد ، دوست اور احباب شریک تھے ۔ سارے باچا صاحب ؒ کی فراق پر نڈھا ل تھے ۔ شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب نے تما م ساتھیوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ اگر ایسا حال ہو تو جنازہ پڑھانا مشکل ہے ۔میں آپ کو بتا تا ہوں کہ ہم سب باچا صاحب ؒ کی ورثہ ہیں ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خو د آپ کے نماز جنازہ کی اہتما م کریں ۔ اس تقریر سے ساتھیوں کی حوصلے بلند ہوگئے اور صفیں مکمل ہوگئے ۔ نماز جنازہ شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری صاحب نے پڑھایا ۔ باچا صاحب ؒ ؒ کی جنازہ نے اسلاف کی جنازوں کی یاد تازہ کی۔ بعدازاں آپ کی میت آبائی گاؤں بٹمالی سلارزی باجوڑ لے گئے ۔بندہ راقم اس منظر کو دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا ۔
عوام میں رائج شرکیات
ڈاکٹر مصری خان، ڈینٹل سرجن،پشاور
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی جس عمل کو سب سے بُرا مانتا ہے وہ ہے شرک ، کیونکہ یہ عمل توحید کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا حق اُس کی الوہیت پر صدق دل سے یقین و عمل کرنا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں واحد، یکتا و کامل اور بے نظیر سمجھ اور مان کر اِس عقیدہ پر بمع تمام تقاضوں کے عمل کرنا ہے اور اسی کو توحید کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خاص اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے اور ان کی پرورش کرتا ہے تاکہ اُس رب کا شکر ادا کریں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر بندوں نے غیر اللہ کی عبادت و پرستش کی ۔
جب سے یہ دنیا ظہور پذیر ہوئی ہے تو عقیدہ توحید کو سمجھانے اور منوانے کے لئے اللہ تعالیٰ انسانوں کے تمام اقوام میں وقتاً فوقتاً جلیل القدر انبیاء ؑ ارسال کرتے رہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:)
ترجمہ: اور تحقیق ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (ہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے بغیر عبادت کی جائے،ابن کثیر) کی عبادت سے بچتے رہو۔اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کو اِلٰہ (حاجت روا، مشکل کشاء) تسلیم کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں‘‘ لہٰذا جس نے اللہ کی وحدانیت اور الوھیت کو سمجھا، مانا اور اس کے تمام تقاضوں پر پورا پورا اُتر کر عمل کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا حق ادا کیا۔ ایسا ہی خدا کا بندہ ’’موحد‘‘ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے جو جنت کا مستحق اور اہل(Eligible) ہوتا ہے۔ البتہ جس بندے نے توحید کے منافی مختلف اُمورکا ارتکاب کیا یا ان کے درست ہونے کا عقیدہ رکھا تو وہ بدبخت اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے حق ’’توحید‘‘ کا منکر ہوتا ہے۔ایسا بندہ ’’مشرک‘‘ ہوتا ہے اور جنت کا مستحق نہیں ہو سکتا بلکہ ایسے آدمی پر جنت حرام ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
() (المائدہ:۲۷)، ترجمہ: یقیناًجس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا سو تحقیق اللہ تعالیٰ نے اُس پر جنت حرام کیا ہے۔ اور اسکا ٹھکانا جہنم ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک ایمان کا عقیدہ ہے اور دوسرا ایمان کا عمل ہے، جب تک ایمان کا عقیدہ نہ ہو تو ایمان کا عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس بات کا ثبو ت ہمیں قرآن کریم ہی سے ملتا ہے، ابوجھل اور دوسرے مشرکین مکہ نماز پڑھتے تھے جو کہ ایمان کا عمل ہے()
(انفال:۵۳
ترجمہ: اور نہیں تھا اُن (مشرکین) کی نماز مگرسیٹیاں اور تالیاں بجانا۔ یعنی ایمان کا عقیدہ انکا نہیں تھا تو ایمان کے عمل (نماز)نے اُن کو فائدہ نہیں دیا۔مسجد بنانا بھی ایمان کا عمل ہے یہ بھی مشرکین کو فائدہ نہیں دے سکتا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(التوبۃ: ۷۱)
ترجمہ: مشرکین کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اللہ کے مساجد بنائیں ایسی حالت میں کہ وہ اپنے اوپر کفر کی گواہی دیں یہ لوگ (مشرکین) ان کے (ایمان کے اعمال) برباد ہیں اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔حج بھی ایمان کا عمل ہے مشرکین عرب مسجد حرام کا طواف کرتے وقت یہ تلبیہ پڑھا کرتے تھے:۔
(مسلم ۱؍۶۷۲)،مشکٰوۃ ۱؍۴۲۲)
ترجمہ: ہم حاضر ہیں اے اللہ ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں ہے ہم حاضر ہیں مگر وہ شریک جس کو تو نے اختیارات دے رکھے ہیں وہ تیرا ہی مقرر کردہ ہے تُو اسکا مالک ہے اور وہ مالک نہیں۔
آج اکثر کلمہ گو مدعیان اسلام کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کے صفات میں شریک ٹھہراتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گنہگار ہیں ہم اِن (نیک بندوں) کو ااپنی حاجت پیش کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تک ہمارا سوال پہنچاتے ہیں۔ یہی عقیدہ مشرکین مکہ کا تھا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
( )ترجمہ: اور وہ (مشرکین) اللہ تعالیٰ کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہیں جو اُن کو نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ نیک بندے اللہ تعالیٰ کے ہاں اُن کے سفارشی ہیں۔
غیر اللہ کو مدد کے لئے پکارنے کی چند مروجہ شرکی الفاظ اور نعرے یہ ہیں: یاعلیؓ مدد، یاعلیؓ مشکل کشا، یا حسین امداد کن، یا حسین اَغِثْنِی، یا عبدالقادر جیلانی ؒ غوث الاعظم، یا پیر دستگیر، یا شیخ محی الدین مشکل کشا بالخیر، یا بہاؤ الدین بیڑا دھک۔
عقیدہ توحید سیکھنے اور شرک کو پہچان کر اس سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس آخری اُمت کیلئے قرآن کریم بھیجا ہے۔ قرآن تو چودہ سو سال پہلے نازل ہوا ہے لیکن قرآن کے پڑھتے پڑھاتے ہوئے لوگوں کی اکثریت شرکیات میں مبتلا تھی۔ اسکی مثال ایسی ہے کہ ایک گھر میں بجلی کا کنکشن ہو لیکن گھر والوں کو لائٹ آن (on)کرنے کا طریقہ نہ آتا ہو تو روشنی کہاں سے اور کیسے آئے گی۔اسی طرح قرآن کریم گھروں میں موجود تھا لیکن روشن کرنے کا طریقہ کسی کو نہیں آتا تھا۔ لوگ تلاوت کرتے حفظ کرتے تراویح میں قرآن پڑھ کر سناتے لیکن عقیدہ اور عمل میں قرآنی انقلاب نہیں تھا۔
آج سے ۲۷ سال پہلے ضلع صوابی (گاؤں پنج پیر) میں شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہرؒ نے قرآن کا ترجمہ اور تفسیراپنی پشتو زبان میں پڑھانا شروع کیا جس سے لوگوں کے عقائد اور اعمال میں قرآنی انقلاب برپا ہوا۔لوگوں نے شرک پہچان کر اس سے اجتناب کرنا شروع کیا۔ عقیدہ توحیدسیکھ کراس پر عمل کیا۔اُنکی محنت کے ثمرات آج نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں۔ ہمارے جیسے عام لوگوں نے بھی توحید سیکھی۔ آپؒ کی وفات کے بعد آپ ؒ کے فرزند ارجمند شیخ القرآن مولا نا محمد طیب صاحب اُن کے توحید و سنت کے بوئے ہوئے باغ کی آبیاری کر رہے ہیں۔ ()
23 دسمبر کو صوبائی شوریٰ میں شیخ القرآن مولانا محمدطیب صاحب نے با چا صاحب ؒ کی صحت یابی کے لئے اجتماعی دعاکی ۔ 17جنوری کو بوقت عصر بقضائے الٰہی اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔ باچاصاحب ؒ کی وفات کی خبر جنگل میں آگ جیسی پھیل گئی۔ رات کے بارہ بجے میں اور مولوی فیضان الحق دونوں مولانا مسیح اللہ اور قاری احسان اللہ(فرزندان شیخ الحدیث ؒ ) سے ملیں ۔ماشاء اللہ اُن کا ایسا حوصلہ تھا کہ ہم حیران ہوگئے ۔
استغفار
مولانامومن گل طاہریؔ
انسان گناہ کرتا رہتا ہے، صرف انبیاء ؑ معصوم ہوتے ہیں نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، نبی ﷺکے ساتھی (صحابہ کرامؓ) محفوظ ہوتے ہیں یعنی اُنکی کوتاہیوں کی معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے (وَلَقَدْ عَفَا االلّٰہُ عَنْھُمْ) (ال عمران: ۵۵۱) ترجمہ: اور تحقیق اللہ نے اُن(صحابہ کرامؓ) سے معافی کی ہے۔اللہ تعالیٰ نبیﷺ کو بھی حکم کرتے ہیں( فَاعْفُ عَنْھُمْ) (ال عمران: ۹۵۱)ترجمہ: سومعافی کریں اُن (صحابہ کرامؓ) سے ۔( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ) (البینۃِ:۸) ترجمہ:اللہ تعالیٰ اُن (صحابہ کرامؓ) سے راضی ہیں اور وہ (صحابہ کرامؓ) اللہ سے راضی ہیں۔
باقی عام انسانوں سے ضرور گناہ ہوتا ہے۔اسلئے تو ارشاد ہوتا ہے -(نساء:۰۱۱)
ترجمہ: اور جس نے عمل کیا بد (گناہ کبیرہ) یا ظلم (گناہ صغیرہ) کیا اپنے اوپر پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگی، پائے گا اللہ کو بخشنے والا مہربان۔انبیاء ؑ نے اپنی اپنی قوم کو استغفار کی ترغیب دی ہے،ھود ؑ فرماتے ہیں (وَ ٰیقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَےْہِ )(ھود: ۲۵)، ترجمہ:اور اے میری قوم اپنی رب سے مغفرت مانگو پھر اس (اللہ) کی طرف رجوع کرو۔ حضرت صالح ؑ نے اپنی قوم سے کہا( فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَےْہِ ) (ھود:۱۶)، ترجمہ: سو اللہ سے مغفرت مانگو پھر اُسی (اللہ) کی طرف رجوع کرو۔ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم سے کہا (وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَےْہِ ط )ترجمہ: اور مغفرت مانگو اپنی رب سے پھر رجوع کرو اللہ کی طرف۔ شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری صاحب اکثر درس قرآن کے دوران فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا، کہا کہ میری اولاد نہیں، آپؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی مغفرت مانگا کرو۔ پھر کہا غریب ہوں مال نہیں، آپؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی مغفرت مانگا کرو، پھر کہا بارش نہیں ہوتی، آپؓ نے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی مغفرت مانگا کرو، اُس آدمی نے کہا کہ ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگنی پڑتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ قرآن آپ نے نہیں پڑھا ہے(نوح:۰۱،۱۱،۲۱)
ترجمہ:(نوح ؑ نے فرمایا) میں نے اپنی قوم سے کہا اپنے رب سے مغرفت مانگو، یقیناًوہ بخشنے والا ہے، (گناہوں سے بخشش مانگنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ) تمہارے اوپر (نعمت کے طور پر) موسلا دار بارش برسائے گااور تمہارے مال اور اولاد سے تمہیں(نعمت کے طور پر) مضبوط بنائے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، اللہ تعالیٰ اور اُنکے رحمتوں اور مہربانیوں کے درمیان انسان کے گناہ رکاوٹ بن جاتے ہیں۔بلکہ عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے()
ترجمہ: دریا اور خشکی (یعنی شہروں اور دیہاتوں) میں فساد (عذاب) لوگوں کے اعمال کی وجہ سے ظاہر ہوا ہے تاکہ یہ اپنے بعض اعمال(گناہوں) کا سزا چکے اسلئے کہ یہ (گناہ سے) باز آجائے اور جب کوئی گناہ کر بیٹھے اور توبہ کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے اور یوں عرض کرے
ترجمہ: اے اللہ میں آپ کے حضور میں گناہوں سے توبہ کرتا ہوں پھر کبھی ان کی طرف نہیں لوٹوں گا۔
پس تحقیق اس پر عمل کرنے سے اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور اس وقت گی مغفرت باقی رہیگی جب تک اس گناہ کو دوبارہ نہ کرلے (حاکم عن ابی الدرداءؓ)۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو کوئی شخص گناہ کرے پھر کھڑا ہو اور طہارت حاصل کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اس کے بعد اللہ سے اس گناہ کی مغفرت چاہے تو اللہ تعالیٰ مغفرت فرمادے گا (سنن اربعہ، ابن حبان، ابن سنی عن ابی بکر ن الصدیقؓ)۔ اور ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہو اور یہ کہنے لگا ہائے میرے گناہ ہائے میرے گناہ ،حضور اقدس
عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ)ترجمہ: اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور تیری رحمت میرے نزدیک میرے عمل سے خوب زیادہ بڑھ کر لائق اُمید ہے۔ اس شخص نے یہ کلمات کہہ لئے اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا پھر کہو اس نے پھر کہے اس کے بعد آپﷺ نے مزید فرمایا کہ پھر کہو اس نے پھر کہے اس پر آپﷺ نے فرمایا کھڑا ہو جا اللہ نے تیری مغفرت فرمادی۔ (حاکم، عن جابر بن عبد اللہؓ )۔ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ بیشک اللہ تعالیٰ رات کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ کرنے والا توبہ کرے جب تک آفتاب مغرب کی جانب سے طلوع نہ ہو ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ (مسلم، حاکم، عن ابی موسیٰ الاشعریؓ )۔ایک اور شخص حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص گناہ کر لیتا ہے (اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟) آپﷺ نے فرمایا وہ گناہ اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیا جاتا ہے، اس شخص نے عرض کیا کہ اس کے بعد وہ استغفار کرتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے آپﷺ نے فرمایا اس کی مغفرت کر دے جاتی ہے اور توبہ قبول کرلی جاتی ہے ۔ اس شخص نے عرض کیا کہ وہ پھر گناہ کر لیتا ہے آپﷺ نے فرمایا کہ وہ اس کے نامہء اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے اس نے عرض کیا وہ پھر استغفار کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کی کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور توبہ قبول کر لی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے سے نہیں روکتا یہاں تک کہ تم ہی تنگ دل نہ ہو جاؤ۔ (حصن حصین:۶۵۱)۔
توبہ و استغفار کی ضرورت اور فضیلت
ََََََََََََََََََََََََََِِِِِِِِِ* آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں دن میں ستر مرتبہ تونہ استغفار کرتا ہوں۔ (ابو یعلیٰ،طبرانی فی الاوسط، عن انسؓ) اورایک روایت میں ہے کہ روزانہ ستر بار سے زیادہ توبہ اور استغفار کرتا ہوں(بخاری،نسائی،ابن ماجہ،طبرانی فی الاوسط، عن ابی ہریرۃؓ ) اور ایک روایت میں ہے کہ روزانہ سو بار توبہ اور استغفار کرتا ہوں(طبرانی فی الاوسط ابن ابی شیبہ عن ابی ہریرۃؓ )
کے حضور میں دن میں سو بار توبہ کرتا ہوں (ابو عوانہ عن ابن عمرؓ)۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے( )(اٰل عمران:۵۳۱)
اور وہ لوگ جب گناہ(کبیرہ) یا اپنے اوپر ظلم (گناہ صغیرہ) کریںیاد کرتے ہیں اللہ کو سو مغفرت مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور گناہ نہیں بخشتا مگر اللہ ہی اور وہ اُن(گناہوں) پر اصرار نہیں کرتے جو اُنھوں نے کی ہوں اور وہ سمجھتے ہیں (کہ گناہوں پر اصرار اچھا نہیں ہے)۔
* جو شخص استغفار کرتا رہتا ہے وہ گناہ پر اصرار کرنے والا(شمار) نہیں ہوتا اگرچہ دن میں ستر بار گناہ کرے (ابو داؤد، عن ابی بکر ا لصدیقؓ )۔
* فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم سے اس قدر گناہ اور خطائیں سرزد ہوں جن سے آسمان بھر جائیں اور پھر تم اللہ سے مغفرت چاہو تو اللہ ضرور مغفرت فرمادے گااور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم خطا نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو گناہ اور خطائیں کریں پھر اللہ سے مغفرت چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں گے۔(احمد،ابو یعلیٰ،عن ابی سعید الخدریؓ)۔
* اور ایک حدیث میں ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں (دنیا سے) لیجائے یعنی اُٹھالے) اور ایسی قوم پیدا فرمائے جو گناہ کرکے استغفار کرے پھر اللہ ان کو بخشے (مسلم،عن ابی ہریرۃؓ)۔
* جو شخص اللہ سے مغفرت طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اسکی مغفرت فرمادے گا (ترمذی، نسائی، عن ابن عمرؓ)۔
* یہ بھی فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ (قیامت کے دن) اس کا نامہء اعمال اس کو خوش کرے تو کثرت سے استغفار کرے۔
ہے (اس کے لکھنے سے) تین گھڑی (یعنی کچھ دیر) ٹھہر جاتا ہے اگر اس نے اس عرصہ میں اپنے گناہ سے استغفار کر لیا تو وہ فرشتہ (آخرت میں) اس گناہ کی اطلاع اُسے نہیں دیگا اورنہ قیامت کے روز اس پر اُسے عذاب دیا جائے گا (حاکم، عن ام عصمہؓ)۔
* فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان نے اپنے پروردگار عز و جل سے کہا کہ قسم ہے تیری عزت اور جلال کی میں ہمیشہ بنی آدم کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے اندر رہیں گی، اس پر پروردگار جل مجدہ نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے میں انہیں برابر بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔ (احمد،ابو یعلیٰ،عن ابی سعید الخدریؓ)۔
* فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ اعمال لکھنے والے فرشتے جب بھی کسی دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں (کسی بندہ کے) نامہء اعمال پیش کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نامہء اعمال کے اول و آخر میں استغفار دیکھتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندہ کے وہ تمام گناہ اور قصور معاف کر دئیے جو اس کے نامہء اعمال کے اوّل و آخر کے درمیان میں لکھے ہوئے ہیں (بزار، عن انسؓ)۔
* اور فرمایارسول اللہ ﷺ نے کہ جو کوئی شخص مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے مغفرت طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مومن مرداور ہر مومن عورت کے عوض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔
(طبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامتؓ )
* اور یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جو شخص استغفار میں لگا رہے یعنی جو شخص کثرت سے استغفار پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادے گا۔
(ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ،ابن حبان، عن ابن عباسؓ )
* اور یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ جو شخص ہر روز مومن مردوں اور عورتوں کے لئے ۷۲ یا ۵۲ بار مغفرت طلب کرے گا ان لوگوں میں سے ہوگا جن کی دعا قبول ہوتی ہے اور جن کی وجہ سے اہلِ زمین کو
* فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کا اے ابن آدم ؑ جب تک تو مجھ سے دعا مانگے گا اور امید رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا خواہ تیری کچھ بھی حالت ہو اور میں پرواہ نہیں کرتا اے آدم ؑ کے بیٹے اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تیری مغفرت کروں گا اے آدم کے بیٹے اگر تو میرے پاس زمین بھر کر گناہ لائے اور پھر مجھ سے اس حالت میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو میں تیرے پاس زمین بھر کر مغفرت لاؤں گا ۔ (ترمذی عن انسؓ)
* ایک بندہ گناہ کرکے کہتا ہے اے رب! میں نے گناہ کر لیا تُو اُسے بخش دے تو پروردگار فرماتا ہے کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر اس کی پکڑ کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر جب تک اللہ کی مشیّت ہے گناہ سے باز رہتا ہے۔ پھر گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو کہتا ہے اے رب میں نے ایک گناہ اور کر لیا تُو میری مغفرت فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا میرے بندہ کو یہ معلوم ہے کہ اس کو کوئی رب ہے جو گناہ کی مغفرت کرتا ہے اور اس پر مواخذہ کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندہ کی مغفرت کر دی۔ پھر جب تک اللہ چاہے بندہ گناہ سے باز رہتا ہے پھر اس کے بعد گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو کہتا ہے اے رب! میں نے ایک اور گناہ کر لیا تو مجھے معاف فرمادے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا میرے بندہ کو اس کا علم ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس پر گرفت فرماتا ہے۔ میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا (یہ بخشش کی بات تین بار ذکر فرمائی) پس جو چاہے عمل کرے۔(بخاری، مسلم، نسائی، عن ابی ہریرہؓ)۔
* فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کو خوبی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے نامہء اعمال میں (قیامت کے دن) کثرت سے استغفار پائے۔ (ابن ماجہ عن عبد اللہ بن بسرؓ)۔
استغفار کا طریقہ
استغفار پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ یوں کہے: (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ ط اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ ط (مسلم،موقوفاً علی الاوزاعی) میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں، میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔
* فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص یہ کہے:( اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ
اور قائم رہنے والا ہے اور اسی کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ تو اس کی مغفرت کردی جائے گی اگرچہ وہ میدان جہاد سے بھاگا ہو (ابو داؤد، ترمذی، عن زیدؓ) اور ایک روایت میں اس کا تین بار پڑھنا آیا ہے (ترمذی،ابن حبان و اخرجہ الطبرانی موقوفاً) اور بعض روایات میں ہے کہ اس کو پانچ بار پڑھے تو اس کے تمام گناہ بخش دئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگوں کے برابر ہوں۔
* حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہے کہ ہم شمار کرتے تھے حضور اقدس ﷺایک مجلس میں سو بار یہ پڑھتے تھے۔ (رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِےْمُ)ترجمہ: اے میرے رب میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما کیونکہ بلا شبہ آپ ہی بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والے ہیں اور بہت رحم فرمانے والے ہیں۔ (سنن اربعہ، ابن حبان، عن ابن عمرؓ)
* حضرت ریبع بن خیثم رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَےْہِ)(میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں اور اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں) کیونکہ یہ جھوٹ ہے اور گناہ ہے بلکہ یوں کہے:( اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ) (اے اللہ مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما)اور اس کے وہ معنی نہیں ہیں جو ہمارے بعض ائمہ نے سمجھے ہیں کہ( اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَےْہِ )کہنا (علماء معانی و بیان کی تعریف کے اعتبار سے) جھوٹ ہے (یا شریعت کے اعتبار سے گناہ ہے) بلکہ مطلب یہ ہے کہ غفلت کے ساتھ صرف زبان سے توبہ استغفار کرنا تقصیر اور گناہ ہے (اور وجہ اسکی یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی نیکیاں مقربین کی بُرائیاں ہوتی ہیں) پس جب کوئی شخص غفلت کے ساتھ مغفرت مانگے گا اور مغفرت چاہنے میں حضور قلب نہ ہوگا اور دل سے اللہ کی طرف رجوع نہ ہوگا تو یہ ایک طرح کا گناہ ہوگا جس کی سزا محرومی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا حضرت رابعہ بصریؓ نے فرمایا کہ
ہست استغفار ما محتاج استغفار ما۔ ہمارااستغفار بھی بہت زیادہ استغفار کا محتاج ہے۔
اور جب یہ کہا کہ( اَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ )(میں اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہوں) اور دل سے توبہ نہ تو اس میں کچھ شک نہیں یہ جھوٹ ہے (کیونکہ توبہ میں ندامت اور حضور قلب شرط ہے)لیکن مغفرت اور توبہ
عَلیَّ کہنا) اگرچہ غفلت ہی کے ساتھ ہو۔(حصن حصین:۴۱۲)۔
خلاصہ کلام یہ کہ استغفار تمام نعمتوں کی کنجی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور آدمی جتنا پاک ہو اُتنا ہی نعمتیں ملتی ہے۔ محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا ہے:
( (الزمر:۳۵)۔
ترجمہ: (اے پیغمبرﷺ) کہہ دے میرے اُن بندوں سے جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کئے ہیں) اللہ تعالیٰ کی رحمت (مغفرت) سے نااُمید نہ ہو جاؤ یقیناً اللہ تعالیٰ(توبہ سے) تمام گناہ معاف فرماتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اعلان کرکے فرماتے ہیں:
() (طٰہٰ: ۲۸)۔
ترجمہ:اور یقیاً میں مغفرت کرنے والا ہوں اُن کے لئے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر مضبوط رہے۔ اسی طرح فرماتے ہیں:
()(الحجر: ۹۴)۔
ترجمہ: (اے پیغمبر ﷺ) خبردار کرو میرے بندوں کو، میں بخشش کرنے والا مہربان ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمادے۔آمین یا رب العلمین۔
نوٹ:(اس مضمون میں تمام احادیث اور حوالہ جات، امام محمد بن محمد بن الجزریؒ کی کتاب حصن
حصین سے لئے گئے ہیں)۔
* اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے اور سستی سے اور بزدلی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور قرض سے اور گناہ سے۔
* اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور دوزخ کے فتنہ سے اور قبر کے فتنہ سے اور قبر کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنہ کے شر سے۔
ابلیس سے انٹرویو
اسحاق شاہ سکنہ پنج پیر، حالاً نوشہرہ کلاں
تمام انسانوں کا سب سے بڑا دشمن ابلیس ہے۔ اس کے مکروں اور فتنوں سے بچنے کیلئے اسکی چھپی چھالوں کو کھولنے کیلئے اور اسکے خفیہ دھوکے کوظاہرکرنے کیلئے ذیل میں اس سے لئے گئے چند انٹرویوز درج کئے جاتے ہیں۔ دوست احباب سے گذارش ہے کہ انہیں خوب توجہ سے پڑھے:۔
منبھات ابن حجر عسقلانیمیں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن ابلیس سے پوچھا ’’ میری اُمت میں تمہارے کتنے محبوب ہیں؟ ابلیس نے کہا ’’دس آدمی‘‘ ۔
(۱) ظالم بادشاہ۔ (۲) متکبر آدمی۔
(۳) وہ مالدار جو پرواہ نہیں کرتا کہ کہاں سے کماتا ہے اور کس چیز میں خرچ کرتا ہے۔
(۴) وہ عالم جو بادشاہ کی ظلم پر اُس کی تصدیق کرتا ہے۔ (۵) خائن تاجر۔
(۶) مہنگائی کے لئے ذخیرہ اندوزی کرنے والا۔ (۷) زانی۔
(۸) سودخور۔ (۹) وہ بخیل جو پراوہ نہیں کرتا کہ کہاں سے مال جمع کرتا ہے۔
(۰۱) ہمیشہ شراب پینے والا۔
رسول اللہﷺنے پھر پوچھا ’’ میری اُمت میں تمہارے کتنے دشمن ہیں؟ ابلیس نے کہا ’’بیس آدمی‘‘۔
(۱) تو ، اے محمدﷺ ، یقیناًمیں آپ سے بغض کرتا ہوں۔
(۲) وہ عالم جو علم پرعمل کرتاہو۔ (۳) وہ حامل قرآن جو قرآن کریم پر عمل کرتا ہو۔
(۴) پانچویں نمازوں کے اوقات میں اللہ کی رضا کے لئے آذان دینے والا۔
(۵) فقیروں، مسکینوں اور یتیموں سے محبت کرنے والا۔
(۶) نرم دل آدمی۔ (۷) حق کے لئے عاجزی کرنے والا۔
(۹) حلال رز ق کھانے والا۔

(۰۱) وہ دونوجوان جواللہ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں۔
(۱۱) نماز باجماعت پرحریص۔
(۲۱) وہ شخص جورات میں نماز پڑھتا ہو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔
(۳۱) وہ شخص جو اپنے نفس کوحرام سے بچاتا ہو۔
(۴۱) وہ شخص جو خیر خواہ ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کیلئے دعا مانگتا ہو اور اس
کے دل میں برائی نہ ہو۔
(۵۱) وہ شخص جوہمیشہ باوضو رہتا ہو۔ (۶۱) سخی آدمی ۔
(۷۱) نیک اخلاق والا۔
(۸۱) اپنے رب پراعتماد کرنے والا جس چیز میں اللہ اُس کاضامن ہے ۔
(۹۱) باپردہ بیواؤں کے ساتھ نیکی کرنے والا ۔
(۰۲) موت کے لئے تیاری کرنے والا۔ (منبھات ابن حجر عسقلانی :۹۲۱)
علامہ ابن جوزیؒ تلبیس ابلیس میں تحریرفرماتے ہیں کہ ثالیت بنانی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ہم کو یہ حدیث پہنچی کہ ابلیس حضرت یحیےٰ علیہ السلام پر ظاہرہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس پر ہرقسم کے (لٹکن) ہیں۔پوچھا کہ اے ابلیس! یہ لٹکن کیسے ہیں جو تجھ پر نظر آتے ہیں؟ کہنے لگا کہ یہ دنیا کی شہوتیں ہیں جن میں فرزند آدم کو مبتلاکرتاہوں۔ حضرت یحیےٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ کیا ان میں میرے واسطے بھی کچھ ہے؟ بولا کہ جب آپ شکم سیر ہوتے ہیں تو نماز کاپڑھنا آپ پرگراں کردیتا ہوں اور ذکر الہٰی آپ پربار ہوجاتا ہے۔ حضرت یحیےٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اس کے سوائے اور بھی کچھ ہے ؟ کہا بخدا اور کچھ نہیں۔ حضرت یحیےٰ علیہ السلام نے کہا اللہ کی قسم اب میں کبھی ہرگز پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں گا۔ ابلیس بولا اللہ کی قسم! میں اب کسی مسلمان کی خیرخواہی نہیں کروں گا‘‘۔
اتنے میں ابلیس ان کے پاس آیا اور اس کے سرپر کلہ دارٹوپی تھی۔جس میں طرح طرح کے رنگ تھے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریب ہوا تو ٹوپی اتار ڈالی او ر سامنے رکھ لی ۔پھر آکر سلام علیک کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا توکون ہے؟ بولا میں ابلیس ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے اللہ تجھے زندہ نہ رکھے توکیوں آیا؟کہنے لگا میں آپ کو سلام کرنے کے لئے آیاتھا۔کیونکہ آپ کامرتبہ اور آپ کی منزلت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو میں نے تیرے سر پر رکھی تھی ؟ کہاکہ اس سے اولاد آدم کے دلوں کو لبھا دیتاہوں ۔پوچھا کہ بھلا یہ توبتا وہ کونسا کام ہے جس کے مرتکب ہونے سے تو انسان پرغالب آجا تاہے؟ جواب دیا کہ جب آدمی اپنی ذات کو بہترسمجھتا ہے اور اپنے عمل کوبہت کچھ خیال کرتا ہے اور اپنے گناہوں کو بھول جاتا ہے ۔ اے موسیٰ ؑ علیہ السلام ! میں تم کوتین باتوں سے ڈراتا ہوں۔ ایک تو غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھنا کیونکہ جب کوئی غیرمحرم کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو اس کے ساتھ میں بذات خود ہوتا ہوں، میرے ساتھی نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ اس عورت کے ساتھ اس کوفتنے میں ڈال دیتاہوں۔ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جوعہدکرو اس کوپورا کیاکرو۔ کیونکہ جب کوئی اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے تو اس کا ہمراہی اپنے ساتھیوں کو چھوڑکر میں خود ہوتا ہوں ۔یہاں تک کہ اس شخص اور وفائے عہدکے درمیان حائل ہوجاتا ہوں۔ تیسرے جو صدقہ نکالاکرو اسے جاری کردیاکرو کیونکہ جب کوئی صدقہ نکالتا ہے اور اسے جاری نہیں کرتا تو میں اس صدقہ اور اسکے پورا کرنے کے بیچ میں حائل ہوجاتا ہوں اوریہ کام بذات خود کرتا ہوں اپنے ساتھ والوں سے نہیں لیتا۔ یہ کہہ کر شیطان چل دیا اور تین بار کہا ہائے افسوس موسیٰ نے وہ باتیں جان لیں جن سے بنی آدم کو ڈرائے گا‘‘ (تلبیس ابلیس)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ابلیس کے مکروں ، چالوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین۔
واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
(۔۔۔۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔۔۔۔)(۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
حضرت خباب بن ارت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
عبدالشکور طاہری ،شھندی پشاور
حضرت خبابؓ بن ارت ، رسول اللہ ﷺ کے مشہور صحابہ سابقین فی الاسلام میں سے ہیں۔ یہ چھٹے اسلام قبول کرنے والے تھے ۔ بقول مجاہد ؒ ، جنہوں نے سب سے پہلے اپنا اسلام ظاہر کیا،یہ اُن میں سے تھے ۔ اُن کے نام یہ ہیں:۔(۱)حضرت ابوبکرؓ (۲)حضرت خبابؓ (۳) حضرت صہیبؓ (۴)حضرت بلالؓ (۵) حضرت عمارؓ (۶) اُم عمارؓ ۔ ان کی کنیت ابو عبداللہ ، ابو محمد ، ابو یحیےٰ بتلائی گئی ہے۔
دین اسلا م کی خاطرانہوں نے بہت سی صعوبتیں برداشت کیں ۔ اما م شعبی ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خبابؓ بن ارت حضرت عمرؓ کے پاس تشریف لے گئے ۔ حضرت عمرفاروقؓ نے انہیں اپنی مسند پر بٹھا کر فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی آدمی تم سے زیادہ اس جگہ پر بیٹھنے کا مستحق نہیں ہے مگر ایک آدمی ۔۔۔۔ حضرت خبابؓ نے دریافت کیا وہ کون ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا : وہ حضرت بلالؓ ہیں۔ حضرت خبابؓ کہنے لگے کہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق نہیں ہے اسلئے کہ حضرت بلالؓ کیلئے ایسے لوگ موجود تھے کہ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اُ ن کو بچا لیتا جبکہ لوگوں میں میرے لئے بچانے والا کوئی نہ تھا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک دن مشرکین نے مجھ کو پکڑا اور میرے لئے آگ روشن کی پھر مجھ کو اس آگ میں ڈال دیا ۔ اُس کے بعد ایک آدمی میری چھاتی پر دیہ رکھ کر کھڑا ہوگیا ۔
امام شعبی ؒ کا قول ہے کہ حضرت عمرؓ نے اُن سے خود پر گزرنے والی تکالیف دریافت کی ۔حضرت خبابؓ بول پڑے ’’امیر المومنین ! بس میری پشت کو دیکھ لیں ‘‘ حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ آج تک میں نے ایسی پشت نہیں دیکھی۔حضرت خبابؓ کہنے لگے کہ آگ کے دہکتے کوئلوں پر مجھے لٹا دیاجاتا اور کوئلے میری چربی سے بجھ جاتے ۔ایک حدیث میں ہے جس کو بخاری ، ابوداؤد ، نسائی ، طبرانی وغیرہ نے ذکر کیا ہے :۔ (شکونا الیٰ رسول اللہ ، وھو متوسید بردۃ لہ فی ظل الکعبۃ فقلنا الا تستنصرلنا الا تدعولنا؟ فقال قدکان من قبلکم ےؤخذ الرجل فیحضر لہ فی الارض فیجعل فیھا ثم یوتی باالمنثار فیوضع علیٰ رأسیہ فیجعل نصفین و یمشا با امشاط الحدید ما دون لحمہ وعظمہ ما یعیدہ ذلک عن دینہ واللہ لیتمن اللہ ھذٰا الامر حتیٰ یسیر الراکب من صغاء الی حضر ترجمہ:۔ ’’ ہم نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں شکایت کی ۔ جبکہ آپﷺ بیت اللہ کے سایہ میں ایک چادر کا تکیہ بنا کر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ آپﷺ ہمارے لئے اللہ سے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے ۔ ہمارے لئے دعا کیوں نہیں کرتے ۔ آپﷺ نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں گاڑ دیا جاتا ۔ پھر آرا لے کر اسکے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دیاجاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اُن کے گوشت اور ہڈیوں کے اوپر والے حصے کو چھیدا جاتا۔ مگریہ تمام تکالیف اُن کو دین سے نہ روک سکتیں ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور غالب کرے گا ۔ یہاں تک کہ ایک سوار صنعاسے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اورنہ بھیڑئیے کا ڈر ہوگا اپنی بکریوں پر ۔ لیکن اے میرے صحابہؓ تم عجلت سے کام لیتے ہو۔تمام غزوات میں رسول اللہﷺکے ساتھ شریک رہے۔ یہ کوفہ میں مقیم تھے ۔ وہاں۷۳ ھجری میں وفات پائی۔ صحابہ کرامؓ میںیہ پہلے شخص ہیں جن کو کوفہ کے بالائی جانب دفن کیاگیا ۔ جب ان کی موت کا اعلان ہوا تو حضرت علیؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت خبابؓ پررحمت نازل کرے جو رغبت سے اسلام لائے، اللہ تعالیٰ کے حکم کومانتے ہوئے ہجرت کی، زندگی جہاد میں صرف کی اور جسمانی بیماری میں مبتلا ہوئے ، جو ایسے خوب عمل کرنے والا ہو ۔ اللہ تعالیٰ اسکے عمل کو ضائع نہیں فرماتے ۔
تنظیم نو جماعت اشاعت التوحید والسنت اضاخیل پایان ضلع نوشہرہ
محمد الیاس ناظم نشرواشاعت
ضلع نوشہرہ کے گاؤں اضاخیل پایان میں NTSکا اشاعت میں ضم ہونے کے بعد تنظیم نو کیا گیا۔ مندرجہ ذیل اراکین کا انتخاب کیا گیا۔
سرپرست اعلیٰ:مولانا محمد بادشاہ،سرپرست:مولانانصیرالدین ، امیر: قاری محمد جمیل ،نائب امیر:اظہارالحق
ناظم اعلیٰ:۔مولانا احسان اللہ، نائب ناظم :فضل امین، ناظم مالیات:ایاز محمد ،ناظم نشر و اشاعت:محمد الیاس
نائب ناظم نشر و اشاعت:فضل زیب
محمد فیاض ناظم اطلاعات صوبہ

جماعت اشاعۃ التوحید والسنۃ صوبہ خیبر پختونخواہ کا تنظیمی و تبلیغی سفر بفضل اللہ تعالیٰ مسلسل جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ مزید خلوص وہمت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دارالقرآن پنج پیر میں اجلاس کے فیصلے کے مطابق چارسدہ ، نوشہرہ ، صوابی ، ملاکنڈ ایجنسی کے دوروں اور تنظیم نو کے بعد ابھی ضلع مردان اور ضلع پشاور کا تنظیمی دورہ بھی کیاگیا او ر تنظیم نو بھی ہوئے۔
اجلاس کا آغاز مولانا محمدفیاض صاحب کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
اجلاس کی صدارت امیر صوبہ شیخ عبدالرحمن صاحب نے کی۔
اجلاس سے ضلع مردان کے ناظم اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے مہمانان گرامی اور صوبائی قائدین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بارش میں دوردراز سے تشریف لا کر ہماری حوصلہ آفزائی کی اور بعد میں ضلع مردان کی کارگزاری سنائی کہ ابھی ابھی پورے ضلع کا دورہ بھی کیاگیا ہے اور الحمدللہ دروس قرآن کریم اور جماعتی پروگرام ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد حلقوں کے نمائندہ گان نے اجلاس سے خطاب کیا اورکارگزاری سنائی ۔ اجلاس سے صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا شمس الہادی طاہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام اراکین وکارکنوں کا مشکور ہوں کہ وہ ہمارے اپیل اور درخواست پر آج اس سردی میں بارش کے باوجود حاضر ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام حاضرین کو جزائے خیر عطافرمائے۔انہوں نے دورے کا مقصد بیان کیا کہ ساتھیوں سے ملاقات ہوجاتی ہے اورکام میں مزید تیزی وترقی آجاتی اور تنظیم نو بھی ہوجاتی ہے۔
اجلاس سے مولانا مومن گل طاہری صاحب (مبلغ دارالقرآن) نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ جماعت کے کام کو اولیت اور اہمیت دینی چاہیے اور بزرگوں اور اکابرین کے مشن کیلئے ہرقسم کی قربانی دینے کا عہد کریں ۔ مرکزکی تعمیر کے لئے محنت اور کوشش کریں ۔ مرکز سے رابطہ رکھا کریں ۔ اجلا س سے امیر صوبہ
قربانیاں دی ہیں ۔ انکے واقعات بیان کئے کہ شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ نے اس صوبہ میں مشکلات اور تکالیف برداشت کیں ۔ اس مسئلہ کو پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچا یا ۔ آج ہم اسکی آبیاری اور تحفظ کرتے ہیں ۔ تاکہ اس مسئلہ میں سستی نہ آئے۔ انہوں نے امیر کی اطاعت اور مرکزکے فیصلوں اور پالیسیوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی ۔ بعد میں تنظیم نو کی گئی۔ جو مندرجہ ذیل عہدیدار منتخب ہو ئے۔
سربراہ : مولانا حاجی سید شاہ صاحب امیر: مولاناقریب الرحمن صاحب
نائب امیر: مولانا محمدزادہ صاحب نائب امیر دوم: مولانا شیر علی صاحب
ناظم اعلیٰ : جناب حاضر کرم صاحب نائب ناظم اعلیٰ:ماسٹر روح الامین صاحب
نائب ناظم دوم : مولانا عمر اخان ناظم اطلاعات:جناب رحم تاج صاحب
ناظم اطلاعات:جناب عزیر علی نعمانی ناظم مالیات : مولانا محمد شریف صاحب
ناظم اجتماعات و رکن سازی مہم:جناب زمین شاہ صاحب ۔
انہوں نے شیخ القرآن مدظلہ کو دعوت خطاب دی ۔ شیخ القرآن مدظلہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بیماری کے باوجود اس اجلاس میں شریک ہوا ۔کیونکہ میں اس کام کو اہم سمجھتا تھا ۔ آج اسباق بھی نہیں پڑھائے ۔لیکن آج بعض اراکین غیر حاضر ہیں یہ انکی سستی ہے اور جماعت کے کام کو
لہٰذا اسکے لئے ایسے افراد کاانتخاب کریں کہ وہ اس کام کو اہمیت اوراولیت دیں او ر کام کو مزید تیز کریں۔ انہوں نے مولانا عبدالرحمن مرحوم (سابقہ امیر ضلع) کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نیک ، متقی اور فعال عالم تھے ۔ لیکن وہ آج نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ا ن کی مغفرت فرمائے ۔
انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو اجازت اور اختیار دیا کہ وہ اپنے لئے نئے مجلس عاملہ کو نا مزد کرے لیکن فعال ارکان کو منتخب کریں۔ اجلاس سے ہر حلقہ کے امیر نے خطاب کیا اور اس فیصلہ اور شیخ القرآن مدظلہ کے باتوں کی مکمل تائید کی اور عہد کیا کہ وہ تنظیم کی فعالیت کیلئے ہر قسم کی صلاحیت بروئے کار لائیں گے ۔ بعد میں رائے لی گئی تو مندرجہ ذیل افراد منتخب ہوئے۔
سرپرست : مولانا خلیل الرحمن صاحب (گلبہار) امیر: مولانا امیرجان( گگہ ولہ)
نائب امیر: جناب انجینئر بشیر صاحب نائب امیردوم: مولانا محمد نواب صاحب
ناظم اعلیٰ : مفتی فدا محمد ربانی صاحب(رشید گڑھی) نائب ناظم: مولانا سمیع اللہ صاحب
نائب ناظم دوم: مولانا ارشاد صاحب ناظم اطلاعات جناب گوہر رحمان صاحب
نائب ناظم اطلاعات: محمد شریف صاحب ناظم مالیات: مولانا محمدبشیر صاحب
ناظم اجتماعات ورکن سازی مہم: مولانا حشمت علی صافی
اجلاس میں صوبائی مجلس شوریٰ کیلئے اراکین کا انتخاب بھی کیاگیا۔ اجلاس سے مبلغ دارالقرآن مولانا مومن گل طاہریؔ نے خطاب کیا۔ تمام عہدیداروں کو مبارکباد دی اورکہا کہ اُمید ہے کہ ذمہ دار افراد جماعت کے نظم ونسق کیلئے ہرقربانی دینگے ۔ انہوں نے مرکزکی تعمیری پروگرام کے بارے میں اراکین کو آگاہ کیا اور اس کیلئے ایک ترتیب بتائی۔
اجلاس میں ماہانہ اجتماع پنج پیر کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی اور تمام کارکنوں کو زور دیا کہ اس کے لئے تیاری شروع کریں۔
6
فروری کو ضلع مردان کا اجلاس گڑھی کپورہ کوٹ اسماعیل زئی میں طلب کیا گیا ۔ جس میں تمام حلقوں کے نمائندہ گان نے شرکت کی اور دیگر کارکنان بھی کافی تعداد میں جمع تھے۔ 13فروری کو ضلع پشاور کی تنظیم کو مدرسہ تبلیغ القرآن یوسف آباد طلب کیا۔ اجلاس دو بجے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت شیخ القرآن مولانا محمدطیب طاہری (امیر مرکزیہ)نے کی۔ تلاوت کلام پاک مولانا محمد زرین صاحب کے بعد جناب گوہر رحمان صاحب نے ابتدائی کلمات کہے ۔ اور تمام شرکاء شوریٰ کاشکریہ ادا کیا ۔ بعد میں صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا ابو عمیر شمس الہادی طاہری نے اجلاس کا مقصد بیان کیا۔ کہ جماعت اشاعۃ التوحید والسنۃ صوبہ خیبر نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ضلع کے سطح پر تنظیم نو کی جائے اور سابقہ اراکین نوجوانان کو بھی ضلعی تنظیموں میں عہدے دئیے جائیں تاکہ کام مزید فعال ہوجائیں۔ لہٰذا تنظیم کے سابقہ باڈی ختم ہوچکی ہے۔ اور از سرنو مجلس عاملہ کا انتخاب ہوگا۔
ختم شد

 

فروری 2011

بسم اللّٰہ الرّ حمٰن الرّ حیم ہ
شیخ القرآن ؒ نے فرمایا:
(’’جنت میں داخل ہونے کے لئے توحید شرط ہے ۔سورۃ یسین میں (قیل ادخل الجنۃ )کے تحت تبصرہ فرماتے ہوئے واضح کرتے کہ صاحب یسین نے نہ چلے لگائے تھے ، نہ پیری مریدی کی تھی ، نہ حاجی تھے بلکہ چند لمحات میں حق بات کی شہادت دی ، لوگوں نے قتل کردیااور جنت میں پہنچ گیا ‘‘ )
من انوار القرآن الکریم

(سورۃ الحجرات:۱۔۲) )
ترجمہ: ۔’’اے ایمان والو آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اس کے رسولﷺ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے، اللہ سنتا ہے جانتا ہے ۔ اے ایمان والو بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبیﷺ کی آواز سے اُوپر اور اُس سے نہ بولو تڑخ کر۔ جیسے تڑختے ہو ایک دوسرے پر کہیں اکارت نہ ہوجائیں تمہارے کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو ‘‘۔
توضیح:۔’’‘‘۔
من کنوز السنۃ المطھرۃ
(’’وَعَن ماَّلِکِ ابنِ اَنَس قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ تَرَکْتُ فِےْکُمْ اَمْرَےْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنّۃُ رَسُوْلِہٖ‘‘ )۔ (مشکوۃ)
ترجمہ: ۔’’حضرت مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں تم میں سے دوچیزیں چھوڑ کرجاتا ہوں اگر تم اس کو مضبوطی سے تھا مے رہوتو تم گمراہ نہ ہوجاؤ گے ، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اس کے رسول اللہﷺ کی سنت ‘‘۔
مزید پڑھیے۔۔۔

صفحہ 1 کا 2